بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
و الحمد للہ ربّ العالمین و صلّی اللہ علی محمّد و آلہ الطّاہرین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.
آپ سب حضرات کا خیر مقدم ہے اور میں آپ سبھی محترم حضرات، جناب آقائے مروی اور دیگر حضرات کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے مرحوم آقائے میلانی (رحمت اللہ علیہ) کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کانفرنس کے انعقاد کا اہتمام کیا۔ اگرچہ مرحوم میلانی بیس سال تک مشہد میں علمی، سماجی، سیاسی اور ہر قسم کا کام انجام دیتے رہے لیکن ان کی وفات کے بعد مشہد میں ان کی کوئی خاص نشانی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ جب بھی مشہد کے امور سے میرا واسطہ پڑتا، میں یہ محسوس کرتا تھا۔ ایک زمانے میں وہ مشہد کی مرکزی شخصیت تھے، یعنی وہ حوزۂ علمیہ (اعلیٰ دینی تعلیمی مرکز) کا ایک ستون شمار ہوتے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد ان کا ذکر اور ان کا نام کم لیا گیا۔ ان کے چھوٹے صاحبزادے، مرحوم آقائے سیّد محمد علی بھی زیادہ نمایاں نہیں رہے اور ہم نشستوں وغیرہ میں ان سے کم ہی مل پائے تھے، بظاہر ان کا بھی انتقال ہو گیا ہے۔ لہٰذا یہ جو کانفرس آپ منعقد کر رہے ہیں، اچھا کام ہے کہ ان کے بارے میں تحقیق کی جائے، کام کیا جائے، ان کی کتابوں کو پھر سے زندہ کیا جائے۔ میں نے چند باتیں نوٹ کی ہیں جو ان کے سلسلے میں عرض کروں گا۔
اولا یہ کہ ان کی شخصیت کے مختلف پہلو تھے جن میں سے ہر پہلو کے بارے میں ہر زاویے سے انسان کچھ جملے بیان کر سکتا ہے: ایک پہلو ان کی ذاتی زندگی، ان کی شخصیت اور ان کی اخلاقی و عملی خصوصیات کے بارے میں ہے، ایک دوسرا، ان کے علمی پہلو پر بات کی جا سکتی ہے اور ان کی علمی زندگی پر گفتگو کی جا سکتی ہے، ایک دوسرا پہلو، ان کا عرفانی و سیر و سلوک کا پہلو ہے، البتہ ہم ان کی زندگی میں اس طرف متوجہ نہیں تھے اور آگاہی نہیں رکھتے تھے، بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ وہ عرفان و سلوک اور معنویت وغیرہ میں بھی دخل رکھتے تھے اور فکر و ریاضت وغیرہ جیسی چیزوں کے حامل تھے، یہ باتیں انسان ان کی زندگی میں نہیں سمجھ سکتا تھا، یہ بھی ایک پہلو ہے، ایک اور پہلو ان کا سماجی اور سیاسی پہلو ہے۔ ان تمام پہلوؤں کے بارے میں ان کے سلسلے میں گفتگو کی جا سکتی ہے جن میں سے میں ہر ایک پر کچھ جملے عرض کروں گا۔
اس پہلے نکتے کے بارے میں، یعنی ان کی انفرادی شخصیت اور ان کے انفرادی سلوک کے بارے میں عرض کروں کہ وہ بلاشبہ ایک ممتاز انسان تھے۔ اول تو یہ کہ وہ بہت باوقار اور متانت کے ساتھ آگے بڑھتے تھے، بات کرتے تھے، اقدام کرتے تھے، ساتھ ہی وہ بہت متواضع تھے۔ (ان میں) تواضع بھی تھا، متانت و وقار بھی تھا، اور ایک روحانی سکون بھی انسان ان میں محسوس کرتا تھا، یہاں تک کہ جب مشکل حالات بھی پیش آتے تو انسان محسوس کرتا تھا کہ ان کے پاس یہ سکون ہے۔
دوستوں کی رفاقت کے وفادار اور محافظ تھے، وہ اپنے دوستوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ وہ ہمارے والد(2) کے ساتھ تبریز میں ہم مکتب تھے۔ وہ نجف میں پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد معروف شیخ محمد حسن مامقانی، مکاسب پر حاشیہ لگانے والے اور اپنے زمانے کی اس ممتاز شخصیت اور بزرگ مرجع تقلید کے داماد تھے، جو بظاہر 1942 یا 1943 میں وفات پا گئے تھے۔ خیر تو وہ نجف میں پیدا ہوئے لیکن ان کے والد تبریز آ گئے اور ایک دو سال تبریز میں رہے، پھر دوبارہ نجف واپس چلے گئے۔ اس ایک دو سال کے دوران، ان کے یہ فرزند، جو مکتب جاتے تھے، ہمارے مرحوم والد اور تبریز کے ایک اور عالم، یعنی مرحوم آقا سید ابراہیم دروازہ ای، جن کے فرزند آقا سید مہدی دروازہ ای تہران میں تھے اور شاید بعض حضرات انھیں جانتے ہوں، یہ تینوں، ہم مکتب تھے۔ آقائے میلانی کا، اس دوستی کے پیش نظر ہمارے مرحوم والد کے ساتھ خصوصی تعلق رکھا۔ وہ کئی بار صبح سویرے اٹھتے اور وہاں آتے اور شاید ناشتہ بھی وہیں کرتے تھے۔ ایک بار مرحوم آقا سیدابراہیم دروازہ ای مشہد آئے، تو تینوں ایک ساتھ ہمارے مرحوم والد کے گھر میں اکٹھا ہوئے۔ وہ وفادار تھے، پرانی دوستی کی قدر کرتے تھے۔
وہ بہت خوش مشرب اور مجلسی انسان تھے، یعنی اگر کوئی ان کے ساتھ بیٹھتا تو ان کے ساتھ نشست خوشگوار ہوتی تھی۔ وہ بہت باذوق تھے، ان میں شعری لطافت تھی۔ میں نے بعض تحریروں میں، بعض کتابوں میں جن کا ان سے تعلق بھی نہیں تھا، دیکھا کہ انھوں نے شعر بھی کہے ہیں، البتہ عربی میں شعر کہتے تھے، وہ شعری ذوق اور اس قسم کی چیزوں کے حامل تھے، یعنی ایک ممتاز اور عظیم شخصیت کا مجموعہ تھے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ وہ شیخ محمد حسن مامقانی کے نواسے تھے۔ مرحوم آقائے شیخ عبداللہ مامقانی کے داماد تھے۔ وہ اپنے درس میں بھی کبھی کبھی اپنے ماموں کے بارے میں کہتے تھے کہ مرحوم ماموں صاحب نے اپنی کتاب رجال میں اس طرح کہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ علمی گھرانے میں پلے بڑھے تھے۔
مرحوم آیت اللہ میلانی (رحمت اللہ علیہ) کو اگر علمی پہلو سے دیکھا جائے تو بلاشبہ وہ اپنے زمانے میں ایک ممتاز علمی شخصیت تھے، وہ ایک بڑے عالم تھے۔ انھوں زیادہ تر عملی استفادہ مرحوم آقائے نائینی اور مرحوم آقائے شیخ محمد حسین اصفہانی سے کیا تھا جن کا وہ اس طرح نام لیتے تھے: میرزائے استاد، الحاج شیخ استاد، اس طرح کے الفاظ سے اپنے دروس میں ان کا ذکر کرتے تھے، تاہم ان کی فقہی سوچ مرحوم آقائے نائینی کے زیادہ قریب تھی۔ چونکہ میں ان کے اصول کے درس میں نہیں جاتا تھا، اس لیے میں نہیں جانتا کہ وہ اصول میں کیسا رویہ رکھتے تھے، لیکن فقہ کے درس میں، ان کا رجحان زیادہ مرحوم آقائے نائینی کی طرف تھا اور وہ مرحوم آقائے نائینی کے اسلوب کی طرز پر بحث کرتے، بات کرتے اور کام کرتے تھے۔
درس میں، وہ بہت پرسکون، متین اور خوش بیان تھے، خوش بیان اس معنی میں کہ وہ بہت اچھا بولتے تھے، خوش بیان اس معنی میں نہیں کہ لگاتار بولتے رہیں بلکہ ان کی گفتگو بہت اچھی ہوتی تھی، جو بھی طالب علم ان کا درس سنتا واقعی وہ اسے سمجھ جاتا تھا، مطلب یہ کہ وہ اس طرح بات کرتے تھے۔ وہ ایک ممتاز اور زبردست مدرس تھے۔ واقعی مشہد کے حوزۂ علمیہ (اعلی دینی تعلیمی مرکز) کو انھوں نے زندہ کیا۔ مشہد کا حوزۂ علمیہ ایک زمانے میں، مرحوم آقا زادہ(3) اور مرحوم حاج آقا حسین(4) کے زمانے میں، عروج پر تھا۔ ان کی شہادت کے بعد کئی سال تک وہ حوزۂ علمیہ جمود کا شکار رہا، یعنی فقہ اور اصول میں کوئی ایسا درس نہیں تھا جو مشتاق طالب علم کو مشہد کے حوزۂ علمیہ میں باندھ کر رکھ سکتا، ان کے آ جانے سے حوزۂ علمیہ کو حیات نو ملی، مشہد کا حوزہ واقعی مرحوم آقائے میلانی کا احسان مند ہے۔ انھوں نے مشہد کے حوزۂ علمیہ کو حقیقت میں دوبارہ زندہ کیا اور اپنا درس وہاں شروع کیا۔ راتوں کو فقہ کا درس شروع کیا اور مدرسہ مسجد الحاج ملّا ہاشم میں، اجارے کی بحث کا درس شروع کیا۔ چونکہ میں ان دنوں درس خارج میں نہیں جاتا تھا اس لیے میں نے اس درس میں شرکت نہیں کی لیکن بعد میں انھوں نے صلات (نماز) کے کا درس شروع کیا جو کافی مفصل تھا، کئی سال، شاید آٹھ دس سال تک جاری رہا، پھر زکات و خمس اور اس طرح کے موضوعات پر بھی درس دیے جن میں سے میرے خیال میں بعض تو کتابی شکل میں شائع بھی ہو گئے ہیں، یعنی میں نے ان کے صلات کے درس کی کتاب دیکھی ہے، میرے خیال میں نماز مسافر وغیرہ کا کچھ حصہ میں نے دیکھا ہے تاہم میں نے ان کی جو تحریریں دیکھی ہیں، وہ ان کی علمی قوت کی اتنی صحیح عکاسی نہیں کرتیں، یعنی وہ ان تحریروں سے کہیں زیادہ عبور رکھتے تھے؛ علم کے معاملے میں، وہ ان تحریروں سے زیادہ عالم تھے اور علم دین کے لحاظ سے وہ بلاشبہ بہت ممتاز تھے۔
اپنی اس علمی شخصیت کے ساتھ ہی وہ حوزۂ علمیہ پر بھی نظر رکھتے تھے، سنجیدہ نظر، جب سے وہ مشہد آئے، ممتاز طلبہ کی تلاش میں رہے۔ شروع شروع میں جب وہ مشہد آئے اور انھوں نے ممتاز طلبہ کو کچھ تقسیم کیا جس کی وجہ سے ان کے لیے مشکلات بھی پیدا ہوئیں۔ وہ اعلیٰ درجے کے طلبہ کو تلاش کرنے اور ان پر توجہ دینے کے خواہاں تھے۔ اسی لیے انھوں نے مدرسہ قائم کیا، بظاہر انھوں نے دو تین مدارس قائم کیے کیونکہ جس وقت انھوں نے مدرسہ بنایا، اس وقت ان سے ہمارا زیادہ رابطہ نہیں تھا، اس لیے مجھے ان کے مدارس کی صورتحال کی زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن وہ اس مسئلے کی طرف متوجہ تھے، حوزۂ علمیہ اور اس طرح کی چیزوں سے آگاہ تھے۔ تو یہ ان کا علمی پہلو ہے۔
جہاں تک عرفانی سلوک کے پہلو کی بات ہے تو مرحوم آقائے سید عبدالغفار مازندرانی سے ان کا معنوی و روحانی تعلق تھا۔ مرحوم آقائے سید عبدالغفار، مرحوم آقائے قاضی(5) اور اس قبیل کے عراق اور نجف کے دیگر علماء و عرفاء کی صف میں تھے۔ ان کی جو کتاب چھپی ہے، جو میں نے کچھ سال پہلے دیکھی تھی، غالباً مرحوم سید محمد علی نے یہ کام کیا کہ انھیں لکھے گئے خطوط اکٹھا کیے اور چھپوائے، اس میں مرحوم آقائے سید عبدالغفار کے انھیں لکھے گئے کئی خطوط ہیں، جن میں وہ انھیں ہدایات دیتے ہیں اور واضح ہے کہ انھوں نے سوال کیا ہوگا، جس کے جواب میں وہ ہدایات دے رہے ہیں۔ تو ان سے مرحوم میلانی کا معنوی تعلق تھا۔ البتہ ہم اس وقت دیکھتے تھے کہ وہ ان افراد سے رابطہ رکھتے تھے جو سلوک و عرفان اور معنویت وغیرہ کے اہل تھے، یہ ہم نے بارہا دیکھا تھا، مرحوم الحاج ملّا آقا جان(6) جب مشہد آتے تو ان سے رابطے میں رہتے، مجلس پڑھتے، میں نے دیکھا تھا کہ آقائے میلانی کے گھر میں، مرحوم حاج ملّا آقا جان مجلس پڑھتے تھے۔ یا بعض دیگر جیسے مشہد میں "نور" کے نام سے معروف آقائے نقیبی (7) ان سے رابطہ رکھتے تھے۔ اس طرح کے تعلقات تھے اور یہ چیز سبھی دیکھتے تھے لیکن یہ کہ وہ سلوک و عرفان کے میدان میں کسی استاد سے استفادہ کرتے ہوں یا ضروری عرفانی اعمال اور مخصوص عبادات اور اس طرح کی چیزیں کرتے ہوں، یہ ہم آقائے میلانی کے بارے میں نہیں سوچتے تھے، لیکن ایسا تھا۔ یہ چیز بعد میں سمجھ میں آتی ہے کہ ایسا تھا۔ مرحوم آقائے طباطبائی(8) ان سے بہت رابطے میں رہتے تھے۔ آقائے طباطبائی قریب قریب ہر سال گرمیوں میں مشہد آتے تھے اور میرے خیال میں دو تین ہفتے ٹھہرتے تھے اور اس دوران ان کی نماز میں شرکت کرنے کے پابند تھے۔ مرحوم آقائے میلانی گرمیوں میں مغرب اور عشاء کی نماز صحن نو، یعنی موجودہ صحن آزادی میں پڑھاتے تھے، مرحوم آقائے طباطبائی اس نماز میں شرکت کرنے کے پابند تھے اور ان سے بہت مانوس اور وابستہ تھے، جو خود اس بات کی دلیل تھی کہ ان میں ایک عرفانی و سلوکی پہلو موجود ہے۔ ان کی کرامات کے بارے میں کئی واقعات معتبر ذرائع سے نقل کیے جاتے ہیں، میں نے کئی واقعات بالکل معتبر ذرائع سے سنے ہیں۔ ایک واقعہ مرحوم آقائے الحاج آقا مرتضیٰ حائری کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچا ہے جو لکھا گیا ہے اور چھپ بھی گیا ہے اور بعض دیگر نے اسے نقل کیا ہے، اس قسم کے معاملات دیکھے گئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہ معنوی بصیرت اور معنویت کے بھی مالک تھے۔ تو یہ ان کے عرفانی و سلوکی پہلو کے بارے میں بات ہے۔
اب ان کے سیاسی اور سماجی پہلو کی کچھ باتیں۔ جدوجہد کے آغاز میں، وہ تحریک کے ستونوں میں سے ایک تھے، سنہ 1962-1963 میں جب علماء کی تحریک شروع ہوئی تو مرحوم آقائے میلانی بلاشبہ تحریک کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے تھے۔ اول تو ان کے اعلامیے، بہت مضبوط اعلامیے ہوتے تھے۔ ہم (قم کے) مدرسۂ حجتیہ میں تھے، اعلانات کا ایک بورڈ تھا جہاں اعلامیے لگائے جاتے تھے اور ہم کھڑے ہو کر انھیں پڑھتے تھے۔ میں نے ایک بار دیکھا کہ آقائے میلانی کا ایک اعلامیہ آیا، اس کا متن اتنا مضبوط، متین اور ٹھوس تھا کہ انسان اس متن کی خوبصورتی اور صلابت سے ہیجان میں آ جاتا تھا۔ وہ ایسے تھے، ان کی تمام فارسی تحریریں اسی طرح کی ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے ان کی عربی تحریر دیکھی ہو لیکن ان کی فارسی تحریر بہت متین، بہت ٹھوس اور بہت خوبصورت تھی۔ پھر جب امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کو جیل میں ڈالا گیا تھا اور ان کے خلاف سخت اور شدید فیصلوں اور سزا کا امکان تھا تو تمام شہروں سے پہلے درجے کے علماء تہران آئے۔ قطعی طور پر اس گروہ کی قیادت مرحوم آقائے میلانی کر رہے تھے، بلاشبہ۔ اگرچہ آقائے شریعتمداری(9) بھی تھے، وہ بھی مرجع تقلید تھے لیکن علماء کے درمیان آقائے میلانی کی طرف توجہ اور ان کا وقار بہت نمایاں اور بلند تھا۔ اور یقیناً تہران آنے والے علماء کے اس گروہ میں سب سے سربرآوردہ سب سے مؤثر مرحوم آقائے میلانی (رحمت اللہ علیہ) تھے۔
اور سنہ 1342 بمطابق سنہ 1963 کے آغاز میں بھی جب اس سال 15 خرداد کا واقعہ پیش آیا تو وہ امور کے مرکز میں موجود تھے، امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) نے مجھے ایک ذمہ داری دی کہ میں مشہد جاؤں اور ہر ایک عالم کو وہ بات بتاؤں۔ دو باتیں تھیں: ایک بات خصوصی طور پر آقائے میلانی اور مرحوم آقائے الحاج آقا حسن قمی کے لیے تھی، دوسری بات عمومی تھی، وہ کیا بات تھی، اس سے فی الحال کوئی مطلب نہیں ہے۔ یہاں اس بات سے مطلب ہے جو آقائے میلانی سے متعلق تھی، میں ان کی خدمت میں گیا اور کہا کہ آقائے خمینی نے کہا ہے کہ آپ خطیبوں پر زور ڈالیں کہ وہ سات محرم سے، فیضیہ کا معاملہ منبروں پر بیان کریں اور نو محرم سے مذہبی انجمنوں پر زور ڈالیں کہ وہ اس بات کو بیان کریں۔ یہ پیغام تھا جو میں نے انھیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ نو محرم سے؟ میں پہلے ہی یہ سفارش کر چکا ہوں۔ انھوں نے نام لیا: میں نے آقائے خمینی سے کہا ہے، آقائے شریعتمداری سے کہا ہے، آقائے نجفی سے کہا ہے۔ انھوں نے نام لے کر بتایا کہ میں نے ان لوگوں سے بات کی ہے۔ یعنی پوری طرح واضح تھا کہ وہ مکمل طور پر معاملات سے باخبر ہیں اور کام کر رہے ہیں اور یہی سوچ، جو قم میں مثال کے طور پر امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کے ذریعے سامنے آئی، پھیلی اور اس پر عمل ہوا، ان میں بھی موجود تھی۔ یعنی تحریک میں ان کی موجودگی اس طرح کی تھی اور ان کے پاس اس معاملے کے لیے پلاننگ تھی۔ البتہ ان کی پلاننگ، امام خمینی کی منصوبہ بندی سے کچھ مختلف تھی لیکن انھوں نے پلاننگ کر رکھی تھی، اس معاملے کے لیے ان کے پاس پلاننگ تھی۔
سیاسی اور سماجی میدانوں میں وہ وسیع القلب انسان تھے، یعنی وہ ہر قسم کے افراد سے جو تحریک اور سیاست وغیرہ کے میدان میں سرگرم تھے، رابطہ رکھتے تھے جیسے مرحوم بازرگان اور ڈاکٹر سحابی وغیرہ سے ان کا رابطہ تھا۔ میں شاید دو بار یا تین بار مشہد سے تہران جانا چاہتا تھا، میں ان کے پاس الوداعی ملاقات کے لیے گیا، انھوں نے کہا کہ آپ تہران جائیں گے تو کیا آپ بازرگان صاحب سے ملاقات کے لیے جیل بھی جائیں گے؟ وہ اس وقت جیل میں تھے، سنہ 1964 اور 1965 کی بات ہے، میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے کہا کہ ان کو میرا سلام پہنچا دیجیے گا۔ انھوں نے دو بار یا تین بار میرے ذریعے بازرگان صاحب کو سلام کہلوایا۔ واضح تھا کہ وہ ان لوگوں سے بھی رابطے میں تھے۔ البتہ وہ اس بات سے سخت پرہیز کرتے تھے کہ کوئی انھیں "قومی محاذ" جیسے کسی سیاسی گروہ سے منسوب کرے۔ انھوں نے خود مجھ سے کہا تھا کہ اگر کوئی مجھے قومی محاذ جیسے سیاسی گروہوں سے منسوب کرے، تو میں اس سے راضی نہیں رہوں گا، میں اسے معاف نہیں کروں گا، وہ اس طرح کے تھے لیکن ان کے روابط بہت وسیع تھے۔
کچھ عرصے وہ تحریک کے مسائل میں ہمارے نظریات سے تھوڑا دور نظر آئے جس پر ہم نے اعتراض بھی کیا لیکن اب جب خطوط شائع ہوئے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی عرصے میں ان کی آقائے شریعتمداری اور دیگر علماء سے کافی خط و کتابت ہو رہی تھی اور وہ کام میں مصروف تھے، لیکن ہمیں ان کی اس سرگرمی کی اطلاع نہیں تھی۔ ان خطوط میں، جو لوگ لکھتے تھے کہ ہم ان مراجع کے ساتھ ہیں جو امام خمینی کی رہائی کے لیے تہران میں اکٹھا ہوئے ہیں، شاید سب سے زیادہ انہی کا نام تھا اور وہاں وہ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز تھے۔
انھوں نے امام (خمینی) کو ایک خط لکھا تھا، جو میرے خیال میں ایک تاریخی دستاویز ہے، سنہ 1964 میں جب امام (خمینی) کو ترکی جلاوطن کیا گیا، انھوں نے اپنے گھر میں ایک نشست منعقد کی اور مشہد کے علماء کو بلایا۔ ہم میں سے چند نوجوانوں کو بھی، جو اس وقت تحریک کے لیے کام کر رہے تھے، بلایا گیا تھا، ہم بھی موجود تھے۔ مشہد کے علماء میں سے مرحوم الحاج شیخ مجتبیٰ(10) اور دیگر سبھی علماء موجود تھے۔ ان کے صاحبزادے کھڑے ہوئے اور وہ خط، جو آقائے میلانی نے امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کو لکھا تھا، پڑھ کر سنایا۔ امام (خمینی) کی حمایت میں بہت زبردست خط ہے، بہت مضبوط اور متین خط ہے۔ اس میں ان کی جلاوطنی پر افسوس کا اظہار ہے۔ اس خط کے یہ جملے مجھے یاد ہیں: السکوت اخو الرضا و من لم یکن معنا کان علینا(11) یہ عبارتیں اس خط میں شامل تھیں۔ جب حضرت ابوذر کو جلاوطن کیا جا رہا تھا، تب امیرالمؤمنین کے کلمات انھوں نے خط میں نقل کیے تھے۔(12) امیرالمؤمنین علیہ السلام کے الفاظ وہاں ذکر کیے تھے۔ میرے خیال میں یہ ایک معتبر دستاویز ہے، جس میں وہ خود بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے صاحبزادے نے کھڑے ہو کر وہ خط پڑھ کر سنایا اور سب نے سنا۔
الغرض بلاشبہ وہ ایک ہمہ گیر اور جامع شخصیت کے مالک تھے، علمی، اخلاقی، معنوی، سیاسی اور سماجی لحاظ سے، ایک عظیم، ہمہ گیر اور بے شمار خوبیوں سے مالا مال شخصیت اور حوزۂ علمیۂ مشہد پر ناقابل فراموش حق رکھنے والے عالم دین۔
امید ہے ان شاء اللہ یہ کانفرنس جو آپ نے منعقد کی ہے، وہ عوام کے سامنے ان کی شخصیت کو اس سے بھی زیادہ سامنے لائے گی جو اب تک لوگوں کے سامنے پیش کی گئی ہے۔
والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
(1) اس ملاقات کے آغاز میں آستانہ قدس رضوی کے متولی حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی نے ایک رپورٹ پیش کی۔
(2) آیت اللہ سید جواد خامنہ ای
(3) آیت اللہ میرزا محمد آقازادہ خراسانی
(4) آیت اللہ سید حسین طباطبائی قمی
(5) آیت اللہ سید علی قاضی
(6) ملّا آقاجان زنجانی
(7) حجت الاسلام سید عبدالحسین نقیبی سیستانی
(8) تفسیر "المیزان" کے مصنف آیت اللہ سید محمد حسین طباطبائی
(9) آیت اللہ سید محمد کاظم شریعتمداری
(10) آیت اللہ حاج شیخ مجتبیٰ قزوینی
(11) بحار الانوار، جلد 74، صفحہ 421، "سکوت، رضامندی کا بھائی ہے اور جو شخص ہمارے ساتھ نہیں ہے، وہ ہمارے خلاف ہے۔"
(12) ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 8، صفحہ 253