بسم اللّہ الرّحمن الرّحیم

و الحمد للّہ ربّ العالمین والصّلاۃ والسّلام علیٰ سیّدنا و نبیّنا ابی‌القاسم المصطفیٰ محمّد و علیٰ آلہ الاطیبین الاطھرین المنتجبین سیّما بقیۃ اللّہ فی الارضین.

برادران عزیز، خواہران عزیز، قم کے معزز، مومن اور انقلابی عوام، آپ سب کا خیر مقدم ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ 9 جنوری ایران کے  افتخارات کی تاریخ کی ضخیم کتاب کا کبھی نہ الگ ہونے والا ایک ورق ہے۔ یہ پوری تاریخ کے لیے ایک پرافتخار دن ہے۔ یہ صحیح ہے کہ تحریک 9 جنوری (1978) کو شروع نہیں ہوئی، اسلامی تحریک اس سے پندرہ سال پہلے ہمارے عزیز امام (خمینی) کی قیادت میں شروع ہوئی۔ اس پندرہ سال کے عرصے میں امام خمینی کے بیانوں، ان کی تقاریر نے جو لگاتار اس پورے عرصے میں ہمارے معاشرے کے ذہن و فکر میں پہنچ رہی تھیں، اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں میں ہمارے اسلامی مفکرین کے افکار جو مساجد میں، مختلف مراکز میں جوانوں کے سامنے پیش کیے جا رہے تھے، ان سب نے تحریک کے افکار و نظریات کو استحکام بخشا۔ یہ صحیح ہے، یعنی اسلامی تحریک کے نظریاتی افکار، پندرہ سال کے عرصے میں، روز بروز لوگوں کے ذہن میں مزید مستحکم ہوتے جا رہے تھے لیکن اس فکری و نظریاتی خزانے اور ذخیرے کے ایک اجتماعی اقدام میں تبدیل ہونے کے لیے ایک اہم اور مؤثر واقعے کی ضرورت تھی۔ افکار ذہنوں میں تھے، تحریک کے افکار و نظریات اور اس کے بنیادی اصول بہت زیادہ لوگوں کے، میں یہ نہیں کہتا کہ سبھی لوگوں کے لیکن بہت سارے لوگوں کے دل میں اتر چکے تھے اور وہ تحریک کے اصولوں سے آگاہ تھے لیکن اس تحریک کو عملی جامہ پہننا چاہیے تھا، اسے منصۂ ظہور پر آنا چاہیے تھا اور ان ذہنی افکار کو ایک عینی حقیقت میں تبدیل ہونا چاہیے تھا۔ اس کے لیے ایک چنگاری کی ضرورت تھی۔ جیسے فرض کیجیے کہ پورے میں بڑے پیمانے پر بارود موجود ہے، اسے بس سلگنے کی دیر ہوتی ہے، قم کے واقعے نے یہ کردار ادا کیا، 9 جنوری نے یہ کردار ادا کیا، ذہن میں موجود اس فکر کو اقدام میں بدل دیا۔ البتہ قم کا واقعہ چنگاری نہیں تھا، ایک بجلی تھی جو ارادۂ الہی سے آسمان سے گری تھی۔ قم کا واقعہ بظاہر ایک حادثہ تھا کہ ایک دن، دو دن، تین دن میں رونما ہوا اور ختم ہو گیا لیکن معاملے کا باطن یہ نہیں تھا۔ قم کا واقعہ اپنے پیچھے ایک عظیم تحریک لے کر آيا، وہ تبریز پہنچا، دوسرے شہروں تک پہنچا، پورے ملک تک پہنچ گیا اور پھر اچانک ملک سلگنے لگا، قم کے واقعے کا کام یہ تھا۔

یہ جو میں کہہ رہا ہوں کہ "بجلی تھی" اس کی وجہ یہ ہے کہ 9 جنوری کے بعد ایک سال سے بھی کم کے عرصے میں، اگلے سال جنوری میں، ایران سے سلطنت کا پوری طرح خاتمہ ہو گيا۔ جب پہلوی حکومت کا خاتمہ ہو گیا، جو ایک ایسی حکومت تھی جو پٹھو بھی تھی، بدعنوان بھی تھی، کمزور بھی تھی، ظالم بھی تھی، بدترین حکومت تھی، یعنی شاید کہا جا سکتا ہے کہ واقعی دنیا میں ان اواخر میں پہلوی حکومت سے بدتر حکومت کوئی تھی ہی نہیں، تو جب یہ اتفاق رونما ہوا تو ایک عوامی اور اسلامی حکومت کے وجود میں آنے کی راہ ہموار ہو گئی، وہی چیز جس کا وعدہ ہمارے عظیم الشان امام (خمینی) نے کیا تھا۔ امام خمینی کے بیانوں میں اس بات کے اشارے پائے جاتے تھے کہ بدعنوان حکومت کی جگہ ایک عوامی حکومت آئے، ڈکٹیٹر کے بجائے، عوام کو حکمرانی حاصل ہو، امریکا اور صیہونیت اور دنیائے سیاست کے تمام غنڈوں اور بدمعاشوں کا پٹھو ہونے کے بجائے، ایک خود مختار اور سربلند حکومت بر سر اقتدار آئے۔ قم کے واقعے سے اس کام کی راہ ہموار ہو گئی۔

میں یہ نکتہ بھی عرض کر دوں کہ قم کے اس ہلا دینے والے واقعے کا سبب خود پہلوی حکومت کی غلط پالیسیوں نے فراہم کیا تھا، اس حکومت نے خود ہی اپنے زوال کی راہ ہموار کر دی، اس نے خود ہی اپنے آپ کو نگوں بخت کر لیا، کس طرح؟ غلط اندازوں اور غلط حساب کتاب کے ذریعے، اندازوں کی غلطی کے ذریعے، یہ سبھی حکومتوں کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ آج امریکا، اندازے کی غلطی میں مبتلا ہے، آج امریکا مسائل کو غلط سمجھ رہا ہے، اس کا اندازہ غلط ہے۔ اُس دن بھی، امریکا نے بھی، جو پہلوی حکومت کا پشت پناہ تھا اور پہلوی حکومت نے بھی اندازے کی غلطی کی تھی، وہ مسائل کا غلط اندازہ لگا رہے تھے۔ 9 جنوری کے واقعے سے قریب دس دن پہلے، اس واقعے سے صرف دس دن پہلے امریکا کے صدر نے تہران میں(1) جنوری کے جشن میں پہلوی دربار میں ایک خطاب کیا تھا، اس کا دماغ چڑھا ہوا تھا، مختلف طرح کی منشیات وغیرہ سے اس کا دماغ چڑھا ہوا تھا۔ اس خطاب میں اس نے کہا کہ "ایران، استحکام کا جزیرہ ہے۔" دس دن بعد قم کا واقعہ رونما ہوا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ ایران کو نہیں جانتے تھے۔ اس نے کہا کہ کہ "ایران، استحکام کا جزیرہ ہے۔" اس نے شاہ کی تعریف و تمجید کی، کہا کہ ایران ایسا ہے، ویسا ہے، دس دن بعد قم کا واقعہ ہو گیا۔ وہ ایران کو نہیں سمجھتے تھے، ابھی بھی نہیں سمجھتے، ہمارے دشمنوں نے ایران کو نہیں سمجھا اور غلط منصوبے بنائے، وہ آج بھی ایران کو نہیں جانتے اور غلط منصوبے بناتے ہیں، اُس وقت غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے وہ شکست کھا گئے، امریکا آج بھی اپنی غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے شکست کھائے گا۔

تو یہ تاریخی حقائق ہیں، یہ باتیں جو میں نے عرض کیں، یہ تجزیہ نہیں ہے، یہ ایسے حقائق ہیں جو ہر اس شخص کے لیے جو اُس زمانے کے ملک کے حالات کا مطالعہ کرے، کہ البتہ آپ میں سے اکثر نے وہ زمانہ نہیں دیکھا ہے، تو یہ چیزیں اس کے لیے واضح ہو جائيں گي، یہ تاریخی حقائق ہیں۔ ہمیں ان تاریخی حقائق سے سبق لینا چاہیے، تاریخی حقائق، قصے تو نہیں ہیں، البتہ قصے سے بھی ہمیں سبق لینا چاہیے، لیکن ہمیں ان حقائق سے سبق لینا چاہیے۔ میں یہ سبق کچھ جملوں میں عرض کرتا ہوں:

اُس دن ایرانی قوم کے پاس نہ توپ تھی، نہ ٹینک تھا اور نہ میزائل تھا، سخت ہتھیار نہیں تھے، وسائل نہیں تھے لیکن وہ فتحیاب ہوئی، کیوں؟ جبکہ فریق مقابل کے پاس توپ بھی تھی، ٹینک بھی تھے، وہ اپنے ٹینک سڑکوں پر لے کر آ گئے، گولہ باری بھی کی لیکن پھر بھی مغلوب ہو گئے۔ ایرانی قوم فاتح رہی جبکہ اس کے پاس سخت ہتھیار نہیں تھے، وہ حکومت مغلوب ہو گئی جبکہ اس کے پاس فوجی ہتھیار بھی تھے، کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ، ہاں ایرانی قوم کے پاس فوجی ہتھیار نہیں تھے لیکن سافٹ پاور تھا، سافٹ ہتھیار ہر میدان میں زیادہ فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ایرانی قوم کے سافٹ ہتھیار کیا تھے؟ ایرانی قوم کے سافٹ ہتھیار تھے، غیرت دینی، غیرت ایمانی، ذمہ داری اور فریضے کا احساس جو امام خمینی نے اسے دیا تھا اور اس سے ذمہ داری کا مطالبہ کیا تھا۔ امام خمینی نے بزرگ علمائے دین اور مراجع کرام سے بھی ذمہ داری کا مطالبہ کیا تھا، انھوں نے پرزور آواز میں کہا تھا: "اے خاموش نجف! اے خاموش قم!"(2) وہ ذمہ داری کا مطالبہ کرتے تھے، لوگ، اپنے کندھوں پر اس ذمہ داری کو محسوس کرتے تھے۔ ایرانی قوم کا سافٹ ہتھیار، ایران سے عشق تھا، اپنے ملک سے عشق تھا، وہ دیکھتے تھے کہ امریکی ایجنٹ، امریکا کا پٹھو ملک کے اندر حکمرانی کر رہا ہے، جس طرح سے کہ آج افسوس ہے کہ بعض ممالک میں امریکی ایجنٹ حکم دیتا ہے: "یہ کام کرو، وہ کام نہ کرو، اسے رہنے دو، اسے فلاں عہدے پر رکھو، اسے ہٹا دو!" اُس وقت ایران ایسا ہی تھا، یہ چیز لوگ سمجھتے تھے، دیکھتے تھے۔ البتہ سبھی لوگ سیاست کی اعلیٰ سطح پر نہیں تھے لیکن لوگوں تک خبریں پہنچتی تھیں، وہ سمجھتے تھے۔ اُس وقت لوگ، اپنے وطن کو فروخت کرنے والے ایرانیوں کی غداری کو، جو درحقیقت امریکی ایجنٹ تھے، ایرانی تھے لیکن امریکا کے لیے کام کرتے تھے، ایرانی تھے لیکن صیہونی حکومت کے لیے کام کرتے تھے، دیکھتے تھے، سمجھتے تھے، انھیں غصہ آتا تھا، وہ غضب ناک ہوتے تھے، یہ سب ان کے دل میں اکٹھا ہوتا جا رہا تھا۔ جب تحریک شروع ہوئی، یہ اکٹھا ہونے والا غصہ، پھوٹ پڑا، سامنے آ گیا۔ یہ معنوی ہتھیار تھا، سافٹ ہتھیار تھا۔ عوام کا اہم معنوی ہتھیار، اسلام پر ان کا ایمان تھا۔ وہ دیکھتے تھے کہ حکومت کھل کر اور لگاتار اسلام مخالف رخ اختیار کر رہی ہے: اس نے ہجری تاریخ کو بدل دیا، اسلامی مفاہیم کو تبدیل کر دیا، اسکولوں کی کتابوں کو غیر اسلامی بنا دیا، غیر اسلامی باتوں کی ترویج کی، یہ چیزیں لوگ دیکھ رہے تھے، آگاہ اور بابصیرت لوگ ان باتوں کو سمجھتے تھے اور لوگوں کو بتاتے تھے۔ یہ معنوی ہتھیار تھا، یہ معنوی ہتھیار، ہارڈ ہتھیار، توپ اور ٹینک کے مقابلے میں اس ہتھیار پر فتحیاب ہوا۔

خیر یہ ماضی کی باتیں ہیں۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج ایرانی قوم، اُس وقت سے زیادہ لیس اور زیادہ مسلح ہے، آج ہمارے معنوی ہتھیار بھی اُس وقت سے زیادہ مضبوط، زیادہ ٹھوس اور زیادہ تیار ہیں اور ہمارے ہارڈ وئير، ظاہری، مادی اور رائج ہتھیاروں کا بھی اُس وقت سے کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔

جب اسلامی جمہوریہ کے کھلے دشمنوں سے ٹکراؤ اور مقابلے کی بات آتی ہے تو بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ "جناب! آپ ہمیشہ کیوں کہتے ہیں، دشمنی، ہمیشہ کہتے ہیں مقابلہ؟" یہ لوگ غفلت کرتے ہیں، متوجہ نہیں ہیں۔ یہ ٹکراؤ انھوں نے شروع کیا، امریکا نے شروع کیا، امریکا کے پٹھو دشمنوں نے شروع کیا، کیوں شروع کیا؟ امریکا کیوں اسلامی جمہوریہ ایران سے اتنا چڑتا ہے، طیش میں رہتا ہے، کیوں؟ اس کی وجہ واضح ہے، اس لیے کہ اس ملک کی پوری ثروت، اس ملک کے تمام مالی وسائل، امریکا کے ہاتھ میں تھے، اسلامی جمہوریہ نے آ کر انھیں ان سے لے لیا۔ آج آپ دیکھتے ہیں کہ وہ لاطینی امریکا میں ایک ملک (3) کا محاصرہ کرتے ہیں، کارروائیاں کرتے ہیں، انھیں شرم بھی نہیں آتی، پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ یہ تیل کے لیے ہے اور ہم یہ کام تیل کے لیے کر رہے ہیں! (یہاں بھی) تیل کے لیے ہی تھا، ایران کا تیل، ایران کی کانیں، ایران کے کھیت، قزوین کے یہ وسیع و عریض میدان، تہران کے اطراف کے زرخیز میدان، صیہونیوں کے ہاتھ میں تھے اور وہ بتدریج ان کا دائرہ بڑھاتے جا رہے تھے۔ ہمارے خراسان میں، مشہد اور قوچان کے درمیان ایک بڑا علاقہ، بہائیوں کو دینے کے لیے، صیہونی ایجنٹوں اور امریکی ایجنٹوں کو دینے کے لیے تیار کر رہے تھے۔ ان کا ہاتھ ہر جگہ کھلا ہوا تھا، اسلامی جمہوریہ نے آ کر ان کے ہاتھ کاٹ دیے، تو ظاہر سی بات ہے کہ وہ دشمن بن جائيں گے۔

انھوں نے پہلے دن سے ہی دشمنی کی ہے اور اسلامی جمہوریہ نے ان کا مقابلہ کیا ہے، دشمنی آج تک جاری ہے۔ اللہ کے فضل سے اسلامی جمہوریہ روز بروز زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوتی گئي ہے۔ انھوں نے اسلامی جمہوریہ کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی اور شکست کھائی۔ بحمد اللہ ان کی مرضی کے برخلاف آج اسلامی جمہوریہ دنیا میں سر بلند، مضبوط، طاقتور اور عزت دار ہے، بات یہ ہے۔ اس چالیس پینتالیس سال کے عرصے میں ان سے جو بھی ہو سکا، انھوں نے کیا، یعنی ایک ملک کے خلاف ایسا کوئي بھی ممکنہ معاندانہ کام نہیں تھا جو انھوں نے نہ کیا ہو، فوجی حملہ کیا، سیکورٹی حملہ کیا، معاشی پابندیاں عائد کیں، ثقافتی یلغاریں کیں، زرخرید لوگوں کو بھیجا، بعض کمزور ضمیر والے لوگوں کو یہیں پر پیسے سے اپنا پٹھو بنایا، اس عرصے میں انھوں نے یہ سارے کام کیے ہیں لیکن شکست کھائی ہے، انھیں کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ آج بحمد اللہ ایران، اسلامی جمہوریہ کی برکت سے طاقتور ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ کی حکمرانی ہے، اگر لبرل ڈیموکریسی کی حکومت ہوتی، سلطنتی حکومت ہوتی، اس سے اور اُس سے وابستہ حکومت ہوتی تو ایسا نہیں ہوتا۔ یہ اسلام ہے، عوامی نظام ہے، اسلامی نظام ہے یعنی یہ اسلامی جمہوریہ ہے جس نے ایران کو سائنس میں، ٹیکنالوجی میں، آرٹ اور ادب میں، عالمی سیاست میں اور بہت سے دوسرے میدانوں میں عظیم پیشرفتوں تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ بعض لوگ، البتہ غیر ملکی شروع کرتے ہیں، پھر افسوس کی بات ہے کہ ملک کے اندر بعض لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران الگ تھلگ ہے۔ بالکل نہیں! ایران، ایران کی حکومت، اسلامی جمہوریہ، الگ تھلگ اور گوشہ نشین نہیں ہے، یہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں، ایران الگ تھلگ نہیں ہے۔ آج کا ایران، دنیا میں ایک خود مختار، شجاع اور مستقبل رکھنے والے ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سے کام ہمارے جوانوں نے کیے ہیں۔

میں ایرانی جوان کے بارے میں اختصار سے کچھ عرض کروں۔ البتہ سارے جوان ایک سے نہیں ہیں، سارے لوگ بھی ایک سے نہیں ہیں، اچھے، بہتر، کمتر، کم اچھے، سب ہیں، جوانوں کے درمیان، بزرگوں کے درمیان، لوگوں کے درمیان، علمائے دین کے درمیان، اسٹوڈنٹس وغیرہ کے درمیان، ہر طرح کے لوگ ہیں لیکن جب ہم مجموعی طور پر دیکھتے ہیں تو ایرانی جوان، دشمن کی دروغگوئیوں کے برخلاف، ایران کے سب سے اہم امتیازات میں سے ایک ہے، ہمارے سب سے اہم امتیازات میں سے ایک، ہمارے جوان ہیں۔ حادثات کا سامنا کرنے کے لیے امتیازات کی ضرورت ہوتی ہے، آج سب سے اہم امتیازات میں سے ایک، ہمارے جوان ہیں۔ دشمن چاہتا ہے کہ ایرانی نوجوان کی بری تصویر پیش کرے، وہ کہنا چاہتا ہے کہ ایرانی جوان سیاسی لحاظ سے منحرف ہے، مغرب کا پٹھو ہے، ایرانی جوان مذہبی لحاظ سے گمراہ ہے، دین سے منہ موڑ چکا ہے، وہ کہنا چاہتا ہے کہ ایرانی جوان اخلاقی لحاظ سے لاابالی ہے، بدعنوان ہے، جذباتی لحاظ سے کمزور ہے، دشمن یہ سب کہنا چاہتا ہے۔ وہ ایرانیوں اور خاص کر ایرانی جوانوں کے بارے میں جو کچھ کہتے ہیں، پروپیگنڈہ کرتے ہیں اور اپنے تجزیوں میں بیان کرتے ہیں، وہ یہ باتیں ہیں، یہ تصویر سو فیصد غلط ہے، ایسا نہیں ہے۔ ایرانی جوان وہی ہے جو جنگ میں شجاع ہے، جب جنگ ہوتی ہے تو سینہ تان کر کھڑا ہوتا ہے، مختلف معرکوں میں، ان جوانوں میں سے، جنھیں محاذ پر نہیں بھیجا جاتا ہے، چاہے وہ اسّی کے عشرے میں ہو یعنی آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں ہو، چاہے اس جنگ(4) میں ہو، چاہے دفاع حرم میں ہو، کتنے ایسے تھے جو آ کر روتے تھے، آنسو بہاتے تھے، درخواست کرتے تھے کہ ہمیں بھیجیے، ہم جہاد کرنا چاہتے ہیں، یہ شجاعت ہے، ہمارے جوان تیار ہیں، تو یہ تصویر سو فیصد غلط ہے۔ میں اپنے جوانوں کی صورتحال کے کچھ نمونے عرض کرتا ہوں:

ایرانی جوان جنگ میں شجاع ہے، سیاست میں بابصیرت ہے، دشمن کی شناخت رکھتا ہے، امریکا کو اچھی طرح جانتا ہے، ایک وقت تھا جب ایسا نہیں تھا، ایرانی جوان، دینی امور کی پابندی کرتا ہے، اعتکاف میں زیادہ تر جوان ہوتے ہیں، گیارہ فروری (انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ) اور یوم قدس کی ریلی، ماہ رمضان میں روزہ رکھنے والوں میں، زیادہ تعداد جوانوں کی ہوتی ہے، اہم یہ لوگ ہیں، یہی ہیں جو پروگرام بناتے ہیں، شب برات کا جشن، امیر المومنین اور امام حسین علیہ السلام کی ولادت پر سڑکوں پر منایا جانے والا جشن، جو اِدھر کئی برسوں سے رائج ہوا ہے، زیادہ مجمع ان جوانوں کا ہوتا ہے، جوان یہ سارے کام کرتے ہیں۔ مذہبی جشن اور عزاداریاں جوانوں سے مملو ہوتی ہیں۔ شہیدوں کے جلوس جنازہ کے سارے کام جوان ہی کرتے ہیں، وہی ہیں جو شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، ان کی یاد مناتے ہیں، ان کی تعظیم کرتے ہیں۔ ہمارے جوان ایسے ہیں۔ وہ سیٹلائٹ جن کے بارے میں میں نے اس دن (5) کہا تھا، ہم ایک دن میں تین سیٹلائٹ خلا میں بھیجتے ہیں (6)، وہ جوان بھیجتے ہیں۔ ایٹمی میدان میں، اسٹیم سیلز کے بارے میں، نینو ٹیکنالوجی کے بارے میں، دواؤں وغیرہ کے بارے میں گہری سائنسی تحقیقات جوان کرتے ہیں، ہمارے جوان یہ ہیں۔ ہمارے مومن جوان، چاہے یونیورسٹی کے ہوں، چاہیے دینی مدارس کے ہوں یا دوسری جگہوں کے ہوں، یہ خصوصیات رکھتے ہیں، واقعی ایسا ہی ہے، جہاں ایثار کرنا ضروری ہے وہاں وہ موجود بھی ہے، جہاں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے، جہاں پڑھنا ضروری ہے، جہاں سیاسی میدان میں آنا ضروری ہے، وہاں وہ تیار بھی ہے، ہمارا جوان ایسا ہے۔

جی ہاں! کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کا کام تخریب کاری ہے۔ کل تہران میں، کچھ دوسری جگہوں پر کچھ تخریب کار آئے اور انھوں نے اپنے ملک سے ہی تعلق رکھنے والی کچھ عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی، مثال کے طور پر فلاں عمارت میں ایک دیوار توڑ دی تاکہ امریکی صدر(7) خوش ہو جائے، اسے خوشی ملے کیونکہ اس نے کہا تھا کہ، ایک دم فضول باتیں، کہ اگر ایرانی حکومت نے ایسا کیا تو میں آ کر تمھارا ساتھ دوں گا، بلوائیوں اور ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا ساتھ۔ ان کے دل بھی ان باتوں سے خوش ہیں، اگر اس کے بس میں ہوتا تو وہ اپنے ملک کو سنبھالتا۔ اس کے اپنے ملک میں بہت سارے واقعات ہو رہے ہیں۔ اس کے ہاتھوں پر ایک ہزار سے زیادہ ایرانیوں کا خون ہے۔ بارہ روزہ جنگ میں ہمارے ایک ہزار سے زیادہ ہم وطن، کمانڈروں، سائنسدانوں اور دیگر اہم افراد کے علاوہ، عوام سے تعلق رکھنے والے لوگ شہید ہوئے۔ اس شخص نے کہا کہ میں نے حکم دیا تھا، جنگ کی کمان میرے ہاتھوں میں تھی، تو اس نے اعتراف کیا کہ اس کے ہاتھوں پر ایرانیوں کا خون لگا ہوا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ میں ایرانی قوم کا حامی ہوں۔ کچھ بے تجربہ، غافل اور بغیر سوچے سمجھے کام کرنے والے لوگ یقین بھی کر لیتے ہیں، مان لیتے ہیں اور اس کی خواہش کے مطابق کام کرتے ہیں۔ کوڑے دانوں کو آگ لگاتے ہیں تاکہ وہ خوش ہو جائے۔ سبھی جان لیں، اسلامی جمہوریہ، کئی لاکھ معزز انسانوں کے خون کی قربانی سے تشکیل پائی ہے اور اسلامی جمہوریہ تخریب کاروں کے سامنے جھکے گی نہیں، وہ اغیار کے ایجنٹوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ تم چاہے جو بھی ہو، جب باہر والے کے ایجنٹ بن گئے، باہر والے کے لیے کام کرنے لگے تو قوم تمھیں مردود سمجھتی ہے، اسلامی نظام بھی تمھیں مردود سمجھتا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کی بات ہوئی، وہ شخص بھی جو وہاں بیٹھ کر غرور و نخوت سے پوری دنیا کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے، وہ بھی جان لے کہ فرعون، نمرود، رضا خان اور محمد رضا (پہلوی) وغیرہ جیسے ظالم و آمر اس وقت سرنگوں ہوئے جب وہ اپنے غرور کے اوج پر تھے، یہ بھی سرنگوں ہوگا۔

عزیز جوانو اپنے دین کی، اپنی سیاسی سوچ کی، اپنی موجودگي کی، اپنی تیاری کی، ملک کی پیشرفت میں اپنی سنجیدگي کی حفاظت کیجیے، اپنے اتحاد کی حفاظت کیجیے، وحدت کی حفاظت کیجیے، متحد قوم ہر دشمن پر غالب آ جاتی ہے۔ خداوند عالم ان شاء اللہ آپ کو محفوظ رکھے، آپ کی اس تیاری کی حفاظت کرے۔ ان شاء اللہ بہت جلد خداوند عالم ایران کے تمام لوگوں کے دلوں میں فتح کے احساس کو بھر دے۔

والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

  1. جنوری 1978 میں جمی کارٹر کا دورۂ ایران
  2. صحیفۂ امام، جلد 1، صفحہ 213
  3. وینیزوئیلا
  4. بارہ روزہ جنگ
  5. شہید قاسم سلیمانی اور مسلط کردہ بارہ روزہ جنگ کے اہل خانہ سے ملاقات میں خطاب، 6 جنوری 2026
  6. 27 دسمبر 2025 کو تین ایرانی سیٹلائٹس "پایا"، "ظفر 2" اور "کوثر" کے کامیاب خلائی لانچ کی طرف اشارہ۔
  7. ڈونلڈ ٹرمپ