آٹھ جنوری کی تاریخ تھی۔ مسلح بلوائی، امریکی حکام کے کھلم کھلا حمایت اور فوجی مداخلت کے وعدے کے سہارے سڑکوں پر ٹوٹ پڑے۔ انھیں حکم دیا گيا تھا کہ ہر چیز کو تباہ کر دیں۔ ان کے لیے مریض، اسپتال اور نرس میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ٹھیک ان کے آقاؤں کی طرح، جو غزہ میں اپنے وحشیانہ جرائم کے دوران اسپتالوں اور ایمبولینسوں تک پر رحم نہیں کرتے، یہ لوگ بھی رشت شہر کے امام سجاد دواخانے پر ٹوٹ پڑے اور اسے نذر آتش کر دیا۔
وہ فداکار نرس مرضیہ، وحشت و دہشت کے اس منظر کے بالکل وسط میں تھیں۔ آگ اور دھویں نے ہر جگہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا لیکن انھوں نے وہیں رکنے کو ترجیح دیا۔ وہ ان مریضوں کو چھوڑ کر خود کو بچانے پر تیار نہیں ہوئیں جن کی وہ دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آگ، ان کے کام کے کمرے تک پہنچ گئی اور باہر نکلنے کا راستہ بند ہو گیا۔ بے رحم اور بھڑکتی آگ نے انھیں کچھ بھی نہیں کرنے دیا اور وہ دشمنوں کے کینے کی آگ میں زندہ جل کر شہید ہوگئيں۔ اس شہیدہ کی بہن غم کے ساتھ ہی فخر سے بھرے ہوئے دل سے امریکی صدر کو اس جرم کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں اور کہتی ہیں: "ٹرمپ میری بہن کا قاتل ہے۔"
امام خامنہ ای نے بھی یوم بعثت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے موقع پر مختلف عوامی طبقات سے ملاقات میں کہا تھا: " اس فتنے کی خصوصیت تھی کہ خود امریکی صدر بذات خود، اس فتنے میں کود پڑا، بات کی، بیان دیا، دھمکی دی۔ فتنہ پھیلانے والوں کو ترغیب دلائی، ان لوگوں کو، جن کے بارے میں، میں بتاؤں گا کہ کون تھے، امریکا سے پیغام دیا کہ آگے بڑھو، ڈرو نہیں آگے بڑھو۔ کہا کہ ہم تمھاری حمایت کریں گے، عسکری حمایت کریں گے۔ یعنی خود امریکی صدر فتنے میں کود گیا اور وہ فتنے کا حصہ ہے۔"(1)
ایران کی نشیب و فراز سے بھری تاریخ میں دشمنوں نے ہمیشہ، خواتین کے حقوق کے پرفریب نعروں کے ساتھ، اسلامی جمہوری نظام کو نشانہ بنایا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کی کارروائیاں، اس دعوے کے جھوٹ ہونے کا ببانگ دہل اعلان کرتی ہیں۔ کیا ایک شفاخانے پر حملہ اور ایک نرس کو، جو ایک بچی کی ماں بھی تھی، زندہ جلا دینا خواتین کے حقوق کا دفاع ہے؟ ہم بھولے نہیں ہیں کہ تین سال پہلے، بظاہر فیمینسٹ نظر آنے والے انہی نعروں کے ساتھ کچھ لوگ سڑکوں پر اترے تھے لیکن ان کے تشدد آمیز اقدامات نے، حکومت کو گرانے کے ان کے اصل ہدف کو طشت از بام کر دیا تھا۔ جب بھی اسلامی جمہوریہ کے خلاف کوئی نیا محاذ کھلتا ہے، اس کے اصل اسباب میں سے ایک کو "خواتین کے حقوق" کا نام دیا جاتا ہے۔ ایران میں بدامنی کے ان دنوں میں غیر ملکی ناظرین کے درمیان ایک دلچسپ چیز وائرل ہو رہی تھی: "جب بھی مغرب والوں کو اچانک مشرق وسطیٰ کی خواتین کی فکر ہونے لگتی ہے، یہ خواتین، بمباری کا شکار ہونے والی ہوتی ہیں۔"(2) یہ بات کیسے مانی جا سکتی ہے کہ مغرب میں انسانی حقوق کے جھوٹے دعویدار، جو ملک اور بیرون ملک خواتین کے حقوق کی پامالی کا طویل ماضی رکھتے ہیں، ہماری خواتین کے ہمدرد ہوں گے؟
جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے بھی کہا ہے: "عورت کے اس مسئلے میں بھی دنیا کے سیاستداں اور سرمایہ دار، جن کے پاس دنیا کے سب سے بااثر ذرائع ابلاغ ہیں اور وہ میڈیا کی زبان بھی جانتے ہیں۔ ان کا محرک، کوئي فکری اور فلسفیانہ نظریہ نہیں ہے، ایک انسانی احساس اور جذبہ بھی نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ وہ یہ محسوس کرتے ہوں کہ بعض مسائل میں دنیا میں عورت کمزور واقع ہوئي ہے اور وہ اس کی حمایت کرنا چاہتے ہوں، ان کے انسانی جذبات جوش میں آ گئے ہوں، نہیں! ایسا بھی نہیں ہے۔ ایک سماجی اور اجتماعی فریضے کی ادائيگي بھی نہیں ہے، محرک، سیاسی و سامراجی مداخلت ہے۔ وہ اس مسئلے میں کودتے ہیں تاکہ ان کی مزید مداخلت، مزید اثر و رسوخ اور ان کے نفوذ کے دائرے کی مزید توسیع کی تمہید رہے، بہانہ رہے۔"(3)
خواتین کے حقوق کی تشویش نہ تو مغربی میڈیا کے لشکر کو ہے، جس نے ان دنوں ایرانی خواتین کے حقوق کے دفاع کا پرچم بلند کر رکھا ہے اور نہ ہی ایران کے مختلف شہروں میں ان کے دہشت گرد پیادوں کو۔ اگر انھیں تشویش ہوتی تو مرضیہ نبوی نیا کو زندہ جلانے پر کم از کم کچھ تو ردعمل ظاہر کرتے اور کم از کم اس حکومت کے حامیوں کے خواتین کے حقوق کے دعوؤں کو تسلیم نہیں کرتے جس نے ڈھائی سال کے اندر دسیوں ہزار خواتین کو قتل کیا اور کئی لاکھ دیگر خواتین پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا ہے۔
تاہم ان کے بیانیے میں مرضیہ نبوی نیا کی کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ وہ ان دسیوں لاکھ مسلمان خواتین میں سے ایک ہیں جنھوں نے حجاب اور سماجی آزادی کے سلسلے میں اسلامی احکامات کو تسلیم کر کے، ایک ایسے ملک میں، جہاں اسلامی جمہوریہ کی حکمرانی ہے، تعلیم حاصل کی، ماں کے فرائض نبھائے، کام کیا اور فداکاری کے ساتھ شہادت کے درجے پر فائز ہوئیں۔ مرضیہ نبوی نیا، ایرانی خاتون کے بارے میں مغرب کی کہانیوں کے کرداروں میں فٹ نہیں بیٹھتیں، اس لیے ان کا نام بھلا دیا جانا چاہیے۔
لیکن مرضیہ نبوی نیا اس سرزمین کی شجاع خواتین کے طویل سلسلے کی ایک درخشاں کڑی ہیں۔ طاغوت کے زمانے میں انقلاب کو بچانے کے لیے اسلحہ اٹھانے والی مرضیہ حدیدچی (دباغ) سے لے کر مرضیہ نبوی نیا تک جنھوں نے آج ملک میں نرس کے لباس کے ساتھ خدمت کے محاذ کو نہیں چھوڑا۔ ہم بھی ان کے نام کو فراموش نہیں کریں گے اور بلند آواز سے ان کا نام لیں گے: "مرضیہ نبوی نیا"
تحریر: مائدہ زمان فشمی، صحافی اور محقق
https://urdu.khamenei.ir/news/8898 (1)
https://x.com/MyLordBebo/status/2011391002087444928?s=20 (2)
(3)7909/https://urdu.khamenei.ir/news