وہ لاطینی امریکا میں ایک ملک کا محاصرہ کرتے ہیں، کارروائیاں کرتے ہیں، انھیں شرم بھی نہیں آتی، پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تیل کے لیے ہے اور ہم یہ کام تیل کے لیے کر رہے ہیں!
ہمارے دشمنوں نے ایران کو نہیں سمجھا اور غلط منصوبے بنائے، وہ آج بھی ایران کو نہیں جانتے اور غلط منصوبے بناتے ہیں، اُس وقت غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے وہ شکست کھا گئے، امریکا آج بھی اپنی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے شکست کھائے گا۔
وہ شخص بھی جو وہاں بیٹھ کر غرور و نخوت سے پوری دنیا کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، وہ بھی جان لے کہ فرعون، نمرود، رضا خان اور محمد رضا (پہلوی) وغیرہ جیسے ظالم و آمر اس وقت سرنگوں ہوئے جب وہ اپنے غرور کے اوج پر تھے، یہ بھی سرنگوں ہوگا۔
انسانوں کے سلسلے میں امیر المومنین کا احساس بے نظیر ہے، صرف مسلمانوں اور اپنے پیروکاروں کے ہی بارے میں نہیں بلکہ سبھی انسانوں کے بارے میں آپ کا احساس اوج پر ہے۔
وہ لوگ بھی جو کہتے تھے کہ ملک کے مسائل کا حل امریکا سے گفتگو ہے، انھوں نے بھی دیکھ لیا کہ کیا ہوا۔ امریکا سے مذاکرات کے درمیان، ایرانی حکومت، امریکا سے مذاکرات میں مصروف تھی، امریکی حکومت پردے کے پیچھے جنگ کا منصوبہ تیار کر رہی تھی۔
شہید سلیمانی ایمان، اخلاص اور عمل والے انسان تھے۔ جو کام وہ کرتے تھے اس پر ایمان رکھتے تھے، نام و نمود، تعریف اور لوگوں کے درمیان امیج حاصل کرنے کے لیے کام نہیں کرتے تھے۔
اعتراض بجا ہے لیکن اعتراض، ہنگامہ آرائی سے الگ ہے۔ ہم اعتراض کرنے والے سے بات کرتے ہیں، لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والے سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ہنگامہ برپا کرنے والے کو اس کی جگہ بٹھا دینا چاہیے۔