اب ایک بار پھر دشمن کی رال ٹپک رہی ہے اور وہ بزعم خود سمجھ رہا ہے کہ دھمکی دے کر اور رعب دکھا کر یا شاید فوجی حملے کے ذریعے اپنی پچھلی ناکامی کا ازالہ کر سکتا ہے اور اپنے مذموم عزائم کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔

اسلامی جمہوریۂ ایران نے بارہا واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن اگر دشمن اس آپشن کو ایک بار پھر عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے تو ایران جنگ سے بھاگ نہیں رہا ہے اور وہ ہر طرح کے سناریو کے لیے تیار ہے۔ ایران نے اب تک دشمن کی خباثتوں اور جارحیتوں کے جواب میں ایک حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اس بار معاملہ الگ ہوگا اور ایک علاقائی جنگ حملہ آوروں، ان کے حامیوں اور ان کی میزبانی کرنے والوں کا انتظار کر رہی ہوگی۔

ایسی جنگ میں ماضی کی ریڈ لائنس نمایاں طور پر بدل جائیں گی اور جنگ کا میدان پہلے سے زیادہ وسیع اور کھلا ہوا ہوگا۔ اہداف کا دائرہ پھیل جائے گا اور اگر ایران کی سرزمین اور ایرانیوں کی جان امریکی حملے کا نشانہ بنتی ہے تو امریکا کے مفادات اور امریکیوں کی جان بھی کہیں بھی محفوظ نہیں رہے گی۔

بارہ روزہ جنگ میں، خطے میں ایران کے حامی میدان میں نہیں آئے اور اسلامی جمہوریہ نے اکیلے ہی صیہونی اور امریکی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کی لیکن مستقبل کی ممکنہ جنگ میں، یہ چیز بدل جائے گی اور دشمن کو جنگ کے مختلف میدانوں میں مختلف محاذوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی صدر کو اپنے ہی گھر میں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور ایران کے ساتھ جنگ کی آگ بھڑکانا، ان کی موجودہ پریشانی کو دھماکہ خیز حد تک بڑھا دے گا اور اسے ایک ذلت آمیز شکست میں تبدیل کر دے گا۔ ٹرمپ اگر ایسا سوچتے ہیں، جیسا کہ کچھ امریکی میڈیا حلقوں نے کہا ہے، کہ وہ محدود حملے سے مذاکرات کی میز پر دباؤ ڈال سکتے ہیں اور ایران کو اپنی ریڈ لائنوں اور قومی مفادات سے دستبردار کرا سکتے ہیں تو وہ اندازے کی شدید غلطی میں مبتلا ہیں اور اس غلطی کی انھیں بھاری قیمت چکانی پڑ جائے گی۔ ایران ایسے معرکے میں، صیہونی حکومت اور امریکا کو الگ نہیں سمجھے گا اور یہ حکومت پچھلی جنگ سے زیادہ ایران کے زوردار تھپڑ کا مزہ چکھے گی۔

رمضان المبارک، مولی المتقین، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا مہینہ ہے۔ وہی کمانڈر جنھوں نے فرمایا تھا: "اگر پہاڑ بھی ہل جائیں تب بھی تم ثابت قدم رہنا، اپنے دانتوں کو بھینچے رہنا، اپنے سر کو خدا کے حوالے کر دینا، پیروں کو زمین میں کیل کی طرح مضبوطی سے گاڑ دینا، میدان جنگ کی دور ترین حدود پر نظر رکھنا اور خوفناک مناظر کو نظرانداز کر دینا اور یاد رکھنا کہ فتح، خداوند عالم کا وعدہ ہے۔" 

اس میں کوئی تعجب نہیں کہ اگر ایران کے دشمن، ان رہنما اصولوں کو سمجھنے سے قاصر ہوں، جنھوں نے ایران کو ذوالفقاری فوج کے سپاہیوں کا جوش و جذبہ عطا کیا ہے۔