نوجوانی کی اہمیت

نوجوانی کے دور پر خاص توجہ
اسلام میں نوجوانوں کی محوریت
قوموں کی ترقی کا سرمایہ
نوجوانوں کی قابل تحسین خصوصیات
نوجوان اور اعلی عہدہ داروں کی ذمہ داری

نوجوانوں کی سماجی ذمہ داریاں 

ہمہ جہتی خود سازی
آگاہانہ احساس ذمہ داری
معاشرے کے سلسلے میں نوجوانوں کی حساسیت
تدبر اور غور و فکر کی عادت

نوجوان نسل کی راہ کے چیلنج اور مشکلات

نوجوان کی شخصی و ذاتی فکریں
روحانیت و معنویت کی فکر
تشخص اور استعداد کا انکشاف
نوجوان سے مدلل گفتگو
جنسیاتی پہلو
ثقافتی یلغار
سستی اور آرام طلبی
خود فراموشی
مسلمان نوجوانوں کی مصیبت
گناہ و معصیت سے دوری

نوجوانوں کی ترقی کا راز

بیکراں ذخیرہ
توکل بر خدا
جذبہ خود اعتمادی کی تقویت
علمی مساعی
وقت کا بھرپور استعمال

نوجوانوں کے گوناگوں سوالات اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے جوابات

نوجوانی کے ایام میں آپ کے آئیڈیل کون لوگ تھے؟
آپ نے اپنا نوجوانی کا دور کیسے گزارا؟
نوجوانی کے ایام میں آپ کی تفریحی سرگرمیاں کیا تھیں؟
آپ کی نظر میں ایک مسلم نوجوان کی خصوصیات کیا ہیں؟ ایک نوجوان کس طرح زندگی کے سفر کو پورا کرکے اپنے اہداف تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟
نوجوان اپنے ہیجانی جذبے کو کیسے تسکین دے اور کیسے اس سے استفادہ کرے؟
نوجوانوں سے مل کر آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے اور آپ ان سے سب سے پہلی بات جو کہنا چاہتے ہیں وہ کیا ہے؟
گوناگوں سماجی اور سیاسی امور میں موقف کی نوعیت سلسلے میں نوجوانوں کے لئے آپ کی سفارش کیا ہے؟
ایران اور پیشرفتہ ممالک کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

 

نوجوان اور نوجوانی


نوجوانی کی اہمیت

نوجوانی کے دور پر خاص توجہ

نوجوانی ہر انسان کی زندگی کی ایک درخشاں حقیقت اور بے بدل اور عدیم المثال باب ہے۔ جس ملک میں بھی نوجوانوں کے مسائل پر کما حقہ توجہ دی جائے گی وہ ملک ترقی کی راہ میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے گا۔ یہ نوجوانی، یہ ضوفشاں دور وہ دور ہے کہ جو اپنی کم طوالت کے باوجود انسان کی پوری زندگی پر طویل المیعاد اور دائمی اثرات مرتب کرتا ہے۔

جس طرح نوجوانوں کے جسم انرجی اور شادابی کی آماجگاہ ہوتے ہیں ان کی روح بھی اسی طرح شاداب ہوتی ہے۔ اس متنفس کو اس کی فکری توانائی، اس کی عقلی صلاحیت، اس کی جسمانی طاقت، اس کی اعصابی قوت اور اس کے ناشناختہ پہلوؤں کے ساتھ اللہ تعالی نے خلق فرمایا ہے تاکہ وہ ان قدرتی نعمتوں اور اس مادی دنیا کو وسیلے کے طور پر استعمال کرے اور خود کو قرب الہی کے بلند مقامات پر پہنچائے۔

ٹاپ

اسلام میں نوجوانوں کی محوریت

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نوجوانوں کے بارے میں بڑی سفارشات کی ہیں۔ آپ نوجوانوں کے ساتھ بہت مانوس تھے اور آپ نے کارہائے بزرگ کی انجام دہی میں نوجوانوں کی طاقت سے استفادہ کیا۔ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام مکے میں اپنی نوجوانی کے ایام میں فداکار، با ہوش فعال اور پیش قدم نوجوان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ پر خطر میدانوں میں سینہ سپر ہو جاتے تھے اور دشوار ترین کام اپنے ذمے لے لیتے تھے۔ آپ نے اپنی فداکاری و جاں نثاری سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدینہ ہجرت کی راہ ہموار کی، اس کے بعد آپ مدینہ منورہ میں بھی فوج کے سپہ سالار، فعال دستوں کے قائد، عالم، دانشمند، سخی اور شجاع انسان کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ میدان جنگ میں آپ پیش قدم سردار لشکر اور جانباز سپاہی تھے، حکومتی اور انتظامی امور میں آپ ایک مدبر انسان تھے، سماجی امور میں آپ ہر لحاظ سے پیش پیش رہنے والے شخص تھے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی دس سال اور چند مہینوں کی حکومت میں صرف علی علیہ السلام کی با عظمت ذات سے ہی نہیں بلکہ بنیادی طور پر نوجوانوں سے بھرپور استفادہ کیا۔

ٹاپ

قوموں کی ترقی کا سرمایہ

ایران میں نوجوانوں کی تعداد اور ملک میں ان کی آبادی کا تناسب بڑا حیرت انگیز ہے۔ اس وقت ایران کی نصف سے زیادہ آبادی تیس سال سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ ایک بے مثال حقیقت یہ ہے کہ جو ملک دنیا کے نوجوان ترین ممالک میں ہے وہ دنیا کے عظیم ترین، جوان ترین انقلاب اور خود مختار ترین سیاسی نظام کا حامل ہے۔ یہ توارد حیرت انگیز توارد ہے۔ یہ عظیم نوجوان آبادی کسی ایسے ملک میں زندگی بسر نہیں کر رہی ہے کہ جس کا سیاسی نظام امریکا یا دنیا کے بڑے مالیاتی اداروں یا کثیر القومی کمپنیوں یا کسی غیر ملک کی سیاست کا تابع ہو، وہ ایسے ملک میں سانس لے رہی ہے کہ جس کا سیاسی نظام نوجوانوں پر خاص توجہ دیتا ہے۔ نوجوان کو خود مختاری سے رغبت ہوتی ہے، نوجوان کی فطرت یہ ہے کہ سر اٹھا کے چلنا چاہتا ہے، کسی کا اسیر اور تابع نہیں رہنا چاہتا۔ آج ملک ایران کا سیاسی نظام ایسا نظام ہے جو سر اٹھا کے کھڑا ہے، اس نے کسی کے بھی سامنے سر جھکایا نہیں ہے اور ان کئی برسوں کے عرصے میں کبھی بھی اس نے امریکا کی توپوں اور ٹینکوں نیز گوناگوں خطرات سے اپنے اندر خوف و ہراس اور پس و پیش کی کیفیت کو راہ نہیں دی ہے۔ ایران کے پاس ایک نیا اور جواں سال انقلاب ہے لہذا وہ درست منصوبہ بندی کے تحت برق رفتاری سے خود سازی اور پیشرفت کرنا چاہتا ہے تاکہ دشمنوں کی زبانوں پر تالے لگا دے اور علمی و عملی دونوں لحاظ سے ہر میدان میں اپنی موجودگی اور اہمیت کا لوہا سب سے منوا لے۔ جس ملک کی آبادی کا نصف حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہو اور نوجوانوں کے نئے قافلے یکے بعد دیگر مسلسل وارد میدان ہو رہے ہوں وہاں یہ چیز عین ممکن ہے۔ اس سلسلے میں مستقبل بالکل واضح اور عیاں ہے۔

ٹاپ

نوجوانوں کی قابل تحسین خصوصیات

نوجوان حق بات کو آسانی سے قبول کر لیتا ہے، یہ بہت اہم ہے۔ نوجوان پوری صداقت کے ساتھ واضح الفاظ میں اپنا اعتراض بیان کرتا ہے اور بغیر کسی اندرونی جھجک اور پس و پیش کے بے فکری کے ساتھ اقدام کرتا ہے۔ یہ بھی بہت اہم بات ہے۔ آسانی سے بات کا قبول کرنا، سچائی کے ساتھ اپنا اعتراض بیان کر دینا اور بے فکری کے ساتھ عمل کرنا۔ اگر آپ ان تینوں خصوصیات کو ایک ساتھ رکھئے اور غور کیجئے تو آپ کو بڑی خوبصورت اور دلکش حقیقت نظر آئے گی، آپ کو معلوم ہوگا کہ مسائل کے حل کی کتنی اہم کنجی آپ کو مل گئی ہے۔

نوجوان فطری طور پر اصلاح پسند ہوتا ہے۔ فطری طور پر عدل و انصاف کا خواہاں ہوتا ہے، قانونی آزادی اور اسلامی امنگوں کو عملی جامہ پہنائے جانے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اسلامی اہداف اور مقاصد اس کے اندر ہیجانی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں، اس کے اندر جوش و جذبہ پیدا کر دیتے ہیں۔ اس کے ذہن میں حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی جو تصویر ہے وہ اسے ہیجان میں مبتلا کر دیتی ہے۔ مقائسے اور موازنے کے ذریعے چیزوں کی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بہت بڑی اور بالکل نمایاں خصوصیت ہے۔

نوجوانی کے قابل تعریف خصائص میں، توانائی، قدرت، جدت عمل اور جوش و جذبہ ہے۔ کیا نوجوان کی یہ خصوصیات اکتسابی ہیں یعنی کیا اس نے یہ خصوصیات اپنے اندر پیدا کی ہیں؟ نہیں، انصاف پسندی، جوش و جذبہ، بلند ہمتی یہ خصوصیات جو نوجوان میں پائی جاتی ہیں وہ ایسی نہیں ہیں کہ اس نے ان کے لئے خاص محنت کی ہو۔ یہ تو اس کی زندگی اور اس کی عمر کے اس مرحلے کا فطری تقاضا ہے۔ بنابریں یہ عطیات ہیں، تو ظاہر ہے کہ اس کے جواب میں کچھ فرائض بھی ہوں گے جنہیں پورا کیا جانا چاہئے۔

ٹاپ

نوجوان اور اعلی عہدہ داروں کی ذمہ داری

یہ صرف ماں باپ ہی نہیں ہیں جو جوانوں کے ذمہ دار ہیں۔ تعلیمی عہدہ داروں، سیاسی حکام، معاشی منصوبہ سازوں، سب کو ان افراد میں شمار کیا جاتا ہے جو ملک کے نوجوانوں کے ذمہ دار کہلاتے ہیں۔ ملک کے نوجوان، حکام کی اولادوں کا درجہ رکھتے ہیں۔ اگر حکام اور نوجوان طبقے پر پدرانہ اور فرزندانہ جذبہ محیط ہو جائے جو نوجوانوں کے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ بعض مشکلات ایسی ہوں جو قلیل مدت میں حل نہ کی سکیں لیکن نوجوان نسل اور نوجوان طبقے کی اطلاعات میں اضافہ کرنا اور ان سے مدد حاصل کرنا وہ طریقے ہیں جن سے اس صورت حال کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ ملک کی عظیم نوجوان نسل ایک فیاض اور متلاطم دریا کی مانند ہے۔ یہ دریا مسلسل بہہ رہا ہے اور برسوں بعد بھی اسی طرح بہتا رہے گا۔ اس دریا کے سلسلے میں دو طرح کا طرز عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ملک کے حکام، دانشمندانہ، عاقلانہ اور عالمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے سب سے پہلے اس دریا کی اہمیت و افادیت کو پہچانیں، دوسرے مرحلے میں ان جگہوں اور مراکز کی نشاندہی کریں جنہیں اس دریا کے پانی کی ضرورت ہے، تیسرے مرحلے میں منصوبہ بندی اور پانی کی سپلائي کا نیٹ ورک تیار کریں اور پھر پانی کو جہاں جہاں ضرورت ہے، پہنچائیں۔ یہ کر لیا گيا تو ہزاروں باغ اور لالہ زار چمن اس لا محدود نعمت الہی سے بہرہ مند ہوں گے اور بے آب و گياہ خطوں میں شادابی دوڑ جائے گی۔ اس دریائے متلاطم کے پانی کو انرجی پیدا کرنے والے ڈیم تک بھی پہنچایا جا سکتا ہے اور اس طرح انرجی کا ایک عظیم سرچشمہ تیار کیا جا سکتا ہے اور پورے ملک کو فعالیت اور سعی و کوشش کے لئے آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس سلسلے میں یہ طرز عمل اختیار کیا جائے تو یہ نعمت ثمر بخش اور بارآور بن جائے گی جس پر اگر معاشرے کا ہر ایک فرد روزانہ سیکڑوں بار سجدہ شکر بجا لائے تو بھی کم ہے۔ اس طرح کے طرز عمل کا لازمہ ہے منصوبہ بندی کرنا، رہنمائی کرنا، راستوں اور میدانوں کو کھولنا، احتیاجات کو متعین کرنا اور اس گراں بہا پونجی اور اس ہدیہ الہی کو ضرورت کی جگہ پر رکھنا ہے۔ جس کا نتیجہ شادابی، تازگي، تعمیر و ترقی، جوش و جذبے اور برکت و رحمت کی شکل میں نکلے گا۔

دوسرا طرز عمل یہ ہے کہ حکام اس موجزن اور فیض رساں دریا کو اس کی حالت پر چھوڑ دیں، اس کے بارے میں کوئی فکر کرنے کی زحمت نہ کریں، اس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہ کریں اور اس کی قدر و قیمت نہ سمجھیں تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ صرف کھیتیاں سوکھ جائیں گی اور باغ اجڑ جائیں گے بلکہ خود یہ پانی بھی ضائع ہوگا۔ اس صورت حال میں اس پانی کا بہتر انجام یہی ہو سکتا ہے کہ وہ سمندر کے کھارے پانی میں مل کر ضائع ہو جائے، یا پھر دلدل یا ایسے مرکز میں تبدیل ہو جائے جو انواع و اقسام کی آفات و بلیات کی جڑ شمار کئے جاتے ہیں، بد ترین صورت حال یہ ہو سکتی ہے کہ ایک سیلاب کا روپ اختیار کرکے قوم کی ساری جمع پونجی کو مٹا دے۔ اگر منصوبہ بندی نہ ہوئی اور محنت سے کام نہ کیا گيا تو یہی نتائج نکلیں گے۔

ٹاپ

نوجوانوں کی سماجی ذمہ داریاں

ہمہ جہتی خود سازی

علمی، اخلاقی اور جسمانی خود سازی وہ توقعات ہیں جو نوجوانوں سے کی جا سکتی ہیں اور خود نوجوانوں کو بھی اس خود سازی کی احتیاج ہے۔ نوجوان کو چاہئے کہ خود فیصلہ کرے اور اپنی زمین پر اپنی پسند کا بیج بوئے، اپنی ثقافتی دولت اور جمع پونجی سے استفادہ کرے، اپنے ارادے کو بروئے کار لائے، اپنی شخصیت اور اپنی خود مختاری کو اہمیت دے۔ دوسروں کی تقلید اور اغیار کے آئیڈیل کی نقل نہ کرے۔

نوجوانوں کو تقلید کا اسیر نہیں ہونا چاہئے۔ جس روش اور جس راہ پر چل کر ان کا ذہن، ان کا ارادہ اور جذبہ ایمانی تقویت پاتا ہو اور جس پر چل کر وہ اخلاقی خوبیوں سے آراستہ ہو سکتے ہوں اسی راستے کے بارے میں انہیں فکر کرنا چاہئے۔ ایسی صورت میں نوجوان اس ستون میں تبدیل ہو جائے گا جس پر ملک کی تمدنی زندگی اور اس قوم کی حقیقی تہذیب کا تکیہ ہے۔

ٹاپ

آگاہانہ احساس ذمہ داری

نوجوانوں کے لئے جو چیزیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ان میں ایک آگاہانہ احساس ذمہ داری ہے۔ نوجوان میں توانائی اور انرجی بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ حساس بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ احساس ذمہ داری سے مراد یہ ہے کہ انسان جس طرح زندگی، معیشت، روزگار، شادی بیاہ اور اپنی ذات سے متعلق دیگر چیزوں کی فکر میں رہتا ہے، ان اہداف و مقاصد کے لئے بھی فکرمند رہے جو اس کی ذاتی زندگی سے بالاتر ہیں، وہ اہداف جو صرف اس کی ذات تک محدود نہیں ہیں بلکہ ایک گروہ ، ایک قوم ، تاریخ اور تمام انسانیت سے متعلق ہیں۔

انسان کے اندر ان اہداف کے تعلق سے بھی احساس ذمہ داری، فرض شناسی اور پابندی ہونا چاہئے۔ کوئي بھی انسان اور کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک سعادت و خوشبختی کی بلند چوٹیوں پر نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کے اندر یہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی پیدا نہ ہو جائے۔ یہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی آگاہانہ انداز میں ہونی چاہئے، انسان کو پتہ ہونا چاہئے کہ وہ کس ہدف و مقصد کی جانب بڑھ رہا ہے اور راستے میں کون سی رکاوٹیں موجود ہیں۔ اسی کو آگاہانہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی کہتے ہیں۔ /br>

ٹاپ

معاشرے کے سلسلے میں نوجوانوں کی حساسیت

نوجوان اپنے معاشرے کے امور کے سلسلے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ معاشرے یعنی اس فضا میں جس میں نوجوان سانسیں لے رہا ہے اگر تفریق و امتیاز ہو تو وہ آزردہ خاطر اور رنجیدہ ہوتا ہے، اگر گھر کے اندر تفریق نظر آئے تو نوجوان کبیدہ خاطر ہو جاتا ہے، اگر اسکول اور کلاس کے اندر اسے تفریق و امتیاز دکھائی دیتا ہے تو اس دلی تکلیف پہنچتی ہے۔ بعض افراد ایسے بھی ہیں جو ان سماجی برائیوں اور آفتوں کے سلسلے میں بے حسی کا شکار ہو گئے ہیں یا اپنی ذاتی زندگی اور امور میں مستغرق ہیں، یا پھر دیکھتے دیکھتے اسی کے عادی ہو گئے ہیں۔ نوجوان ایسا نہیں ہوتا۔ نوجوان جذباتی ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں انصاف و مساوات نہ ہو تفریق و امتیاز ہو تو نوجوان کو دکھ ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں بد عنوانیاں پھیل جائيں تو وہ نوجوان جو اپنے ملک کے وقار کا متمنی ہے یقینا آزردہ خاطر ہوگا۔ اگر کہیں قومی جوش و جذبے کا معاملہ ہو تو وہاں نوجوانوں کی فرض شناسی قابل دید ہوتی ہے۔ مسلط شدہ جنگ کے دوران امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے ایک اشارے پر اور محاذوں میں سے کسی محاذ کی ایک درخواست پر نوجوان جوق در جوق محاذوں کی سمت دوڑ پڑتے تھے، حالانکہ ان کو یہ یقین ہوتا تھا کہ سامنے خطرات موجود ہیں۔ ہر معاشرے میں نوجوانوں کی یہ مشترکہ خصوصیت ہے، تاہم جن معاشروں میں ایمان و روحانی اقدار ہیں وہاں یہ خصوصیت زیادہ نظر آتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں جب ملک کے دفاع کا مسئلہ، قومی حمیت کا معاملہ اور ملک کے عز و وقار اور آزادی و خود مختاری کی حفاظت کی بات آ جاتی ہے تو نوجوان بے لوثی اور بے غرضی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور اقدام کرتے ہیں، انہیں اپنی زندگی اور اپنے چین و سکون کی ذرہ برابر فکر نہیں ہوتی، وہ پر خطر وادی میں اتر جاتے ہیں۔

ٹاپ

تدبر اور غور و فکر کی عادت

ایک مجاہد نوجوان کے لئے جو چیزیں لازمی ہیں ان میں تعلیم کا حصول، سستی و کاہلی کا مقابلہ، گومگو کی کیفیت سے چھٹکارا اور غور و فکر کی عادت ہے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ مختلف امور میں غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیں، یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔ ہر انسان بالخصوص نوجوان نسل کے لئے بہت بڑے خطرات میں سے ایک یہ ہے کہ واقعات و حادثات اور معاشرے کی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے لا تعلق بنا رہے۔ نوجوانوں کے افکار و نظریات کو صحیح سمت و رخ عطا کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے اور بعض افراد ہیں جن کے دوش پر یہ فریضہ ہے تاہم اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کا بھی یہ فریضہ ہے کہ مختلف امور کے سلسلے میں غور و فکر کریں اور سوچ سمجھ کر اپنی راہ پر آگے بڑھیں۔ چھوٹے بڑے ہر واقعے کے سلسلے میں تدبر اور غور و فکر کرنے کی عادت ڈالیں، مطالعہ کریں، جائزہ لیں۔ اگر کسی نے غور و فکر اور تدبر کی اپنی عادت ڈال لی اور اہل فکر و نظر میں شامل ہو گیا تو دوسروں کے مشوروں سے بھی استفادہ کرے گا۔ جو چیزیں غور و فکر سے انسان کو روک دیتی ہیں ان میں بد عنوانی اور مایوسی کے دام میں پھنس جانا ہے۔ بنابریں نوجوانوں کا ایک بڑا جہاد مایوسی اور بد عنوانی کے علل و اسباب کا ازالہ کرنا ہے۔

ٹاپ

نوجوان نسل کی راہ کے چیلنج اور مشکلات

نوجوان کی شخصی و ذاتی فکریں

نوجوان سب سے پہلے مرحلے میں تعلیم، نوکری، روزگار اور مستقبل کی فکر میں رہتا ہے۔ مستقبل کو روشن اور یقینی بنانا اس کے نزدیک بہت اہم ہوتا ہے۔ اپنا گھر بسانا اور ہمت و حوصلے کے مطابق علمی سرگرمیاں انجام دینا بھی اس کے لئے بہت اہم ہوتا ہے، شادمانی و ہیجانی کیفیت کا بھی وہ دلدادہ ہوتا ہے۔ انسان کے اندر پائي جانے والی جمالیاتی حس نوجوان میں زیادہ قوی ہوتی ہے، انسانی جذبات و احساسات بھی نوجوان کے اندر زیادہ قوی ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان کے شخصی اور ذاتی مسائل و امور ہیں لیکن نوجوان کی فکرمندی یہیں تک محدود نہیں ہے۔

ٹاپ

روحانیت و معنویت کی فکر

نوجوان کو جو فکریں لاحق رہتی ہیں ان میں روحانیت و معنویت کی بھی فکر ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر منصوبہ سازوں اور ذمہ دار افراد کی پوری توجہ ہونا چاہئے۔ نوجوانی کے دور میں ایک عمومی مذہبی و عرفانی جذبہ غالب رہتا ہے۔ نوجوانوں کی قلبی خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالی، روحانیت کے اس مرکز اور حقیقت کے اس محور سے رابطہ و رشتہ قائم کریں چنانچہ مذہبی پروگراموں میں نوجوان بڑی دلچسپی و رغبت سے شرکت کرتے ہیں۔ جہاں بھی مذہبیت کا رنگ پھیکا نہیں پڑا ہے وہاں نوجوان آپ کو حاضر ملیں گے۔

البتہ بہت سے مذاہب میں، دنیا کے بہت سے ممالک میں مذہبی روحانیت و معنویت کے جلوے نظر نہیں آتے تو نوجوان ان مذاہب سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس پر توجہ نہیں دیتے لیکن جس معاشرے میں مذہب کی قدر و قیمت پہچانی جاتی ہے، جہاں مذہب میں جان ہے اور خاص پیغام ہے معرفت و عرفان ہے اور مذہب نوجوان کو روحانیت و معنویت و جوش و جذبہ عطا کرتا ہے وہاں نوجوان مذہب کی جانب راغب نظر آتے ہیں۔

عبادت انسانوں کے دلوں اور روحوں کی تطہیر کا عمل ہے۔ عبادت انسان کا گوہر بیش بہا ہے۔ جن لوگوں کے سر سجدہ حق سے محروم ہیں وہ روحانیت و معنویت کی لذت سے بھی نابلد ہیں۔ خدا کی ذات سے انسیت، اللہ تعالی سے راز و نیاز، خدائے وحدہ لا شریک لہ سے طلب حاجت، اس کی بارگاہ میں اپنے غموں اور دکھوں کا شکوہ، غنی مطلق خدا سے اپنی خواہشات کا اظہار، اعلی اہداف کے حصول کے لئے اللہ تعالی سے طلب نصرت و مدد، یہ چیزیں انسان کو عبادت سے ملتی ہیں۔ بہترین عبادت گزاروں کا تعلق نوجوانوں کے طبقے سے ہوتا ہے۔ نوجوان کی عبادت میں زیادہ انہماک و ارتکاز، جوش و جذبہ اور روحانیت ہوتی ہے اور اس کی دعائيں زیادہ مستجاب ہوتی ہیں۔

ٹاپ

تشخص اور استعداد کا انکشاف

نوجوان کے اندر نوجوانی کے ایام بالخصوص اس دور کی ابتدا میں بہت سی خواہشات ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ چونکہ اس کی نئی شخصیت کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے لہذا وہ مائل ہوتا ہے کہ اس کی اس نئی شخصیت کو با قاعدہ تسلیم کیا جائے جبکہ اکثر و بیشتر یہ ہو نہیں پاتا اور والدین نوجوان کی نئي شخصیت اور شناخت کو تسلیم نہیں کرتے۔ دوسرے یہ کہ نوجوان کے اندر اپنے الگ قسم کے احساسات و جذبات ہوتے ہیں۔ اس کا روحانی و جسمانی نشو نما ہو رہا ہوتا ہے اور اس کے قدم ایک نئی وادی میں پڑ رہے ہوتے ہیں، اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ ارد گرد کے لوگ، خاندان کے افراد اور معاشرے کے لوگ اس نئی وادی اور نئي زندگی سے ناآشنا ہوتے ہیں یا پھر اس پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ ایسے میں نوجوان میں احساس تنہائی اور اجنبیت پیدا ہونے لگتا ہے۔ بڑے بوڑھوں کو چاہئے کہ اپنے نوجوانی کے ایام کی یاد کو تازہ کریں۔ اوائل بلوغ کا مرحلہ ہو یا بعد کا نوجوان کو نوجوانی کے دور میں بہت سی ایسی چیزوں کا سامنا ہوتا ہے جو ان کے لئے نا آشنا اور نامعلوم ہوتی ہیں۔ اس کے سامنے متعدد نئے سوال آتے ہیں جو جواب طلب ہوتے ہیں۔ اس کے ذہن میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں اور وہ ان سوالات اور شکوک و شبہات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بسا اوقات یہ ہوتا ہے کہ اسے تشفی بخش اور مناسب جواب نہیں دیا جاتا نتیجے میں نوجوان کو خلا اور ابہام کا احساس ہوتا ہے۔ نوجوان کے اندر یہ بھی نیا احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس کے اندر توانائیاں اور انرجی بھری ہوئی ہے، وہ اپنے اندر جسمانی اور فکری و ذہنی دونوں طرح کی توانائیاں پاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو توانائی اور انرجی نوجوان کے اندر بھری ہوتی ہے وہ اس کے ذریعے سے کرشماتی کام انجام دے سکتا ہے، اس میں پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دینے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کی اس توانائی اور انرجی سے استفادہ نہیں کیا جا رہا ہے نتیجے میں اسے لگتا ہے کہ وہ عبث اور بے کار گھوم رہا ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانی میں انسان کو پہلی بار ایک بڑی دنیا کا سامنا ہوتا ہے جس کا سامنا اس نے پہلے نہیں کیا ہوتا ہے، اسے اس دنیا کی بہت سی چیزوں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہوتا ہے۔ اسے زندگی کے بہت سے ایسے واقعات اور تبدیلیوں کا سامنا ہوتا ہے جن کے بارے میں اسے نہیں معلوم کہ کیا کرنا چاہئے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اسے کسی رہنمائی کرنے والے اور راستہ بتانے والے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب ماں باپ کی چونکہ مصروفیات زیادہ ہیں تو وہ نوجوان پر توجہ نہیں دے پاتے اور اس کی فکری مدد کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو ذمہ دار مراکز ہیں وہ اکثر و بیشتر وہاں جہاں انہیں کام کرنا چاہئے موجود نہیں ہوتے نتیجے میں نوجوان کو مدد نہیں مل پاتی اور نوجوان کو کسمپرسی کا احساس ستانے لگتا ہے۔

ٹاپ

نوجوان سے مدلل گفتگو

نوجوان چاہتا ہے کہ مذہبی اور دینی باتیں اسے بتائی اور سمجھائی جائیں۔ آج کا نوجوان چاہتا ہے کہ اپنے دین کو عقل و منطق اور دلیل و استدلال کی روشنی میں سمجھے، یہ بالکل بجا خواہش ہے۔ اس خواہش اور مطالبہ کی تعلیم تو خود دین نے لوگوں کو دی ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے سلسلے میں فکر و نظر اور فہم و تدبر کے ساتھ آگے بڑھیں۔ متعلقہ ذمہ دار افراد اگر نوجوانوں میں یہ فکری عمل رائج کرنے میں کامیاب ہو جائيں تو وہ دیکھیں گے کہ نوجوان دینی احکامات و تعلیمات پر عمل آوری سے بہت مانوس ہو گیا ہے۔

ٹاپ

جنسیاتی پہلو

نوجوانوں کے اندر جنسیاتی پہلو ایک تشویشناک چیز ہے اور بر وقت شادی کرنے اور گھر بسانے سے اس تشویش کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کی شادی کے سلسلے میں میرا تو یہ خیال ہے کہ اگر اس رسم و رواج اور اسراف و زیادہ روی سے پرہیز کیا جائے جو بد قسمتی سے ہمارے درمیان پھیلتی جا رہی ہے تو نوجوان اس موقع پر جب انہیں ضرورت ہے شادی کر سکتے ہیں۔ نوجوانی کی عمر شادی کے لئے بہت مناسب عمر ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ مغربی ثقافت کی اندھی اور کورانہ تقلید کے نتیجے میں بہت پہلے سے خاندانوں کے اندر یہ غلط رواج آ گيا ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شادی تاخیر سے ہونا چاہئے، جبکہ اسلام میں یہ نہیں ہے۔ اسلام کی نظر میں تو شادی، آغاز نوجوانی کے بعد جتنی جلدی کر دی جائے بہتر ہے۔

ٹاپ

ثقافتی یلغار

عصر حاضر میں جدید ٹکنالوجی کا سہارا مل جانے کے بعد ثقافتی یلغار اور بھی خطرناک ہو چکی ہے۔ نوجوانوں کے ذہن و دل اور فکر و نظر تک رسائی کے سیکڑوں اطلاعاتی راستے اور وسائل موجود ہیں۔ ٹی وی، ریڈیو اور کمپیوٹر سے متعلق انواع و اقسام کی روشوں کا استعمال کیا جانے لگا ہے اور نوجوانوں میں گوناگوں شکوک و شبہات پیدا کئے جا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر جب یورپیوں نے اندلس کو مسلمانوں سے واپس لینے کا ارادہ کیا تو دراز مدت پالیسی تیار کی۔ ان دنوں صیہونی نہیں ہوا کرتے تھے لیکن دشمنان اسلام اور سیاسی مراکز اسلام کے خلاف تب بھی سرگرم عمل تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کو گمراہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ کام وہ دینی اور سیاسی عوامل کے تحت انجام دے رہے تھے۔ ایک کام یہ کیا گيا کہ انہوں نے کچھ مخصوص مقامات معین کر دئے جہاں نوجوانوں کو مفت شراب پلائی جاتی تھی! نوجوانوں کو (فاحشہ) لڑکیوں اور عورتوں کے جال میں پھنسایا گيا تاکہ وہ شہوت پرستی میں مبتلا ہو جائيں۔ زمانہ گزر جانے کے بعد بھی کسی قوم کو آباد یا برباد کرنے والے اصلی طریقے بدلتے نہیں ہیں۔ آج بھی وہ یہی سب کچھ کر رہے ہیں۔

ٹاپ

سستی اور آرام طلبی

انسان کا ایک بد ترین دشمن جو خود اس کے اندر جنم لیتا ہے، سستی، کاہلی، کام چوری اور کام میں دل کا نہ لگنا ہے۔ اس دشمن سے سختی کے ساتھ نمٹنا چاہئے۔ اگر نوجوان اس دشمن کا مقابلہ کرنے اور اسے زیر کرنے میں کامیاب ہو گيا تو باہری دشمن کی ملک پر یلغار کی صورت میں بھی دشمن پر غالب آ جائے گا۔ اس اندرونی دشمن پر قابو پا لیا تو اس باہری دشمن کو بھی مغلوب کر لے جائے گا جو ایک ملت کے وسائل اور ذخائر کو لوٹ لینے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر کہیں انسان اپنی کاہلی پر قابو نہ پا سکا، بلکہ الٹے کاہلی ہی اس پر غالب آ گئی تو جب بھی فرائض اسے کسی میدان میں اترنے پر آمادہ کریں گے وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہی رہے گا۔ جو شخص درس، کام، عبادت اور گوناگوں خاندانی، سماجی اور دیگر فرائض کی انجام دہی کے لئے تیار نہیں ہوتا اور سستی و آرام طلبی میں پڑا رہتا ہے اسے یہ دعوی کرنے کا حق نہیں کہ اگر باہری دشمن نے اس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو وہ دشمن کے مقابلے میں فتحیاب ہوگا۔

ٹاپ

خود فراموشی

ایران نے بہت اہم شعبوں میں بڑی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ انقلاب اور انقلابی جذبہ ہے اور یہ خود اعتمادی جو انقلاب نے اس قوم کو دی، یہ کھلی فضا ہے جو انقلاب سے ملت ایران کو ملنے والی چیزوں نے ملت ایران کو آزادانہ فکر کرنے اور پرامید رہنے کی نعمت عطا کی۔ اگر ہم بیٹھ کر منفی پہلو تراشتے رہیں اور یہ رٹ لگائے رہیں کہ صاحب! یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، ہمیں کرنے ہی نہیں دیں گے، محنت کرکے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا ہے، تو آپ اس چیز کو سم مہلک سے کم نہ سمجھئے۔ ایک زمانے میں یہی ہوا، لوگ آئے اور انہوں نے ملت ایران کی ثقافتی فضا میں یہ زہر گھول دیا۔ یکبارگی آکر اعلان کر دیا گيا کہ ہم تو کچھ کر ہی نہیں سکتے میری نوجوانی کے ایام کی بات ہے، کہتے تھے کہ ایرانی تو لولہنگ بھی نہیں بنا سکتے۔ لولہنگ کہتے تھے لوٹے کو، وہ بھی مٹی سے بنے ہوئے لوٹے کو۔ یہ نظریہ اور خیال تھا اس زمانے کے سیاستدانوں کا اور یونیورسٹیاں چلانے والے عہدہ داروں کا۔ ان کے نام بھی معلوم ہیں جو کہا کرتے تھے کہ ایرانیوں کے بس کا کچھ نہیں ہے! جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے، ایرانی کچھ بھی کر سکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایرانی علمی سرحدوں کو جو بے حد وسیع ہو چکی ہیں توڑ کے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر نئی سرحدیں قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹاپ

مسلمان نوجوانوں کی مصیبت

سامراج نوجوان نسل کے لڑکے لڑکیوں کو جو عزم و ارادے اور طہارت و پاکدامنی کے ساتھ دین و روحانیت اور عالم اسلام کی صف اول میں سرگرم عمل ہوں، ہرگز پسند نہیں کرتا۔ وہ گمراہ اور بے راہرو نوجوان نسل دیکھنا چاہتے ہیں، اسے یہ پسند ہے۔ دشمن کی خواہشات کے بر خلاف مسلم نوجوان کو چاہئے کہ ثابت قدمی کا مظاہر کرے۔ اسلامی ممالک کے حکام کو چاہئے کہ سب سے پہلے کمر ہمت کسیں، حکام کسی شخص اور کسی چیز سے خوفزدہ نہ ہوں، دشمن کی ہنگامہ خیزی سے مرعوب نہ ہوں۔ یہ عظیم قومی محاذ ان کے اختیار میں ہے، انہیں چاہئے کہ اس سے بھرپور استفادہ کریں۔ قوم کے افراد بالخصوص نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنی قدر و منزلت کو سمجھیں اور خود سازی پر توجہ دیں۔

ٹاپ

گناہ و معصیت سے دوری

صحتمند انسانی و الہی فطرت ایک خدائی دولت ہے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ اس فطرت سے بھرپور استفادہ کریں اور گناہوں کے مقابلے میں مضبوط قوت ارادی کا مظاہرہ کریں۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ انسان گناہوں کے سلسلے میں اپنے نفس کو قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ جی نہیں، ایسا نہیں ہے کہ یہ محال ہو۔ ہاں اس کے لئے مشق ضروری ہے۔ نوجوانی کے ایام میں جو نوجوان فیصلہ کر لیتے تھے کہ اپنی قوت ارادی کو مضبوط کریں گے وہ اپنی نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہتے تھے۔ اسلام میں روزہ جو واجب قرار دیا گیا ہے، در حقیقت اسی راہ میں کی جانے والی مشق ہے۔ انسان کبھی کبھی کسی گناہ کی جانب کھنچا چلا جاتا ہے۔ لیکن جب انسان اس گناہ کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے تو کیا وہ واقعی بے اختیار ہو جاتا ہے؟ گناہ کی غلاظت میں ڈوب جانے کے علاوہ کیا واقعی کوئي راستہ اس کے پاس نہیں ہوتا؟ اکثر و بیشتر تو یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ انسان کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن نفسانی خواہشات اور وسوسے اسے فیصلہ نہیں کرنے دیتے۔ اگر انسان نے اپنی عمر ان وسوسوں کی رو میں بہتے ہوئے گزار دی تو پھر بڑھاپے میں وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پائے گا، یہ اس کے لئے بے حد دشوار اور سخت ہوگا لیکن نوجوان میں اس کی ضروری طاقت و قوت موجود ہوتی ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ گناہ و معصیت سے دوری تو بڑھاپے کا کام ہے، جبکہ بوڑھوں کا عالم یہ ہوتا ہے کہ جس طرح ان کے جسمانی اعضاء کمزور اور مضمحل ہو چکے ہوتے ہیں اسی طرح ان کی روحانی طاقت بھی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ نوجوان میں فیصلہ کرنے اور ثابت قدم رہنے کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔

ٹاپ

نوجوانوں کی ترقی کا راز

بیکراں ذخیرہ

جو نوجوان قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے تا حیات فکری اور ذہنی ذخیرہ تیار کر لیا ہے۔ یہ بے حد قیمتی چیز ہے۔ ممکن ہے کہ نوجوانی کے ایام میں آيات قرآنی سے گہرے مفاہیم اور تعلیمات کا استنباط نہ ہو سکے اور نوجوان صحیح طور پر اس کا ادراک نہ کر پائے، ممکن ہے کہ نوجوان کو قرآنی تعلیمات کی بہت سطحی باتیں ہی سمجھ میں آ سکیں لیکن جیسے جیسے وہ علمی پیشرفت کرے گا اور اس کی معلومات میں اضافہ ہوگا وہ اپنے حافظے اور ذہن میں موجود آیات قرآنی سے اور زیادہ استفادہ کرنے کے لائق ہوگا۔ ذہن انسانی میں قرآن کا نقش ہو جانا بہت بڑی نعمت ہے۔ ایک شخص ہے جو کسی موضوع پر کوئی آيت تلاش کرنے کے لئے بارہا قرآن کی فہرست اور آیات کو متلاشی نظروں سے دیکھتا ہے اور دوسرا شخص ہے کہ آيات قرآنی اس کے ذہن و دل اور آنکھوں کے بالکل سامنے ہیں اور وہ انہیں با قاعدہ دیکھ رہا ہوتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے ہر شعبے میں ضرورت کے مطابق وہ قرآن سے استنباط اور استدلال کرتا ہے، ان پر غور و فکر کرتا ہے اور ان سے استفادہ کرتا ہے، دونوں میں بہت فرق ہے۔ بچپنے اور لڑکپن سے لیکر نوجوانی تک قرآن سے انس بہت بڑی نعمت ہے۔

ٹاپ

توکل بر خدا

نوجوانوں کو چاہئے کہ اللہ تعالی پر توکل کریں، اس سے طلب نصرت و مدد کریں، اپنے قلوب میں ایمان کو مضبوط کریں، یہ کامیابیاں بہت اہم ہیں، خود اس نوجوان کی شخصی کامیابی کے لحاظ سے بھی اور قومی کامیابی کی نظر سے بھی، انہیں چاہئے کہ ایمان کو کمزور کرنے والے عوامل و اسباب کو یہ موقع نہ دیں کہ وہ دیمک کی مانند ایمان کی جڑوں کو چاٹ جائیں۔

اللہ تعالی کی ذات پر توکل اور توجہ اس لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے نفس اور اپنے دل کو مستحکم اور قوی بنا سکیں۔ واقعی اگر ہمارے اندر ہماری اندرونی ساخت محکم بنی رہی تو کوئی بھی بیرونی مشکل ہمیں مغلوب نہیں کر سکے گی۔ اپنے باطن اور اپنے دل کو اس طرح محکم بنانے کی ضرورت ہے کہ تمام ظاہری جسمانی اور ارد گرد کی خامیوں، کمیوں اور کمزوریوں پر قابو پایا جا سکے۔ یہ چیز توکل علی اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔

ٹاپ

جذبہ خود اعتمادی کی تقویت

نوجوانو کو چاہئے کہ اپنے طبقے کے اندر تلاش و جستجو، امید و بلند ہمتی، خود اعتمادی کے جذبے اور اس خیال کو کہ ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں تقویت پہنچائیں۔ عربوں کے یہاں ایک کہاوت ہے ادل دلیل علی امکان شیء وقوعہ اس بات کی محکم ترین دلیل کہ ایک چیز دائرہ امکان میں ہے، یہ ہے کہ وہ چیز واقع ہو جائے۔ اس بات کی سب سے بڑی دلیل کہ ایرانی نوجوان نسل سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں نئی ایجادات کر سکتی ہے، علوم کی سرحدوں سے گزر سکتی اور اس کے آگے جا سکتی ہے، یہ ہے کہ ایرانی نوجوان نسل عملی طور پر ایسا کرکے دکھائے۔

ٹاپ

علمی مساعی

نوجوانوں کو چاہئے کہ حصول علم کی راہ میں اور اپنی علمی توانائیاں بڑھانے کے سلسلے میں ہرگز کوئی کوتاہی نہ کریں۔ جو کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں اس پر قناعت نہ کریں بلکہ اسے پہلا قدم ہی مانیں۔ نوجوان کوہ پیما کی مانند ہوتا ہے جسے چوٹی پر پہنچ جانے تک آگے بڑھنا ہی رہتا ہے۔ راستے کے شروعاتی پیچ و خم میں بسا اوقات آدمی کو پسینے چھوٹنے لگتے ہیں۔ ابتدائی کامیابیوں پر قانع نہیں ہونا چاہئے۔ نظریں چوٹی پر ٹکی ہونی چاہئے۔ محنت و مشقت کرنی چاہئے، دشواریوں اور سختیوں کو برداشت کرنا چاہئے تاکہ چوٹی کو فتح کیا جا سکے۔

ٹاپ

وقت کا بھرپور استعمال

نوجوانوں کو چاہئے کہ وقت کا بہترین استعمال کریں۔ البتہ یہ چیز وقت کو منظم کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہیں چاہئے کہ بیٹھ کر اپنی سمجھ سے اپنا نظام الاوقات تیار کریں۔ نظام الاوقات کا مسئلہ یہ ہے کہ اس کا کوئی عمومی نمونہ نہیں ہے کہ میں کہوں کہ سارے لوگ اسی ایک نظام الاوقات کے مطابق کام کریں۔ ہر انسان اپنی عمر کے لحاظ سے، اپنی گھریلو زندگی کی مصروفیات کے لحاظ سے، اپنے وسائل کے لحاظ سے، اس شہر کے لحاظ سے جہاں وہ زندگی گزار رہا ہے، ممکن ہے کہ ایک مخصوص نظام الاوقات تیار کرے۔ نظام الاوقات ہر ایک کو تیار کرنا چاہئے اور اس کے ذریعے اپنے وقت کا بہترین استعمال کرنا چاہئے۔

ٹاپ

نوجوانوں کے گوناگوں سوالات اور آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے جوابات

مندرجہ ذیل متن قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ سے نوجوانوں کے سوالات اور آپ کے جوابات پر مشتمل ہے؛

نوجوانی کے ایام میں آپ کے آئیڈیل کون لوگ تھے؟

میری نوجوانی کے دور میں مجھے متاثر کرنے والوں میں سب سے پہلی شخصیت تھی نواب صفوی کی۔ (نواب صفوی، شاہی حکومت کے مظالم کے خلاف شجاعانہ جد و جہد کرنے والے مجاہد تھے) جب وہ مشہد آئے، میں تقریبا پندرہ سال کا تھا۔ میں ان کی شخصیت سے بہت زیادہ متاثر ہوا۔ وہ مشہد سے گئے اور کچھ ہی مہینوں کے بعد انہیں بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ اس واقعے سے ہم پر ان کا اثر اور گہرا ہو گیا۔ اس کے بعد میں امام خمینی رحمت اللہ علیہ سے متاثر ہوا۔ قم جانے اور جد و جہد شروع ہونے سے قبل بھی میں نے امام خمینی رحمت اللہ علیہ کا نام سن رکھا تھا، آپ کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا لیکن آپ کی ذات سے مجھے عقیدت و انسیت ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قم کے دینی تعلیمی مرکز میں نوجوان طلبہ کو آپ کے درس سے خاص رغبت تھی۔ آپ کا درس نوجوانوں کو بہت پسند آتا تھا۔ میں بھی جب قم گیا تو بلا تامل آپ کی کلاس میں شرکت کرنے لگا۔ میں نے شروع سے آپ کے درس میں شرکت کی اور آخر تک آپ کے ایک درس میں تواتر کے ساتھ شریک ہوتا رہا۔ مجھے اس شخصیت نے بہت متاثر کیا۔ ویسے میرے والد کا بھی مجھ پر اثر پڑا، میری والدہ کا بھی گہرا اثر رہا۔ جن شخصیتوں کا مجھ پر بہت گہر اثر پڑا ان میں ایک میری والدہ تھیں؛ یہ بڑی موثر خاتون تھیں۔

ٹاپ

آپ نے اپنا نوجوانی کا دور کیسے گزارا؟

وہ زمانہ آج کے جیسا نہیں تھا۔ واقعی صورت حال بہت دگرگوں تھی۔ نوجوانوں کا ماحول کوئی اچھا ماحول نہیں تھا۔ میرے لئے ہی نہیں جو اس وقت طالب علم تھا بلکہ تمام نوجوانوں کے لئے بھی، میں تو خیر پرائمری سے ہی دینی طالب علم بن گیا۔

نوجوانوں کے اندر بڑی صلاحیتیں مرجھا کر ختم ہو جاتی تھیں۔ یہ چیزیں تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ میں نے خود دینی طلباء کے ماحول میں بھی یہ چیزیں دیکھیں۔ بعد میں دینی تعلیمی مرکز سے باہر، یونیورسٹی اور طلبا کے ماحول میں جب پہنچا تو ان کے اندر بھی یہی حالت مجھے نظر آئی، ویسے یونیورسٹی طلبا سے میرا رابطہ برسوں پر محیط ہے۔ اتنی درخشاں صلاحیتیں تھیں! بہت سے طلبا ایسے تھے جو کوئی ایک موضوع پڑھ رہے تھے جس کے بارے میں ان کی صلاحیت بہت اچھی تو نہیں تھی لیکن یہ عین ممکن تھا کہ ان کے اندر دیگر صلاحیتیں پنہاں ہوں جس سے کوئی واقف نہیں تھا اور کسی کو بھی اس کے بارے میں کوئي اطلاع نہیں تھی۔

انقلاب سے قبل میری پوری نوجوانی، نوجوانوں کے ساتھ گزری ہے۔ انقلاب کامیاب ہوا تو اس وقت میری عمر تقریبا انتیس سال تھی۔ سترہ اٹھارہ سال کی عمر سے لیکر اس وقت تک کا پورا عرصہ میں نے نوجوانوں کے ساتھ گزارا، دینی تعلیمی مرکز سے وابستہ نوجوانوں کے ساتھ بھی اور اس صنف سے باہر کے نوجوانوں کے ساتھ بھی۔ مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ محمد رضا پہلوی کی حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کئے ہیں جن سے نوجوان بے راہروی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اخلاقی بے راہروی ہی نہیں بلکہ تشخص اور شناخت کی بے راہروی کی جانب۔ ( یعنی اپنے اصلی تشخص سے دور ہوتے جا رہے تھے)

البتہ میں یہ تو دعوی نہیں کر سکتا کہ خود حکومت نے ملک کے نوجوانوں کو بے راہروی میں مبتلا کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی تھی اور سازش رچی تھی، ممکن ہے اس نے ایسا کیا ہو اور ممکن ہے کہ اس نے ایسا نہ کیا ہو، لیکن اتنا تو وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے کچھ پروگرام ایسے تیار کئے تھے اور ملک کو اس انداز سے چلا رہے تھے کہ جس کا حتمی و یقینی نتیجہ یہی تھا۔ یعنی لوگ سیاسی امور سے دور اور زندگی کے معاملات سے بے اعتناء ہوگئے۔

اس وقت نوجوان نسل سمیت تمام طبقات کا عالم یہ تھا کہ سیاسی امور سے بالکل غافل تھے۔ نوجوان زیادہ تر روزمرہ کی سرگرمیوں میں لگے رہتے تھے۔ کچھ کو دو وقت کی روٹی کی ہی فکر تھی تو کچھ طاقت فرسا کاموں اور محنت مزدوری میں لگے ہوئے تھے کہ نان شبینہ کا بندوبست ہو جائے۔ ان کی اس کمائی کی بھی کچھ مقدار خورد و خوراک نہیں بلکہ الٹے سیدھے کاموں میں صرف ہوتی تھی۔

اگر آپ نے میری نوجوانی کے ایام میں لاطینی امریکا اور افریقا کے سلسلے میں لکھی گئی کتابیں پڑھی ہوں، جیسے فرانٹس فانن یا انہی جیسے ديگر مصنفین کی کتابیں جو اس زمانے میں کتابیں لکھتے تھے اور آج بھی ان کی کتابیں موجود ہیں، تو یقینا آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اس قت کے حالات ایسے ہی تھے۔ ایران کے سلسلے میں کسی کو کچھ لکھنے کی جرائت نہیں ہوتی تھی، لیکن افریقا یا چلی یا میکسکو کے سلسلے میں آسانی سے اور بے روک ٹوک کتابیں لکھی جاتی تھیں۔ یہ کتابیں پڑھ کر مجھے تو صاف محسوس ہوتا تھا کہ خود ہمارے حالات بھی وہی ہیں۔ یعنی نوجوان مزدور پسینہ بہاتا تھا، طاقت فرسائی کرتا تھا اور اس کے عوض اسے جو دو پیسہ مل جاتا تھا اس کا نصف حصہ تو وہ عیاشی اور غیر اخلاقی حرکتوں پر خرچ کر دیتا تھا۔ یہ بعینہ وہی باتیں تھیں جو میں ان کتابوں میں پڑھتا تھا، مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ایران کے معاشرے کے حقائق بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔ واقعی بہت برے حالات تھے، نوجوانوں کا ماحول بالکل اچھا ماحول نہیں تھا۔ البتہ نوجوانوں کی دلی کیفیات اور قلبی واردات تو کچھ الگ تھیں کیونکہ نوجوان بنیادی طور پر جوش و جذبے والا اور امید و بلند ہمتی والا ہوتا ہے۔

میں خود بھی بہت جوشیلا نوجوان تھا۔ انقلاب کے آغاز سے قبل بھی ادبی، فن کارانہ اور اس جیسی دیگر سرگرمیوں کی وجہ سے میری زندگی میں ایک تحرک اور ہیجان تھا۔ بعد میں سن تیرہ سو اکتالیس ہجری شمسی مطابق انیس سو باسٹھ عیسوی میں جب تحریک کا آغاز ہوا تو اس وقت میں تیئیس سال کا تھا۔ پھر تو ہم ملک کی بنیادی تحریک کے مرکز میں پہنچ گئے۔ انیس سو ترسٹھ میں میں دو بار جیل گیا۔ گرفتاری، جیل، پوچھ گچھ۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ یہ چیزیں انسان میں ہیجان برپا کر دیتی ہیں۔ انسان بعد میں جب جیل سے آزاد ہوکر باہر آتا تھا اور انسانوں کے بیکراں سمندر کو ان اقدار کا گرویدہ پاتا اور امام (خمینی) رضوان اللہ علیہ جیسے عظیم قائد کو عوام الناس کی ہدایت و رہنمائی میں مصروف دیکھتا تو اس کا ہیجان اور جوش و ولولہ اور بھی بڑھ جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مجھ جیسے افراد کے لئے جو زندگی کے ان امور کے بارے میں دلچسپی رکھتے تھے زندگی بہت ہیجانی تھی۔ البتہ سارے لوگ ایسے نہیں تھے۔

ان دنوں میں اور مجھ جیسے دیگر افراد جو جد و جہد کے بارے میں سنجیدگی اور پوری گہرائی سے سوچنے لگے تھے، سب نے اپنا نصب العین یہ بنایا کہ جیسے بھی ممکن ہو نوجوانوں کو حکومت کے ثقافتی شکنجے سے باہر نکالیں۔ میں خود مسجد جاتا اور تفسیر قرآن کا درس دیتا تھا، نماز کے بعد تقریر کرتا تھا، مختلف صوبوں میں جاکر تقریریں کرتا تھا۔ میرا بھی سارا ہم و غم یہ تھا کہ نوجوانوں کو شاہ کی ثقافتی کمند سے نجات دلائی جائے۔ ان دنوں میں اس کے لئے نا مرئی جال کی اصطلاح استعمال کرتا تھا۔ میں کہتا تھا کہ یہ ایک نامرئی جال ہے جو لوگوں کو اپنا اسیر بنا رہا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اس نامرئی جال کو جہاں تک ممکن ہو پارہ پارہ کر دوں اور جہاں تک ممکن ہو نوجوانوں کو اس نا مرئی جال سے باہر نکالوں۔ اس جال سے نکلنے والے ہر شخص کے اندر پہلی تبدیلی یہ پیدا ہوتی تھی کہ وہ دین کی جانب راغب ہو جاتا تھا اور دوسرے مرحلے مین امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے افکار کا گرویدہ ہو جاتا تھا، اس طرح اسے ایک تحفظ مل جاتا تھا۔ ان دنوں کے حالات کچھ ایسے تھے۔ وہی نسل آگے چل کر انقلاب کے بنیادی ستون میں تبدیل ہو گئی۔

ٹاپ

نوجوانی کے ایام میں آپ کی تفریحی سرگرمیاں کیا تھیں؟

بد قسمتی سے میری تفریحی سرگرمیاں بے حد کم تھیں۔ اس وقت تفریح کے زیادہ وسائل تھے ہی نہیں۔ پارک تھے لیکن بہت کم۔ مثال کے طور پر مشہد میں شہر کے اندر صرف ایک پارک تھا جس کا ماحول بہت خراب تھا۔ میں چونکہ دیندار گھرانے سے تعلق رکھتا تھا لہذا ان جگہوں پر جانے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ مجھ جیسے لوگوں کے لئے نوجوانی کے ایام میں ان تفریحی مقامات سے استفادہ کرنے کا امکان سرے سے تھا ہی نہیں۔ کیونکہ یہ مقامات مناسب مقامات نہیں تھے، یہ آلودہ مقامات تھے۔ اس وقت حکومت کی پالیسی بھی کچھ ایسی تھی کہ عمومی مقامات میں جنسی بد عنوانیاں پھیلائی جائیں۔ یہ کام عمدا اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کیا جا رہا تھا۔ اس وقت مجھے اس کا اندازہ ہوتا تھا لیکن آگے چل کر جب میں نے زیادہ اطلاعات حاصل کیں اور شواہد پر غور کیا تو یقین ہو گیا کہ یہ حقیقت ہے۔ یعنی منصوبہ بندی کے ساتھ عمومی مقامات کو خراب کیا جا رہا ہے۔ اس وجہ سے میں نہیں جا سکتا تھا، اس وقت ہماری تفریح کے وسائل آج جیسے نہیں تھے۔

طالب علمی کے زمانے میں میری تفریح طلبہ کے ساتھ وقت گزارنا تھا۔ ہم اپنے مدرسے جاتے تھے، ہمارے مدرسے کا نام تھا مدرسہ نواب۔ طلبا کا ماحول میرے لئے بہت پرکشش تھا۔ طلبہ ایک ساتھ جمع ہوتے تھے، بات چیت، گفتگو اور معلومات کا تبادلہ کرتے تھے۔ مدرسے کا ماحول طلبہ کے لئے کھیل کے میدان جیسا تھا۔ فرصت کے وقت میں وہیں جمع ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ مشہد میں مسجد گوہر شاد میں لوگ اکٹھا ہوتے تھے۔ وہاں دیندار افراد، طلبہ اور علما آتے تھے، بیٹھتے تھے اور آپس میں علمی گفتگو کرتے تھے۔ بعض لوگ دوستانہ باتیں کرتے تھے۔ میری تفریح یہی تھی۔

اس کے علاوہ میں اس زمانے میں ورزش بھی کرتا تھا، آج بھی کرتا ہوں۔ افسوس کی بات ہے کہ نوجوان ورزش کے سلسلے میں کاہلی کرتے ہیں، یہ اچھی بات نہیں ہے۔ اس زمانے میں میں کوہ پیمائی کرتا تھا، کافی دور دور تک پیدل چلتا تھا۔ میں اپنے دوستوں کے ساتھ کئی بار مشہد کے اطراف کے پہاڑوں میں ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں کئی کئی دن پیدل چلتا تھا۔

ٹاپ

آپ کی نظر میں ایک مسلم نوجوان کی خصوصیات کیا ہیں؟ ایک نوجوان کس طرح زندگی کے سفر کو پورا کرکے اپنے اہداف تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟

اگر انسان کوئی با ارزش چیز حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ محنت و سخت کوشی کی عادت ڈال لے، یہ لازمی اور ضروری ہے۔ البتہ بنیادی طور پر میں نوجوانوں کی اہم ترین خصوصیتوں میں سے تین خصوصیتوں کو بہت نمایاں پاتا ہوں۔ اگر ان تینوں خصوصیات کی نشاندہی کر دی جائے اور ان کو صحیح سمت میں رکھا جائے تو میری نظر میں آپ کے اس سوال کا جواب مل سکتا ہے۔ یہ تینوں خصوصیات ہیں انرجی، امید اور جدت عمل۔ یہ نوجوان کی تین نمایاں خصوصیات ہیں۔

قرآن میں ایک بے حد حیاتی نکتہ بیان کیا گیا ہے اور وہ ہے تقوے پر توجہ۔ جب لوگ تقوا کا نام سنتے ہیں تو ان کے ذہن و خیال میں جو تصویر ابھر کر آتی ہے وہ نماز، روزے، عبادات، اذکار اور دعا و مناجات کی تصویر ہوتی ہے۔ یہ ساری چیزیں تقوا میں شامل ضرور ہیں اور تقوا کا جز ہیں لیکن ان میں کوئی بھی تقوا کا ہم معنی لفظ نہیں ہے۔ تقوا یعنی اپنے اعمال و رفتار پر محتاطانہ نظر رکھنا۔ تقوا یعنی یہ کہ انسان کو بخوبی علم ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے، یعنی یہ کہ اپنا ہر عمل غور و فکر اور ارادے اور نیت کے ساتھ منتخب کرے، اس انسان کی مانند جو گھوڑے پر سوار ہے اور باگ اس کے ہاتھ میں ہے اور جانتا ہے کہ اس کی منزل کہاں ہے۔ جس انسان میں تقوا نہ ہو اس کے اعمال و رفتار، اس کے فیصلے اور اس کا مستقبل اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہتا۔ نہج البلاغہ کے خطبے کے مطابق اس کی مثال ایسے انسان کی ہے جسے سرکش گھوڑے پر ڈال دیا گیا ہو، وہ خود سوار نہ ہوا ہو اور اگر خود سے سوار بھی ہوا ہے تو اسے گھڑ سواری نہ آتی ہو۔ لگام اس کے ہاتھ میں تو ہے لیکن اسے نہیں معلوم کی گھڑ سواری کیسے کی جاتی ہے، اسے نہیں پتہ کہ کہاں جانا ہے۔ گھوڑا جہاں بھی اسے لے جائے گا وہ مجبورا چلا جائے گا، ظاہر ہے کہ اسے نجات کی توقع نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ گھوڑا سرکش ہے۔

ٹاپ

نوجوان اپنے ہیجانی جذبے کو کیسے تسکین دے اور کیسے اس سے استفادہ کرے؟

ہیجان خاص مواقع پر پیدا ہوتا ہے۔ بعض چیزیں ہیں جن میں ہیجان بالکل نمایاں اور واضح ہوتا ہے۔ جیسے کھیل کود، مثال کے طور پر فٹبال ایک ہیجانی چیز ہے۔ فٹبال کے کھیل کا انداز ہی یہی ہے اور والیبال اور ٹینس سے یہ مختلف اور الگ ہے۔ کیونکہ اس کھیل کا ڈھانچہ ہی کچھ اس انداز کا ہے کہ اس میں مقابلہ آرائی، ہیجان اور اس جیسی دیگر چیزیں زیادہ ہیں۔ ویسے کھیل کوئی بھی ہو مجموعی طور پر ایک ہیجانی کیفیت پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ فنکارانہ کاموں میں بھی ہیجان ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایسی چیزیں ہیں کہ جن کا ہیجان ظاہر نہیں ہوتا۔

ہیجان صرف انہیں چیزوں تک محدود نہیں ہے۔ اگر انسان کو اپنی دلچسپی کا میدان اور شعبہ مل جائے خواہ وہ کوئی بھی میدان ہو تو وہ آسانی سے اپنے جوش و ولولے اور ہیجانی جذبے کی تسکین کا سامان فراہم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر میں جب نوجوان تھا اور دینی طلبہ کا لباس پہنتا تھا تو اس لباس اور ماحول کی وجہ سے کچھ محدودیتیں تھیں لیکن اس کے ساتھ ہی میرے اندر ہیجان بھی تھا اور اس ہیجان کی تسکین بھی ہوتی تھی۔ وہ کیسے؟ وہ اس طرح کہ مجھے شاعری سے دلچسپی تھی۔ شاید آپ کے لئے اس بات کا یقین کر پانا بہت مشکل ہو۔ چار پانچ افراد کی، جنہیں اشعار سے دلچپسی تھی دو گھنٹے تین گھنٹے کی نشست جمتی تھی، شعر و شاعری کے موضوع پر بات ہوتی تھی اور اشعار سنائے جاتے تھے۔ جو شخص اس فن سے دلچسپی رکھتا ہو اس کے لئے یہ نشست اسی طرح اس کے ہیجانی جذبے کی تسکین کا سامان فراہم کرتی ہے جس طرح فٹبالسٹ کو فٹبال کے میدان میں یا فٹبال میچ دیکھنے والے کو اسٹیڈیم کے اندر بیٹھ کر فٹبال دیکھنے میں مزہ آتا ہے۔ مختصر یہ کہ ہیجان کے میدان اور شعبے کم نہیں ہیں۔

ایک اور مثال سنئے! انسان جب درس کا نام زبان پر لاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ درس میں کوئی ہیجان اور جوش و خروش ہے ہی نہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کلاس میں کوئی ہیجان اور جوش و خروش نہیں ہوتا لیکن فرض کیجئے کہ یونیورسٹی کے اندر یا باہر کلاس میں تمام وسائل سے آراستہ ایک ورکشاپ ہو، جس طرح آج کل ہو رہا ہے کہ انجینئرنگ کے طلبہ جاتے ہیں اور کارخانوں سے رابطہ کرتے ہیں، نوجوان کو اگر یہ محسوس ہو کہ اس ورکشاپ میں وہ وسائل ہیں جن سے اپنی دلچسپی کی چیز ایجاد کر سکتا ہے اور اس کے ذہن میں جو آئیڈیا ہے اس جگہ پر وہ اسے عملی جامہ پہنا سکتا ہے، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس کا ہیجان اور جوش و خروش کم ہوگا؟ اس میں بڑا جوش و خروش پیدا ہو جائے گا۔ تحقیق کا کام شوق اور دلچسپی سے انجام دیاجانا چاہئے۔ وہ تحقیقاتی کام جس کے لئے انسان کو مجبور کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ تحقیق لامحالہ پوری کرنا ہے تو اس کام میں کوئی جوش و خروش اور کوئی ہیجان نہیں ہوگا، اس کا کوئی نتیجہ بھی نہیں نکلے گا۔

ٹاپ

نوجوانوں سے مل کر آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے اور آپ ان سے سب سے پہلی بات جو کہنا چاہتے ہیں وہ کیا ہے؟

جب میں نوجوانوں کے ساتھ ہوتا ہوں، ان کے درمیان پہنچ جاتا ہوں تو میری بالکل وہی حالت ہوتی جو نسیم صبح میں سانس لینے والے انسان کی ہوتی ہے۔ میں تازگی اور شادابی کا احساس کرتا ہوں۔ نوجوانوں سے مل کر سب سے پہلی چیز جو میرے ذہن میں آتی ہے اور جس کے بارے میں میں نے بارہا غور کیا ہے، یہ ہے کہ کیا خود ان لوگوں کو اندازہ ہے کہ ان کی پیشانی پر کیسا ستارہ جگمگا رہا ہے؟ میں اس ستارے کو دیکھ رہا ہوں لیکن کیا یہ لوگ خود بھی اس کا مشاہدہ کر پا رہے ہیں؟ نوجوانی کا ستارہ بڑا درخشاں اور مقدر والا ستارہ ہے۔ اگر نوجوان اس بیش بہا اور قیمتی گوہر کو جو ان کے وجود میں پنہاں ہے دیکھ لیں تو میں سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ وہ اس سے بنحو احسن استفادہ بھی کریں گے۔

ٹاپ

گوناگوں سماجی اور سیاسی امور میں موقف کی نوعیت سلسلے میں نوجوانوں کے لئے آپ کی سفارش کیا ہے؟

اختلاف نظر سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ نظریات کا اختلاف کوئی بری چیز نہیں ہے اور اس میں کوئی اشکال بھی نہیں ہے کہ دو سیاسی نظریات ہوں۔ ایک نوجوان کسی ایک نظرئے کا حامی ہے او ر دوسرا دوسرے نظرئے کا طرفدار۔ جو چیز نقصان دہ ہے وہ ہے بے سوچے سمجھے اور بغیر مطالعے اور تحقیق کے اقدام کر دینا، عجلت پسندانہ فیصلہ اور بغیر معلومات کے عمل کرنا۔ میں نوجوانوں کو اس چیز سے دور رہنے کی ہدایت کرنا چاہوں گا۔ نوجوانی کا لازمی تقاضا عجلت پسندانہ فیصلہ کرنا نہیں ہے۔ نوجوانی کے معنی بیباکانہ اقدام کرنا ضرور ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ انسان نشیب و فراز اور پیچ و خم کے وہم میں نہ پڑے۔ اس سے مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ بے سوچے سمجھے اور بغیر غور و فکر کے اقدام کر دیا جائے۔ نوجوان سوچ سمجھ کر نپا تلا قدم بھی اٹھا سکتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے بھی کام کر سکتا ہے۔ یعنی فکری صلاحیتوں کو بخوبی بروئے کار لاکر اقدام کرے۔ اگر اس میں غور و فکر کرنے، مطالعہ و تحقیق اور تدبر کی عادت پیدا ہو جائے، در حقیقت یہ ایسی خصوصیات ہیں کہ نوجوان میں پیدا ہو سکتی ہیں اور بعض خصوصیات تو حق پسندی کی مانند نوجوان کی سرشت میں شامل ہوتی ہیں، تو نظریاتی اختلاف میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور اس سے گمراہی پیدا نہیں ہوگی، یا کم از کم یہ ہوگا کہ کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا۔

دوسروں کی نفی کر دینے کی عادت، یہ کہ کوئی انسان سماجی امور میں ایک موقف اپنائے اور اعلان کر دے کہ بس یہی صحیح موقف ہے اس کے علاوہ کوئی اور موقف صحیح ہو ہی نہیں سکتا تو یہ درست نہیں ہے، یہ اچھی عادت نہیں ہے۔ اصول دین کے سلسلے میں تو یہ ہے کہ انسان فکر و مطالعے کے ساتھ اس کی جانب بڑھے اور ایک مستحکم نقطے پر پہنچ جانے کے بعد دو ٹوک انداز میں کہہ دے کہ حقیقت یہی ہے، اس کے علاوہ نہیں۔ اس مقام پر یہ کہنا کہ بس یہی ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں برا نہیں ہے بلکہ اچھی بات ہے لیکن سماجی مسائل میں، سیاسی امور میں اور سماجی اختلافات کی صورت میں یہ کہنا کہ بس یہی ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں ٹھیک نہیں ہے۔ میری نظر میں انسان کو چاہئے کہ دوسرے فریق کے نظرئے کو بھی تحمل کرے۔ جب وہ اپنے نظرئے کے مطابق کوئی عمل انجام دینا چاہے تو بہت سوچ سمجھ کر کام کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ایسا ہو تو میری نظر میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔

ٹاپ

ایران اور پیشرفتہ ممالک کے درمیان موجود فاصلے کو ختم کیا جا سکتا ہے؟

میرا تو خیال یہی ہے کہ ہاں، بالکل ختم کیا جا سکتا ہے۔ میں نے ملک کے دانشوروں اور مفکرین سے بارہا کہا ہے کہ مغرب ہم سے بہت آگے ہے، یہ ایک حقیقت ہے۔ اگر کوئی ملک اسی راستے چل کر جس پر مغرب گیا ہے، خود کو اس مقام پر پہنچانا چاہتا جہاں مغرب آج ہے تو عمریں اور صدیاں لگ جائیں گی لیکن وہ پھر بھی کامیاب نہیں ہو پائے گا۔ ان ملکوں کو شارٹ کٹ راستوں کی ضرورت ہے۔ یہ تمام موجودہ ایجادات شارٹ کٹ راستے ہیں۔ دنیا میں شارٹ کٹ راستے جتنے چاہئے آپ کو مل جائیں گے۔ اللہ کی اس خلقت کے تمام رموز سے ہم آج بھی بخوبی آشنا نہیں ہو سکے ہیں۔ ہزاروں راستے موجود ہیں۔ ایک راستہ تو یہی ہے جس پر موجودہ صنعتی تمدن گیا ہے اور ہر قدم کے بعد ایک نیا قدم بڑھایا گيا ہے۔ ہم کیوں نہ یہ امید رکھیں کہ کوئی نیا دریچہ کھلے اور دنیا میں کوئی نیا انکشاف ہو؟ ایک زمانہ ایسا تھا جب بجلی کا انکشاف نہیں کیا گيا تھا۔ یعنی دنیا میں اس کا وجود تھا لیکن اسے پہچانا نہیں جا سکا تھا۔ اچانک اس کی پہچان ہوئی، اس کی دریافت ہوئی اور اسے حاصل کر لیا گيا۔ اسی طرح بھاپ کی توانائی دریافت ہوئی۔ پہلے لوگ آگ سے بھی واقف نہیں تھے، بعد میں اس کا انکشاف ہوا۔ تو ہم کیوں نہ یہ امید رکھیں کہ اس دنیا میں اور بھی سربستہ رازوں کا انکشاف کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ اس وقت آئے دن کسی نئی چیز کا انکشاف کیا جا رہا ہے۔ ہمیں اس پہلو پر کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں خود کو ایسی راہ پر پہنچانے کی ضرورت ہے جو ہمیں تیز رفتار سائنسی ترقی کی نعمت سے مالامال کر دے۔ اس کا طریقہ بس یہی ہے کہ نوجوان، بالخصوص تعلیم و تحقیق اور مطالعے سے شغف رکھنے والے نوجوان سخت کوشی اور دلجمعی سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ آپ جو کام بھی کرنا چاہتے ہیں وہ نوجوانی کے ایام میں آپ کر لے جائيں گے۔ تعلیمی شعبے میں، تہذیب نفس کے شعبے میں اور کھیل کود کے شعبے میں تینوں ہی شعبوں میں آپ کو نوجوانی کے ایام میں محنت کرنا چاہئے۔

ٹاپ