بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
و الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.
آج ایک عدیم المثال یوم ولادت ہے، جائے ولادت کے لحاظ سے بھی اور مولود کے لحاظ سے بھی۔ جائے ولادت، کعبہ ہے، کیا تاریخ میں کوئی دوسرا ہے جو خانۂ خدا میں، کعبے میں پیدا ہوا ہو؟ مولود علی مرتضیٰ علیہ السلام ہیں، جن کے بارے میں کچھ جملے آگے چل کر عرض کروں گا۔ بنابریں اس ہستی کی ولادت کے لحاظ سے تیرہ رجب ایک غیر معمولی اور عدیم المثال دن ہے۔
اسی طرح آج ہمارے عزیز اور عظیم مرتبہ شہید، شہید سلیمانی کی برسی ہے۔ شہید سلیمانی کے بارے میں بحمد اللہ بہت کچھ کہا گیا ہے، بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اگر میں اس عزیز شہید کے بارے میں، جس کی زندگی کو اور جس کے کام کو میں نے قریب سے دیکھا ہے، ایک جملہ عرض کرنا چاہوں تو مجھے کہنا چاہیے کہ شہید سلیمانی ایمان، اخلاص اور عمل والے انسان تھے۔ یہ تین خصوصیات۔ ایمان والے تھے، یعنی جو کام وہ کرتے تھے اس پر ایمان رکھتے تھے، جس ہدف کے لیے وہ کوشش کرتے تھے اس پر دل کی گہرائیوں سے ایمان رکھتے تھے۔ اللہ پر اور اللہ کی مدد پر ایمان رکھتے تھے، ایمان والے انسان تھے۔ اخلاص والے انسان تھے۔ نام و نمود، تعریف اور لوگوں کے درمیان امیج حاصل کرنے کے لیے کام نہیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے پورے خلوص سے، ہدف کے لیے پورے خلوص سے کوشش اور کام کرتے تھے۔ اور وہ عمل والے انسان تھے۔ یعنی بعض لوگ بہت اچھے ہیں، خوب سمجھتے ہیں لیکن جو چیز ان میں دکھائی دیتی ہے، وہ عمل نہیں ہے۔ وہ راہ جو وہ اپنے سامنے تیار کرتے ہیں، ذہن میں اور زبان پر، وہ عمل میں سامنے نہیں آتی، شہید سلیمانی مرد عمل تھے۔ جہاں بھی انھیں محسوس ہوتا کہ وہاں ان کی موجودگی ضروری ہے، وہ وہاں ہوتے تھے، خواہ کرمان میں انقلاب کی تحریک کی حفاظت اور قیادت ہو، خواہ اس خطے میں ظالم و ستمگر حملہ آوروں سے مقابلہ ہو، چاہے قدس فورس میں ہو، چاہے دفاع حرم ہو یا پھر داعش سے مقابلہ ہو۔ وہ مرد عمل تھے، فوجی میدان میں بھی، سیاسی میدان میں بھی اور ٹریننگ کے میدان میں بھی۔ ان کا کام صرف فوجی کام نہیں تھا۔ ہم انھیں ایک فوجی کی حیثیت سے جانتے ہیں لیکن خطے کے انتہائی حساس اور اہم سیاسی معاملات میں، شہید سلیمانی ایک مؤثر اور مفید شخص تھے اور بعض معاملات میں تو بے نظیر تھے۔ وہ تربیت کے معاملے میں بھی مرد عمل تھے، ان کے ماتحت، جو نوجوان ان سے جڑتے تھے، جو لوگ ان کے ساتھ مل کر لڑتے تھے، وہ ان سے سیکھتے تھے، وہ ان کی تربیت کرتے تھے۔ وہ ہمارے زمانے کے ایک جامع اور کامل انسان تھے۔
کچھ دن پہلے، ان لوگوں نے، جو اب بھی ان کے خون کے مقروض ہیں، ان کے بارے میں کچھ ہرزہ سرائی کی، شہید سلیمانی کے بارے میں اپنی زبان پر کچھ فضول باتیں لائے(1) لیکن شہید سلیمانی نے عمل میں، اقدام میں، اپنی بابرکت زندگی کے دوران، ان کی باتوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اور بحمد اللہ دشمن کے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا مزار ہر سال پہلے سے زیادہ مقدس اور محترم ہوتا جا رہا ہے۔ اس سال آپ دیکھیں ــ جیسا کہ میں نے ٹی وی پر دیکھا ــ دور دراز کی راہوں سے اور کبھی تو دوسرے ممالک سے عوام کا عظیم اجتماع ہوتا ہے، پیدل راستہ طے کرتے ہیں، پیدل چل کر جاتے ہیں اور اس مرد کے مزار کی زیارت کرتے ہیں۔ ایمان والا مرد، اخلاص والا اور عمل والا مرد۔
آج اس محفل میں شہید سلیمانی کے علاوہ، دیگر عزیز شہداء کا بھی تذکرہ ہے۔ ان شہداء میں سے بعض کے اہل خانہ یہاں موجود ہیں، چاہے وہ فوجی میدان کے شہید ہوں، سائنسی میدان کے شہید ہوں یا پھر ہمارے عزیز عوام کے وہ افراد ہوں جو اس بارہ روزہ جنگ میں شہداء کے کارواں میں شامل ہوئے۔ وہ لوگ جنھیں ہم قریب سے جانتے تھے، ان کے بارے میں ہم گواہی دے سکتے ہیں کہ ان کی زندگی شروع سے آخر تک جہاد تھی، وہ جہاد کے بارے میں ہی سوچتے تھے۔ خدا کی راہ میں کوئی تذبذب یا توقف نہیں رکھتے تھے اور کام کرتے تھے، شہادت ہی ان کی تمنا تھی، ان کی آرزو شہادت تھی۔ فوجی شہداء بھی، سائنسی میدان کے شہداء بھی ــ جن میں سے کچھ سائنسدانوں کو میں قریب سے جانتا تھا ــ شہادت کے عاشق تھے، شہادت کے منتظر تھے۔ یہ نشست ان عزیز شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کی نشست ہے جن کے نام تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور ہمیں تاریخ میں آگے بڑھنے کے لیے ان کے مبارک ناموں سے استفادہ کرنا چاہیے۔
جو موضوعات میں آج آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، میں دو تین موضوعات اختصار سے بیان کروں گا، ایک، امیرالمؤمنین علیہ السلام کے بارے میں ایک مختصر گفتگو ہے، دوسرے، حق و باطل کے ٹکراؤ میں ایک مؤثر عنصر کے بارے میں گفتگو ہے جس کی طرف آپ کو توجہ دینی چاہیے، چاہے وہ امیرالمؤمنین کے زمانے میں ہو یا چاہے آج کے زمانے میں۔ اور تیسرے، گزشتہ ہفتے کے واقعات اور ہمارے عوام کے اجتماعات پر ایک نظر ہے جس کے بارے میں، میں اختصار سے عرض کروں گا۔
جہاں تک امیرالمؤمنین کی بات ہے تو تاریخ، ادب اور حدیث میں اتنی زیادہ باتیں اور تحریریں موجود ہیں، کہ مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی شخصیت کے بارے میں اس قدر بات کی گئی ہوگی، اس قدر تعریف و توصیف کی گئی ہوگی، یہاں تک کہ غیر مسلموں میں بھی، یہاں تک کہ غیر شیعوں میں بھی، بزرگوں اور علماء نے بھی کتابیں لکھی ہیں۔ ابن ابی الحدید کی شرح نہج البلاغہ ایک ضخیم کتاب ہے جو کئی جلدوں پر مشتمل ہے، اور نہج البلاغہ کی دیگر شرحیں، اس عظیم ہستی کے اقوال کی شرحیں، جناب مالک اشتر کے نام ان کے خط کی شرحیں اور تاریخ و ادب میں ان کے حالات زندگی کی تفصیلات اتنی زیادہ ہیں، جیسا کہ میں نے عرض کیا، ان کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی۔ اب ان تمام خصوصیات میں سے، جو امیرالمؤمنین علیہ السلام کے سلسلے میں بیان کی گئی ہیں، میں نے دو خصوصیات کا انتخاب کیا ہے، جن میں امیرالمؤمنین اوج پر ہیں اور جن کی آج ہمیں ضرورت ہے، میں ان دو خصوصیات کے بارے میں اختصار سے بات کروں گا: ایک یہ کہ امیرالمؤمنین "عدل و انصاف" کی چوٹی پر ہیں اور دوسرے یہ کہ امیرالمؤمنین "تقویٰ" کی چوٹی پر ہیں؛ انصاف اور تقویٰ۔
آج اسلامی جمہوریہ کو انصاف کی ضرورت ہے اور تقویٰ کی ضرورت ہے۔ آج اسلامی جمہوریہ نے ماضی کی نسبت، عدل و انصاف میں بھی پیشرفت کی ہے اور تقویٰ میں بھی پیشرفت کی ہے لیکن جتنے کی توقع ہے، اس سے ابھی ہم دور ہیں۔ ہمیں امیرالمؤمنین کو اپنا آئیڈیل بنانا چاہیے اور اس راہ میں اس چوٹی کی طرف بڑھنا چاہیے۔
ہم نے جو "عدالت" کی چوٹی کا ذکر کیا جس پر امیرالمؤمنین موجود ہیں اور جو انصاف کا بلند ترین مقام ہے تو امیرالمؤمنین کیسے انصاف نافذ کرتے تھے؟ وہ الگ الگ طریقوں سے انصاف نافذ کرتے تھے، کبھی نوازش کرنے والے ہاتھوں سے، کمزوروں، یتیم بچوں، بے سہارا خاندانوں کی خدمت کر کے، کبھی اس طرح انصاف نافذ کرتے تھے۔ کبھی ذوالفقار سے انصاف نافذ کرتے تھے؛ (یعنی) پہلے طریقے کے بالکل خلاف، اس دو دھاری تیز تلوار کے ذریعے کہ پوری تاریخ میں کسی بھی ہتھیار کی اتنی تعریف نہیں ہوئی جتنی ذوالفقار کی ہوئی ہے۔ کبھی آسان اور حکمت آمیز زبان کے ذریعے، وہ جملے جو عربی ادب کے معیار سے بالاتر ہیں، جیسے نہج البلاغہ۔ وہ انصاف کو اس طرح (بیان کرتے ہیں) جو لوگ ان کے عمّال ہیں، ان کے گورنر ہیں، ان کو خط لکھتے ہیں، یہ انصاف کا سبق ہے۔ یعنی جب انسان دیکھے، واقعی مالک اشتر کے نام امیرالمؤمنین کا خط(2) جو ان کا حکومتی فرمان ہے، غلطی سے اسے عہدنامہ کہتے ہیں، وہ عہدنامہ نہیں، فرمان ہے، حکومتی فرمان ہے، ایسی باتوں سے بھرا ہوا ہے جن میں سے زیادہ تر انصاف سے متعلق ہیں، معاشرے کو منصفانہ معاشرہ بناتی ہیں؛ وہ انصاف کو کبھی اس طرح بھی آگے بڑھاتے تھے۔ یعنی مہربانی سے بھی، الہی سختی اور دینی غیرت سے بھی، واضح بیان اور حکمت و تشریح سے بھی۔ اس جہاد تبیین (تشریحی جہاد) کا سرچشمہ امیرالمؤمنین علیہ السلام ہیں۔
رہی بات تقویٰ کی، تو وہ تقویٰ کو کیسے نافذ کرتے تھے؟ تقویٰ کو کبھی عبادت کی محراب میں نافذ کرتے تھے، ایسی عبادتیں کرتے کہ جن پر فرشتے تک رشک کرتے تھے، یعنی امیرالمؤمنین کی عبادت، ان کی نماز، ان کی گڑگڑاہٹ، خدا سے ان کی باتیں، فرشتوں تک کو متحیر کر دیتی تھیں۔ کبھی وہ تقویٰ کو مسلمانوں کے اتحاد کی حفاظت کے لیے صبر اور خاموشی کے ساتھ نافذ کرتے تھے، یہ بھی امیرالمؤمنین کے تقویٰ کے اہم مصادیق میں سے ایک ہے۔ ایک حق جو ان کا اور ان سے متعلق ہے، وہ حق ان سے چھین لیا جاتا ہے، امیرالمؤمنین تلوار کے ذریعے یہ حق لے سکتے ہیں لیکن مسلمانوں میں اختلاف ہو جائے گا، اختلاف نہ ہو اس لیے وہ صبر کرتے ہیں، خاموش رہتے ہیں، تعاون کرتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ امیرالمؤمنین 25 سال گھر میں بیٹھے رہے، نہیں، امیرالمؤمنین گھر میں نہیں بیٹھے رہے، وہ میدان میں تھے، حکم دیتے تھے، رہنمائی کرتے تھے، اس وقت کے خلفاء کی، عوام کی رہنمائی کرتے تھے۔ یعنی صبر اور خاموشی کے ساتھ، وہ اپنا تقویٰ ظاہر کرتے تھے، یہ تقویٰ ہے۔ یہ تقویٰ ہے کہ انسان دیکھے کہ اس کا ایک حق ضائع ہو رہا ہے لیکن وہ ایک بڑی مصلحت کی خاطر خاموش رہے۔ ہم میں خاموش رہنے کی طاقت نہیں ہوتی، اگر ہمارا کوئی حق ضائع ہو جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا تباہ ہو گئی، ہم خیال نہیں کرتے، وہ خیال کرتے تھے۔ کچھ جگہوں پر اس عظیم ہستی کا تقویٰ، سخت واقعات کے سامنے سینہ سپر کرنے سے ظاہر ہوتا تھا، جیسے لیلۃ المبیت، وہ تقویٰ تھا۔ وہ پیغمبر کی جگہ جا کر سو گئے، حالانکہ فطری طور پر یقین تھا کہ آج رات وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ احد میں تقویٰ دکھایا، ڈٹے رہے، حنین میں تقویٰ دکھایا، ڈٹے رہے، خیبر میں تقویٰ دکھایا، دشمن کو زمین پر گرا دیا، پیغمبر کے اکثر غزوات میں علم بردار ہوتے تھے، (یہ سب بھی) تقویٰ تھا۔ تقویٰ صرف عبادت کی محراب میں نہیں ہوتا، جنگ کے میدان میں بھی تقویٰ ہے جو انسان کو روکے رکھتا ہے، محفوظ رکھتا ہے، آگے بڑھاتا ہے، (اسی لیے امیرالمؤمنین) دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑے رہتے تھے۔
یہ دو خصوصیات ہیں؛ امیرالمؤمنین کا انصاف اور امیرالمؤمنین کا تقویٰ۔ آج ہمیں اپنے ملک میں، اپنے معاشرے میں، انصاف کی بھی ضرورت ہے، تقویٰ کی بھی ضرورت ہے۔ عوام الناس کا بھی تقویٰ اور خاص طور پر ملک کے ذمہ داران کا بھی تقویٰ، ہمیں اس کی ضرورت ہے، اسے مکمل طور پر عملی جامہ پہننا چاہیے۔ بحمد اللہ کافی حد تک بعض جگہوں پر انسان دیکھتا ہے کہ لوگ تقویٰ کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن اسے ہر جگہ پھیل جانا چاہیے۔ یہ امام، جن کے نام کے ہم مشتاق ہیں، جن کی یاد کے ہم مشتاق ہیں، ہم ان کا نام زبان پر لاتے ہیں، ان کی مدح کرتے ہیں، وہ ایسے انسان ہیں، وہ ان کا انصاف میں کردار اور وہ ان کا تقویٰ میں کردار۔
شیعوں کے پاس اس ایک ہزار سے زائد برسوں کے عرصے میں اس بات کا موقع نہیں تھا کہ امیرالمؤمنین کا انصاف معاشرے میں نافذ کر سکیں کیونکہ ان کے پاس حکومت نہیں تھی، آج یہ بہانہ باقی نہیں رہا، آج کوئی عذر نہیں ہے۔ آج حکومت، اسلامی حکومت ہے، علوی حکومت ہے، وَلَوی حکومت(3) ہے۔ آج ہمیں انصاف کے درپے رہنا چاہیے۔ انصاف کسی بھی معاشرے کو چلانے کے لیے سب سے واجب اور اہم ترین خصوصیت ہے کہ آپ کو اس کے حصول کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ کچھ چیزیں ہمارے تقویٰ کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں، کبھی ہم ڈرتے ہیں، کبھی ہم اپنے بنیادی اصولوں میں شک کرتے ہیں، کبھی ہم دوستیوں کا خیال کرتے ہیں، کبھی ہم دشمن کا خیال کرتے ہیں؛ ان باتوں کو دور ہونا چاہیے، انھیں نہیں ہونا چاہیے۔ بغیر کسی کا خیال کیے ہوئے، بے جا رعایت دیے بغیر انصاف لانے والے پروگرام اور ایسے پروگرام کی طرف بڑھنا چاہیے جو تقویٰ کو پھیلائے۔ یہ امیرالمؤمنین کے بارے میں کچھ باتیں تھیں۔
میں نے عرض کیا کہ امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں ایک نکتہ پایا جاتا ہے جس پر آج بھی ہمارے معاشرے میں، ہماری حکومت میں اور ہمارے اسلامی نظام میں توجہ دی جانی چاہیے۔ وہ نکتہ یہ ہے کہ امیرالمومنین کسی بھی جنگ میں مغلوب نہیں ہوئے، کسی بھی جنگ میں۔ ہر جنگ میں وہ فاتح اور غالب رہے، یہاں تک کہ جنگ احد میں بھی! جنگ احد میں دوسرے بھاگ گئے، امیرالمومنین غالب آئے۔ ان کی بہادری نے، ان کی ثابت قدمی نے اور پیغمبر اکرم کے ارد گرد ایک دو اور افراد کی شجاعت نے، اس فرار کی تلافی کر دی جس میں کمزور لوگ مبتلا ہو گئے تھے۔ یعنی امیرالمومنین تمام غزوات میں، ایسا ہی کچھ حنین میں بھی ہوا، دوسری جنگوں میں بھی ہوا، تمام غزوات میں امیرالمومنین فاتح رہے۔ ان کی خلافت کے زمانے میں تین جنگیں ہوئیں، ان تینوں میں امیرالمومنین فتح یاب ہوئے۔ انھیں صفین میں بھی فتح حاصل ہوئی۔ صفین میں ایک قدم سے زیادہ نہیں بچا تھا کہ تاریخ کا دھارا مڑ جاتا، اگر مالک اشتر خود کو اس مقام تک پہنچا پاتے، جہاں وہ پہنچنے ہی والے تھے، تو تاریخ بدل جاتی مگر وہ امیرالمومنین کے حکم سے واپس لوٹ آئے۔ جو مسئلہ اس زمانے میں تھا، اور آج بھی موجود ہے، وہ یہ ہے کہ انھیں امیرالمومنین کو، جو کسی بھی جنگ میں مغلوب نہیں ہوئے، کئی مواقع پر ان کے مقصد تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔ یعنی لوگوں نے ایک راستہ تلاش کر لیا تھا جسے آج ہم نرم جنگ کہتے ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات، یہ الزامات، یہ دھوکے، یہ خباثتیں، یہ دراندازی آج کی چیزیں ہیں، نہیں، امیرالمومنین کے زمانے میں بھی یہی اسباب تھے۔ کام لوگوں کے ہاتھ میں ہے، خدا کا ولی لوگوں کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ "ھُوَ الَّذی اَیَّدَکَ بِنَصرِہِ وَبِالمُؤمِنین."(4)
امیرالمؤمنین کی شجاعت، ان کی طاقت اور فولادی ارادے کے سامنے دشمن کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ امیرالمؤمنین کے اطراف کے لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے۔ یہ کام جنگ صفین میں قرآن کو نیزوں پر بلند کر کے پورا کیا گیا، اس کے بعد بھی یہ کام کیا گیا، امام حسن کے زمانے میں بھی ایسا ہوا، نرم جنگ (یہی) ہے۔ نرم جنگ کا مطلب کیا ہے؟ یعنی دھوکے، جھوٹ، تہمت، وسوسے اور گمراہ کن دلائل کے ذریعے لوگوں کو اس راستے کے متعلق شک میں ڈال دینا جس پر وہ چل رہے ہیں، عوام میں شک و شبہہ پیدا کرنا۔ یہ نرم جنگ ہے۔ یہ جنگ آج بھی جاری ہے؛ آج بھی یہ کام ہو رہا ہے۔ نرم جنگ کا ہدف عوام کے جذبے کو ختم کرنا ہے۔ جو لوگ میدان میں ہیں، کوشش کے لیے تیار ہیں اور کام کے لیے تیار ہیں، ان کے جذبے کو ختم کرنے، انھیں ناامید کرنے، مایوس کرنے اور شک میں ڈالنے کے لیے وہ نرم جنگ کے حربوں کے ساتھ میدان میں آ رہے ہیں۔ اُس زمانے میں، امیرالمومنین کے زمانے میں بھی انھوں نے یہی کیا۔ یہی کام کیا جس کی تفصیلات تاریخ میں موجود ہیں۔ کچھ لوگ شہروں اور دیہاتوں میں جاتے تھے، عوام پر حملہ کرتے تھے، ظلم کرتے تھے، پھر کوئی افواہ پھیلا دیتا تھا کہ یہ لوگ علی کی طرف سے آئے ہیں۔ عوام کو شک میں ڈال دیتے تھے۔ آج بھی بالکل یہی کام ہو رہا ہے۔ آج ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ مشکل میدانوں میں، جہاں اس کی ضرورت ہے، وہ مضبوطی سے کھڑی رہتی ہے، یہ کام ایرانی قوم کا ہے۔ یہ کسی خاص گروہ یا خاص جماعت کا نہیں ہے۔ جہاں کھڑا ہونا چاہیے وہ وہاں کھڑی ہوتی ہے، جہاں مدد کرنی چاہیے، مدد کرتی ہے، جہاں نعرہ لگانا چاہیے، نعرہ لگاتی ہے، جہاں دشمن کو مایوس کرنا چاہیے، مایوس کرتی ہے۔ یہ جذبہ، دشمنوں کو پریشان کرتا ہے، وہ کوشش کرتے ہیں کہ مختلف بہانوں سے افراد کا یہ جذبہ کمزور اور سست کر دیں۔
آج کی نرم جنگ کا ایک اہم ہتھکنڈہ دشمن کے درمیان اور کچھ شر پسند یا غافل افراد کے درمیان، اس قوم کی کامیابیوں، سرمایوں اور صلاحیتوں کو نظر انداز کرنے سے عبارت ہے۔ اس قوم کی صلاحیتوں کا انکار۔ یہ قوم، ایک عظیم قوم ہے، کام بھی کر سکتی ہے اور کر رہی ہے، آج بھی وہ کام کر رہی ہے۔ اگر کوئی قوم اپنے سرمایوں سے غافل ہو جائے، اپنی صلاحیتوں کو نہ دیکھ پائے، اپنی پیشرفت پر یقین نہ کرے، تو اس قوم کی تذلیل ہوگي۔ جب اس کی تذلیل ہو جائے اور وہ خود کو حقیر سمجھنے لگے تو وہ دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ یہ وہ حربہ ہے جس کے دشمن درپے ہیں اور یہ حربہ استعمال کر رہے ہیں۔
آج کا غیر معمولی صلاحیت والا نوجوان، غیر معمولی صلاحیت کا کارآمد نوجوان، ایک دن میں تین سیٹلائٹ خلا میں بھیج دیتا ہے،(5) یہ کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے، یہ بہت بڑی چیز ہے۔ آج کا غیر معمولی صلاحیت والا نوجوان چند ماہ کے اندر، ملک کی بجلی کے نیٹ ورک میں چار ہزار میگاواٹ کا اضافہ کر دیتا ہے اور ملک کے بجلی کے نیٹ ورک کو مضبوط کرتا ہے۔ آج کا غیر معمولی صلاحیت والا نوجوان مختلف علوم میں، ائيرواسپیس میں، بایوٹیکنالوجی میں، علاج معالجے میں، نینو ٹیکنالوجی میں، میزائل سازی میں، فوجی صنعتوں میں، پوری دنیا کو متحیر کر چکا ہے اور وہ بھی پابندیوں کے دوران۔ یہ بے مثال ثروتیں ہیں، ان ثروتوں کو دیکھنا چاہیے، ہمارے پاس یہ سب ہے۔ میں شاید ایک دو بار پہلے بھی کہہ چکا ہوں،(6) کچھ سال پہلے صیہونیوں کے ایک میزائل سائنسدان(7) نے خود اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ جب ایران کے فلاں میزائل کو لانچ کرنے کا ریہرسل کر رہے تھے اور میں نے اس کی تصویر، جو نشر ہو رہی تھی دیکھی تھی، تو میں نے اس شخص کے احترام میں، جس نے اسے بنایا تھا، سر جھکا دیا تھا اور اسے خراج تحسین پیش کیا تھا کہ پابندیوں کے ساتھ، پابندیوں کے دوران، وہ ایسا بڑا کام کرنے میں کامیاب ہوا۔ دفاعی صنعتوں میں، علاج معالجے کے طریقوں میں، آج بڑے بڑے کام ہو رہے ہیں، دشمن انھیں چھپاتا ہے اور افسوس کہ ملک کے اندر بھی کچھ لوگ انھیں چھپاتے ہیں۔ ملک کے اندر، افسوس کہ کچھ لوگ ان پیشرفتوں کو، ان عظیم کاموں کو چھپاتے ہیں، عوام تک اس کی خبر نہیں پہنچاتے۔ ملک میں بڑے عظیم کام انجام پا رہے ہیں، ملک آگے بڑھ رہا ہے۔
جو چیز اس بات کا سبب بنتی ہے کہ ایرانی قوم سے فوجی ٹکراؤ میں دشمن اول تو جنگ بند کرنے کی درخواست کرے اور پھر یہ پیغام بھی دے کہ ہم آپ سے جنگ نہیں کرنا چاہتے، البتہ خبیث دشمن فریبی اور جھوٹا ہے، ہمیں اس کی بات پر بھروسہ نہیں ہے، لیکن وہ چیز جو اس بات کا سبب بنتی ہے کہ وہ یہ کام کرے، کیا ہے؟ وہ ایرانی قوم کی طاقت ہے، وہ ایرانی جوانوں کی صلاحیت ہے۔ میں نے سنا ہے کہ جن لوگوں نے پچھلے ہفتے یہ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے، وہ نوجوان جنھوں نے ایک دن میں تین سیٹلائٹ خلا میں بھیجے اور وہ خلا میں مستقر ہو گئے، مجھے بتایا گیا کہ ان کی اوسط عمر 26 سال ہے۔ یہ لوگ عظیم سرمایہ ہیں۔ افرادی قوت کی ثروت، کوئی معمولی ثروت نہیں ہے۔ اور وہ ہرزہ سرائی کرنے والا امریکی(8) بیٹھ کر ایرانی قوم کے بارے میں باتیں کرتا ہے، کچھ بدگوئی کرتا ہے اور کچھ وعدے کرتا ہے؛ جھوٹے وعدے! فریب! بحمد اللہ آج ایرانی قوم امریکا کو پہچان چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب وہ اسے نہیں پہچانتی تھی۔ آج امریکا کی رسوائي پوری دنیا میں طشت از بام ہو چکی ہے، سبھی لوگ اسے پہچان چکے ہیں، یہ صرف ایران سے مختص نہیں ہے۔ لوگوں نے دشمن کو پہچان لیا، یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
ہم بہت اصرار کرتے تھے کہ لوگوں کو دلیل سے سمجھائیں، لیکن لوگوں نے 12 روزہ جنگ میں خود دیکھ لیا، مشاہدہ کیا۔ وہ لوگ بھی جو کہتے تھے کہ ملک کے مسائل کا حل امریکا سے گفتگو ہے، انھوں نے بھی دیکھ لیا کہ کیا ہوا۔ امریکا سے مذاکرات کے درمیان، ایرانی حکومت، امریکا سے مذاکرات میں مصروف تھی، امریکی حکومت پردے کے پیچھے جنگ کا منصوبہ تیار کر رہی تھی۔ لوگ بیدار ہیں، ہوشیار ہیں۔
بنابریں نرم جنگ کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیے، دشمن کی جانب سے شکوک و شبہات پھیلائے جانے کی طرف سے چوکنا رہنا چاہیے، دشمن کی افواہوں کی طرف سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ یہ پیسے جو خرچ کیے جاتے ہیں، اربوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں، فلاں ٹی وی کے لیے، فلاں ریڈیو کے لیے، اطلاع رسانی کے فلاں مرکز کے لیے اور ایران کے خلاف مسلسل جھوٹی اور غیر واقعی باتیں نشر کی جاتی ہیں، یہ بے سبب نہیں ہے، یہ ایک بہت اہم استدلال کے ساتھ کیا جاتا ہے، وہ ملک کو اندر سے کمزور بنانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے دیکھ لیا کہ بارہ روز جنگ میں، قوم کا اتحاد، معجزہ کرنے والا تھا، وہ اس اتحاد کو توڑ دینا چاہتے ہیں۔ ایران کے لوگوں کو چوکنا رہنا چاہیے۔ سب سے اہم مسئلہ، دشمن کی دشمنی پر توجہ اور ملکی اور اندرونی اتحاد و یکجہتی پر توجہ ہے، "اَشِدّاءُ عَلَى الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَھُم."(9)
میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ان اجتماعات کے بارے میں کچھ جملے عرض کروں۔ اول تو بازار اور کاروباری، ملک میں اسلامی نظام اور اسلامی انقلاب کے سب سے باوفا طبقوں میں ہیں۔ ہم بازار کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ بازار اور کاروباری کے نام پر اسلامی جمہوریہ اور اسلامی نظام کے خلاف کھڑا نہیں ہوا جا سکتا۔ جی ہاں، یہ اجتماعات زیادہ تر کاروباریوں کی طرف سے تھے لیکن ان کی بات صحیح تھی۔ میں نے بھی ٹی وی پر بھی سنا اور رپورٹوں وغیرہ میں بھی اسے دیکھا۔ کاروباری جب قومی کرنسی کی حالت، ملکی کرنسی کی قدر میں کمی، ملک کی اور غیر ملکی کرنسی میں عدم استحکام کو دیکھتا ہے جو کاروبار میں عدم استحکام کا سبب ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میں کاروبار نہیں کر سکتا، وہ صحیح کہتا ہے۔ یہ بات ملک کے ذمہ داران بھی تسلیم کرتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ محترم صدر اور ملک کے دیگر اعلی رتبہ حکام اس مسئلے کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ یہ ایک مسئلہ ہے۔ اس میں بھی دشمن کا ہاتھ ہے، میں آپ سے یہ بھی عرض کر دوں۔ زر مبادلہ کا اتنا مہنگا ہو جانا، زر مبادلہ کا بے حساب اوپر چلا جانا اور اس میں عدم استحکام، اس کا اوپر جانا اور پھر نیچے آ جانا کہ کاروباری کو سمجھ میں ہی نہ آئے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ یہ نارمل نہیں ہے، یہ دشمن کا کام ہے۔ البتہ اسے روکا جانا چاہیے۔ مختلف تدبیروں سے کوشش کر رہے ہیں، صدر مملکت بھی، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہ بھی اور بعض دیگر حکام بھی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ کام صحیح ہو جائے۔ بنابریں کاروباریوں کا اعتراض اس بات پر تھا اور یہ بات، صحیح بات ہے۔ جو بات اہم ہے وہ یہ ہے کہ دشمن کے ورغلائے ہوئے کچھ لوگ اور ایجنٹ ان کاروباریوں کے پیچھے کھڑے ہو جائيں اور اسلام، ایران اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگائیں۔ یہ اہم ہے۔ اعتراض بجا ہے لیکن اعتراض، ہنگامہ آرائی سے الگ ہے۔ ہم اعتراض کرنے والے سے بات کرتے ہیں۔ حکام کو اعتراض کرنے والے سے بات کرنی چاہیے۔ ہنگامہ آرائی کرنے والے سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ہنگامہ برپا کرنے والے کو اس کی جگہ بٹھا دینا چاہیے۔
یہ کہ کچھ لوگ مختلف ناموں اور مختلف عناوین کے ساتھ تخریب کاری کے ارادے سے، ملک میں بدامنی کے ارادے سے، مومن، سالم اور انقلابی کاروباریوں کے پیچھے آ جائیں اور ان کے اعتراض سے غلط فائدہ اٹھائيں، ہنگامہ مچائيں، یہ بالکل قابل قبول نہیں ہے، قطعی طور پر۔ دشمن کے کام کو سمجھنا چاہیے۔ دشمن چین سے نہیں بیٹھے گا، وہ ہر موقع سے فائدہ اٹھائے گا، دیکھا کہ یہاں ایک موقع ہے، اس سے فائدہ اٹھانا چاہا۔ البتہ ہمارے ذمہ داران میدان میں تھے اور آگے بھی رہیں گے۔ اہم چیز پوری قوم کا ایک ساتھ ہونا ہے۔ اہم وہی چیزیں ہیں جنھوں نے سلیمانی کو سلیمانی بنایا۔ ایمان، اخلاص، عمل۔ اہم چیز دشمن کی نرم جنگ کے مقابلے میں لاپروا نہیں رہنا ہے۔ دشمن کی افواہوں کے مقابلے میں بے پروا نہیں رہنا ہے۔ یہ چیزیں اہم ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ جب انسان محسوس کرے کہ دشمن زبردستی کسی چیز کو حکومت اور قوم پر تھوپنا چاہتا ہے تو اسے پوری طاقت کے ساتھ دشمن کے سامنے ڈٹ جانا چاہیے۔ ہم دشمن کے آگے نہیں جھکیں گے اور خدا عالم پر بھروسے اور اعتماد اور عوامی حمایت کے یقین کے ساتھ دشمن کو دھول چٹا دیں گے۔
امید ہے کہ خداوند عالم ہمارے عزیز شہیدوں کو اپنے اولیاء کے ساتھ محشور کرے گا، ہمارے جوانوں کو محفوظ رکھے گا، آپ عزیزوں کو ان شاء اللہ ولادت امیر المومنین کی برکتوں سے فیضیاب کرے گا اور شہیدوں کے اہل خانہ کے دلوں پر صبر، تسلّی اور سکون نازل کرے گا۔
و السّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ