ظہور کا زمانہ ہی در حقیقت بشر کے ایک نئے سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔ اگر مہدویت کا عقیدہ نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انبیائے الہی کی تمام تر سعی و کوشش، یہ دعوت حق، یہ بعثت رسل، یہ طاقت فرسا جفاکشی، سب کا سب سعی لاحاصل تھا، بے سود تھا۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
مہدویت کا مسئلہ، چند بنیادی مسائل میں سے ایک اور اعلی دینی تعلیمات و معارف کی کڑیوں میں سے ایک ہے؛ جیسے نبوت کا مسئلہ ہے، اس لیے کہ مہدویت جس چیز کی بشارت دیتی ہے، وہ وہی چیز ہے جس کے لیے سارے انبیاء آئے تھے اور وہ چیز، ایک توحیدی دنیا کی تعمیر ہے جو عدل کی بنیاد پر قائم ہو۔
امام خامنہ ای
9/7/2011
میں نے ایک دستاویز میں دیکھا، سامراجی کہتے تھے کہ جب تک مہدویت پر لوگوں کا عقیدہ ہے، تب تک ہم ان کے ملکوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے۔ دیکھیے، مہدویت کا عقیدہ کتنا اہم ہے! وہ لوگ کتنی غلطی کرتے ہیں جو روشن فکری اور تجدد پسندی کے نام پر اسلامی عقائد پر، بغیر مطالعے کے، بغیر اطلاع کے اور یہ جانے بغیر کہ وہ کیا کر رہے ہیں، سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔
امام خامنہ ای
16 دسمبر 1997
انسان کو نبوت، دعوت الہی اور داعیان الہی کی ہمیشہ ضرورت ہے اور یہ ضرورت آج بھی باقی ہے۔ ان داعیان الہی کا سلسہ آج بھی منقطع نہیں ہوا ہے اور حضرت بقیہ اللہ الاعظم ارواحنا فداہ کا وجود مقدس، داعیان الہی کے سلسلے کی ہی کڑی ہے۔
امام خامنہ ای
مسئلۂ مہدویت کے سلسلے میں ایک بات یہ ہے کہ اسلامی آثار میں شیعہ کتابوں میں حضرت مہدی موعود (عج) کے ظہور کے انتظار کو انتظار فرج سے تعبیر کیا گيا ہے، اس فرج کا کیا مطلب ہے؟ فرج یعنی گرہیں کھولنے والا۔ انسان کب کسی گرہ کھولنے والے کا انتظار کرتا ہے؟ کب کسی فرج کا منتظر ہوتا ہے؟ جب کوئی چیز الجھی ہوئی ہو، کہیں کوئی گرہ پڑ گئی ہو، جب کوئی مشکل پھنسی ہوئی ہو، کسی مشکل کی موجودگي میں انسان کو فرج یعنی گرہ کھولنے والے کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اپنے ناخن تدبیر کے ذریعے الجھی ہوئی گرہ کھول دے۔ کوئی ہو جو مشکلوں اور مصیبتوں کے عقدے باز کر دے۔ یہ ایک بڑا ہی اہم نکتہ ہے۔
انتظار فرج کا مطلب یا دوسرے الفاظ میں ظہور کا انتظار یہ ہے کہ مذہب اسلام پر ایمان اور اہلبیت علیہم السلام کے مکتب پر یقین رکھنے والا حقیقی دنیا میں موجود صورتحال سے واقف ہو، انسانی زندگي کی الجھی ہوئی گرہ اور مشکل کو جانتا ہو، حقیقت واقعہ بھی یہی ہے۔ اس کو انتظار ہے کہ انسان کے کام میں جو گرہ پڑی ہوئي ہے، جو پریشانی اور رکاوٹ ہے وہ گرہ کھل جائے اور رکاوٹ برطرف ہو جائے، مسئلہ ہمارے اور آپ کے ذاتی کاموں میں رکاوٹ اور گرہ پڑجانے کا نہیں ہے امام زمانہ علیہ الصلوۃ و السلام پوری بشریت کی گرہ کھولنے اور مشکلات برطرف کرنے کے لئے ظہور کریں گے اور تمام انسانوں کو پریشانی سے نجات دیں گے، انسانی معاشرے کو رہائی عطا کریں گے بلکہ انسان کی آئندہ تاریخ کو نجات بخشیں گے۔
امام خامنہ ای
17 / اگست / 2008
تمام مسلمان، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اولیائے خدا سے مروی معتبر احادیث کی بنیاد پر مہدئ موعود کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن یہ حقیقت، عالم اسلام میں کہیں بھی ہماری قوم اور شیعوں کی طرح اتنی نمایاں نہیں ہے اور اس کا ایسا درخشاں چہرہ اور ایسی دھڑکتی ہوئي اور پرامید روح بھی کہیں اور نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی متواتر روایات کی برکت سے، مہدئ موعود کو ان کی خصوصیات کے ساتھ پہچانتے ہیں۔ ہمارے لوگ، اللہ کے اس عظیم الشان ولی اور زمین پر اس کے جانشین کو اور اسی طرح اہلبیت پیغمبر کے دوسرے افراد کو ان کے نام اور خصوصیات سے پہچانتے ہیں، جذباتی اور فکری لحاظ سے امام زمانہ سے رابطہ قائم کرتے ہیں، ان سے بات کرتے ہیں، گلے شکوے کرتے ہیں، ان سے مانگتے ہیں اور اس آئيڈیل زمانے – انسانی زندگي پر اللہ کے اعلی اقدار کی حکمرانی کے زمانے– کا انتظار کرتے ہیں، اس انتظار کی بہت زیادہ قدروقیمت ہے۔ اس انتظار کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ظلم و ستم کا وجود، انتظار کرنے والوں کے دلوں سے امید ختم نہیں کر پاتا۔ اگر اجتماعی زندگي میں یہ امید کا مرکز نہ ہو تو انسان کے پاس اس بات کے علاوہ کوئي دوسرا چارہ نہیں ہے کہ وہ انسانیت کے مستقبل کی طرف سے بدگمانی میں مبتلا رہے۔
امام خامنہ ای
9/12/1992
مختلف زیارتوں میں ہم جو توسل کا انداز دیکھتے ہیں جن میں بعض کی سند بھی بہت معتبر ہے، ان کی بہت اہمیت ہے۔ حضرت سے توسل آپ کی سمت توجہ، آپ سے انسیت۔ اس انسیت سے مراد یہ نہیں ہے کہ کوئی یہ کہے کہ میں تو حضور کو دیکھتا ہوں، آپ کی صدائے مبارک کو سنتا ہوں۔ ہرگز نہیں، ایسا نہیں ہوتا۔ اس طرح کی باتیں جو کہی جاتی ہیں ان میں بیشتر یا تو جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں یا وہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا ہوتا ہے بلکہ اپنے تصورات اور تخیلات کے زیر اثر اس طرح کی باتیں شروع کر دیتا ہے۔ ہم نے ایسے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے جو جھوٹ بولنے والے انسان نہیں تھے بلکہ اپنی خیالی باتوں کے زیر اثر تھے۔ اپنی ان خیالی باتوں کو لوگوں کے سامنے حقیقت کے طور پر پیش کرتے تھے۔ ان باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ صحیح راستہ منطقی اور دلیلوں کا راستہ ہے۔ توسل اور امام سے راز و نیاز کا جہاں تک سوال ہے تو یہ عمل، انسان دور سے انجام دیتا ہے۔ امام علیہ السلام اسے سنتے ہیں اور التجا کو قبول بھی کرتے ہیں۔ ہم اپنے مخاطب سے جو ہم سے دور ہے کچھ حال دل بیان کرتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اللہ تعالی سلام کرنے والوں اور پیغام دینے والوں کا پیغام اور سلام حضرت تک پہنچاتا ہے۔ یہ توسل اور یہ روحانی انسیت فعل مستحسن اور لازمی امر ہے۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
تاریخ میں بہت سے دعویدار پیدا ہوئے ہیں۔ یہ دعویدار ظہور کی کسی ایک علامت کو اپنے اوپر یا کسی اور پر منطبق کر لیتے تھے۔ یہ سراسر غلط عمل ہے۔ بعض باتیں جو ظہور امام زمانہ علیہ السلام کی علامات کے طور پر بیان کی جاتی ہیں حتمی نہیں ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو معتبر روایات میں مذکور نہیں ہیں۔ ضعیف روایتوں میں ان کا ذکر ضرور ملتا ہے لہذا ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ جو علامتیں معتبر ہیں ان کے لئے بھی صحیح مصداق کی تلاش کرنا کارے دارد۔ تاریخ میں مختلف ادوار میں کچھ لوگ شاہ نعمت اللہ ولی کے اشعار کو مختلف لوگوں پر منطبق کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ چیز تو میں نے خود بھی دیکھی ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ یہ گمراہ کن باتیں ہیں، یہ غلط راستے پر لے جانے والے کام ہیں۔ جب انحراف اور گمراہ کن باتیں شروع ہو جاتی ہیں تو حقیقت متروک ہوکر رہ جاتی ہے، مشتبہ ہو جاتی ہے۔ عوام الناس کے اذہان کی گمراہی کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔ لہذا عامیانہ کاموں سے اجتناب، عامیانہ افواہوں پر سکوت سے اجتناب بہت ضروری ہے۔ عالمانہ، مدلل، معتبر سند پر استوار کام جو اہل فن کا کام ہے، ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اس کے لئے اہل فن کی ضرورت ہوتی ہے، علمائے حدیث کی ضرورت ہوتی ہے، علم رجال کے ماہر افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو سند کو پہچانتے ہوں، اہل نظر ہوں، باخبر لوگ ہیں، حقائق سے آشنا ہوں، ایسے لوگ ہی اس وادی میں قدم رکھ سکتے ہیں اور علمی تحقیق کر سکتے ہیں۔ اس پہلو کو جہاں تک ممکن ہے زیادہ سے زیادہ سنجیدگی اور توجہ سے انجام دیا جائے تا کہ لوگوں کے لئے راستہ کھلے۔ دل اس عقیدے سے جتنے محرم ہوں گے، مانوس ہوں گے، حضرت کا وجود مبارک ہمارے لئے جو زمانہ غیبت میں زندگی بسر کر رہے ہیں جتنا زیادہ قریب اور قابل ادراک ہوگا، حضرت سے ہمارا رابطہ جتنا زیادہ قوی ہوگا ہماری دنیا کے لئے، اعلی اہداف کی جانب ہماری پیش قدمی کے لئے اتنا ہی زیادہ بہتر ہوگا۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
بحمد اللہ اس وقت انتظار کے موضوع پر عالمانہ انداز میں کام کیا جا رہا ہے۔ انتظار کے مسئلے میں باریک بینی کے ساتھ عالمانہ انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں عامیانہ اور جاہلانہ باتوں سے بہت سختی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ جو چیزیں خطرناک ہو سکتی ہیں ان میں یہی عامیانہ، جاہلانہ، معرفت سے عاری اور معتبر سند کے بغیر امام زمانہ علیہ السلام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے سلسلے میں بحث کرنا ہے۔ کیونکہ اس طرح مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کے لئے زمین ہموار ہوتی ہے۔ غیر عالمانہ، غیر معتبر، پختہ دلائل اور سند سے عاری بحث در حقیقت وہم و خیال ہے۔ اس طرح کی باتیں لوگوں کو حقیقی انتظار سے دور کر دیتی ہیں اور دجال صفت دروغگو لوگوں کے لیے راستہ کھل جاتا ہے۔ لہذا ان باتوں سے سختی کے ساتھ اجتناب کرنا چاہئے۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
ایسا نہیں ہے کہ جب ہم وہاں (امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ظہور کے زمانے میں) پہنچیں گے تو دفعتا ایک تیز حرکت ہوگي اور پھر وہ رک جائے گی۔ نہیں، وہ جگہ ایک راستہ ہے۔ در حقیقت کہنا چاہیے کہ انسان کی اصلی زندگی اور اس کی مطلوبہ حیات کا وہیں سے آغاز ہوگا اور تب انسانیت اس راستے پر اپنے سفر کا آغاز کرے گی جو صراط مستقیم ہے اور اسے اس کی تخلیق کے مقصد تک پہنچائے گا، "انسانیت" کو پہنچائے گا، بعض انسانی گروہوں کو نہیں، کچھ انسانوں کو نہیں، بلکہ پوری انسانیت کو۔
امام خامنہ ای
11/6/2014
حقیقت انتظار میں ایک اور خصوصیت شامل کر دی گئی ہے اور وہ خصوصیت یہ ہے کہ انسان موجودہ صورت حال پر، اس وقت تک حاصل ہونے والی پیشرفت پر ہی قانع نہ ہو جائے بلکہ روز بروز اس ترقی میں اضافہ، ان حقائق اور روحانی و معنوی صفات کو اپنے اندر اور معاشرے کی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ انتظار کی لازمی باتیں ہیں۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
بشر کو اس انتظار کی ضرورت ہے اور امت اسلامیہ کو تو بدرجہ اولی اس کی احتیاج ہے۔ یہ انتظار انسان کے دوش پر کچھ فرائض ڈال دیتا ہے۔ جب انسان کو یقین کامل ہے کہ اس طرح کا مستقبل آنے والا ہے، چنانچہ قرآن کی آیات میں بھی اس کا ذکر ہے "و لقدكتبنا فى الزّبور من بعد الذّكر انّ الارض يرثھا عبادى الصّالحون. انّ فى ھذا لبلاغا لقوم عابدين" (اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔ بےشک اس میں عبادت گزار لوگوں کے لیے بڑا انعام ہے۔ سورۂ انبيا، آيات 105 و 106) جو لوگ بندگی پروردگار سے مانوس ہیں، سمجھتے ہیں انہیں چاہیے کہ خود کو آمادہ کریں، منتظر رہیں اور نظر رکھیں۔ انتظار کا لازمہ ہے خود کو آمادہ کرنا۔ اگر ہمیں علم ہے کہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہونے والا ہے اور ہم اس کے منتظر ہیں تو کبھی ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ابھی تو بڑا طویل عرصہ باقی ہے اس واقعے کے رونما ہونے میں اور نہ ہی ہم یہ کہیں گے کہ یہ واقعہ بالکل نزدیک ہے اورعنقریب رونما ہونے والا ہے۔ ہمیں ہمیشہ منتظر رہنا ہوگا، ہمیشہ نظر رکھنی ہوگی۔ انتظار کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خود کو اسی وضع قطع میں ڈھالے اور وہی اخلاق و انداز اختیار کرے جو اس زمانے کے لئے مناسب ہے جس کا اسے انتظار ہے۔ یہ انتظار کا لازمہ ہے۔ جب اس زمانے میں عدل و انصاف کی بالادستی قائم ہونے والی ہے، حق کا بول بالا ہونے والا ہے، توحید و اخلاص و عبودیت پروردگار کا پرچم لہرانے والا ہے، ان خصوصیات کا حامل دور آنے والا ہے اور ہم جو اس کے انتظار کی گھڑیاں گن رہے ہیں تو خود کو ان صفات سے متصف کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں چاہئے کو عدل و انصاف کے حامی بنیں، خود کو انصاف کے لئے تیار کریں، خود کو حقانیت تسلیم کرنے کے لئے آمادہ کریں۔ انتظار اس طرح کی حالت پیدا کر دیتا ہے۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
انتظار کا مسئلہ بھی مہدویت کے عقیدے کا لازمی جز ہے اور یہ بھی منزل کمال کی سمت امت مسلمہ کی عمومی و اجتماعی حرکت اور حقیقت دین کو سمجھانے میں بنیادی حیثیت رکھنے والے مفاہیم میں ہے۔ انتظار یعنی توجہ، انتظار یعنی ایک یقینی حقیقت پر نظر رکھنا۔ یہ ہے انتظار کا مفہوم۔ انتظار یعنی یہ مستقبل جس کے ہم منتظر ہیں یقینی ہے۔ بالخصوص اس لیے بھی کہ یہ انتظار ایک جیتے جاگتے انسان کا انتظار ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص پیدا ہونے والا ہے، منصۂ وجود پر آنے والا ہے۔ نہیں، وہ ایسی ہستی ہے جو موجود ہے، لوگوں کے درمیان موجود ہے۔ روایتوں میں منقول ہے کہ لوگ انہیں دیکھتے ہیں اور حضرت بھی لوگوں کو دیکھتے ہیں لیکن لوگ آپ کو پہچانتے نہیں۔ بعض روایات میں حضرت یوسف سے تشبیہ دی گئی ہے کہ حضرت یوسف کے بھائی انھیں دیکھ رہے تھے حضرت یوسف ان کے سامنے تھے، ان کے قریب جاتے تھے لیکن وہ انھیں نہیں پہچان پاتے تھے۔ آپ کا وجود اس طرح کی نمایاں، واضح اور حوصلہ افزاء حقیقت ہے۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
ان گزشتہ صدیوں میں انسانی قافلہ مختلف راستوں، دشوار گزار اور سخت وادیوں سے گزرا ہے، مختلف رکاوٹوں اور مشکلوں سے دوچار ہوا ہے، زخمی بدن اور لہولہان قدموں کے ساتھ ان راستوں پر چلا ہے کہ کسی صورت خود کو شاہراہ پر پہنچا دے۔ یہ شاہراہ وہی امام زمانہ علیہ السلام کے زمانہ ظہور کی شاہراہ ہے۔ ظہور کا زمانہ ہی در حقیقت بشر کے ایک نئے سفر کا نقطہ آغاز ہے۔ اگر مہدویت کا عقیدہ نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انبیائے الہی کی تمام تر سعی و کوشش، یہ دعوت حق، یہ بعثت رسل، یہ طاقت فرسا جفاکشی، سب کا سب سعی لاحاصل تھا، بے سود تھا۔ بنابریں مہدویت کا عقیدہ ایک بنیادی معاملہ ہے۔ بنیادی ترین الہی معارف کا جز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام ادیان الہی میں جہاں تک ہمیں اطلاع ہے ماحصل اور نصب العین کا درجہ رکھنے والے اس عقیدے کا وجود ہے اور وہی حقیقت میں عقیدہ مہدویت ہے۔ البتہ اس عقیدے کی شکلیں الگ الگ اور تحریف شدہ ہیں، اس میں واضح طور پر اس عقیدے کو بیان نہیں کیا گيا ہے۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
میں نے بارہا یہ بات کہی ہے کہ انسانیت نے ان گزشتہ صدیوں کے دوران انبیائے الہی کی تعلیمات کے زیر اثر جو کچھ کیا ہے وہ در حقیقت اس شاہراہ کی جانب بڑھنے کی کوشش ہے جو حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے زمانہ ظہور میں انسانیت کو اعلی اہداف کی جانب لے جائے گی۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے انسانوں کا ایک گروہ پہاڑی راستوں، دشوار گزار پہاڑیوں، دلدلوں، کانٹوں اور رہزنوں سے بھرے راستوں سے کچھ خاص ہستیوں کی تعلیمات کے سہارے آگے بڑھ رہا ہے کہ کسی صورت سے خود کو اس شاہراہ تک پہنچا دے۔ جب یہ کارواں شاہراہ پر پہنچ جائے گا تو پھر راستہ بالکل سیدھا، واضح اور ہموار ہوگا اور اس پر آگے بڑھنا آسان ہوگا۔ کارواں آسودہ خاطر ہوکر اس شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ شاہراہ پر پہنچ جانے کے بعد سفر ختم ہو جائے گا۔ جی نہیں، اس مرحلے پر پہنچنے کے بعد ہی تو اعلی الہی اہداف کی سمت برق رفتاری سے سفر کا آغاز ہونے والا ہے۔
امام خامنہ ای
2011/07/09
آج حضرت حجت امام زمانہ ارواحنا فداہ کا مقدس وجود، روئے زمین کے انسانوں کے درمیان، برکت، علم، روشنی، زیبائي اور تمام خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ ہماری حقیر اور تاریک آنکھیں اس ملکوتی چہرے کو قریب سے نہیں دیکھ پاتیں لیکن وہ سورج کی طرح درخشاں ہے، دلوں سے متصل اور روحوں اور باطنوں سے جڑا ہوا ہے اور اس انسان کے لیے، جس کے پاس معرفت ہے، اس سے بڑی نعمت کوئي نہیں ہے کہ وہ محسوس کرے کہ ولی خدا، امام برحق، عبد صالح، پوری دنیا کے تمام انسانوں میں سب سے برگزیدہ بندہ اور روئے زمین پر خلافت الہی کا حقدار، اس کے ساتھ اور اس کے پاس ہے، اسے دیکھ رہا ہے اور اس سے جڑا ہوا ہے۔
امام خامنہ ای
24/11/1999