زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
قرآن کی روشنی میں: اللہ کی طاقت مجاہدین کی پشتپناہ ہے

قرآن کی روشنی میں: اللہ کی طاقت مجاہدین کی پشتپناہ ہے

آپ نے اگر مجاہدت کی تو اللہ کی طاقت آپ کی پشتپناہ بن جائے گی، وہ لشکر جس کا کوئي پشتپناہ نہ ہو، کچھ نہیں کرسکتا، جس لشکر کی پشتپناہی ہوتی ہے، جس کے پاس احتیاطی فورس ہے، بڑی تعداد میں فورسز کا ذخیرہ ہے، وہ ہر کام کرسکتا ہے۔ خدا کی طاقت ان ہی کی پشتپناہ بنتی ہے جو میدان میں اتر پڑتے ہیں، قدم بڑھاتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں خود کو ہر کام کے لیے تیار کر لیں، یہ لوگ الہی قوت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ، اہلِ ایمان کا سرپرست ہے اور جو کافر ہیں ان کا کوئی سرپرست اور کارساز نہیں ہے۔ (سورۂ محمد آیت 11) یہ قرآن کی آیت ہے۔ خدا تمھارا مولا و سرپرست ہے، تمھار مولا وہ ہے جس کے اقتدار و اختیار میں تمام عالم وجود ہے۔ یہ تمھارا مولا ہے اور کافروں کا کوئي مولا نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 23 مئی 2016
اسلامی گھرانہ: خانہ داری کو حقیر سمجھنا گناہ ہے

اسلامی گھرانہ: خانہ داری کو حقیر سمجھنا گناہ ہے

عورت کی ایک اہم ترین ذمہ داری گھر کی خانہ داری ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ میرا یہ ماننا نہیں ہے کہ عورتوں کو سیاسی اور سماجی کاموں سے دور رہنا چاہیے، نہیں، اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر اس کے معنی یہ لیے جائيں کہ ہم "خانہ داری" کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو یہ گناہ ہوگا۔ خانہ داری، ایک کام ہے، بڑا کام ہے، اہم ترین و حساس ترین کام ہے، مستقبل ساز کام ہے۔ افزائش نسل ایک عظیم مجاہدت ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئی 2013
پوری عمر جہاد اور استقامت

پوری عمر جہاد اور استقامت

امام علی نقی علیہ السلام کی بیالیس سال کی زندگی تھی، مگر پوری عمر جہاد اور استقامت سے بھری ہوئی ہے...جوانی میں موت، پوری زندگی جہاد، اللہ کی راہ میں خالص کوشش، مشکلوں سے نہ گھبرانا، اقتدار اور صاحب اقتدار لوگوں سے نہ ڈرنا، اللہ کی راہ میں وقار اور سکون کا مظاہرہ، اللہ کے سامنے بندگی اور خضوع کی حالت، اس عظیم امام کی خصوصیتیں ہیں۔   امام خامنہ ای 8 مئی 1981
درس اخلاق : مغرور نہ ہوں اور تکبر سے کام نہ لیں

درس اخلاق : مغرور نہ ہوں اور تکبر سے کام نہ لیں

انسانوں کو اپنی پوزیشن (اور حیثیت) کے لحاظ سے بعض اوقات کچھ عزت و اہمیت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ ایک شخصیت حاصل کرلیتے  ہیں۔ یہ کہ ہم خود کو دیکھیں اور پائيں کہ لوگ ہمارا احترام کرتے ہیں، ہمارے لیے نعرے لگاتے ہیں، ہم کو آگے آگے رکھتے ہیں، ہماری تعریف کرتے ہیں تو ہم مغرور ہو جائیں، تکبر کرنے لگیں، اپنے آپ کو دوسروں سے برتر و بالا سمجھنے لگیں، یہ رضاکاری کے کلچر کے خلاف ہے۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے صحیفۂ سجادیہ کی دعائے مکارم الاخلاق میں اس بات کی یاد دہانی کی ہے: لوگوں کے درمیان جتنا زیادہ تمھارا قد بڑھتا جائے، اتنا ہی زیادہ اپنی نگاہ میں تم کو کم ہوتے جانا چاہیے۔ تمھیں غرور میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ امام خامنہ ای 29 نومبر 2023
قرآن کی روشنی میں : حقیقی تاریکیاں کیا ہیں؟

قرآن کی روشنی میں : حقیقی تاریکیاں کیا ہیں؟

خداوند عالم فرماتا ہے: یہ وہ کتاب ہے جو ہم نے آپ پر اس لیے نازل کی ہے کہ آپ لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے (کفر کی) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان کی) روشنی کی طرف لائیں۔ (سورہ ابراہیم، آیت 1) ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے کہ انسانوں کو آپ "ظلمات" یا تاریکیوں سے نکال کر نور تک پہنچادیں۔ تاریکیاں کیا ہیں؟ تاریکیاں وہ تمام چیزیں ہیں جنھوں نے پوری تاریخ میں انسان کی زندگی کو تاریک اور زہر آلود کر دیا ہے۔ بے ایمانی تاریکی ہے، بے مقصدیت بھی تاریکی ہے۔ یہ انسانیت کے گہرے رنج و درد ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان تمام مسائل کا فکری اور عملی دونوں حل پیش کیا ہے۔ امام خامنہ ای 3 اکتوبر 2023
اسلامی گھرانہ : عورت سماجی امور میں بھی شرکت کرے

اسلامی گھرانہ : عورت سماجی امور میں بھی شرکت کرے

اسلام نے حقیقی معنیٰ میں خواتین کا بہت زیادہ احترام کیا ہے۔ اگر اس نے گھر کے اندر ماں کے کردار اور ماں کے احترام پر زور دیا ہے یا گھر کے دائرے میں رہ کر ایک خاتون کے گھریلو کردار، اثرات، حقوق و فرائض اور حد بندیوں پر تاکید ہے تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اسلام ایک خاتون کو سماجی مسائل میں شرکت، سماجی جدوجہد میں حصہ لینے اور عوامی سرگرمیوں میں مشغولیت سے منع کرتا ہے۔ عورت کو ایک اچھی ماں اور اچھی بیوی بھی ہونا چاہیے اور سماجی امور میں بھی شرکت کرنا چاہیے۔ حضرت جناب فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) اسی طرح کی سماجی شخصیت کا مظہر ہیں، زینب کبریٰ (سلام اللہ علیھا) میں مختلف پہلوؤں کا اکٹھا ہونا ایک اور نمونہ ہے۔ امام خامنہ ای 27 جولائی 2005
درس اخلاق: اخلاص عمل، باعث نجات ہے

درس اخلاق: اخلاص عمل، باعث نجات ہے

ابدی زندگی میں انسان کی نجات اخلاص عمل سے وابستہ ہے۔ خدا کے لیے کام کرنا اور عمل میں اخلاص ہونا باعث نجات ہے۔ یہ بہت سے مقامات پر نہیں ہوتا۔ بہت سے کاموں میں انسان سوچتا ہے کہ اس نے یہ کام خدا کے لیے کیا ہے، بعد میں جب خود ہی ذرا انصاف کے ساتھ توجہ دیتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ عمل پوری طرح خالص نہیں ہے "وَ استغفِرُكَ مِمَّا اردتُ بہ وجہكَ فخالَطَنی ما لیس لک" خدایا! میں توبہ کرتا ہوں اس عمل سے جو میں نے چاہا تھا کہ صرف تیرے لیے انجام دوں لیکن اس میں ایسا جذبہ اور ایسی نیت شامل ہوگئی جو خدائي نہیں تھی۔ جس جگہ بھی انسان کے لیے اخلاص عمل ممکن ہو، غنیمت ہے۔ امام خامنہ ای 2 مئی 2016
قرآن کی روشنی میں: ملک میں امن وامان فوجی قوت میں اضافے کا نتیجہ

قرآن کی روشنی میں: ملک میں امن وامان فوجی قوت میں اضافے کا نتیجہ

جب دشمن کو یہ احساس ہو کہ آپ کمزور ہیں تو اس کے اندر حملے کی  ہمت پیدا ہوتی ہے اور جب اس کو احساس ہو کہ آپ طاقتور ہیں تو اگر وہ حملے کا ارادہ رکھتا بھی ہو تو اپنے فیصلے پر نظر ثانی پر مجبور ہو جاتا ہے۔ خدا نے فرمایا ہے: تاکہ تم اس (جنگی تیاری) سے خدا کے دشمن اور اپنے دشمن کو خوفزدہ کر سکو۔ (سورۂ انفال، آیت 60) یہ ملک میں امن و سلامتی کے قیام کا سبب ہے، لہذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کافی عرصے تک بار بار کہا کرتے تھے کہ فوجی کارروائی کا آپشن میز پر موجود ہے۔ (اب) ایک مدت ہوگئی یہ بات زبان پر نہیں لاتے، وہ جانتے ہیں کہ یہ بات بے معنی ہو گئي ہے۔ یہ آپ کی توانائیوں کا نتیجہ ہے، جب اندرونی سطح پر آپ توانائیوں میں اضافہ کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ اس طرح سامنے آتا ہے۔ امام خامنہ ای 21 اگست 2023
اسلامی گھرانہ : شوہر و زوجہ محبت سے زندگی آگے بڑھائيں

اسلامی گھرانہ : شوہر و زوجہ محبت سے زندگی آگے بڑھائيں

پرانے زمانے میں زیادہ تر کہا جاتا تھا کہ لڑکی کو نبھانا چاہیے، جیسے وہ اس بات کے قائل تھے ہی نہیں کہ لڑکے کو بھی نبھانا چاہیے۔ نہیں! اسلام یہ بات نہیں کہتا؛ اسلام کہتا ہے کہ شوہر اور زوجہ دونوں کو نبھانا چاہیے، دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بنا کر رکھنا چاہیے اور یہ طے کرنا چاہیے کہ گھریلو زندگی ایک دوسرے سے عشق و محبت کے ساتھ، پورے اطمینان و سکون اور شفاف طریقے سے گزاریں گے، جاری رکھیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ اگر ایسا ہو گیا جو کہ انشاء اللہ اسلامی تربیت کے ساتھ کرنا مشکل بھی نہیں ہے تو یہ گھرانہ وہی صحیح سالم گھرانہ ہوگا جیسا اسلام چاہتا ہے۔ امام خامنہ ای 2 اگست 1995
درس اخلاق: انفاق، اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے

درس اخلاق: انفاق، اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے

مال و ثروت جمع کرنا اور انفاق (یا راہ خدا میں خرچ) نہ کرنا اقدار کے خلاف اور ایک گناہ اور شاید گناہ کبیرہ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ چونکہ اپنے سرمائے سے کاروبار کرنا جائز و مباح ہے تو اس کی بنیاد پر انسان حق رکھتا ہے، چاہے حلال اور شرعی طریقوں سے ہی کیوں نہ ہو، کہ دولت و ثروت اکٹھا کرے اور بچاتا چلا جائے۔ جبکہ معاشرے کو اس کے مال و ثروت، وسائل، اثاثوں اور سرمائے کی ضرورت ہو اور وہ اسے اجتماعی مفادات کی راہ میں اور خدا کی راہ میں خرچ نہ کرے، یہ جائز ہو اور مباح ہو، ایسا نہیں ہے۔ اسلام میں انفاق ایک بنیادی اصول ہے، خدا کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔ یہ نہیں کہا گيا کہ سودا نہ کیجیے، پیسے نہ کمائيے، یہ کام کیجیے لیکن (راہ خدا میں) خرچ کیجیے۔ امام خامنہ ای 06 نومبر 2009