قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے جرائم پیشہ صیہونیوں کےہاتھوں غزہ کے مظلوم عوام کے قتل عام کے بھیانک اور دردناک سانحے پر اپنے پیغام میں صیہونیوں کے ساتھ جارج بش کی مجرم حکومت کی شرمناک سازباز کی مذمت کرتے ہوئے عالمی اداروں اور بعض عرب حکومتوں کے سکوت اور بے حسی کو ان جرائم میں ممد و معاون قرار دیا۔ آپ نے پیر کے دن عام سوگ کا اعلان کرتے ہوئے تمام فلسطینی مجاہدین، مسلم اور حریت پسند اقوام، علما و دانشوروں اور عالم اسلام کے ذرائع ابلاغ کو خونخوار صیہونزم کے جرائم کے سد باب کے سلسلے میں سنگين ذمہ داری اور فریضے کی ادائیگی کی دعوت دی۔
قائد انقلاب اسلامی کے پیغام کے متن مندرجہ ذیل ہے۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
انا للہ و انا الیہ راجعون

غزہ میں صیہونی حکومت کے ہولناک جرائم اور سیکڑوں مظلوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام سے صیہونی بھیڑیوں نے اپنا خونخوار چہرا حالیہ کچھ برسوں کے فریب سے قائم پردے سے باہر نکالا ہے اور امت مسلمہ کی سرزمین کے قلب میں اس کافر حربی کی موجودگی کے خطرے کو غافلوں اور لا پروائی برتنے والے عناصر کے گوشزد کر دیا ہے۔ اس ہولناک المئے کا درد ہر مسلمان بلکہ دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہنے والے با ضمیر انسان کے لئے بہت گراں اور بھیانک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ غم کی بات مسلمان ہونے کی دعویدار بعض عرب حکومتوں کا (صیہونیوں کی) حوصلہ افزائی کرنے والا سکوت ہے۔ اس سے بڑا کیا المیہ ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمان حکومتیں جنہیں غاصب اور کافر حربی صیہونی حکومت کے مقابلے میں غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرنی چاہئے، ایسی روش اختیار کئے ہوئے ہیں کہ مجرم صیہونی حکام گستاخانہ انداز میں انہیں بھی اس بھیانک المئے کی حامی اور اس سے متفق قرار دے رہے ہیں؟
ان ممالک کے حکام رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کے سامنے کیا جواب دیں گے؟ اپنی قوموں کو جو یقینی طور پر اس المئے سے غمزدہ ہیں کیا جواب دیں گے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ طویل محاصرے اور نتیجے میں غذائی اشیاء اور دواؤں کی شدید قلت کے بعد اس قتل عام پر مصر، اردن اور دیگر مسلم ممالک کے عوام کے دل خون ہیں۔ بش کی جرائم پیشہ حکومت نے اپنے شرمناک دور کے آخری ایام میں اس بھیانک جرم میں اپنی شراکت سے امریکی حکومت کو پہلے سے زیادہ روسیاہ کر دیا ہے اور جنگی مجرم کی حیثیت سے اپنے جرائم کے دفتر کو اور بھی سیاہ کر لیا ہے۔ اس بھیانک المئے پر اپنی خاموشی اور شائد حمایت کے ذریعے یورپی حکومتوں نے ایک بار پھر انسانی حقوق کی حمایت کے اپنے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے اور اسلام و مسلمین کی دشمنی کے محاذ میں اپنی سرگرم شراکت کو ثابت کیا ہے۔ اس وقت عرب دنیا کے علمائے کرام اور مصر میں الازھر کے عہدہ داروں سے میرا سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ وقت نہیں آن پہنچا ہے کہ اسلام و مسلمین کو لاحق خطرے کو محسوس کیا جائے؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا ہے کہ نھی عن المنکر اور جابر حاکم کے سامنے حق بات کہنے کے فریضے پر عمل کیا جائے؟ کیا مسلمانوں کی سرکوبی کے لئے امت کے منافقین کی، حربی کفار سے سازباز کے نتیجے میں غزہ اور فلسطین میں رونما ہونے والے المئے سے بڑھ کر کچھ رونما ہونے کا انتظار ہے تاکہ فریضے کی ادائیگی کی ضرورت کا احساس کیا جائے؟!
عالم اسلام بالخصوص عرب دنیا کے دانشوروں اور ذرائع ابلاغ سے میں پوچھتا ہوں کہ وہ کب تک اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتے رہیں گے؟ کیا مغرب کی رسوائے زمانہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کی نام نہاد سلامتی کونسل اس سے بھی زیادہ ذلت اٹھائيں گی؟ تمام فلسطینی مجاہدین اور عالم اسلام کے ہر مومن شخص کو چاہئے کہ ہر ممکن طریقے سے غزہ کے بے سہارا مردوں، عورتوں اور بچوں کا دفاع کرے اور جو بھی اس شرعی اور مقدس دفاع کے دوران مارا جائے گا، شہید ہوگا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حضور میں شہدائے بدر و احد کے ساتھ محشور ہونے کی امید رکھنے کا حقدار ہوگا۔
اسلامی کانفرنس تنظیم کو چاہئے کہ ان حساس ترین حالات میں اپنے تاریخی فرائض پر عمل کرے اور ہر طرح کا لحاظ اور تکلف چھوڑ کر صیہونی حکومت کے مقابلے میں متحدہ محاذ قائم کرے۔ صیہونی حکومت کو مسلم حکومتوں کی جانب سے سزا ملنی چاہئے۔ اس غاصب حکومت کے حکام پر غزہ کے طولانی محاصرے اور اس بھیانک مجرمانہ کاروائی کی سلسلے مین مقدمہ چلایا جانا چاہئے اور انہیں سزا دی جانی چاہئے۔ مسلم قومیں اپنے عزم راسخ کو بروی کار لاکر ان ضروریات کی تکمیل کر سکتی ہیں اور اس سلسلے میں سیاستدانوں، علما اور دانشوروں کا فریضہ دوسروں سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
میں غزہ کے المئے کی مناسبت سے پیر کے روز عام سوگ کا اعلان کرتا ہوں اور ملک کے حکام سے اس غم انگیز سانحے کے سلسلے میں اپنے فرائض کی ادائیگی کی سفارش کرتا ہوں۔
وَ سَیعلَمُ ‌الذین ظَلَموا اَیّ مُنقلبٍ یَنقلبون.

سيّدعلي‌ خامنه‌اي
8/دی/1387
29/ذی‌الحجة‌الحرام/1429
28 دسمبر 2008