رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ایک حکم جاری کرکے حجت الاسلام سید ابراہیم رئیسی کو آستانہ امام رضا علیہ السلام کا متولی منصوب فرمایا۔
حکمنامہ حسب ذیل ہے؛
 
بسم ‌الله ‌الرّحمن ‌الرّحیم
 
جناب حجت الاسلام الحاج سید ابراہیم رئیسی دامت برکاتکم
اب جبکہ حجت الاسلام و المسلمین جناب طبسی مرحوم برسوں تک حضرت علی ابن موسی الرضا علیہ آلاف التحیۃ و الثنا کے آستانہ مبارک و مقدس کی پرخلوص اور کامیاب خدمات انجام دینے کے بعد دار جاودانی کی سمت کوچ کر گئے اور قبر مبارک کے جوار میں سکونت پذیر ہو گئے ہیں، تو میں جناب عالی کو جو اسی با برکت دیار میں نشونما کے مراحل سے گزرے ہیں، نیکی و امانت داری سے آراستہ ہیں اور اعلی سطح پر انتظامی مہارت رکھتے ہیں، اس نورانی و مقدس آستانے کا متولی منصوب کرتا ہوں اور آپ کی توجہ مندرجہ ذیل نکات کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں۔
1: آستانہ مقدس رضوی کی خدمت عظیم روحانی افتخار اور اس خورشید فروزاں کی روحانیت سے بہرہ مندی اور اس مہر درخشاں کی بارگاہ ولایت سے قربت کا مقدمہ ہے۔ اس کم نظیر موقع کی قدردانی کیجئے اور اپنی تمام تر توانائیوں کو اس پر مرکوز کیجئے اور اس روحانی سرمائے میں جس سے بحمد اللہ آپ بہرہ مند ہیں، اضافہ کیجئے۔
2: اس مقدس بارگاہ کے زائرین اور خاص طور پر کمزور طبقات اور ضرورت مندوں کی خدمت کو اپنے پروگراموں کی ترجیحات میں شامل کیجئے۔
3: مجاورین اور خاص طور پر فقرا و مستضعفین کی خدمت بھی ایک اور فریضہ ہے جس پر آپ توجہ دیجئے۔
4: آستانہ مقدس ایک عظیم ثقافتی و علمی وسیلہ ہے جو ملک کے عمومی ماحول اور عالم اسلام پر اپنا اثر ڈال سکتا ہے، لہذا مناسب ہے کہ ثقافتی و علمی امور کے ماہرین کی مدد لیکر اس بے مثل ظرفیت کو قرآنی معارف اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی ترویج کے لئے استعمال کیا جائے۔
5: آستانہ مقدس کی عمارتیں اور وہاں کا ماحول اسلامی فن تعمیر اور ملت ایران کی پرمغز علمی و فنی نزاکتوں اور ظرافتوں کا عدیم المثال مجموعہ ہے، اس عظیم میوزیم کی نگہداشت و پاسبانی جو مرحوم (طبسی) کے متولی رہنے کے دوران ماضی کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ارتقائی مراحل طے کر چکا ہے، بہت اہم اور توجہ طلب ذمہ فریضہ ہے۔
6: اوقاف کی حفاظت اور متعلقہ مقاصد کے لئے ان کا استعمال جس پر مرحوم ہمیشہ خاص توجہ دیتے تھے، خاص طور پر ملک کے بعض علاقوں کے تہی دست افراد کو وقف نامے کی گنجائش کے مطابق اس کا فیض پہنچانا جہاں یہ اوقاف واقع ہیں، ایک اور بڑا فریضہ ہے۔
7: آستانہ مقدس رضوی کے اقتصادی مراکز کو منظم رکھنے اور ان کے قانونی نظم و ضبط پر ہمیشہ توجہ رکھی جائے اور اس سلسلے میں کوئی غفلت نہ ہو۔
جناب عالی کو اس روحانی آرامگاہ کے مقدس انوار سے مستفیض ہونے، جہاں سے یقینی طور پر فرائض کی انجام دہی میں مدد ملے گی، اور دوسرے اور تیسرے نکتے پر توجہ دینے کی ایک بار پھر سفارش کرتا ہوں اور مرحوم متولی کے لئے رحمت و مغفرت و رضائے پروردگار کی دعا کرتا ہوں جنھوں نے اس عظیم نظام کی پیشرفت اور مینجمنٹ میں خالصانہ سعی و کوشش کی اور جناب عالی اور اس عظیم آستانے کے دیگر تمام خدمت گزاروں کی زحمتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی توفیقات میں اضافے کے لئے دعا گو ہوں۔
 
و السلام علیکم و رحمة الله
سیّد علی خامنه‌ ای
۱۷ اسفند ماه ۱۳۹۴ ( ہجری شمسی مطابق 7 مارچ 2016)