ایک عالم دین کے مکاشفے کے بارے میں مرحوم آيۃ اللہ خوشوقت کی روایت، آيۃ اللہ خامنہ ای کی زبانی

ایک عالم دین کے مکاشفے کے بارے میں مرحوم آيۃ اللہ خوشوقت کی روایت، آيۃ اللہ خامنہ ای کی زبانی

رہبر انقلاب اسلامی: خدا رحمت کرے، مرحوم جناب خوشوقت پر، انھوں نے بتایا کہ ایک عارف نے ایک #مکاشفے کے دوران دیکھا کہ ایک بلندی ہے۔ کچھ نوجوان وہاں آتے ہیں اور ایک ہی چھلانگ میں اس بلندی پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس عارف نے بھی کئي بار چھلانگ لگائي، لاکھ کوشش کی، لیکن اس بلندی پر نہیں پہنچ سکا اور زمین پر گر ...
میں بے اختیار آنسو بہا رہا تھا

میں بے اختیار آنسو بہا رہا تھا

  پندرہ سال بعد ہوائي اڈے پر امام خمینی سے رہبر انقلاب اسلامی کی ملاقات کا یادگار لمحہ
امریکی سفارت خانے میں محرّم نوحہ و ماتم، امریکی جاسوسی کے اڈے کے اندر آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر

امریکی سفارت خانے میں محرّم نوحہ و ماتم، امریکی جاسوسی کے اڈے کے اندر آیت اللہ خامنہ ای کی تقریر

جب تیرہ آبان (مطابق چار نومبر 1979) کا واقعہ ہوا تو ہم ایران میں نہیں تھے۔ میں اور ہاشمی (رفسنجانی) صاحب مکے میں تھے، حج کے ایام تھے اور مجھے یاد ہے کہ ایک رات ہم مکے میں چھت پر بیٹھے ہوئے تھے یا لیٹے ہوئے تھے اور سونا چاہ رہے تھے۔ ہم ریڈیو سن رہے تھے، ایران کے ریڈیو کے بارہ بجے کے خبرنامے میں بتایا...
شہید قاسم سلیمانی کی مذاکراتی صلاحیت جو جنرل حجازی نے بیان کی

شہید قاسم سلیمانی کی مذاکراتی صلاحیت جو جنرل حجازی نے بیان کی

جنرل حجازی کی دسمبر 2020 کی ایک گفتگو سے اقتباس سردار قاسم سلیمانی کی شخصیت کا ایک خاص پہلو جو عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہ ان کی مذاکراتی صلاحیت تھی۔ رہبر انقلاب اسلامی بھی فرما چکے ہیں کہ شہید قاسم سلیمانی کی گفتگو موثر اور قائل کر دینے والی ہوتی تھی۔

نوجوان طبقے سے میٹھی زبان میں گفتگو کی جانی چاہئے

میں جس مسجد میں نماز پڑھاتا تھا اس میں مغرب و عشا کی نماز میں بڑا ازدحام رہتا تھا اور باہر تک صفیں لگتی تھیں۔(نماز میں شرکت کرنے والے)اسی۸۰ فیصد جوان ہوتے تھے، وجہ یہ تھی کہ نوجوان طبقے سے ہمارا باقاعدہ رابطہ رہتا تھا۔ان دنوں الٹی جیکٹ پہننے کا فیشن تھا لہذا نوجوان الٹی جیکٹ پہنے نظر آتے تھے۔ایک دن ...

غبار فراموشی،

جس زمانے میں مجھے شہر بدر کرکے ایران شہر بھیج دیا گیا تھا، ہم لوگ مختلف مواقع پر وہاں کے ذمہ دار افراد سے رابطہ کیا کرتے تھے۔مجھے بتایا گیا کہ گورنر کا ایک بھی نمایندہ آج تک ایران شہر نہیں آیا ہے!۱۹۷۸ میں ایرانشہر میں سیلاب آیا اور اس کے نتیجے میں اسی فیصد شہر بالکل تباہ ہو گیا۔میں نے خود شہر کی ایک...

نوجوانوں کا قرآن کریم سے روز بروز بڑھتا ہوا انس، انقلاب کی برکت

انقلاب سے قبل کبھی کبھی کسی گوشے میں کچھ لوگ جمع ہوکر تلاوت کلام پاک کرلیتے تھے۔ روز بروز نوجوانوں میں قرآن کے سلسلے میں بڑھتی دلچسپی اور قرآنی علوم میں یہ قابل ستائش ترقی، اسلامی انقلاب کا ثمرہ ہے۔ انقلاب سے پہلے یہ عالم تھا کہ شاذ و نادر ہی کوئي عالمی شہرت کا قاری ایران آتا تھا اور اگر آ بھی جاتا ...

نماز نہ پڑھو لیکن قمہ لگاؤ

سابق سویت یونین اور اس کے زیر انتظام شیعہ اکثریتی علاقے آذر بایجان کے امور کے ماہر ایک شخص نے بتایا کہ جب کمیونسٹوں نے اس علاقے (آذربائیجان) پر قبضہ کیا تو تمام اسلامی علامتیں مٹا دیں۔مسجدیں گوداموں میں تبدیل کر دی گئیں، دینی مراکز اور امام بارگاہوں کو کچھ اور بنا دیا گیا، دین اور شیعیت کا نام و نشا...

آدم خوروں کے نزدیک زندگی

سامراج کے تسلط کے لئے راہ ہموار کرنے کی غرض سے لوگوں کو عیسائي بنانے کے لئے پادری روانہ کئے گئے۔ ان پادریوں کو بھی بخوبی علم تھا کہ کس ہدف کے تحت وہ سر گرم عمل ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ان کو ہدف سے آگاہی نہیں تھی لیکن آپ غور کریں کہ انہوں نے اس ہدف کے لئے کتنی مشقتیں اور زحمتیں برداشت کیں۔ ان کڑی ز...

والد گرامی

والد گرامی اور والدہ محترمہ میں جو عجیب و غریب حصوصیات تھیں اور جو میں بہت کم ہی لوگوں میں دیکھتا ہوں، دنیوی مال و اسباب کی فراہمی اور افزائش میں ان کی بے رغبتی اور عدم دلچسپی تھی۔ اس عادت اور خصوصیت کی ہم سب کو مشق کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک بار تبریز کے امام جعمہ شہید قاضی طباطبائی ہمارے یہاں تشریف لائے وہ کہنے لگے کہ چالیس سال قبل میں اپنے والد کے ساتھ مشہد آیا تھا۔ آپ (قائد انقلاب کے والد گرامی) سے ملاقات کے لئے آیا تو دیکھا کہ اسی جگہ پر بیٹھے تھے جہاں اس وقت تشریف فرما ہیں اور میں اس وقت اس جگہ بیٹھا ہوں جہاں میرے والد بیٹھے تھے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کمرے میں معمولی سی بھی تبدیلی نہیں ہوئي ہے ـ یعنی ایک نسل گزر چکی تھی اور والد گرامی اپنی چالیس سال قبل والی حالت پر تھے۔ جب برادر گرامی (حسن صاحب) شادی کر رہے تھے تو اس وقت جگہ کی کمی کی وجہ سے ہم نے اس کمرے کو گرا کر اسی جگہ دو کمرے بنوائے، تہہ خانے میں ایک حمام بنوا دیا گيا اس طرح ہمارا گھر حمام والا گھر ہو گیا۔ البتہ اس وقت ہم لوگ وہاں نہیں تھے۔