ان ریلیوں میں شرکت کرنے والوں کا اصل پیغام، جو وہ نیتن یاہو اور ٹرمپ تک پہنچانا چاہتے تھے، یہ تھا کہ عوام حکومت، رہبر انقلاب اور اسلامی نظام کے پیچھے کھڑے ہیں۔ جو دسیوں لاکھ لوگ سڑکوں پر آئے، وہ یہ کہنے کے لیے آئے کہ ایرانی قوم یہ ہے۔
ایران کے حالیہ واقعات کا صرف سماجی یا معاشی مطالبوں کے تناظر میں تجزیہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ ہر معاشرے کو داخلی مسائل کا سامنا ہوتا ہے اور احتجاج، سیاسی حیات کا ایک حصہ شمار ہوتا ہے لیکن جو چیز موجودہ حالات میں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے وہ زمینی سرگرمیوں اور بیرونی سازشوں کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا ہے جس کا ہدف، پالیسیوں کی تبدیلی سے بالکل الگ ہے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ان سرگرمیوں کے غیر ملکی منصوبہ سازوں کا اصل ہدف، قومی اتحاد کی جڑوں کو کمزور کرنا اور آخر میں ایران کے حصے بخرے کرنا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے 17 جنوری 2026 کو عید بعثت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مناسبت سے انتہائی اہم خطاب میں بعثت کے انتہائی عمیق پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ آپ نے ملک میں فتنہ و آشوب کے واقعات اور اس میں امریکی کردار کے بارے میں گفتگو کی۔
خطاب حسب ذیل ہے:
ایرانی قوم نے فتنے کی کمر توڑ دی اور بارہ جنوری کو دسیوں لاکھ کی تعداد میں ایک کارنامہ کر کے بارہ جنوری کو گیارہ فروری کی طرح ایک تاریخی دن بنا دیا اور اپنے افتخارات میں ایک اور افتخار کا اضافہ کیا۔
وجہ؟! تجربہ! مشہد کے بلوؤں یا انہی کے الفاظ میں ایران کے دوسرے سب سے بڑے شہر کے مظاہرین (تخریب کار دہشت گردوں) کے ہاتھ میں ہونے کے بارے میں ٹرمپ کا یہی اظہار خیال۔ سڑک پر ہونے والے ایک بلوے کو کج فکر مشیروں نے، دہشت گردوں کے ذریعے شہر پر قبضے کا نام دے کر امریکی صدر کے سامنے پیش کر دیا۔
تہران کے پرشکوہ اور تاریخ ساز دن کم نہیں رہے ہیں۔ ایسے دن جب لوگوں نے محسوس کیا کہ ضروری ہے کہ وہ سڑکوں پر نکلیں، اپنی موجودگی سے دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں اور غفلت میں مبتلا لوگوں کو بیدار کر دیں۔ تاہم 12 جنوری کی شام کو تہران میں جو کچھ ہوا وہ ماضی کے یادگار تاریخی کارناموں سے کہیں بڑھ کر اور اگر ایک لفظ میں کہا جائے ایک بے مثال "یوم اللہ" تھا۔ وہ لوگ، جن کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں اپنے ملک کا مقدس پرچم تھا، اس بڑے شہر کے ہر کوچہ و بازار سے نکلے اور شہر کے مرکز میں انسانی سیلاب میں بدل گئے، ایسا سیلاب جس نے گردوغبار کو بٹھا دیا اور دلوں کو پرسکون کر دیا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے آج 12 جنوری کو پورے ملک میں زبردست ریلیاں نکالنے اور ایک تاریخ رقم کرنے کے عظیم الشان ایرانی قوم کے زبردست کارنامے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے زور دے کر کہا ہے کہ ایرانی قوم نے دشمنوں کو اپنا وجود، اپنا حوصلہ اور اپنا تشخص بخوبی دکھا دیا ہے اور یہ امریکی سیاستدانوں کے لیے ایک وارننگ تھی کہ وہ اپنی فریب کاریوں سے باز آ جائيں اور غدار ایجنٹوں سے آس نہ لگائیں۔
ایرانی قوم کے نام رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
ایرانی قوم روز بروز اسلام کی عزت بڑھا رہی ہے۔ وہ دکھا رہی ہے کہ اسلام کا مطلب ہے استقامت، اسلام کا مطلب ہے طاقت۔ اسلام کا مطلب ہے سچائی اور پاکیزگی۔ اسلام کا مطلب ہے خیر خواہی اور انصاف پسندی۔
امریکی فریق کہتا ہے کہ آپ کو یورینیم افزودگی بالکل نہیں کرنی چاہیے۔ مطلب؟ اس کا مطلب ہے کہ اس عظیم کامیابی کو جو ہمارے ملک نے اتنی محنت سے حاصل کی ہے، تم اسے تباہ کر دو! ایرانی قوم ایسی بات کہنے والے کے منہ پر طمانچہ مارے گی اور اس بات کو قبول نہیں کرے گی۔
مجرم صیہونی حکومت کے ہاتھوں ایران کے بعض عوام، کمانڈروں اور ایٹمی سائنسدانوں کی شہادت کے چہلم کی مناسبت سے رہبر انقلاب اسلامی نے ایک پیغام جاری کیا ہے۔
رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
رہبر انقلاب اسلامی نے 16 جولائی 2025 کو عدلیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات میں کہا: حالیہ مسلط کردہ جنگ میں ایرانی قوم نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا؛ یہ بڑا کام فوجی آپریشن نہیں تھا، بلکہ ارادہ تھا، عزم تھا اور خود اعتمادی تھی۔ انقلاب سے پہلے تو امریکا کا نام ہی لوگوں کو خوفزدہ کر دیتا تھا چہ جائیکہ کوئی اس کا سامنا اور مقابلہ کرے۔ اب وہی قوم یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکا کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ ایران کی معاصر تاریخ کے محقق ڈاکٹر علی رضا زادبر نے ویب سائٹ Khamenei.ir سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کا عظیم کارنامہ، ایک سامراجی عمل کو پیدا ہونے سے روک دینا ہے۔ انھوں نے ایک سامراج مخالف مضبوط سسٹم کی تشکیل میں اسلامی انقلاب کے کردار کی تشریح کی اور اس جنگ میں ایرانی قوم میں پائی جانے والی خود اعتمادی کی وجہ پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے انٹرویو کے کچھ حصے ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے 16 جولائی 2025 کو عدلیہ کے سربراہ اور عہدیداران سے ملاقات میں اس شعبے کی اہمیت اور ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگو کی۔ آپ نے صیہونی حکومت کی جارحیت اور اس کے بعد ایران کی تاریخی جوابی کارروائی کے پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
خطاب حسب ذیل ہے۔
واقعی ہماری قوم مضبوط عزم کی مالک ہے، کیا آپ کی نظر میں ایسی کوئی قوم ہے جو اُن بڑی طاقتوں کے مقابلے میں، جو دنیا میں دوسروں کو احکامات دیتی ہیں، کھڑی ہو جائے اور کھل کر اور ٹھوس طریقے سے اپنی بات کہے؟ ہماری قوم کے علاوہ شاید ہی کوئي ایسی قوم ہوگی۔
ایرانی قوم میں یہ کہنے کی ہمت ہے کہ امریکا جارح ہے، امریکا جھوٹا ہے، امریکا فریبی ہے، امریکا سامراجی ہے۔ دوسرے بھی سمجھتے ہیں کہ امریکا انسانی اصولوں میں سے کسی بھی اصول کا پابند نہیں ہے لیکن ان میں اسے بیان کرنے کی ہمت نہیں ہے۔
سامراج کے مقابلے میں ایرانی قوم کی تیاری کے لیے جو بھی ضروری اقدام کرنا چاہیے، چاہے وہ فوجی لحاظ سے ہو، چاہے ہتھیاروں کے لحاظ سے ہو اور چاہے سیاسی کاموں کے لحاظ سے ہو ہم یقیناً کریں گے اور بحمد اللہ اس وقت بھی ذمہ داران وہ کام انجام دینے میں مصروف ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے اتوار 27 اکتوبر 2024 کو ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض شہیدوں کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
ایرانی قوم کے دشمنوں نے انقلاب کی شروعات سے لے کر اب تک پوری سنجیدگی سے جو کام کرنا چاہا ہے وہ سماج کے مختلف گروہوں کے درمیان ایک دوسرے کے سلسلے میں کدورت پیدا کرنا ہے، چاہے وہ سیاسی گروہ ہوں، چاہے دینی و مذہبی گروہ ہوں یا دوسرے گروہ ہوں۔ پوری تاریخ میں، سامراج، خاص طور پر برطانوی سامراج – جب وہ مشرق وسطی کے تمام علاقوں، ہمارے ملک اور دیگر ممالک پر مسلط تھا، اس پالیسی پر عمل کرتا رہا ہے، اس کے بعد دوسروں نے یہ بھی یہ پالیسی سیکھ لی۔ امریکی بھی اس وقت یہی کام کر رہے ہیں، ایرانی قوم کے دشمن بھی ہمارے ملک کے سلسلے میں اسی کام کو اپنی سازشوں میں شامل کیے ہوئے ہیں: دلوں کو ایک دوسرے سے مکدر اور طبقوں کو ایک دوسرے کے خلاف کر دیں ... آج وہ ایک بار پھر یہ خلیج اور یہ فاصلے پیدا کرنا چاہتے ہیں، جس طرح سے کہ وہ مذہبی فاصلوں کو بڑھا رہے ہیں اور مذہبی گروہوں کو ایک دوسرے سے دشمنی دکھانے کے لیے مجبور کر رہے ہیں تاکہ خلیج پیدا ہو جائے۔ لوگوں کے متحد ڈھانچے میں جو دراڑیں پڑ جاتی ہیں وہ دشمن کے لیے راستہ کھول دیتی ہیں اور دشمن، ان اختلافات کے ذریعے ایک معاشرے میں اور ایک ملک میں دراندازی کر سکتا ہے اور اپنی چالیں چل سکتا ہے۔ سبھی کو بہت زیادہ چوکنا رہنا چاہیے۔
امام خامنہ ای
22/11/2002
یہ لوگ منصوبے کے ساتھ میدان میں آئے ہیں۔ منصوبہ یہ ہے کہ ایرانی قوم کو اپنی راہ پر لے جائيں۔ ایسا کچھ کریں کہ ایرانی قوم کی سوچ برطانیہ اور امریکہ کے سیاستدانوں وغیرہ جیسی ہو جائے۔
دشمن کی یہ کوشش ہے کہ لوگوں کے دل و دماغ پر مسلط ہو جائے۔ اگر انہوں نے کسی قوم کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیا تو پھر وہ قوم اپنے ملک کو اپنے ہاتھوں دشمن کے حوالے کر دے گی۔
اس مقصد کے تحت وہ جوانوں کے فعال اذہان کے لئے فکری مواد بنانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ سب دروغ گوئی، حقیقت کے برخلاف باتیں، یہ گمراہ کن بیان، یہ سارے الزامات، یہ سب اسی لئے ہے۔
امام خامنہ ای
2 نومبر 2022
26 نومبر 2022
یہ بات جو میں عرض کر رہا ہوں سبھی اس پر توجہہ دیں: دشمن منصوبے کے ساتھ میدان میں اترا ہے۔ نوجوان سمجھ لیں، یہ لوگ پلاننگ کے ساتھ میدان میں آئے ہیں۔ ان کا پروگرام یہ ہے کہ ایرانی قوم کو اپنی سازش میں شامل کر لیں، کچھ ایسا کریں کہ ایرانی قوم کا عقیدہ، برطانیہ اور امریکہ وغیرہ کے سربراہان مملکت کی طرح ہو جائے۔ یہ منصوبہ ہے۔
امام خامنہ ای
2 نومبر 2022
ایرانی قوم نے تھوڑے سے عرصے میں جو بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں وہ سامراج کی پالیسیوں کے خلاف ہیں اور اسی لیے دشمن ایران کی پیشرفت کو روکنے کی غرض سے بچکانہ اور احمقانہ ردعمل دکھا رہا ہے۔
امام خامنہ ای