زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
صیہونی حکومت کے خلاف عالمی اتحاد کی تشکیل

صیہونی حکومت کے خلاف عالمی اتحاد کی تشکیل

دنیا سے اور خاص طور پر عالم اسلام سے ہمارا مطالبہ صیہونی حکومت کے خلاف ایک عالمی اتحاد کی تشکیل کا ہے۔
جنگ کے بھی کچھ اصول اور حدود ہیں

جنگ کے بھی کچھ اصول اور حدود ہیں

جنگ یقیناً ایک سخت چیز ہے لیکن جنگ کے بھی کچھ اصول ہیں، کچھ قوانین ہیں، کچھ حدود ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جب کوئي کسی سے جنگ کر رہا ہے تو وہ ان تمام حدود کو پیروں تلے روند دے، مسل دے، جیسا کہ مقبوضہ فلسطین پر حکمرانی کرنے والا یہ مجرم گینگ کر رہا ہے۔
عالمی ادارے صیہونی حکومت کے سلسلے میں بڑی کوتاہی کا شکار ہیں

عالمی ادارے صیہونی حکومت کے سلسلے میں بڑی کوتاہی کا شکار ہیں

حکومتیں، اقوام خاص طور پر حکومتیں، اقوام متحدہ وغیرہ جیسے عالمی ادارے حقیقت میں صیہونی حکومت سے مقابلے کے مسئلے میں کوتاہی کر رہے ہیں۔ یہ کام جو صیہونی حکومت نے غزہ میں کیا اور کر رہی ہے، جو کچھ اس نے لبنان میں کیا اور کر رہی ہے، سب سے وحشیانہ جنگي جرائم ہیں۔
انتظار کا لازمہ یہ ہے کہ مسلسل پیشرفت جاری رہے

انتظار کا لازمہ یہ ہے کہ مسلسل پیشرفت جاری رہے

حقیقت انتظار میں ایک اور خصوصیت شامل کر دی گئی ہے اور وہ خصوصیت یہ ہے کہ انسان موجودہ صورت حال پر، ہی قانع نہ ہو جائے بلکہ روز بروز اس ترقی میں اضافہ، ان حقائق اور روحانی و ‏معنوی صفات کو اپنے اندر اور معاشرے کی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ انتظار کی لازمی باتیں ہیں۔ امام خامنہ ای ‎2011/07/09
جو کچھ ذہن میں آئے اسے سوشل میڈیا پر ڈالنا غلط ہے

جو کچھ ذہن میں آئے اسے سوشل میڈیا پر ڈالنا غلط ہے

جن لوگوں کا تعلق سائبر اسپیس اور سوشل میڈیا سے ہے وہ ان نکات پر توجہ دیں۔ ہر چیز کو، جو کچھ بھی انسان کے ذہن میں آئے، اسے سائبر اسپیس پر نہیں ڈال دینا چاہیے، آپ دیکھیے کہ اس کا اثر کیا ہے، دیکھیے کہ لوگوں پر، لوگوں کی سوچ پر، لوگوں کے جذبات پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔
لوگوں میں شک اور خوف پیدا کرنا ناقابل قبول ہے

لوگوں میں شک اور خوف پیدا کرنا ناقابل قبول ہے

بعض لوگ، اپنی خبر کے ذریعے، اپنے تبصرے کے ذریعے، واقعات کے اپنے تجزیے کے ذریعے لوگوں میں شک پیدا کر دیتے ہیں، خوف پیدا کر دیتے ہیں، یہ چیز خداوند عالم کی نظر میں ناقابل قبول ہے؛ اس سلسلے میں قرآن کا موقف بہت ٹھوس ہے، قرآن اس بارے میں صراحت کے ساتھ کہتا ہے: "لَئِن لَم یَنتَہِ المُنافِقونَ وَ الَّذینَ فی‌ قُلوبِھِم مَرَضٌ وَ المُرجِفونَ فِی المَدینَۃ" "مرجفون" یہی لوگ ہیں۔ مرجفون یعنی وہ افراد جو لوگوں کے دل میں اضطراب پیدا کرتے ہیں، خوف پیدا کرتے ہی۔ اگر ان لوگوں نے اپنی یہ حرکتیں بند نہ کیں تو خداوند عالم پیغمبر سے فرماتا ہے: "لَنُغریَنَّکَ بِھِم‌" تو ہم آپ کو حکم دیں گے کہ آپ جا کر انھیں سزا دیں۔
یہ سوچنا غلط ہے کہ اگر ملک کو پرامن رہنا ہے تو اسے کمزور رکھا جائے

یہ سوچنا غلط ہے کہ اگر ملک کو پرامن رہنا ہے تو اسے کمزور رکھا جائے

بعض لوگ مختلف تجزیوں میں، مسئلے کو عجیب و غریب طرح سے سمجھتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملک، سلامتی میں رہے تو ہمیں بڑی طاقتوں کو ناراض کرنے والے وسائل کے قریب نہیں جانا چاہیے؛ مثال کے طور پر "کیا ضروری ہے کہ ہمارے پاس فلاں رینج کا میزائیل ہو کہ وہ لوگ حساس ہو جائيں!" وہ سوچتے ہیں کہ اس طرح، اس شکل میں وہ ملک کی سلامتی کو فراہم کر سکتے ہیں، مطلب یہ کہ دراصل وہ یوں سوچتے ہیں کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ملک پرامن رہے تو کمزور رہیے، اپنے لیے طاقت کے وسائل فراہم نہ کیجیے، بعض لوگ اسی طرح سے سوچتے ہیں؛ یہ غلط ہے۔
سلامتی مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت

سلامتی مسلمانوں کے لیے ایک عظیم نعمت

آپ قرآن مجید میں ملاحظہ کیجیے، سلامتی کے مرتبے کو خداوند عالم اتنا اوپر لے آتا ہے کہ اسے مسلمانوں کو ایک عظیم نعمت اور ایک عظیم احسان کے طور پر یاد دلاتا ہے: "فَلیَعبُدوا رَبَّ ھٰذَا البَیتِ * اَلَّذی اَطعَمَھُم مِن جوعٍ وَ آمَنَھُم مِن خَوف." یعنی اس خدا کی عبادت کرو جس نے تمھیں یہ بڑی نعمتیں عطا کی ہیں، اس نے تمھیں سلامتی دی ہے، تمھارے لیے ایک پرامن اور محفوظ زندگي گزارنے کا امکان فراہم کیا ہے۔
درس اخلاق: دعا، زندگی کی مشکلات میں انسان کو قوت قلب عطا کرتی ہے

درس اخلاق: دعا، زندگی کی مشکلات میں انسان کو قوت قلب عطا کرتی ہے

دعا زندگی کی مشکلات کے سامنے صبر و حوصلے کی قوت انسان کو بخشتی ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کے دوران کسی حادثے سے دوچار ہوتا ہے، مشکلیں اور سختیاں اس کے دامنگیر ہو جاتی ہیں۔ دعا انسان کو قوت و توانائی عطا کرتی ہے اور انسان کو حادثات کے مقابل قوت و استحکام بخش دیتی ہے۔ لہذا روایت میں دعا کو (مومن کے) اسلحے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام خامنہ ای 21 اکتوبر 2005
قرآن کی روشنی میں: صبر کا مطلب جوش وجذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا ہے

قرآن کی روشنی میں: صبر کا مطلب جوش وجذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا ہے

خداوند عالم نے دشمنیوں سے مقابلے کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دستورالعمل سپرد کیا۔ بعثت کے آغاز سے ہی خداوند متعال نے پیغمبر کو صبر کا حکم دیا۔ صبر ان اہداف و مقاصد پر ڈٹے رہنے سے عبارت ہے جو ہم نے خود ترتیب دیے ہیں۔ صبر یعنی جوش و جذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا، یہی صبر کا مطلب ہے۔ امام خامنہ ای 22 مارچ 2020