زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
قرآن کی روشنی میں: جاودانی، راہ خدا میں قربانی کا خاصہ ہے

قرآن کی روشنی میں: جاودانی، راہ خدا میں قربانی کا خاصہ ہے

شہدا کا نام، حیات اور بقا کا متقاضی ہے۔ یعنی راہ خدا میں قربانی کی خاصیت اور پہچان یہ ہے کہ شہید کا نام دنیا میں جاوداں رہتا ہے: تو جو جھاگ ہے وہ تو رائیگاں چلا جاتا ہے اور جو چیز (پانی اور دھات) لوگوں کو فائدہ پہنچاتی ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے۔ (سورۂ رعد، آیت 17) شہادت کا خاصہ اور راہ خدا میں قربانی کی خاصیت اور پہچان یہ ہے کہ قدرتی طور پر شہید باقی اور جاوداں ہوجاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر مخالف اسباب و عوامل میدان میں اتر آئیں تو وہ مؤثر نہیں ہوتے۔  کیوں نہیں، بہت سے دوسرے گرانقدر اقدار کی طرح جن کی مخالف چیزیں میدان میں آ گئيں اور اقدار کے حامیوں نے کما حقہ دفاع نہیں کیا تو باطل نے حق پر غلبہ حاصل کر لیا۔ امام خامنہ ای 27 ستمبر 2023
اسلامی گھرانہ: محبت ہو تو وفاداری بھی ہوگی

اسلامی گھرانہ: محبت ہو تو وفاداری بھی ہوگی

لڑکی اور لڑکا، دلہن اور دولھا آپس کے رشتۂ محبت کو مضبوط کریں کیونکہ محبت وہ بندھن ہے جو ان کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھے رکھتا ہے، دونوں باہم اور محفوظ رہتے ہیں، محبت انھیں جدا نہیں ہونے دیتی، یہ بہت اچھی چیز ہے۔ محبت ہوگی تو وفاداری بھی ہوگی، بے وفائی، بدقماشی اور ایک دوسرے سے خیانت و کدورت ان کے درمیان نہیں پیدا ہوگی، محبت ہوگی تو ماحول انس و الفت کا ہوگا، زندگی کی فضائیں اچھی، قابل استفادہ، شیریں و خوشگوار ہو جائیں گی۔ امام خامنہ ای 15 دسمبر 1997
درس اخلاق: دعا، مشکلات میں قوت قلب عطا کرتی ہے

درس اخلاق: دعا، مشکلات میں قوت قلب عطا کرتی ہے

دعا، خداوند متعال کا عشق دل میں برقرار رکھتی ہے۔ تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا مظہر ذات اقدس پروردگار ہے۔ دعا اور خداوند تعالی کے ساتھ انس اور ہم کلامی، یہ محبت انسان کے دل میں پیدا کردیتی ہے۔ دعا زندگی کی مشکلات کے سامنے صبر و حوصلے کی قوت انسان کو بخشتی ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کے دوران کسی حادثے سے دوچار ہوتا ہے مشکلیں اور سختیاں اس کے دامنگیر ہو جاتی ہیں۔ دعا انسان کو قوت و توانائی عطا کرتی ہے اور انسان کو حادثات کے مقابل قوت و استحکام بخش دیتی ہے۔ لہذا روایت میں دعا کو (مومن کے) اسلحے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ امام خامنہ ای 21 اکتوبر 2005
قرآن کی روشنی میں: صبر کا مطلب ہے جوش کے ساتھ بڑھتے جانا

قرآن کی روشنی میں: صبر کا مطلب ہے جوش کے ساتھ بڑھتے جانا

خداوند عالم نے دشمنیوں سے مقابلے کے لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک دستورالعمل سپرد کیا۔ بعثت کے آغاز سے ہی خداوند متعال نے پیغمبر کو صبر کا حکم دیا۔ خداوند عالم فرماتا ہے: اور اپنے پروردگار کے لیے صبر کیجیے۔ (سورۂ مدثر، آیت 10) اور سورۂ مزمل میں بھی، ارشاد فرماتا ہے: اور ان (کفار) کی باتوں پر صبر کیجیے۔ (سورۂ مزمل، آیت 10) قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی اسی بات کو دہرایا گیا ہے۔ مگر دو جگہوں پر کہا گیا ہے: (میرے فرمان کے مطابق) استقامت سے کام لیجیے۔ (سورۂ شوری، آیت 15) صبر یعنی ان اہداف و مقاصد پر ڈٹے رہنا جو ہم نے خود ترتیب دیے ہیں۔ صبر یعنی جوش و جذبے کے ساتھ بڑھنا اور بڑھتے جانا، یہی صبر کا مطلب ہے ۔ امام خامنہ ای 22 مارچ 2020
اسلامی گھرانہ: میاں بیوی میل محبت سے رہیں

اسلامی گھرانہ: میاں بیوی میل محبت سے رہیں

زیادہ تر گھرانوں کی تباہی کی وجہ ایک دوسرے کا خیال نہ رکھنا ہے۔ مرد کو پاس ولحاظ رکھنا نہیں آتا، عورت سمجھداری نہیں دکھا  پاتی۔ وہ حد سے زیادہ سختی اور غصے سے کام لیتا ہے، یہ بے صبری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ہر بات پر اعتراض و احتجاج ہوتا ہے۔ اگر کبھی غلطی ہو گئی تو وہ فورﴼ غضبناک نہ ہو جائے، یہ نافرمانی نہ کرے۔ ایک دوسرے سے تعلقات بنائے رکھیں تو کوئی بھی گھر بکھرے گا نہیں اور کنبہ محفوظ رہے گا۔  امام خامنہ ای 8 فروری 1997
درس اخلاق: دعا، خدا کی یاد دل میں زندہ رکھتی ہے

درس اخلاق: دعا، خدا کی یاد دل میں زندہ رکھتی ہے

روایت ہے کہ دعا "مُخ العبادۃ" یعنی عبادت کا مغز اور ما حصل ہے، عبادت کی روح دعا ہے۔ دعا کا کیا مطلب ہے؟ مطلب ہے خداوند متعال سے باتیں کرنا، در اصل خدا کو اپنے پاس محسوس کرنا اور اپنے دل کی بات اس کے سامنے رکھنا ... دل میں خدا کی یاد زندہ رکھنا غفلت اور لاپروائی کو ختم کرتا ہے جو تمام انحرافات، کجروی اور انسانی کی خرابیوں کی جڑ ہے۔ دعا غفلت کے پردے ہٹا دیتی ہے، انسان کو خدا کی یاد میں لگا دیتی ہے اور خدا کی یاد دل میں بیدار رکھتی ہے۔ خداوند متعال سے غفلت انسان کے لیے بہت بڑا خسارہ ہے۔ امام خامنہ ای 30 اکتوبر 1998
قرآن کی روشنی میں: پیغمبر کے اسوہ ہونے کا مطلب

قرآن کی روشنی میں: پیغمبر کے اسوہ ہونے کا مطلب

رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کا جشن منانے اور آنحضرت کو یاد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس آیت کے مضمون پر جس میں خدا نے فرمایا ہے: بے شک تمھارے لیے پیغمبر کی ذات میں (پیروی کے لیے) بہترین نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ (کی بارگاہ میں حاضری) اور قیامت (کے آنے) کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہے۔ (سورۂ احزاب، آیت 21) پیغمبر اکرم اسوۂ حسنہ ہیں، یہ بات قرآن نے صاف لفظوں میں کہی ہے۔ اسوہ ہیں! اس کا کیا مطلب ہے؟ یعنی وہ ایک نمونہ ہیں اور ہمیں اس نمونے کی پیروی کرنی چاہیے۔ وہ ایک بلند چوٹی پر فائز ہیں۔ ہمیں، جو اس پستی میں ہیں، اس چوٹی پر پہنچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ انسان جہاں تک بھی جا سکتا ہے آگے بڑھے، اس چوٹی کی طرف بڑھتا جائے، "اسوہ" کا مطلب یہ ہے۔ امام خامنہ ای  14 اکتوبر 2022
اسلامی گھرانہ: میاں بیوی ایک دوسرے کو انحراف سے بچائيں

اسلامی گھرانہ: میاں بیوی ایک دوسرے کو انحراف سے بچائيں

بعض اوقات مرد اپنی زندگی کے کاموں میں ایک دوراہے پر پہنچ جاتا ہے کہ یا تو دنیا کا انتخاب کرے یا امانت و صداقت کی صحیح راہ کا؛ ان دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بیوی، شوہر کو پہلی راہ یا دوسری راہ کی طرف کھینچ سکتی ہے۔ بالکل ایسا ہی دوسری طرف بھی ہے۔ شوہر بھی بیوی کی زندگی میں اس طرح کا اثر ڈال سکتا ہے۔ آپس میں اسی طور پر رہنے کی کوشش کیجیے۔ شوہر اور زوجہ کوشش کریں کہ خدا کی راہ میں، اسلام کی راہ میں، حقیقت کی راہ میں اور امانت و صداقت کی راہ میں، دیندار رہیں اور لغزش یا انحراف کی منزل میں ایک دوسرے کے نگہباں بنیں۔ امام خامنہ ای 11 مارچ 2001
درس اخلاق: دوسروں سے بے نیاز ہونا ہے تو خدا سے مانگيے

درس اخلاق: دوسروں سے بے نیاز ہونا ہے تو خدا سے مانگيے

انسان سر سے پاؤں تک نیازمند ہے۔ ان مشکلات سے نجات اور ان ضرورتوں کی تکمیل کا مطالبہ ہم کس سے کریں؟ خداوند متعال سے، کیونکہ وہ ہماری حاجتوں سے واقف ہے۔ خدا جانتا ہے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ کیا ضروری ہے، اور کون سی چیز آپ اس سے مانگ رہے ہیں۔ لہذا اپنے خدا سے مانگیے۔ آپ کے پروردگار نے فرمایا ہے: "مجھ سے دعا کرو" یعنی مجھ کو پکارو، میں تم کو جواب دوں گا، انسان ضرورتمند ہے اور ان ضرورتوں کی تکمیل کے لیے خدا کے در پر جانا چاہیے تاکہ دوسروں کے سامنے گڑگڑانے سے بے نیاز ہوجائیں۔ امام خامنہ ای 15 فروری 1995
قرآن کی روشنی میں: توحیدی معاشرے کی تشکیل

قرآن کی روشنی میں: توحیدی معاشرے کی تشکیل

توحید کا عقیدہ، ایک تصویر کائنات کی اساس ہے جو زندگی بناتی ہے۔ عقیدۂ توحید کا مطلب ہے ایک توحیدی معاشرہ وجود میں لانا، وہ معاشرہ جو توحید کی بنیاد پر وجود میں آیا ہو اور چل رہا ہو۔ اگر یہ نہ ہوتا تو انبیاء علیہم السلام سے دشمنیاں بھی وجود میں نہ آتیں: اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسانوں اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن قرار دیا ہے جو ایک دوسرے کو دھوکہ و فریب دینے کے لیے بناوٹی باتوں کی سرگوشی کرتے ہیں۔ (سورۂ انعام، آیت 112) یہ دشمنیاں اس لیے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام نے معاشرے کی ساخت پر اعتراض کیا اور انسان کی طرز زندگی کے لیے ایک نئی شکل اور ایک نیا ڈھانچہ پیش کیا۔ وہ طرز زندگی ہی حیات طیبہ ہے۔ امام خامنہ ای 28 اگست 2017