پچھلے کئي عشروں کے دوران مغرب میں خواتین کی آزادی کے ذریعے اخلاقی گراوٹ اور بے راہ روی اتنی زیادہ پھیل گئي کہ اس نے خود مغربی مفکرین کو دہشت میں مبتلا کر دیا! آج مغربی ملکوں میں ہمدرد، خیر خواہ، سمجھدار اور نیک نیتی رکھنے والے افراد، جو کچھ ہوا ہے، اس سے غمگین اور وحشت زدہ ہیں، مگر وہ اسے روک بھی نہیں سکتے۔ مغرب میں، عورت کی مدد اور اس کی خدمت کے نام پر، اس کی زندگي کو سب سے بڑی چوٹ پہنچائي گئي۔ کیوں؟ اس لیے کہ جنسی بے راہ کی وجہ سے، اخلاقی گراوٹ اور عورت مرد کے بے لگام اختلاط کی ترویج کی وجہ سے، گھرانے کی بنیاد ہی تباہ ہو گئي۔ وہ مرد جو سماج میں کھلم کھلا اپنی جنسی خواہشات پوری کر سکتا ہو اور وہ عورت جو سماج میں بغیر کسی اعتراض کے مختلف مردوں سے رابطہ رکھ سکتی ہو، کسی بھی صورت میں اچھے اور مناسب زن و شوہر نہیں ہو سکتے۔ اسی لیے گھرانے کی بساط ہی لپٹ گئي۔ ہمارے ملکوں میں گھرانوں کی جڑیں جتنی مضبوط اور گہری ہیں، اتنی آج مغرب میں شاذ و نادر ہی ہیں۔
امام خامنہ ای
12/10/1997