تساہلی اور پسماندگی: اسلامی انقلاب سے پہلے ایران کے حفظان صحت کے نظام کی صورتحال
انقلاب سے پہلے، ایران کے حفظان صحت کا نظام بہت سی کمیوں کا شکار تھا جن کی جڑ ناکارآمد پالیسیاں، تعلیمی نظام میں کمزوری اور ماہرین کی کمی تھی اور اس سے عوام کی بہبود اور صحت کو خطرہ تھا۔ ماہرین کی کمی اور نظامِ تعلیم و علاج میں بنیادی مسائل، ملک کے علاج معالجے کے نظام کی سب سے بڑی کمزوریوں میں شمار ہوتے تھے۔
ایران میں سابق برطانوی سفیر اینٹنی پارسنز، اس دور کے حفظان صحت کے نامناسب حالات اور ڈاکٹروں کی کمی کے بارے میں اپنی ڈائری میں کہتے ہیں: "اس تاریخ میں (سنہ 1965 کے آس پاس) ایران کے پاس صرف گیارہ ہزار ڈاکٹر تھے، جبکہ چالیس سے پچاس ہزار ڈاکٹروں کی ضرورت تھی۔" وہ ان ڈاکٹروں کی مالی بدعنوانی کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہتے ہیں: "ان گیارہ ہزار ڈاکٹروں میں سے کم از کم آدھے تہران میں کام کرتے تھے کیونکہ پرائیویٹ طور پر کام کر کے وہ اپنی جیبیں بھر سکتے تھے۔" اس وقت کے برطانوی سفیر کے بقول، "میڈیکل سروسز کے لیے نرسوں اور تربیت یافتہ عملے کی تعداد بھی کم تھی اور نرسوں اور طبی خدمات کے عملے کی تربیت کے پروگراموں کے فوری نتائج بھی نہیں نکلے۔"(1)
یہ نامناسب پالیسیاں ایران کے علاج معالجے کے میدان میں پاکستانی، ہندوستانی اور بنگلادیشی ڈاکٹروں کے داخلے کا باعث بنیں۔ عموماً یہ ڈاکٹر مطلوبہ کلینکل معلومات نہیں رکھتے تھے، انھوں نے اپنے ملکوں کے میڈیکل کالجوں میں مریضوں کے علاج کے لیے ضروری مہارتیں نہیں سیکھی تھیں اور اکثر بیچلر آف میڈیسن کی ڈگری جتنی مہارت کے ساتھ کام کرتے تھے، فارسی زبان نہیں بولتے تھے اور متعدد ثقافتی مسائل بھی پیدا کرتے تھے۔ ایران ڈاکٹروں کی تعداد کے انڈیکس کے لحاظ سے فیجی اور جمائیکا جیسے غریب ملکوں سے بھی پیچھے تھا، دس ہزار افراد پر 3 ڈاکٹر! اس صورتحال کے نتیجے میں دارالحکومت تک میں بھی علاج ایک بہت مہنگا اور غیر یقینی آپشن سمجھا جاتا تھا۔ ادویات اور علاج کی سہولیات صرف امیر طبقوں سے مختص تھیں۔ چنانچہ اخبار "اطلاعات" نے 23 جون 1977 کو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ "ستر ہزار آبادی والے شہر اردکان میں ایک بھی میڈیکل اسٹور نہیں ہے" جلی سرخیوں میں لکھا تھا: "اردکانیوں کو دوا خریدنے کے لیے 120 کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے!" دیہی علاقوں میں یہ صورتحال کہیں زیادہ خراب تھی۔ ان معدودے طبی مراکز میں بھی، جو کچھ دیہی علاقوں میں تھے، علاج معالجے کے وسائل اور دوائیں کافی مقدار میں نہیں تھیں۔ ناساز موسمی حالات اور سڑکوں کے بند ہونے کی صورت میں یہ مراکز بند ہو جاتے تھے اور علاج کی خدمات طویل عرصے کے لیے پوری طرح سے بند ہو جاتی تھیں۔ اکثر شہروں اور دیہاتوں میں، روایتی دایائیں، جو عموماً مناسب تربیت یافتہ نہیں تھیں اور حفظان صحت کے اصولوں سے آگاہ نہیں تھیں، خواتین کی زچگی میں مدد کی ذمہ داری نبھاتی تھیں۔ ایسے حالات میں حاملہ عورتوں کی جان ہمیشہ خطرے میں رہتی تھی اور ان کے لیے زچگی ایک بہت ہی خطرناک تجربہ ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر 1976 میں، 255 خواتین زچگی کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔(2) نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال بھی ماہرین کی نگرانی کے بغیر اور روایتی معلومات اور حفظان صحت کی انتہائی معمولی سہولیات کے ساتھ کی جاتی تھی، اور بعض اوقات حالات اتنے خراب ہوتے تھے کہ صاف پانی تک رسائی بھی نہیں ہوتی تھی۔ ایسے برے حالات میں، نوزائیدہ بچوں اور چھوٹے بچوں کی موت کو ایک ناقابل تبدیل انجام سمجھا جاتا تھا۔
یہ کمزور صورتحال متعدی امراض کے پھیلاؤ کے وقت مہلک صورت اختیار کر جاتی تھی۔ مثال کے طور پر وزیر اعظم کے نام دزفول کے عوام کے تاریخی ٹیلی گرام میں، جس میں حفظان صحت کی ابتر صورتحال کی شکایت کی گئی تھی، کہا گیا تھا کہ: "ٹائفائیڈ اور ٹائیفس بخار کے ہلاکت خیز امراض، وبائی شکل میں دزفول میں پھیل گئے ہیں اور ڈاکٹر اور دواؤں کے نہ ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ان امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔"
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چار عشرے گزرنے کے بعد ایران کے حفظان صحت کے نظام کی وہ تاریک اور مہلک صورتحال، اسلامی جمہوری نظام کی نمایاں ترین کامیابیوں میں سے ایک بن گئی ہے۔ دانشمندانہ پالیسیوں کے ذریعے جو انصاف اور علاج معالجے تک سبھی کی دسترسی پر مبنی ہیں، ایران کا میڈیکل نظام اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ جدت طرازانہ علاج، ادویات کی تیاری اور طبی صنعت کے بہت سے شعبوں میں ایران دنیا کے صف اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
میڈیکل کی تعلیم کو حفظان صحت کے نظام میں ضم کرنا اور وزارت صحت، علاج و میڈیکل تعلیم کی تشکیل ایک بڑا قدم تھا جو عوام کے علاج معالجے اور حفظان صحت سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درکار افرادی قوت کی ٹریننگ میں بہت اہم تھا۔ چار عشروں کے دوران میڈیکل کالجوں کی تعداد جو انقلاب کے آغاز میں 9 تھی، بڑھ کر 68 ہو گئی ہے اور ڈاکٹروں کی تعداد کا انڈیکس پہلوی حکومت کے دور کے مقابلے میں 5 گنا بڑھ گیا ہے۔ حفظان صحت کے نیٹ ورک کی مضبوطی، حفظان صحت سے متعلق دیکھ بھال اور علاج معالجے کی خدمات سے تمام لوگ کے منصفانہ طور پر استفادے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کا ایک اور بڑا کارنامہ ہے۔ دور دراز کے دیہاتوں تک میں، دواخانوں کے قیام، تمام لوگوں کے میڈیکل انشورنس کے قانون کی منظوری اور پورے ملک میں میڈیکل انشورنس کوریج میں بتدریج اضافے نے سبھی کے لیے میڈیکل سروسز کے حصول کو ایک آسان اور قابل برداشت عمل بنا دیا ہے۔ یہ اہم کامیابی صحت کے اشاریوں جیسے زندگي کی امید (74 سال) کے پیش نظر دیکھی جا سکتی ہے جو عالمی اوسط سے بھی تین سال زیادہ ہے۔ اس انڈیکس نے انقلاب سے قبل کے دور کے مقابلے میں 60 پائيدانوں سے زیادہ کی چھلانگ لگائی ہے۔
ایران کے حفظان صحت کے نظام میں خواتین اور ان کے اثرات
طبی نظام کے مردوں پر مبنی ہونے کا مسئلہ، خواتین مریضوں کے تجربات کو نظر انداز کرنا اور ڈاکٹروں کا جنسی تعصب، مغربی ممالک کے حفظان صحت کے نظام کے سنگین بحران شمار ہوتے ہیں۔ اس کے برخلاف اسلامی جمہوریۂ ایران نے بامقصد پالیسیاں اختیار کر کے خاص طور پر خواتین کی صحت کے شعبے میں، ایک الگ راستہ اپنایا۔ انقلاب کے بعد کے برسوں میں خواتین کی میڈیکل کے مختلف شعبوں میں بے مثال شمولیت اور خواتین کی بطور ہیلتھ ورکر، دائی، ڈاکٹر، نرس اور میڈیکل سائنس کی اساتذہ کے طور پر تعلیم و تربیت، انقلاب کے بعد کے برسوں کے ان اہم ترین اقدامات میں تھی جن کا نتیجہ ملک کے حفظان صحت کے نظام میں خواتین کی وسیع موجودگی کی صورت میں نکلا۔ میڈیکل کے تمام مہارتی شعبوں میں خواتین کی موجودگی کی اہمیت اس حد تک تھی کہ رہبر انقلاب نے سنہ 1989 میں اسے ایک واجب کام اور شرعی فریضہ قرار دیا:(3) "خواتین کا میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا واجب ہے، جتنی ضرورت ہے اتنی خواتین ڈاکٹرز کے موجود ہونے تک خواتین کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔"(4)
خواتین اور زچگی کے شعبے کا خواتین ڈاکٹروں سے مختص ہونا، نہ صرف خواتین کی علاج معالجے کی خدمات تک رسائی میں اضافے کا سبب بنا بلکہ اس نے ڈاکٹر اور مریض کے رشتے میں بھی نمایاں بہتری پیدا کی۔ خواتین ڈاکٹروں کی موجودگی اس بات کا سبب بنی کہ خواتین مریض اپنی جسمانی اور افزائش نسل سے متعلق مسائل پر بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بات کر سکیں، یہ ایسی چیز ہے جو براہ راست بیماری کی زیادہ صحیح تشخیص، موثر علاج اور حفظان صحت کے نظام پر زیادہ اعتماد کا باعث بنی۔ اس چیز نے علاج کو ایک سرد اور رسمی تعلق سے، ایک انسانی اور ہمدردانہ تعلق میں بدل دیا۔ خواتین اساتذہ اور معلمات نے تعلیمی اور پیشہ ورانہ اخلاق کے نمونے کے طور پر علاج معالجے سے متعلق عملے کی ایک نسل کی تربیت کی ہے جو خواتین کے جسم، درد اور ضروریات کی بہتر سمجھ رکھتی ہے، ایسی سمجھ جس کا فقدان آج بہت سے مغربی معاشروں میں حفظان صحت کے نظام کی ایک سنگین کمزوری کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، دیہی علاقوں کے حفظان صحت کے نیٹ ورک میں ماؤں اور بچوں کی دیکھ بھال، ویکسینیشن، فیملی کی صحت کی تعلیم اور حمل کی نگرانی کے لیے خواتین پر مشتمل عملے کی موجودگی نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ حاملہ ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات میں نمایاں کمی کو ماہر خواتین افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے الگ نہیں سمجھا جا سکتا۔ آج ایران میں حاملہ خواتین، حمل کے دوران پوری طرح مفت دیکھ بھال تک رسائی رکھتی ہیں، ماہر ڈاکٹر اور تربیت یافتہ دائی تک دیہی خواتین کی رسائی کئی گنا بڑھ چکی ہے اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے اور یہ انڈیکس 29 پائیدان کی چھلانگ لگ کر عالمی اوسط سے بھی کم ہو گیا ہے (ہر ہزار بچوں پر 11 بچے)۔ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی ترویج، معاون غذاؤں کا بروقت اور مناسب استعمال، شیر خوار اور چھوٹے بچوں کی نشوونما کی نگرانی، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور غذائی قلت کا شکار یا اس کا خطرہ رکھنے والے 5 سال سے کم عمر کے بچوں کی غذائی مدد اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں غذائی تحفظ کا نفاذ، بچوں کی ویکسینیشن کوریج قریب سو فیصد تک پہنچانا اور ضروری ویکسینز کی فراہمی، اسلامی جمہوریۂ ایران کے ان دیگر اقدامات میں شمار ہوتے ہیں جو ماؤں اور بچوں کو فراہم کردہ صحت کی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
یہ سارے کام اسلامی انقلاب کی برکت سے انجام پائے ہیں جیسا کہ امام خامنہ ای نے فرمایا: "انقلاب نے ہماری قوم کو اور ہمارے ملک کو عزت نفس سے نوازا۔ بار بار یہ کوششیں ہوئیں کہ اس قوم کی فکر و جذبات کو کچل دیا جائے۔ اس قوم کو باور کرا دیا جائے کہ اس میں کسی کام کی کوئی لیاقت نہیں ہے، بیشک تم نے انقلاب لانے میں تو کامیابی حاصل کر لی لیکن ملک چلانا تمھارے بس کی بات نہیں، آگے بڑھنا تمھارے بس کی بات نہیں، دنیا کے قدموں سے قدم ملاکر چلنا تمھارے بس کی بات نہیں۔ بنابریں ہر علمی پیشرفت اور کامیابی اس قوم کے لیے ایک عظیم کارنامہ اور اہم نوید ہے کہ اس کے اندر بھرپور لیاقت ہے۔"(5) اور آج ایرانی قوم نے علاج معالجے اور میڈیکل کے میدان میں پوری دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ خدا پر توکل اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کر کے بغیر دوسروں پر انحصار کیے ہوئے ترقی کی جا سکتی ہے اور پانچ عشروں سے بھی کم عرصے میں، ایک درآمد کنندہ اور صارف ملک سے، میڈیکل صنعت کے مختلف شعبوں میں برآمد کنندہ اور پروڈکشن والے ملک میں تبدیل ہوا جا سکتا ہے، ایسا ملک جس نے اسلام کے احکام پر اعتماد کرتے ہوئے ایرانی خواتین کے لیے ایک نیا راستہ کھولا اور علاج کی ایک نئی شکل متعارف کرائی۔
تحریر: زہرا شافعی، کلچرل اسکالر