مشہد کے دسیوں لاکھ لوگ، مسٹر پریسیڈنٹ کے مشیروں کی غلط معلومات والے نہیں بلکہ 12 جنوری کو اس شہر کی ریلی میں شریک ہونے والے افراد تھے جو امام رضا علیہ السلام کے حرم اطہر کو جانے والی ایک سڑک پر تخریب کار دہشت گردوں کی کارروائيوں کی مذمت کے لیے آئے تھے اور انھوں نے اس شہر میں کسی ریلی میں شریک ہونے والے افراد کی تعداد کا ریکارڈ توڑ دیا۔ البتہ اس طرح کی غلط اطلاع، امریکا کے حالیہ صدر تک محدود نہیں ہے۔
وجہ؟! تجربہ! کوئی فرق نہیں ہے کہ سنہ 1978 کی سردیاں ہوں اور ڈیموکریٹ جمی کارٹر کا زمانہ ہو یا امریکا کے موجودہ ریپبلکن صدر کا زمانہ ہو۔ اول الذکر نے قم کے عوام کے 9 جنوری 1978 کے قیام سے دس دن پہلے ایران کو ثبات و استحکام کا جزیرہ بتایا تھا اور مؤخر الذکر نے، کہیں زیادہ فاش غلطی کرتے ہوئے، بارہ روزہ جنگ کے دوران ایران کو ذلت آمیز تجاویز دی تھیں، جب ایران صیہونیوں، نیٹو اور امریکا سے ایک ہمہ گیر جنگ میں تھا۔ اس کے زعم باطل میں وہ جنگ اور فوجی جارحیت کے دوران، ایران کو جھکنے پر مجبور کر سکتا تھا۔
کارٹر سے لے کر ٹرمپ تک یہ متعدد اور لگاتار شکست، بے وجہ نہیں ہے۔ ایران کی صورتحال کے بارے میں غلط اندازے لگانے میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن حکومتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان میں سے اندازے کی بعض غلطیاں، ان ایجنٹوں اور غداروں سے آس لگانے کی وجہ سے ہیں جو بظاہر ایرانی لیکن بباطن سامراج کے پیادے ہیں۔ اندازے کی ان غلطیوں میں اسلامی انقلاب کے بعد اضافہ ہی ہوا ہے۔
اس بات سے قطع نظر کہ آج مغربی ایشیا کے خطے کی مشکلات اور مسائل کی جڑ، وائٹ ہاؤس اور اس کے پٹھوؤں کی جارحانہ پالیسیاں ہیں، اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ایرانی نما غدار ایجنٹ، اپنے سوکھے ہوئے اور کینے سے لبریز ذہن کے ساتھ، ایران کی صورتحال میں وائٹ ہاؤس کو غلط معلومات فراہم کرنے کے اصل عناصر میں شامل ہیں۔ یہ وہ ایجنٹ ہیں جو ایران اور ایرانی عوام کی غلط اور گمراہ کن تصویر پیش کر کے حقائق کو الٹ کر دکھاتے ہیں اور خطے اور ایران میں وائٹ ہاؤس کے اندازوں کی غلطی کا سبب بنتے ہیں۔ ان وطن فروشوں کو اسلامی انقلاب کے آغاز اور مسلط کردہ جنگ سے لے کر آج تک ایران کے خلاف امریکا کی پالیسیوں میں ہمیشہ دیکھا جا سکتا ہے۔
کبھی منافقین کی تنظیم (ایم کے او) تھی جو مسلط کردہ جنگ میں صدام حسین کی معاون بن گئی اور جنگ کے بعد کے برسوں میں ایران کے خلاف دہشتگردانہ اور بدامنی پھیلانے والے اقدامات میں امریکی اور صیہونی فریق کا آپریشنل ونگ بن گئی تھی۔ آج یہ تنظیم ایک دوسری شکل میں سامنے آئی ہے اور اس تحریر کی ابتدائي سطروں میں ٹرمپ کے جس بیان کا ذکر کیا گيا، وہ اندازے کی ان غلطیوں کی صرف ایک مثال ہے۔ اس غدار تنظیم کی ظاہری شکل بدل گئی ہے، اس سے کام لینے والے بدل گئے ہیں، لیکن اس کی ماہیت وہی ہے۔ اغیار کے ایجنٹ! ایران کے باہر رہنے والے یہ وہ افراد ہیں جن سے مغربی سیاستداں مشورے لیتے ہیں اور ایران کے اندر اس کے کارندے ایران عزیز کو شام بنانے اور اس کے حصّے بخرے کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔
تاہم انقلاب کے بعد کی 47 سال کی تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اس بار بھی منہ کی کھائيں گے۔ یہ بات صرف تاریخ ہی نہیں بلکہ پیر کی سہ پہر کو پورے ایران میں نکلنے والا دسیوں لاکھ عوام کا سیلاب بھی کہہ رہا ہے۔ پچھلی نصف صدی میں فیصلہ کن تحریر ایران کے آزاد منش اور متحد عوام نے رقم کی ہے یہ تحریر ہمیشہ وطن فروشی، غداری اور اغیار سے وابستگی کے خلاف رہی ہے، ان ایجنٹوں کے قیاس و گمان کی سمت میں نہیں جو کینے کی شدت سے حقائق کی طرف سے آنکھیں موندے ہوئے ہیں اور نہ ہی ان سیاستدانوں کی خواہش کے مطابق جو ان عقل کے اندھوں کی باتوں پر بھروسہ کر کے، اپنی اسٹریٹیجیز تیار کرتے ہیں، کیا کوئی اندھا، دوسرے اندھے کو راستہ دکھا سکتا ہے؟!