بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

الحمد للہ ربّ العالمین و الصّلاۃ و السّلام علی سیّدنا و نبیّنا ابی‌ القاسم المصطفی محمّد و علی آلہ الاطیبین الاطہرین المنتجبین سیّما بقیّۃ اللہ فی الارضین.

تبریز اور آذربائیجان کے عزیز عوام، خاص طور پر نوجوانوں، بالخصوص شہیدوں کے اہل خانہ! خوش آمدید۔ آذربائیجان سے اس امام بارگاہ تک تشریف لانے والے ان مضبوط قدموں میں نوجوانوں کی موجودگی، تبریز شہر اور صوبۂ آذربائیجان میں انقلاب کے تمام گزشتہ اور موجودہ دور کی نسلوں کے درمیان 'نسلی رابطے' کی خوشخبری ہے، جو آپ کے شہر اور آپ کے صوبے کے اعلیٰ ترین امتیازات میں سے ایک ہے۔

میں نے جب بھی انقلاب کے زمانے میں، تبریز یا آذربائیجان کے دوسرے شہروں کا سفر کیا، میں نے محسوس کیا کہ ان لوگوں کے جذبات اور نظریات میں ایک امتیاز، ایک رجحان ہے جو دوسری جگہوں پر کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ سنہ 1356 (1978) کی 29 بہمن(1) کا یہ واقعہ خود ایک تاریخی علامت ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وقت شناسی، بروقت اقدام، ایثار، اس واقعے کی خصوصیات میں سے ہے۔ خدا غریق رحمت کرے شہر کے مرحوم امام جمعہ، جناب آل ہاشم (رحمت اللہ علیہ) کو جنھوں نے ایک ملاقات میں ان خصوصیات کی صحیح وضاحت کی اور انھیں بیان کیا، میں نے بھی انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور مشاہدہ کیا ہے۔

میں اپنی اصل سفارش، شروع میں عرض کر دیتا ہوں: اس وقت شناسی کو ہاتھ سے نہ جانے دیں، اس بروقت موجودگی کو ہاتھ سے نہ جانے دیں، یہ بہت بڑی خصوصیت ہے۔ آذربائیجان زندہ ہے اور باحیات ہے۔ ایک زندہ اور پُر نشاط قوم کبھی بھی دشمنوں کے سیاسی کھیلوں اور مختلف حربوں کا شکار نہیں ہوتی۔ بحمد اللہ آپ نے اس وقت شناسی اور موقع شناسی کو محفوظ رکھا ہے، اس سال 22 بہمن میں، جو رپورٹیں ہمیں دی گئیں، (ان میں یہ بھی تھا کہ) تمام شہروں میں (ریلیوں میں) شرکت میں اضافہ ہوا تھا اور تبریز میں دو گنا (اضافہ ہوا تھا)۔

میرے عزیزو! اس سال کی اور آج کی ہماری یہ ملاقات ایک غیر معمولی ملاقات ہے، یہ دوسرے برسوں کی ملاقاتوں سے الگ ہے۔ یہ سال ایک غیر معمولی سال تھا، یہ وہ سال تھا جس میں ایرانی قوم نے کئی مراحل میں، کئی بار اپنی عظمت، اپنے عزم، اپنے پختہ ارادے اور اپنی صلاحیتوں کو دکھایا اور ان کا مظاہرہ کیا، بارہ روزہ جنگ سے لے کر حالیہ دنوں تک۔

اس وقت ماہ رمضان کی آمد آمد بھی ہے، یہ بھی بابرکت دنوں میں سے ہے۔ اس سال ہمارے ملک کے عوام، بشمول آپ آذربائیجان کے عزیز، غیرت مند، بہادر لوگ ایران کو سربلند کرنے میں کامیاب ہوئے، اپنے ملک کو عزت دلانے میں کامیاب ہوئے۔ میں جو یہ کہہ رہا ہوں کہ "سربلند کرنے میں کامیاب ہوئے"، یہ محض ایک جملہ نہیں ہے، یہ وہ بات ہے جو ہمارے ملک کے ذمہ داران، جو سیاسی مسائل کے لیے دوسرے ممالک کا سفر کرتے ہیں، ہمارے سامنے نقل کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آج "ایران" ان سیاست دانوں کی نگاہ میں، جن سے ہم نے ملاقات کی اور ایران کے بارے میں گفتگو کی، ایک خاص نمایاں مقام حاصل کر چکا ہے اور یہ اسی استقامت اور طاقت کے مظاہرے کی بدولت ہے۔

آج میں دو موضوعات پر گفتگو کروں گا: ایک اس فتنے کے بارے میں جو تقریباً ایک ماہ، چالیس دن پہلے پیش آیا، اس بارے میں گفتگو کرنی چاہیے، اس بارے میں تجزیہ کرنا چاہیے۔ البتہ میں نے اس بارے میں کچھ روز پہلے ایک گفتگو کی تھی،(2) آج بھی اختصار سے گفتگو کروں گا لیکن جو لوگ تجزیہ کرنے والے ہیں، اہلِ فکر ہیں، انھیں کام کرنا چاہیے۔ کچھ باتیں امریکا کے بارے میں بھی کروں گا، اس زوال پذیر نظام، اس گرتے ہوئے سامراج کے بارے میں کچھ جملے عرض کروں گا۔

جہاں تک اس فتنے کی بات ہے تو میں آپ سے یہ کہوں گا کہ میرے عزیزو! جو کچھ ہوا وہ ایک بغاوت تھی جو ناکام ہو گئی۔ ایسا نہیں تھا کہ ہم فرض کر لیں کہ کچھ جوان اور دوسرے لوگ کہیں پر غضب ناک ہو گئے اور انھوں نے کوئی کارروائی کی، احتجاج کیا یا ہنگامہ آرائی کی، نہیں، بات اس سے کہیں بڑھ کر، بغاوت تھی لیکن یہ بغاوت ایرانی قوم کے پیروں تلے روند دی گئی۔

اختصار سے کہا جائے تو معاملہ اس طرح ہے: امریکا اور مقبوضہ فلسطین یعنی اسی باطل صیہونی حکومت کے خفیہ اور جاسوسی اداروں نے کچھ دوسرے ممالک کے خفیہ اداروں کی مدد سے، جن میں سے بعض ممالک کو ہم پہچانتے ہیں، گزرتے وقت کے ساتھ ہمارے ملک میں کچھ شر پسند یا شر پسندی کا پس منظر رکھنے والے افراد کو تلاش کیا، انھیں بیرون ملک لے گئے، پیسے دیے، اسلحہ دیا، تخریب کاری کی ٹریننگ دی، فوجی مراکز یا سرکاری مراکز میں داخلے کی ٹریننگ دی اور ایران بھیج دیا۔ انھیں ایک موقع کا منتظر رکھا کہ جب بھی کوئی موقع ملے، یہ لوگ اپنا کام شروع کر دیں۔ ان کا کام یہ ہے کہ کچھ سادہ لوح افراد کو، خواہ جوان ہوں یا جوان نہ ہوں، متاثر کریں، انھیں مشتعل کریں اور سخت میدانوں میں داخل ہونے پر مجبور کریں۔ ان کے لیے یہ موقع فراہم ہو گیا، تقریباً ڈیڑھ ماہ پہلے وہ میدان میں آ گئے اور ان سادہ لوح اور ناتجربہ کار نوجوانوں کو آگے بڑھا دیا، کہاں اور کس طرف؟ حساس مراکز کی طرف: فوجی مراکز، بنیادی ڈھانچے کے مراکز، پیٹرول کے ذخیروں کے مراکز، حساس فوجی اور سرکاری مراکز کی طرف۔ انھیں وہاں آگے بڑھا دیا اور خود بھی مختلف ہتھیاروں، چاقو، خنجر، تلوار، ذاتی ہتھیار، رائفل، ہینڈ گرینیڈ اور دوسرے ہتھیاروں سے لیس ہو کے میدان میں آ گئے۔ ان کی پالیسی یہ تھی کہ کارروائی پرتشدد اور اندھادھند ہو، جیسے داعش کی کارروائی۔ انھوں نے پرتشدد طریقے سے کام کرنے کا فیصلہ کیا، اسی لیے انسان کو زندہ ہی آگ لگا دی، بچے کو اس کے باپ کی گود میں مار دیا، انتہائی پرتشدد کارروائیاں کیں۔ افسوس کہ ہمارے کچھ ہم وطن ان کی ان کارروائیوں کی وجہ سے دوسری دنیا میں چلے گئے اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مقصد کیا تھا؟ مقصد یہ تھا کہ نظام کی بنیادوں کو کمزور کر دیں، متزلزل کر دیں، حسّاس مراکز پر قبضہ کریں، ریڈیو اور ٹی وی پر قبضہ کریں اور اسی طرح کے دوسرے کام، یہ وہ کام تھے جو وہ لوگ کرنا چاہتے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں، بسیج، سپاہ اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے جو نہ بسیج میں تھے اور نہ ہی سپاہ میں، ان کا مقابلہ کیا۔ بعض نے خالی ہاتھوں ان کا مقابلہ کیا، بعض شہید بھی ہوئے، لیکن آخر میں کیا ہوا؟ آخر میں، دشمن چاہے مانے یا نہ مانے، یہ بغاوت جو اتنی زحمتوں سے، اتنے پیسے خرچ کر کے اور اتنے اندازے لگا کر ملک کے اندر فراہم کی گئی تھی، ناکام ہو گئی، شکست کھا گئی اور ختم ہو گئی۔ یہ واقعہ تھا جو پیش آیا۔ یہ معاملہ ایک اہم معاملہ ہے، کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے۔

تو جو کچھ پیش آیا، وہ دشمن کی شکست اور ایرانی قوم کی فتح تھی، یہ بات واضح اور آشکار ہے۔ اس کے بعد وہ 22 دی (12 جنوری) کی حیرت انگيز ریلی اور پھر 22 بہمن (11 فروری) کی ریلی جو حقیقت میں اللہ کی نشانی تھی، عوام کا یہ عظیم اور بھرپور موجودگي والااقدام۔ یہ ایک پالیسی ہے۔ بعد کی پالیسیاں بھی ہیں۔ میں قطعیت کے ساتھ نہیں کہنا چاہتا، لیکن یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ ایرانی قوم، جو دشمن کی بدنیتی اور دشمن کی سازش کے مقابلے میں اس طرح فتحیاب ہو کر نکلی ہے، اسے اس فتح کو محفوظ رکھنا چاہیے اور یہ تیاری سے، ہوشیاری سے اور قومی یکجہتی سے ہی ممکن ہے۔

تاہم لوگوں کا خون بہایا گیا۔ ہم داغ دیدہ ہیں، ہم سوگوار ہیں اس خون کی وجہ سے جو بہایا گیا۔ (البتہ) ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جو خود مفسدین اور فتنہ گر اور باغی تھے، ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جنھیں اجل نے مہلت نہ دی اور وہ جہنم واصل ہوئے اور ان کا معاملہ خدا کے سپرد ہے، ہمیں ان سے کوئی غرض نہیں۔ تاہم ایک اور گروہ تھا، جو ان میں شامل نہیں تھا۔ تین گروہ تھے، تین قسم کے لوگ تھے، میں ہلاک ہونے والوں اور جاں بحق ہونے والوں کو تین گروہوں میں تقسیم کرتا ہوں: ایک گروہ، امن و سلامتی کے محافظوں اور نظام کی سلامتی کے محافظوں کا تھا، چاہے وہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں، خواہ بسیجی (رضاکار) اور سپاہ کے اہلکار ہوں اور خواہ وہ لوگ ہوں جو ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے اور شہید ہوئے، یہ شہید ہونے والوں میں برتر ہیں، ایک گروہ یہ ہے۔ ایک گروہ راہگیروں کا ہے۔ جب فتنہ گر شہر میں فتنہ برپا کرتا ہے تو صرف وہی لوگ مارے نہیں جاتے جو اس کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں، کچھ بے گناہ لوگ بھی سڑک پر، اپنے کام کی جگہ یا اپنے گھر کی طرف جا رہے ہوتے ہیں، ان میں سے بھی کچھ شہید ہوئے، یہ بھی شہید ہیں، اس لیے کہ یہ دشمن کے فتنے میں شہید ہوئے۔ یہ گولی جہاں سے بھی آئی ہو، یہ واقعہ دشمن کے فتنے میں پیش آیا ہے اور (اس لیے) یہ دوسرا گروہ بھی شہید ہے۔ تیسرا گروہ ان کا ہے جو دھوکہ کھا گئے، انھوں نے سادہ لوحی سے کام لیا، ناتجربہ کار تھے، فتنہ گروں کے ساتھ ہو گئے۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ بھی ہم میں سے ہیں، یہ بھی ہمارے بچے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو پشیمان بھی ہو گئے۔ بعض نے مجھے خط لکھا کہ ہم اس دن سڑک پر آ گئے تھے اور یہ ہوا اور وہ ہوا، ہمیں معاف کر دیں! وہ جیل میں بھی نہیں تھے، آزاد تھے، (لیکن) پشیمان ہو گئے، ان سے غلطی ہوئی۔ ان میں سے جو لوگ مارے گئے، ذمہ داران نے انھیں بھی شہید شمار کیا، اچھا کیا۔ بنابریں جاں بحق ہونے والوں کا دائرہ جنھیں ہم "شہید" مانتے ہیں، ایک وسیع دائرہ ہے: سوائے ان فتنہ گروں، سرغناؤں اور ان لوگوں کے جنھوں نے دشمن سے پیسے لیے، اسلحہ لیا، ان کے علاوہ، باقی سب چاہے امن کے محافظ ہوں، چاہے راہگیر ہوں اور چاہے وہ لوگ ہوں جو فتنہ گروں کے ساتھ چند قدم چلے تھے کہ یہ (بھی) ہمارے بچے ہیں اور ہم ان کے لیے رحمت خدا کی دعا کرتے ہیں، مغفرت کی دعا کرتے ہیں؛ ان سے غلطی ہوئی، خداوند عالم ان کی غلطی کو معاف کرے، ان شاء اللہ۔

خیر، دیکھیے امریکیوں کے ہاتھوں ایک عنصر وجود میں آیا جس کا نام داعش تھا، جس کا امریکیوں نے اقرار کیا، اعتراف کیا کہ داعش کو انھوں نے وجود عطا کیا، طے شدہ طریقوں سے۔ داعش کم و بیش ختم ہو چکا ہے لیکن یہ نیا گروہ، یہ بھی نئے داعشی ہیں، چوکنا رہنا چاہیے، خبردار رہنا چاہیے! ذمہ داران کو ایک طرح سے، عوام کو کسی دوسری طرح سے۔ خاص طور پر نوجوانوں کو چوکنا رہنا چاہیے کہ کون ان سے بات کر رہا ہے، کون انھیں تجویز دے رہا ہے۔

اگر ان اصلی مفسدوں میں سے کچھ لوگ بھی ملک میں ہیں، اور ضرور ہوں گے، تو ان کا تعاقب کیا جائے، انھیں سزا ملنی چاہیے، ان پر مقدمہ چلانا چاہیے، قوم، اس معاملے میں طلبگار ہے۔ سیکورٹی اور انصاف نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف قانونی ایکشن لیں جو دشمن کا ساتھ دیتے ہیں، اس سے تعاون کرتے ہیں، اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، چاہے عملی طور ہو، چاہے زبانی طور پر ہو، چاہے تجزیوں میں ہو۔ منصافانہ ایکشن لیں۔ میں بے جا سختی کا حامی نہیں ہوں لیکن بے جا نرمی بھی، بے جا سختی کی طرح ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ تو میرا خیال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سلسلے میں امریکا کی آگے کی سازش اس طرح کے کام کی ہے۔ البتہ مجھے یقین ہے کہ اللہ کے لطف و کرم سے اس طرح کی کوئي بھی حرکت، بلاشبہہ ایرانی قوم کے ہاتھوں مٹی میں ملا دی جائے گي۔ بحمد اللہ قوم زندہ ہے، بیدار ہے، تیار ہے۔

جہاں تک زوال پذیر امریکی سامراج کی بات ہے، واقعی وہ زوال کی طرف گامزن ہے! تو اسے معاشی مشکلات، سیاسی مشکلات اور سماجی مشکلات لاحق ہیں۔ امریکا کے پچاس فیصد سے زیادہ لوگ اپنے موجودہ صدر کو تسلیم نہیں کرتے، یہ ایک ملک کی مشکلات ہیں، یہ مشکلات میں غرق ہیں۔ میں صرف ایک بات عرض کروں گا، اُس دن بھی میں نے عرض کیا تھا کہ امریکا کے ساتھ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایران کو نگلنا چاہتے ہیں، ایرانی قوم اس میں رکاوٹ ہے، اسلامی جمہوریہ رکاوٹ ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایرانی قوم پر تسلط حاصل کر لیں۔ یہ باتیں جو امریکی صدر کہہ رہا ہے، میں اس کی طرف اشارہ کروں گا، کبھی دھمکی دیتا ہے، کبھی کہتا ہے کہ فلاں کام ہونا چاہیے، فلاں کام نہیں ہونا چاہے، اس کا مطلب یہی ہے کہ امریکی، ایرانی قوم پر تسلط حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ایرانی قوم، اپنے اسلامی اور شیعی دروس سے خوب واقف ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: "مِثلی لا یُبایِعُ (مثل) یَزید"(4) میرے جیسا، یزید جیسے کی بیعت نہیں کرتا۔ ایرانی قوم در حقیقت کہہ رہی ہے: ہم جیسی قوم، ثقافت والی، درخشاں ماضی والی، اعلیٰ معارف والی قوم، آج امریکا میں برسر اقتدار بدعنوان افراد جیسے حکمرانوں کی کبھی بیعت نہیں کرے گی۔

ہم نے ان کی بدعنوانیوں کے بارے میں جو کچھ سنا تھا وہ ایک طرف اور اس بدنام اور فاسد جزیرے(5) کا معاملہ ایک طرف! یہ چیزیں در حقیقت مغربی تمدن کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یہ جو ہم مغربی تمدن، مغرب کی لبرل ڈیموکریسی کے بارے میں بات کرتے ہیں، وہ یہ ہے۔ دو سو سال، تین سو سال کام کرتے ہیں، اس کا نتیجہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے۔ یہ جزیرہ ایک نمونہ ہے، اس طرح کی باتیں بہت زیادہ ہیں۔ جس طرح سے یہ چیز آشکار نہیں تھی مگر سامنے آ ہی گئي، اسی طرح بہت سی دوسری چیزیں بھی ہیں اور وہ بھی سامنے آئيں گی۔

جہاں تک امریکا کے مسائل کی بات ہے تو امریکا کے سرکاری پروپیگنڈے اور صیہونی اخبارات و جرائد اور میڈیا کا ماحول، جو امریکا میں کام کر رہے ہیں، آج کل ایران کے بارے میں تقریباً پوری طرح سے دھمکی آمیز ہے۔ وہ دھمکی دیتے ہیں کہ ہم ایسا کر دیں گے، ہم ویسا کر دیں گے۔ آپ تبریز کے عوام اور ملت ایران کے ایک بڑے حصے نے اس 22 بہمن (11 فروری) کو ان دھمکیوں کا جواب دے دیا، دکھا دیا کہ ان دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں ہے اور دھمکی کا اثر الٹا ہے، زیادہ جوش و جذبہ پیدا کرتا ہے۔ بائيس بہمن کی اس ریلی میں قوم کی بڑی تعداد میں موجودگی سے، امریکا کے بہت سے سربراہوں کی ان لایعنی اور مہمل باتوں کا، جو وہ کرتے ہیں جواب دے دیا گیا۔

وہ خود بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں، خود امریکی بھی، جو مسلسل دھمکی دے رہے ہیں کہ جنگ ہوگی، ایسا ہوگا، ویسا ہوگا، جانتے ہیں کہ ان میں ان باتوں کی طاقت نہیں ہے۔ ان کے معاشی مسائل، ان کے سیاسی مسائل، ان کی بین الاقوامی آبرو اور حیثیت اس طرح کے تصادم کی طاقت نہیں رکھتی، اسے وہ جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے کوئی غلطی کی تو کیسا انجام ان کے انتظار میں ہے۔

امریکا کے ظالم اور فاسد سامراج کے زوال کی نشانیوں میں سے ایک، ان کی بے عقلی ہے، وہ بے عقل ہیں۔ جب کوئی حکومت کوئي کام کرتی ہے تو اس کے پیچھے کوئی منطق ہونی چاہے، وہ بے عقل ہیں۔ ان کی بے عقلی کے کاموں میں سے ایک یہی ہمارے ملک کے داخلی معاملات میں ان کا ٹانگ اڑانا ہے۔ اول تو وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے داخلی معاملات میں سے ایک معاملہ جو ہمارے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، وہ ہمارے ہتھیاروں کا مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس ڈیٹرنس والے ہتھیار ہونے چاہیے۔ اگر کسی ملک کے پاس ڈیٹرنس کے ہتھیار نہ ہوں تو وہ دشمنوں کے پیروں تلے روند دیا جائے گا۔ ڈیٹرنس کے ہتھیار، ہماری قوم کی انتہائی ضروری چیزوں میں سے ہیں۔ امریکی بلاوجہ اس معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہیں کہ "تمھارے پاس فلاں طرح کے میزائل ہوں، فلاں طرح کے نہ ہوں، اتنی رینج والے ہوں، اس سے زیادہ کے نہ ہوں!" تم سے کیا مطلب؟ تم سے اس کا کیا تعلق ہے؟ اس کا تعلق ایرانی قوم سے ہے۔

یا پھر پرامن ایٹمی صنعت کا مسئلہ۔ پرامن ایٹمی صنعت جنگ کے لیے نہیں ہے، ملک چلانے کے لیے ہے، زراعت کے لیے ہے، علاج معالجے کے لیے ہے، توانائی کے لیے اور ان تمام چیزوں کے لیے ہے جو اینرجی پر منحصر ہیں۔ ایرانی قوم اپنا کام کر رہی ہے، تم سے کیا مطلب؟ تمھارا اس سے کیا ربط ہے؟(6) یہ جو آپ کہتے ہیں، "ایٹمی توانائی ہمارا مسلمہ حق ہے" یہ چیز خود آئی اے ای اے کے معاہدوں اور ضوابط میں بھی درج ہے، یعنی تمام ممالک کو حق ہے کہ وہ اپنے ملک کے اندر ایٹمی تنصیبات تیار کریں، یہاں تک کہ افزودگی کی تنصیبات بھی تیار کریں۔ یہ قوم کے حقوق میں سے ہے۔ امریکی کیوں مداخلت کرتے ہیں؟ یہ بات امریکا کے آج اور کل کے عہدیداروں کے غیر متوازن اور پراگندہ طرز فکر کی نشاندہی کرتی ہے، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے، وہ کیوں مداخلت کرتے ہیں؟ اب اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ وہ مداخلت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ آؤ تمھاری ایٹمی توانائی کے بارے میں ہم آپس میں مذاکرات کریں اور مذاکرات کا نتیجہ یہ نکلے کہ تم یہ توانائی نہ رکھو! اگر واقعی کوئی مذاکرات ہونے چاہیے، جبکہ یہاں مذاکرات کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے، (پھر بھی) اگر طے پایا کہ مذاکرات ہوں تب بھی پہلے سے مذاکرات کا نتیجہ طے کرنا ایک غلط اور احمقانہ کام ہے۔ تم کہتے ہو کہ آؤ آپس میں بات کریں تاکہ فلاں موضوع پر ایک اتفاق رائے تک پہنچ جائيں، تو نتیجہ کیوں طے کرتے ہو؟ (وہ کہتا ہے کہ) ہمیں بس اسی اتفاق رائے تک پہنچنا چاہیے! تو یہ احمقانہ کام ہے، یہ احمقانہ کام امریکا کے سربراہان، بعض سینیٹرز، صدر اور بہت سے دوسرے لوگ کر رہے ہیں۔

وہ یہ نہیں سوچتے کہ راستہ ان کے لیے بند گلی میں پہنچ چکا ہے۔ انھیں لگتا ہے اور امریکی صدر مسلسل کہہ بھی رہا ہے کہ ہماری فوج، دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے، ممکن ہے کہ دنیا کی سب سے طاقتور فوج بھی کبھی ایسا تھپڑ کھائے کہ اپنی جگہ سے اٹھ بھی نہ پائے۔ وہ بار بار کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی طرف بحری بیڑہ بھیج دیا ہے۔ ٹھیک ہے، بحری بڑا ایک خطرناک وسیلہ ہے لیکن اس بیڑے سے بھی زیادہ خطرناک وہ ہتھیار ہے جو اس بیڑے کو سمندر کی تہہ میں بھیج سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ سینتالیس سال سے امریکا، اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکا ہے، اس نے اپنے ہی عوام سے شکایت کی ہے کہ امریکا، اسلامی جمہوریہ کو ختم نہیں کر سکا ہے۔ یہ اچھا اعتراف ہے۔ میں کہتا ہوں، تم بھی یہ کام نہیں کر پاؤ گے۔

اسلامی جمہوریہ یعنی ایک زندہ قوم۔ اسلامی جمہوریہ کوئی عوام سے ہٹ کر ایک حکومت نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ کا مطلب ہے ایرانی قوم، یہ مضبوط قوم، یہ مستحکم قوم، یہ قوم جو اپنی پیشرفت کے لیے زحمت اٹھانے، کام کرنے، جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہے اور بحمد اللہ ان سینتالیس برسوں میں اس نے پیشرفت کی ہے۔ جب اسلامی جمہوریہ ایک نازک پودا تھا تب تو تم اسے زمین سے اکھاڑ نہیں سکے، آج تو بحمد اللہ اسلامی جمہوریہ ایک مبارک تنومند اور ثمردار درخت ہے۔

میں اپنے معروضات کے آخر میں عزیز سرکاری ذمہ داروں سے عرض کروں، محترم ذمہ داروں سے کہوں کہ وہ جتنی کوشش کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، اسے دگنا کر دیں، اسے کئی گنا کر دیں۔ ہمارے پاس بہت سارے وسائل ہیں، ملک میں یہ افراط زر غیر منطقی ہے، ملکی کرنسی کی قدر کا اتنا زیادہ گر جانا غیر منطقی ہے، ان کی اصلاح ہونی چاہیے اور خدا کے فضل سے ضرور اصلاح ہوگی۔ محترم ذمہ داروں نے کچھ کام شروع کیے ہیں، سنجیدگی سے، تندہی سے، تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر ان کاموں کو جاری رکھیں، داخلی مسائل کو برطرف کریں، کام کاج کے ماحول کو پرسکون بنائیں۔

اگر کوئي خطرہ ہے تو اللہ کے فضل سے خطرے کو بے اثر بنانے والے ادارے بھی ہیں۔ لوگ اپنا کام کریں، زندگي گزاریں، پڑھائي کریں، کام کاج کے ماحول کو پرسکون بنائیں، اپنی تجارت بغیر کسی فکر کے کر سکیں۔ ملک میں سکون، خود اعتمادی اور اطمینان کے ماحول کی حکمرانی ہونی چاہیے: فَاَنزَلَ اللہُ سَکینَتَہُ عَلى‌ رَسولِہِ وَعَلَى المُؤمِنین‌.(7) ان شاء اللہ خداوند عالم، تمام لوگوں پر سکون کا ماحول، اطمینان کا ماحول نازل کرے گا اور ان پر لطف کرے گا، ذمہ داروں کو بھی کامیاب کرے گا تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکیں۔

میں شہداء کے عزیز اہل خانہ کو، جنھوں یہ طویل مسافت طے کی، تشریف لائے، خوش آمدید عرض کرتا ہوں، مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ وہ سبھی کامیاب ہوں اور خداوند عالم ان عزیز شہیدوں کو پیغمبر کے ساتھ محشور کرے۔             

والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و‌ برکاتہ

  1. وہ مجلس جو قم کے عوام کے 9 جنوری کے قیام میں شہید ہونے والوں کے چہلم کی مناسبت سے تبریز میں منعقد ہوئی، پہلوی حکومت کے مسلح اہلکاروں کے حملے میں خون سے رنگ گئی۔
  2. اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے جشن کے آغاز پر مختلف عوامی طبقات سے خطاب، (1 فروری 2026)
  3. اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سالگرہ کے جشن کے آغاز پر مختلف عوامی طبقات سے خطاب، (1 فروری 2026)
  4. لہوف، صفحہ 23 (معمولی فرق کے ساتھ)
  5. امریکی جزائر ورجن کا ایک نجی جزیرہ، جو نوجوان خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی ٹریفکنگ کے لیے خفیہ ٹھکانے اور پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ وہاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔ اس جزیرے کے مالک جیفری ایپسٹین کے مہمانوں میں دنیا بھر سے اعلیٰ ترین شخصیات شامل تھیں۔
  6. حاضرین کا نعرہ: "ایٹمی توانائی ہمارا مسلمہ حق ہے۔"
  7. سورۂ فتح، آیت، 26 "... تو اللہ نے اپنے رسول اور صاحبان ایمان پر سکون نازل کردیا..."