امریکی پابندیوں سے مقابلے کا راستہ کیا ہے؟

امریکی پابندیوں سے مقابلے کا راستہ کیا ہے؟

رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 8 جنوری 2021   کو ٹی وی سے نشر ہونے والی اپنی تقریر میں ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ایران کے رویے اور اس مسئلے میں امریکا کے کمٹمنٹس کے بارے میں کہا: "ہمیں کوئي اصرار نہیں ہے، بالکل جلدبازی نہیں ہے کہ امریکا ایٹمی معاہدے میں لوٹ آئے؛
مرحلہ وار روش سے فائدہ نہیں، پابندیاں ایک ساتھ ختم کی جانی چاہیے: ڈاکٹر لاری جانی

مرحلہ وار روش سے فائدہ نہیں، پابندیاں ایک ساتھ ختم کی جانی چاہیے: ڈاکٹر لاری جانی

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 8 جنوری 2021 کو ٹی وی پر اپنے ایک خطاب میں جوائنٹ کامپریہینسیو پلان آف ایکشن 'جے سی پی او اے' کے سلسلے میں ایران کے طریقہ کار اور اس سلسلے میں امریکہ کے فرائض کے سلسلے میں کہا کہ "ہمیں ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی واپسی پر کوئي اصرار نہيں ہے، بنیادی طور پر ہمارا یہ مسئلہ ہی نہيں ہے کہ امریکہ جے سی پی او اے میں واپس لوٹے یا نہ لوٹے۔
پابندیوں کے خاتمے کے بغیر جے سی پی او اے کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا

پابندیوں کے خاتمے کے بغیر جے سی پی او اے کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 8 جنوری 2021  کو ٹی وی پر اپنے ایک خطاب میں ایٹمی معاہدے 'جے سی پی او اے' کے سلسلے میں ایران کے روئے اور اس سلسلے میں امریکہ کے فرائض کے سلسلے میں کہا کہ "ہمیں ایٹمی معاہدے میں امریکہ کی واپسی پر کوئي اصرار نہيں ہے، بنیادی طور پر ہمارا یہ مسئلہ ہی نہيں ہے کہ امریکہ 'جے سی پی او اے' میں واپس لوٹے یا نہ لوٹے۔
امریکا کو ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے سبب ہونے والے نقصانات کی بھرپائی بھی کرنی ہوگی: ظریف

امریکا کو ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے سبب ہونے والے نقصانات کی بھرپائی بھی کرنی ہوگی: ظریف

رہبر انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے آٹھ جنوری کو ٹی وی سے نشر ہونے والی اپنی تقریر میں ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ایران کے رویے اور اس مسئلے میں امریکا کی ذمہ داریوں کے بارے میں کہا: "ہمیں کوئي اصرار نہیں ہے، بالکل جلدبازی نہیں ہے کہ امریکا ایٹمی معاہدے میں لوٹ آئے؛
اگر امریکا ایٹمی معاہدے میں لوٹنا چاہتا ہے تو اس کی شرط پابندیوں کا خاتمہ ہے

اگر امریکا ایٹمی معاہدے میں لوٹنا چاہتا ہے تو اس کی شرط پابندیوں کا خاتمہ ہے

قائد انقلاب اسلامی آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 8 جنوری کو ٹی وی سے نشر ہونے والی اپنی تقریر میں ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ایران کے رویے اور اس مسئلے میں امریکا کی ذمہ داریوں کے بارے میں کہا: "ہمیں کوئي اصرار نہیں ہے، بالکل جلدبازی نہیں ہے کہ امریکا ایٹمی معاہدے میں لوٹ آئے؛ در اصل ہمارا مسئلہ یہ ہے ہی نہیں کہ امریکا ایٹمی سمجھوتے میں لوٹے یا نہ لوٹے۔ ہمارا جو منطقی اور عاقلانہ مطالبہ ہے، وہ پابندیوں کا خاتمہ ہے؛ یہ ایرانی قوم کا غصب شدہ حق ہے۔" قائد انقلاب اسلامی نے ان جملوں کو 'اسلامی جمہوریہ ایران کی آخری اور حتمی بات' کی حیثیت سے پیش کیا۔