آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جنگ کی دھمکی دینے کے باوجود امریکی جانتے ہیں کہ سیاسی و معاشی مسائل اور اپنی عالمی حیثیت و آبرو کی وجہ سے ان میں اس پر عمل کرنے کا حوصلہ نہیں ہے، کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے کوئي بھی غلطی کی تو اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ انھوں نے امریکی صدر کی مسلسل دھمکیوں اور دنیا کی سب سے طاقتور فوج رکھنے کے دعوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج بھی ممکن ہے کہ کبھی ایسا تھپڑ کھائے کہ اپنی جگہ سے اٹھ نہ پائے۔ انھوں نے اسی طرح امریکیوں کی دھمکی اور ان کے دوسرے اقدام یعنی جنگي بیڑے کو ایران کی طرف بھیجنے کے بارے میں کہا کہ جنگی بیڑہ خطرناک چیز ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس بیڑے کو سمندر کی تہہ میں پہنچا سکتا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے انقلاب کے بعد گزشتہ سینتالیس سال میں اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے میں ناکامی پر مبنی امریکی صدر کے اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھا اعتراف ہے اور میں کہتا ہوں کہ تم بھی یہ کام نہیں کر پاؤ گے کیونکہ اسلامی جمہوریہ، عوام سے ہٹ کر کوئي حکومت نہیں ہے بلکہ ایک زندہ، ٹھوس اور مضبوط قوم پر مشتمل ہے۔ انھوں نے امریکا کی بے شمار معاشی، سیاسی اور سماجی مشکلات کو، امریکی سامراج کے زوال اور خاتمے کی نشانیاں بتاتے ہوئے کہا کہ امریکا سے ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایران کو نگلنا چاہتا ہے لیکن ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ ان کے اہداف کے عملی جامہ پہننے میں رکاوٹ ہیں۔
انھوں نے امریکا کے ظالم اور بدعنوان سامراج کے زوال کی ایک دوسری نشانی، ان کی بے عقلی کو بتایا اور کہا کہ ان کی بے عقلی کا ایک مصداق ہمارے ایک اہم مسئلے یعنی ہتھیاروں کے مسئل سمیت ایران کے مسائل میں مداخلت ہے۔ انھوں نے ڈیٹرنس والے ہتھیاروں سے قوم کے لیس ہونے کو بہت ضروری اور اہم بتایا اور کہا کہ ڈیٹرنس کے ہتھیاروں سے عاری ہر ملک دشمنوں کے پیروں تلے روند دیا جاتا ہے تاہم امریکی ہتھیاروں کے معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے کہتے ہیں تمھارے پاس فلاں طرح کے یا فلاں رینج والے میزائل نہیں ہونے چاہیے جبکہ یہ مسئلہ ایرانی قوم کا ہے اور ان کا اس سے کوئي تعلق نہیں ہے۔
رہبر انقلاب نے ملک چلانے، زراعت، علاج معالجے اور توانائی کے استعمال کے لیے پرامن ایٹمی صنعت سے استفادے کے ایران کے حق میں امریکا کی مداخلت کو امریکیوں کی ایک اور بے عقلی بتایا اور ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کا تعلق ایرانی قوم سے ہے، تم سے اس کا کیا ربط ہے؟ انھوں نے کہا کہ ایٹمی تنصیبات اور یورینیم کی افزودگی سے استفادے کے حق کو آئی اے ای اے کی تمام قراردادوں اور منشور میں سبھی ملکوں کے لیے باضابطہ طور پر تسلیم کیا گيا ہے اور قومی حقوق میں امریکیوں کی مداخلت، ان کے آج اور کل کے حکام کی غیر متوازن سوچ کی عکاس ہے۔ انھوں نے امریکیوں کی سب سے عجیب بے عقلی، مذاکرات کے لیے ان کی طرز دعوت کو بتایا اور کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ آئيے ایٹمی توانائی کے بارے میں مذاکرات کرتے ہیں لیکن مذاکرات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ کے پاس ایٹمی توانائی نہ رہے!
آيت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اگر یہ طے ہو کہ مذاکرات ہوں تو اس کا نتیجہ پہلے سے طے کرنا ایک غلط اور احمقانہ کام ہے، کہا کہ یہ احمقانہ کام، امریکی صدر، حکومت اور بعض سینیٹرز انجام دے رہے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ راستہ، ان کے لیے بند گلی ہے۔ انھوں نے پچھلے مہینے ہونے والے بلووں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور صیہونی حکومت کے خفیہ اداروں نے بعض دیگر ممالک کے خفیہ اداروں کی مدد سے، کافی پہلے سے خراب ریکارڈ رکھنے والے کچھ ناپسندیدہ عناصر کو اپنے ساتھ ملایا، انھیں بیرون ملک لے گئے، ٹریننگ دی، پیسے اور ہتھیار دیے اور فوجی اور سرکاری مراکز پر حملے اور تخریب کاری کے لیے انھیں ملک کے اندر بھیجا تاکہ مناسب موقع پر میدان میں آ جائيں اور یہ موقع انھیں جنوری کے اواسط میں مل گیا۔
انھوں نے کہا کہ تربیت یافتہ سرغناؤں نے کچھ بے تجربہ اور سادہ لوح افراد کو آگے بھیجا اور خود بھی مختلف ہتھیاروں کے ساتھ تشدد آمیز اور اندھادھند کارروائی کی پالیسی کے تحت میدان میں آ گئے اور داعش کی طرح ایک ناقابل یقین تشدد کے ساتھ آگ لگائی، قتل کیا اور تخریب کاری کی۔ انھوں نے ان کارروائیوں کا مقصد نظام کی بنیادوں کو متزلزل کرنا بتایا اور کہا کہ البتہ پولیس، رضاکار فورس، آئی آ ر جی سی اور بڑی تعداد میں عام لوگ، بلوائیوں کے مقابلے میں ڈٹ گئے اور اتنی ساری تمہیدات، تیاریوں اور بے تحاشا پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی بغاوت بری طرح سے شکست کھا گئي اور قوم فتحیاب ہو کر میدان سے باہر آئی۔ انھوں نے بلووں اور ہنگاموں کے دوران بہائے جانے والے خون کے بارے میں کہا کہ کچھ لوگ جو فتنے کے سرغنہ اور باغیوں کا حصہ تھے، جہنم واصل ہو گئے اور ان کا حساب کتاب خدا کے ہاتھ ہے لیکن باقی سبھی جاں بحق ہونے والوں کو ہم اپنے بچے سمجھتے ہیں اور ان سب کے لئے سوگوار ہیں۔
آيت اللہ خامنہ ای نے جاں بحق ہونے والوں کے پہلے گروہ یعنی پولیس، رضاکار فورس، آئی آر جی سی اور ان کے ساتھ موجود عام لوگوں کو معاشرے اور نظام کی امن و سیکورٹی اور حفاظت کے برتر شہید بتایا اور کہا کہ جاں بحق ہونے والوں کا دوسرا گروہ جو راہ گیروں اور بے گناہ لوگوں کا تھا، شہید ہے اور جاں بحق ہونے والوں کا تیسرا گروہ فریب خوردہ لوگوں کا ہے جو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے فتنہ گروں کے ساتھ ہو گئے تھے۔
انھوں نے داعش کی تشکیل میں اپنا ہاتھ ہونے پر مبنی امریکیوں کے اعتراف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ داعش لگ بھگ ختم ہو گيا ہے لیکن یہ نئے داعشی ہیں اور اس سلسلے میں تمام عہدیداروں کو چوکنا رہنا چاہیے۔ انھوں نے اپنے خطاب کے آخر میں 12 جنوری اور 11 فروری کی حیرت انگيز ریلیوں کو اللہ کی نشانیاں بتایا اور کہا کہ عزیز قوم کو جس نے اس طرح دشمن کی سازشوں اور چالوں پر فتح حاصل کی ہے، اپنی تیاری، ہوشیاری اور قومی یکجہتی کی، جو اللہ کی کھلی عنایت ہے، حفاظت کرنی چاہیے۔