یہ ایسا نکتہ ہے جو واضح کرتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران جنگ پسند اور جنگ کے درپے نہیں ہے اور تاریخ نے دکھایا ہے کہ کم از کم اب تک تو اس نے کوئی جنگ شروع نہیں کی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اسٹریٹیجی کی سطح پر اپنے دفاع کے لیے لازمی طور پر دفاعی اقدامات تک ہی محدود رہے گا اور اپنے منصوبوں، اقدامات، کارروائیوں اور حملوں کو صرف دفاعی حکمت عملی کے تناظر میں ہی انجام دے گا۔

ٹیکٹکس کی سطح پر یقیناً جارحانہ منصوبے ایران کے بڑے فوجی اور دفاعی پلان کا حصہ ہوں گے۔ ایک ایسا ہمہ گير جارحانہ منصوبہ جو نہ صرف مقدار بلکہ معیار اور اہداف کی وسعت کے لحاظ سے بھی اس حقیقت سے قابل موازنہ نہیں ہے جو بارہ روزہ جنگ میں صیہونی دشمن کے خلاف سامنے آئی تھی۔ 

بارہ روزہ جنگ کے دوران دشمن اگرچہ اچانک حملے کے ذریعے جنگ کے پہلے نصف حصے میں ملک کو کچھ نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوا لیکن تل ابیب اور واشنگٹن کے جنگی تھنک ٹینکس اچھی طرح جانتے ہیں کہ اچانک حملے کی ابتدائی صورت حال سے گزرنے کے بعد جنگ کا دوسرا نصف حصہ واضح طور پر ایران کا تھا۔ جنگ کے دوسرے نصف حصے میں ایران کے جارحانہ جوابات زیادہ معیاری اور زیادہ تباہ کن ہو چکے تھے۔

یہی عمل تھا جس نے بالآخر دشمن کو جنگ بندی کے مقام تک پہنچا دیا۔ بارہ روزہ جنگ کی حقیقت صیہونی وزیر اعظم کی لفاظی میں نہیں بلکہ صیہونی حکومت کے فوجی کمانڈروں کی درخواست میں دیکھی جانی چاہیے، جب انھوں نے جنگ شروع ہونے کے تین دن بعد ایران کو سنبھلتے اور اچانک ہوئے حملے کے اثرات کو دور کرتے دیکھا تو اپنی ایک خفیہ نشست میں وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ کشیدگی کے شعلے کو کم کریں تاہم جاہ طلب صیہونی وزیر اعظم نے اس مشورے کو مسترد کر دیا لیکن ایران کے حملوں میں مسلسل اضافے نے آخرکار اسے جنگ کے دوسرے نصف حصے میں، جنگ بندی کے مقام تک پہنچا دیا۔

بارہ روزہ جنگ کے دوسرے نصف حصے کے تجربے اور اس سے آج کے لیے ملنے والے سبق کی بنیاد پر کئی نکات پیش کیے جا سکتے ہیں۔

اول یہ کہ اُس جنگ میں ایران، صرف ٹکراؤ کے پہلے کچھ گھنٹوں میں اچانک حملے کا شکار ہوا۔ یہ مسئلہ اس وقت ختم ہو چکا ہے۔ اگر بارہ روزہ جنگ میں دشمن کے حملے اور ایران کے جواب کے درمیان 12 گھنٹے کا فاصلہ تھا تو اگلے ممکنہ معرکے میں ایران کے جوابی حملوں کی شروعات کا وقت 12 منٹ سے بھی کم ہو گا۔

دوسرے یہ کہ اُس وقت ایران کی جارحانہ صلاحیت، ملک کی مسلح فورسز کی موجودہ جارحانہ صلاحیت کا صرف ایک معمولی سا حصہ تھی۔ اُس جنگ میں صرف ائيرو اسپیس، فضائیہ اور فضائی دفاع کی فورسز دشمن کے ساتھ تصادم کی صف میں تھیں۔ اس صورت حال  کا ایران کی موجودہ صورت حال سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایران کے خلاف کوئی چنگاری بھڑکتی ہے تو مسلح فورسز اور سیکورٹی فورسز کے جارحانہ منصوبے بارہ روزہ جنگ کی طرح ان تین کلاسیکی فورسز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مسلح فورسز اور سیکورٹی فورسز کی تمام سطحوں پر بھرپور جوابی رد عمل شروع ہو جائیں گے۔

تیسرے یہ کہ بارہ روزہ جنگ کے برخلاف جہاں ایران کی عسکری فورسز کے اصل اہداف 1200 سے 1600 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے اور اس ممکنہ معرکے میں صیہونی اہداف کے علاوہ بہت سے قیمتی اہداف بہت قریبی فاصلے پر موجود ہیں۔ فاصلے کی یہ کمی ایران کے جارحانہ رد عمل کی مقدار اور معیار کو بھی بدل دے گی۔ ایران نے خود کو ایک جامع اور مکمل جارحانہ منظرنامے کے لیے تیار کر لیا ہے۔ ایسے جنگی پلان جو تصادم کی حدود کو صرف آسمان تک محدود نہیں رکھیں گے اور دشمن کے مفادات کے خلاف حملے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنے کی صلاحیت بھی فراہم کر دیں گے۔ وہ ذرائع جو اس سے پہلے ضرورت پڑنے پر استعمال کے لیے غیر فعال حالت میں تھے لیکن یہ صورتحال تا ابد جاری رہنے والی نہیں ہے۔

مختصر یہ کہ اسلامی جمہوریۂ ایران، ہمیشہ مقامی طاقت کے علاقائی بلاک سے حاصل ہونے والی اجتماعی سیکورٹی کے نظریے کی قائل رہی ہے۔ بہتر اور سادہ الفاظ میں، "خطے میں سیکورٹی یا تو سب کے لیے یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں!" اگر ایران کی قومی سیکورٹی کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پھر پچھلی بات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔ پچھلی بات کی حیثیت ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں بھی دشمن کے عسکری، سیاسی یا اقتصادی مفادات موجود ہوں اور ایران کی عسکری اور سیکورٹی فورسز کی پہنچ میں ہوں، وہ یقینی طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کا جائز اور قانونی ٹارگٹ ہوں گے۔

'ہٹ اینڈ رن' مارنے اور بھاگ جانے کا زمانہ بہت پہلے ختم ہو چکا ہے۔ ایک معنی خیز فارسی کہاوت ہے: زدی ضربتی، ضربتی نوش کن! (مارا ہے تو مار بھی کھاؤ۔) یہ کہاوت اس ایرانی فوجی حکمت عملی کا ایک اور ترجمہ ہے جس کا ذکر اس تحریر کے آغاز میں آیا تھا: "اسلامی جمہوریۂ ایران اپنے دفاع کے لیے صرف دفاعی اقدامات پر اکتفا نہیں کرے گا۔"