امریکا اور مغرب، تسلط پسندی کے خواہاں ہیں ورنہ آپ سے کیا مطلب ہے کہ آپ ایران کے میزائیلوں کے بارے میں اظہار خیال کریں؟ کیا آپ یہ بات تسلیم کریں گے کہ ہم کہیں کہ جب تک یورپ کے پاس میزائيل اور ایٹمی ہتھیار ہے، وہ ہم سے جنگ کے لیے تیار رہے؟
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مسئلۂ فلسطین کے حل کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی کے بیانوں پر مشتمل کتاب "فلسطین پر ریفرنڈم" کا اردو نسخہ پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کو پیش کیا۔
امریکی سفارت خانے کا معاملہ یہ تھا کہ وہ انقلاب کے خلاف سازش کا مرکز تھا۔ لوگوں سے ملیں، لوگوں کو ورغلائيں، گروہ بنائيں، پچھلی حکومت کی ناخوش باقیات کو استعمال کریں اور اگر ممکن ہو تو فوج کو ایک ساتھ اکٹھا کریں اور انقلاب کے خلاف کارروائي کریں۔
امریکا کی سامراجی فطرت اور انقلاب کی خود مختارانہ فطرت آپس میں میل نہیں کھاتی تھی۔ اسلامی جمہوریہ اور ایران کا اختلاف ایک ٹیکٹکل اختلاف نہیں ہے، ایک جزوی اختلاف نہیں ہے، بلکہ ایک بنیادی اختلاف ہے۔
بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم امریکا کے سامنے نہیں جھکے لیکن کیا امریکا سے ہمارے تعلقات بھی ابد تک نہیں ہوں گے؟ جواب یہ ہے کہ اول تو امریکا کی سامراجی ماہیت، سرینڈر کے علاوہ کسی بات کو تسلیم نہیں کرتی۔
اگر امریکا پوری طرح سے صیہونی حکومت کی پشت پناہی ختم کر دے، اس علاقے سے اپنی فوجی اڈوں کو ختم کر دے، اس خطے میں مداخلت بند کر دے تب اس مسئلے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
ایرانی میزائلوں کے حملوں نے صرف مادی تباہی نہیں مچائی بلکہ ایرانی میزائيلوں کا ہر وار، اس حکومت کی حیثیت پر ایک کاری ضرب اور محفوظ جزیرے کی اس تصویر پر سوالیہ نشان لگا رہا تھا۔
نرس بیمار کے لئے فرشتۂ رحمت ہے۔ یہ حقیقی تعبیر ہے، اس میں کسی طرح کا مبالغہ نہیں ہے۔ نرس حقیقت میں مریض کے لیے غمگسار، شفیق اور باعث آسودگی ہے۔ یہ بہت اہم کردار ہے۔