قرآن کی روشنی میں

روحانیت پر توجہ، الہی اخلاقیات پر توجہ اور ساتھ ہی انسانی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا، وہ چیز ہے جو اسلام میں ہے، اسلام کا راستہ اعتدال کا راستہ ہے، انصاف کا راستہ ہے۔ انصاف کا ایک ہمہ گير معنی ہے، تمام میدانوں میں انصاف - یعنی ہر چیز کو اس کی جگہ پر رکھنا - یہ چیز مد نظر ہونی چاہیے، درمیانی انسانی راستہ "وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ اُمَّۃً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُھَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (اسی طرح ہم نے تم کو ایک درمیانی امت بنایا ہے تاکہ تم عام لوگوں پر گواہ رہو۔ سورۂ بقرہ، آيت 143)

2026 February
میں آپ جوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ قرآن کے ساتھ اپنے انس اور لگاؤ میں اضافہ کریں۔ اگر ہم قرآن سے مانوس ہوگئے، قرآن سے قریب ہو گئے اور قرآنی باتیں ہمارے دل میں جگہ بنا لے گئيں تب ہم یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ امت مسلمہ، خداوند متعال کی جانب سے وعدہ کی گئي عزت کو حاصل کر لے گی: اور ساری عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول اور مؤمنین کے لیے ہے۔ (سورۂ منافقون، آیت نمبر 8) تب خداوند عالم یہ عزت، امت اسلامیہ کو عطا کرے گا۔ قرآن سے انسیت ہمارے دلوں میں پیدا ہوجائے تو اس کے آثار و برکات یہ ہیں۔ امام خامنہ ای 3 جون 2014
2026/02/09
ہمیں پورے وجود کے ساتھ اسلام کی راہ میں قدم بڑھاتے جانا چاہیے، ہمیں اپنا یہ ہدف نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ استقامت کا مطلب ہے گمراہ نہ ہونا، اپنی راہ فراموش نہ کرنا اور سیدھے راستے کو گم نہ کرنا۔ آپ حضرات ہر نماز میں کم از کم دو بار اور ہر روز کم از کم دس مرتبہ بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں: اے خدا! ہمیں سیدھے راستے (اور اس پر چلنے کی) ہدایت کرتا رہ۔ (سورۂ حمد، آیت 6) عام طور انسان ایک بار دعا کرتا ہے۔ یہ جو خداوند کریم سے مسلسل صراط مستقیم (کی ہدایت و بقا کے لیے) التجا کرتے ہیں، یہ وہی: تو آپ ثابت قدم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے۔ (سورۂ شوریٰ، آیت 15) پر عمل کرنا ہے، یعنی استقامت۔ امام خامنہ ای 5 دسمبر 1990
2026/02/02
January
یقینا باطل گروہوں کا ہدف "ایّام اللہ" پر پردہ ڈالنا یا اس طرح کے واقعات کے رنگ کو پھیکا بنا دینا ہے۔ قرآن مجید نے ایّام اللہ کی یاد کو باقی رکھنے کا حکم دیا ہے: اے رسول! اس کتاب میں مریم کا ذکر کیجیے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہوکر (بیت المقدس کے) ایک مشرقی مقام پر گئیں۔ (سورۂ مریم، آیت 16) حضرت مریم کا اہم واقعہ بھلایا نہیں جانا چاہیے، اسے تاریخ میں باقی رہنا چاہیے۔ اور قرآن میں ابراہیم کا ذکر کیجیے۔ (سورۂ مریم، آیت 41) اور کتاب (قرآن) میں موسیٰ کا ذکر کیجیے۔ سورۂ مریم، آیت 51) اور ہمارے بندۂ (خاص) ایوب کو یاد کیجیے۔ (سورۂ ص، آیت 41) شاید دس سے زیادہ مقامات پر قرآن میں اس طرح آیا ہے: وَ اذکُر، وَ اذکُر (یاد کیجیے، یاد کیجیے) ... یہی قرآن کی منطق ہے۔ امام خامنہ ای 9 جنوری 2023
2026/01/26
تبدیلی لانے کی ایک شرط دشمن اور دشمنیوں سے خوف زدہ نہ ہونا ہے۔ خداوند قدیر نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے:  اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ (سورۂ احزاب، آیت 37) لوگوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، ان کی اُن کی باتوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک اقدام صحیح، اہم، ٹھوس اور نپے تلے انداز میں انجام پا رہا ہے تو ان باتوں کا خیال نہیں کرنا چاہیے۔ بیرونی دشمنوں کی بھی پروا نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا فکری محاذ یہی ہے کہ جب بھی ملک میں کچھ اہم، صحیح اور منطقی فیصلے کیے جائیں تو یہ اپنے وسیع پروپیگنڈوں کے ذریعے ان پر طرح طرح کے سوال کھڑے کر دیں اور اس پروپیگنڈہ سامراج کے ذریعے جو صیہونیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کی سرکوبی کر دیں، انھیں نابود کر دیں اور تباہ کردیں۔ امام خامنہ ای 3 جون 2020
2026/01/19
انسان اگر صحیح سمت میں قدم اٹھائیں تو صحیح سمت میں ہی آگے بڑھیں گے اور اگر غلط راہ پر لگ جائیں تو غلط راہوں پر ہی بڑھتے چلے جائیں گے۔ سورۂ رعد (کی آیت گیارہ) میں ارشاد ہوتا ہے: بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ یعنی جب آپ خود اپنے اندر صحیح تبدیلیاں لائیں گے تو اللہ بھی آپ کی زندگی میں مثبت حقیقتیں وجود میں لائےگا۔ امام خامنہ ای 1 جون 2020
2026/01/12
پیغمبر اسلام کی بعثت کا ایک بہت ہی اہم خزانہ، جس کی طرف افسوس کہ زیادہ توجہ نہیں دی جاتی، اپنے بدخواہوں کے مقابل اٹل اور ناقابل رسوخ ہونا ہے۔ جس کا ذکر اس آیت "اشداء على الكفار" (وہ کافروں پر سخت ہیں ... سورۂ فتح، آیت 29) میں موجود ہے، "اشداء" عمل میں سختی کے معنی میں نہیں ہے، اشداء یعنی سخت ہونا، مضبوط و مستحکم ہونا، ناقابل رسوخ ہونا، اشداء کا یہ مطلب ہے۔ "اشداء على الكفار" یعنی کفار کو اجازت نہ دیں کہ وہ معاشرے میں اثر و رسوخ پیدا کریں۔ دشمن کے نفوذ کا مطلب اغیار اور بدخواہ قوتوں کے اثر و رسوخ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا خود اپنے ملک و معاشرے میں کوئی اختیار نہ رہے۔ امام خامنہ ای 18 فروری 2023
2026/01/05
2025 December
آپ نے اگر مجاہدت کی تو اللہ کی طاقت آپ کی پشتپناہ بن جائے گی، وہ لشکر جس کا کوئي پشتپناہ نہ ہو، کچھ نہیں کرسکتا، جس لشکر کی پشتپناہی ہوتی ہے، جس کے پاس احتیاطی فورس ہے، بڑی تعداد میں فورسز کا ذخیرہ ہے، وہ ہر کام کرسکتا ہے۔ خدا کی طاقت ان ہی کی پشتپناہ بنتی ہے جو میدان میں اتر پڑتے ہیں، قدم بڑھاتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں خود کو ہر کام کے لیے تیار کر لیں، یہ لوگ الہی قوت پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ اللہ، اہلِ ایمان کا سرپرست ہے اور جو کافر ہیں ان کا کوئی سرپرست اور کارساز نہیں ہے۔ (سورۂ محمد آیت 11) یہ قرآن کی آیت ہے۔ خدا تمھارا مولا و سرپرست ہے، تمھار مولا وہ ہے جس کے اقتدار و اختیار میں تمام عالم وجود ہے۔ یہ تمھارا مولا ہے اور کافروں کا کوئي مولا نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 23 مئی 2016
2025/12/29
مستقبل اگر کسی کا ہے تو وہ اسلام کا ہے، قرآن کا ہے، آپ صاحب ایمان نوجوانوں کا ہے، مستقبل آپ مومن نوجوانوں کا ہے۔ کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچا ہے؟!!  (سورۂ نساء، آيت 122) کون ہے جو مستقبل کے بارے میں اللہ سے زیادہ جانتا ہے؟!! اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ مستقبل تو مومنین کا ہے، صالح بندوں کا ہے، مجاہدین فی سبیل اللہ کا ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اس بات پر دل کی گہرائیوں سے میرا ایمان ہے کہ اگر ہم سے کوئی بھی وعدہ نہ کیا گيا ہوتا تب بھی پچھلے تیس چالیس سال سے ملت ایران کو جو تجربات حاصل ہوئے، ان سے بھی یہ یقین آ جانا چاہیے تھا کہ مستقبل اس قوم کا ہے، اسے یقین آ جانا چاہیے تھا کہ فتح اسی کی ہوگی۔ امام خامنہ ای 27 مئی 2017
2025/12/01
November
خداوند عالم نے قرآن کریم میں کچھ وعدے کیے ہیں، ان وعدوں کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ خدا نے وعدہ کیا ہے: اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھیں ثابت قدم رکھے گا۔ (سورۂ محمد، آیت 7) اسی طرح وعدہ کیا ہے: جو کوئی اللہ (کے دین) کی مدد کرے گا تو اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ (سورۂ حج، آیت 40) اگر تم خدا کی نصرت کرو تو خدا تمھیں ثبات قدم عطا کرے گا اور تمھاری نصرت کرے گا۔ یہ خدا کے وعدے ہیں اور بلاشبہ خدا کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ (سورۂ آل عمران، آيت 9) خدا اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ امام خامنہ ای 4 جون 2023
2025/11/24
خداوند عالم کا سلام ہو اس عظیم اور ثابت قدم قوم، غزہ کے عوام پر جنھوں نے قرآن کی جاوداں آیات کی عملی تفسیر پیش کر دی ہے۔ مسلمانو! ضرور تمھیں تمھارے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمایا جائے گا اور تمھیں اہل کتاب مشرکین سے بڑي دل آزار باتیں سننا پڑیں گی اور اگر تم صبر و ضبط سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو تو بے شک یہ بڑی ہمت اور حوصلے کا کام ہے۔ (سورۂ آل عمران، آیت 186) حق و باطل کے اس کارزار میں آخری جیت حق کی ہی ہے اور صبر واستقامت کا مظاہرہ کرنے والی فلسطین کی یہ مظلوم قوم دشمن پر غالب آ کر رہے گی۔ امام خامنہ ای 7 دسمبر 2008
2025/11/17