میرزا نائینی نے جس حکومت کا خاکہ پیش کیا وہ آج کی اصطلاح میں جمہوری اسلامی ہے

میرزا نائینی نے جس حکومت کا خاکہ پیش کیا وہ آج کی اصطلاح میں جمہوری اسلامی ہے

میرزا نائینی ایک حکومت کا خاکہ پیش کرتے ہیں اور اسے سیاسی فکر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اگر ہم آج کے دور کی اصطلاح میں اس اسلامی اور عوامی حکومت کو بیان کرنا چاہیں تو وہ "اسلامی جمہوریہ" کہلائے گی۔
مایوس حکومت

مایوس حکومت

امریکی صدر مایوس صیہونیوں کو امید اور حوصلہ دینے مقبوضہ فلسطین گئے تھے، یہ وہاں انھیں حوصلہ دینے گئے تھے، انھیں مایوسی سے نکالنے کے لیے گئے تھے۔
میزائیل تیار ہیں، ضرورت پڑنے پر پھر استعمال ہوں گے

میزائیل تیار ہیں، ضرورت پڑنے پر پھر استعمال ہوں گے

ہماری مسلح فورسز کے پاس یہ میزائیل پہلے سے تیار تھے، انھوں نے انھیں استعمال کیا، ان کے پاس مزید میزائيل ہیں، ضروری ہوا تو وہ کسی اور وقت بھی انھیں استعمال کریں گی۔
دشمن، ایران کی پیشرفت نہیں دیکھ سکتا

دشمن، ایران کی پیشرفت نہیں دیکھ سکتا

ہماری سائنسی پیشرفت، ٹیکنالوجی کی پیشرفت ترقی، سروسز کے میدانوں میں پیشرفت، کھیل کے میدان میں پیشرفت، دشمن یہ سب دیکھ نہیں سکتا۔
امریکا، غزہ کی جنگ کا اصلی شریک جرم

امریکا، غزہ کی جنگ کا اصلی شریک جرم

امریکا، غزہ کی جنگ کا اصلی شریک جرم ہے، بلاشبہہ۔ خود ٹرمپ نے اپنی باتوں میں اعتراف کیا، کہا کہ غزہ میں ہم نے ساتھ میں کام کیا، اگر وہ نہیں کہتے تب بھی واضح تھا۔
ٹرمپ نے مایوس صیہونیوں کو حوصلہ دینے کی کوشش کی

ٹرمپ نے مایوس صیہونیوں کو حوصلہ دینے کی کوشش کی

امریکی صدر نے مقبوضہ فلسطین میں کچھ کھوکھلی اور فضول باتوں کے ذریعے کوشش کی کہ مایوس صیہونیوں کو پرامید بنائيں، انھیں حوصلہ دیں۔
گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار رہنا چاہیے

گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مزاحمت کے لیے تیار رہنا چاہیے

خطے اور حتیٰ کہ دنیا کے لیے اسرائیل کے آئندہ منصوبوں کی طرف سے چوکنا رہنا چاہیے۔ اگرچہ وہ ایک چھوٹی اقلیت ہیں لیکن وہ بڑی طاقتوں کے سہارے خطے اور دنیا پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے آج ہی سے مزاحمت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
یورینیم کی افزودگي روکنے پر پابندیاں ہٹانے کے بیس سالہ وعدے

یورینیم کی افزودگي روکنے پر پابندیاں ہٹانے کے بیس سالہ وعدے

عملی طور پر، وہ پابندیاں اٹھانے کے لیے تیار نہیں تھے اور صرف یہ چاہتے تھے کہ یہ افزودگی کا تعطل، مستقل طور پر افزودگي کے خاتمے میں بدل جائے۔
بارہ روزہ جنگ کے تین سبق

بارہ روزہ جنگ کے تین سبق

ایک یہ کہ خود انحصاری کی حفاظت کرے، دوسرے یہ کہ جنگوں کے نئے عنصر پر جو انفارمیشن اور ادراکی (Cognitive) جنگ ہے، تسلط حاصل کرے تاکہ دشمنوں کا جواب دے سکے، تیسرے یہ کہ عوام پر بھروسے اور قومی یکجہتی کی، جو معاشرے میں پیدا ہوئی ہے، بدستور حفاظت کرے۔
12 روزہ جنگ سے پہلے مذاکرات کی کیا حکمت تھی؟

12 روزہ جنگ سے پہلے مذاکرات کی کیا حکمت تھی؟

اگر ایران نے مذاکرات قبول نہ کیے ہوتے اور امریکی، فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتے تو یہ سوال اٹھتا کہ آپ نے مذاکرات کیوں نہیں کیے تاکہ جنگ نہ ہو؟