زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
اسلامی گھرانہ: شوہر اور زوجہ کی محبت، عورت کے مسائل کو کم کر دیتی ہے

اسلامی گھرانہ: شوہر اور زوجہ کی محبت، عورت کے مسائل کو کم کر دیتی ہے

اگر گھرانے میں عورت کو نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ حاصل ہو، سکون اور اطمینان ہو تو حقیقت میں شوہر اس کے لیے لباس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ وہ شوہر کے لیے لباس ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے درمیان محبت، مودت اور رحمت رہے اور اگر گھرانے میں "لھنّ مثل الذی علیھنّ" (عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ سورۂ بقرہ، آيت 228) کی پابندی کی جائے تو پھر  گھر سے باہر کے مسائل عورت کے لیے قابل برداشت ہو جائیں گے اور وہ انھیں کنٹرول کر لے گي۔ اگر عورت، اپنے گھر میں اپنے اصل محاذ پر اپنے مسائل کو کم کر سکے تو یقینی طور پر وہ سماجی سطح پر بھی یہ کام کر سکے گي۔ امام خامنہ ای 4/1/2012
انسانیت کی نجات کے لیے برانگیختہ ہونا

انسانیت کی نجات کے لیے برانگیختہ ہونا

آج ہم مسلمانوں کا فریضہ ہے آگاہی حاصل کرنا اور دنیا کو حقائق سے روشناس کرانا۔ بعثت کا مطلب ہے انسان کی نجات اور بشر کی سعادت و کامرانی کے لیے برانگیختہ ہونا۔ بعثت کا مطلب ہے انسانی معاشرے کے اندر نیکی و بھلائی پر استوار نظام کی تشکیل۔ امام خامنہ ای 5 مئی 2016
الوہی فطرت کی جانب رجوع کا دن

الوہی فطرت کی جانب رجوع کا دن

یوم بعثت الوہی فطرت کی جانب رجوع کا دن ہے۔ انسان کی الوہی فطرت، حق کی طرفداری، عدل و انصاف کی حمایت، مظلومین کے حق کے لیے جدوجہد میں تعاون ہے۔ یہ ہے حقیقی انسانی فطرت۔ امام خامنہ ای 5 مئی 2016
درس اخلاق: معاشرے میں فضول خرچی کم ہونی چاہیے

درس اخلاق: معاشرے میں فضول خرچی کم ہونی چاہیے

ہمارا معاشرہ امیر المومنین علیہ السلام کے زہد کی سمت میں آگے بڑھے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم امیرالمومنین کی طرح زاہد بن جائیں کیونکہ نہ ہم بن سکتے ہیں نہ ہم سے اس کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ہم کو ان ہی کی راہ پر چلنا چاہیے یعنی ہمیں فضول خرچی اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ایسی صورت میں ہم امیرالمومنین کے شیعہ کہے جائیں گے۔ فرمایا ہے: "ہمارے لیے زینت بنو۔" ہمارے لیے زینت بننے کا کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ تمھارا عمل ایسا ہو کہ جب کوئی تمھیں دیکھے تو کہے: واہ واہ! امیر المومنین کے شیعہ کس قدر اچھے ہیں! امام خامنہ ای 21 ستمبر 2016
قرآن کی روشنی میں: اپنے اندر مثبت تبدیلیاں پیدا کریں، اللہ آپ کی زندگي میں مثبت چیزیں پیدا کرے گا

قرآن کی روشنی میں: اپنے اندر مثبت تبدیلیاں پیدا کریں، اللہ آپ کی زندگي میں مثبت چیزیں پیدا کرے گا

انسان اگر صحیح سمت میں قدم اٹھائیں تو صحیح سمت میں ہی آگے بڑھیں گے اور اگر غلط راہ پر لگ جائیں تو غلط راہوں پر ہی بڑھتے چلے جائیں گے۔ سورۂ رعد (کی آیت گیارہ) میں ارشاد ہوتا ہے: بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ یعنی جب آپ خود اپنے اندر صحیح تبدیلیاں لائیں گے تو اللہ بھی آپ کی زندگی میں مثبت حقیقتیں وجود میں لائےگا۔ امام خامنہ ای 1 جون 2020
اسلامی گھرانہ: گھر کے ماحول سے انسان کا تشخص پیدا ہوتا ہے

اسلامی گھرانہ: گھر کے ماحول سے انسان کا تشخص پیدا ہوتا ہے

اگر نسلیں، اپنے ذہنی اور فکری نتائج بعد کی نسلوں تک منتقل کرنا چاہتی ہیں اور معاشرہ اپنے ماضی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو یہ صرف گھر اور خاندان کے ساتھ ممکن ہے۔ گھر کے ماحول میں ہی سب سے پہلے ایک انسان کی پوری شخصیت اس معاشرے کی تہذیبی بنیادوں پر شکل اختیار کر تی ہے اور یہ ماں باپ ہی ہیں جو بالواسطہ طور پر کسی بھی قسم کے تصنع کے بغیر بالکل قدرتی انداز میں انسان کے ذہن وفکر و عمل پر اثر مرتب کرتے اور اپنی معلومات، عقائد اور مقدسات وغیرہ اپنے بعد کی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2001
درس اخلاق: تفرقہ، کمزوری اور عزت گنوانے کا سبب ہے

درس اخلاق: تفرقہ، کمزوری اور عزت گنوانے کا سبب ہے

امت اسلامیہ کے درد و رنج کے اسباب بہت ہیں۔ جب ہم تفرقے کا شکار ہوں، جب ایک دوسرے کے ہمدرد و نہ ہوں جب ہم حتیٰ ایک دوسرے کے بدخواہ بن گئے ہوں تو اس کا نتیجہ کمزوری اور عزت گنوانا ہے۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے لوگوں کو تاریخ کے مطالعے کی دعوت دی ہے، وہ فرماتے ہیں: پچھلے لوگوں کو دیکھو، جب وہ متحد تھے تو اُن کو کیا عزت و وقار حاصل ہوا، کیا کیفیت پیدا ہوگئی! لیکن جب ان کے درمیان آپس میں جدائی، اختلاف اور دشمنی حکمراں ہو گئی تو خداوند متعال نے عزت و کرامت کا لباس ان کے تن سے اتار لیا۔ وہ شرف و مقام جو انھیں حاصل تھا، وہ عزت و کرامت جو وہ زیب تن کیے ہوئے تھے اور وہ نعمتیں جو خداوند عالم نے ان کو دے رکھی تھیں، اختلاف اور تفرقے کے باعث ان سے سلب کرلی گئیں۔ امام خامنہ ای 14 اکتوبر 2022
قرآن کی روشنی میں: دشمن کو معاشرے میں رسوخ نہ کرنے دیجیے

قرآن کی روشنی میں: دشمن کو معاشرے میں رسوخ نہ کرنے دیجیے

پیغمبر اسلام کی بعثت کا ایک بہت ہی اہم خزانہ، جس کی طرف افسوس کہ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، اپنے بدخواہوں کے مقابل اٹل اور ناقابل رسوخ ہونا ہے۔ جس کا ذکر اس آیت "اشداء على الكفار" (وہ کافروں پر سخت ہیں ... سورۂ فتح، آیت 29) میں موجود ہے، "اشداء" عمل میں سختی کے معنی میں نہیں ہے، اشداء یعنی سخت ہونا، مضبوط و مستحکم ہونا، ناقابل رسوخ ہونا، اشداء کا یہ مطلب ہے۔ "اشداء على الكفار" یعنی کفار کو اجازت نہ دیں کہ وہ معاشرے میں اثر و رسوخ پیدا کریں۔ دشمن کے نفوذ کا مطلب اغیار اور بدخواہ قوتوں کے اثر و رسوخ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا خود اپنے ملک و معاشرے میں کوئی اختیار نہ رہے۔ امام خامنہ ای 18 فروری 2023
اسلامی گھرانہ: شوہر اور زوجہ ایک دوسرے کی سعادت میں مدد کریں

اسلامی گھرانہ: شوہر اور زوجہ ایک دوسرے کی سعادت میں مدد کریں

بہت سی بیویاں ہیں جو اپنے شوہروں کو جنتی بنا دیتی ہیں اور بہت سے شوہر ہیں جو اپنی بیوی کو حقیقی معنی میں سعادتمند کردیتے ہیں اور اس کا الٹا بھی ہے ممکن ہے (شادی سے پہلے) مرد اچھے ہوں اور ان کی بیویاں ان کو جہنمی بنا دیں۔ یا بیویاں اچھی رہی ہوں کہ جن کو ان کے شوہروں نے جہنمی بنا دیا ہو۔ چنانچہ اگر شوہر اور زوجہ دونوں اس بات پر توجہ دیں تو وہ اچھی نصیحتوں کے ذریعے اور اچھے باہمی تعاون سےگھر کے اندر دین و اخلاق کی باتیں کرکے اور وہ بھی زبانی باتوں کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے عمل وکردار کے ذریعے ایک دوسرے کی مدد کریں۔ ایسی صورت میں زندگی واقعی مکمل اور خوبصورت ہوجائے گی۔ امام خامنہ ای 2 مارچ 1999
درس اخلاق: خداوند کی طرف قلبی توجہ، بند راہوں کو کھول دیتی ہے

درس اخلاق: خداوند کی طرف قلبی توجہ، بند راہوں کو کھول دیتی ہے

اس وقت ہمارے ملک میں روحانیت کی طرف جو توجہ اور توسل ہے، وہ یقینا ہمارے کام میں مددگار ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ واقعی انسان کسی چیز کے سلسلے میں راہیں مسدود پاتا ہے لیکن خداوند متعال کی طرف قلبی توجہ اور اس سے توسل واقعی بند راہوں کو کھول دیتا ہے جس پر انشاء اللہ ہم سب کاربند رہیں گے۔ مستقبل کے افق کو میں بہت ہی درخشاں دیکھ رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ اللہ کی توفیق سے، اللہ کی مدد سے اس ملک کا مستقبل، ان شاء اللہ اپنے ماضی کی نسبت ہر رخ سے بہتر ہوگا، چاہے وہ مادی پہلو‎ؤں سے ہو یا روحانی و معنوی پہلو‎ؤں سے ہو۔ امام خامنہ ای 4 ستمبر 2017