ہمیں پورے وجود کے ساتھ اسلام کی راہ میں قدم بڑھاتے جانا چاہیے، ہمیں اپنا یہ ہدف نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ استقامت کا مطلب ہے گمراہ نہ ہونا، اپنی راہ فراموش نہ کرنا اور سیدھے راستے کو گم نہ کرنا۔ آپ حضرات ہر نماز میں کم از کم دو بار اور ہر روز کم از کم دس مرتبہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں: اے خدا! ہمیں سیدھے راستے (اور اس پر چلنے کی) ہدایت کرتا رہ۔ (سورۂ حمد، آیت 6) عام طور انسان ایک بار دعا کرتا ہے۔ یہ جو خداوند کریم سے مسلسل صراط مستقیم (کی ہدایت و بقا کے لیے) التجا کرتے ہیں، یہ وہی: تو آپ ثابت قدم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ (سورۂ شوریٰ، آیت 15) پر عمل کرنا ہے، یعنی استقامت۔

امام خامنہ ای

5 دسمبر 1990