ایک قیدی کی ماں نے مجھ سے کہا کہ میرا بیٹا قید میں تھا، آج خبر ملی ہے کہ شہید ہو گیا ہے۔ آپ جایئے اور امام خمینی(رہ) سے کہیے کہ میرا بچہ آپ پر قربان ہوا، مجھے کوئی غم نہیں ہے. 
جب میں امام کی خدمت میں پہنچا تو کہنا بھول گیا۔ باہر نکلنے کے بعد مجھے یاد آیا تو وہاں موجود حضرات سے میں نے کہا امام سے کہیے کہ ایک جملہ رہ گیا ہے۔
آپ اندرونی صحن میں آ گئے تو میں بھی وہیں چلا گیا اور جب اس خاتون کا جملہ امام سے کہا تو آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور ان پر رقت طاری ہوگئی میں اپنے کہے پر شرمندہ ہو گیا۔ 
یہ کوئي معمولی بات نہیں ہے۔ ہم نے اتنے شہدا کی قربانی پیش کی ہے یہ کوئي ہنسی کھیل نہیں ہے۔ انقلاب کے بہترین افراد قربان ہو گئے لیکن امام پہاڑ کی مانند ثابت قدم رہے۔ آج یہ سن کر کہ ایک قیدی قتل کر دیا ہے آپ رونے لگتے ہیں سبب کیا ہے؟ میری سمجھ میں تو نہیں آتا۔
آدمی ایسی شخصیت کی توصیف کرنے سے عاجز ہے۔
(امام خمینی کی برسی کے مہتمم ادارے کے اراکین سے ملاقات کے دوران 22/05/1990)