اگر فاطمہ زہرا مرد ہوتیں تو پیغمبر ہوتیں

اگر فاطمہ زہرا مرد ہوتیں تو پیغمبر ہوتیں

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ایک حقیقی رہبر کے کردار میں نظر آتی ہیں۔ جیسا کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر فاطمہ زہرا مرد ہوتیں تو یقیناً پیغمبر ہوتیں۔ ایسا جملہ امام خمینی جیسی شخصیت کے علاوہ جو عالم بھی تھے، فقیہ بھی تھے، عارف بھی تھے، کسی اور کے منہ سے ادا نہیں ہو سکتا۔
رسول اکرم اور حضرت فاطمہ زہرا کی آخری گفتگو

رسول اکرم اور حضرت فاطمہ زہرا کی آخری گفتگو

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے 30 دسمبر 2019 کو اپنے فقہ کے درس خارج میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی آخری گفتگو کے بارے میں ایک حدیث کی تشریح کی۔
ڈاکیومینٹری: نصر من اللہ

ڈاکیومینٹری: نصر من اللہ

رہبر انقلاب اسلامی سے انتھک مجاہد شہید سید حسن نصر اللہ کی ملاقاتوں کے پہلی بار سامنے آنے والے کچھ گوشے ایک ویڈیو ڈاکیومینٹری کی صورت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
ڈاکیومینٹری

ڈاکیومینٹری "نصر من اللہ" کا ٹیزر

سید مزاحمت شہید سید حسن نصر اللہ کے چہلم کی مناسبت سے تیار ہونے والی ویڈیو ڈاکیومینٹری کا ٹیزر۔
دشمن کبھی حزب اللہ پر غلبہ حاصل نہیں کر پائے گا

دشمن کبھی حزب اللہ پر غلبہ حاصل نہیں کر پائے گا

حزب اللہ مضبوط ہے، لڑ رہی ہے۔ جی ہاں! جناب سید حسن نصر اللہ جیسی نمایاں اور اہم شخصیت ان کے درمیان نہیں ہے لیکن حزب اللہ طاقت اور جذبے کے ساتھ بحمد اللہ موجود ہے اور دشمن اس تنظیم پر غلبہ حاصل نہیں کر سکا ہے اور نہ ہی کر سکے گا۔
اس مجاہدت کا نتیجہ حق کے محاذ کی فتح ہے

اس مجاہدت کا نتیجہ حق کے محاذ کی فتح ہے

آج بحمد اللہ یہ جو مجاہدت پوری طاقت اور قوت کے ساتھ جاری ہے، لبنان میں بھی اور غزہ اور فلسطین میں بھی، قطعی طور پر اس مجاہدت کا نتیجہ حق کی فتح ہوگا، حق کے محاذ کی فتح ہوگا، مزاحمت کے محاذ کی فتح کی صورت میں سامنے آئے گا۔
حافظ شیرازی کا تمام سرمایہ، قرآن ہے

حافظ شیرازی کا تمام سرمایہ، قرآن ہے

حافظ شیرازی کہتے ہیں: "ہر چہ دارم ہمہ از دولت قرآن دارم" مطلب یہ کہ ان کے اشعار بھی قرآن ہی کے ہیں، ان کا فن بھی قرآن ہی کا ہے، ان کی معرفت بھی قرآن ہی کی ہے، ان کا عرفان بھی قرآن ہی کا ہے، ان کی بیخودی بھی قرآن ہی کی ہے، انھیں ہر چیز قرآن سے ملی ہے۔
دین، شجاعت اور فن و ہنر کی آمیزش، ایرانی تمدن کا خاصہ

دین، شجاعت اور فن و ہنر کی آمیزش، ایرانی تمدن کا خاصہ

ہمارے وطن عزیز کی تمدنی خصوصیات میں سے ایک، جس پر ہمیشہ توجہ دینی چاہیے، یہ ہے کہ یہ دین، شجاعت اور فن و ہنر کی آمیزش میں کامیاب رہا ہے۔ ایران اسلامی میں ان تینوں عناصر کی آمیزش اسلام سے ماخوذ ہے۔
سافٹ وار، گاندھی سے تیس سال پہلے ایرانیوں کی جدت

سافٹ وار، گاندھی سے تیس سال پہلے ایرانیوں کی جدت

ہمارے ملک میں پہلی نرم جنگ (سافٹ وار) میرزا شیرازی نے کی تھی؛ تمباکو کو حرام قرار دینا، نرم جنگ تھی، سب سے بڑی جنگ اور وہ بھی ایسی جنگ جس نے ملک میں انگریزوں کے معاشی تسلط کی بساط لپیٹ دی۔ یہی کام گاندھی نے ہندوستان میں کیا لیکن میرزا شیرازی کے تیس سال بعد۔
شرمندہ ہوں کہ میں خود اپنے شوہر کے ساتھ شہید نہیں ہو سکی

شرمندہ ہوں کہ میں خود اپنے شوہر کے ساتھ شہید نہیں ہو سکی

اے مسلمانوں کے ولئ امر! میں آئی ہوں تاکہ یہ کہہ سکوں کہ میں شرمندہ ہوں، خجل ہوں کہ میرے حمزہ تو اسلام، اسلامی نظام اور رہبر کی حفاظت کی راہ میں گزر گئے لیکن مجھے اور میرے بچوں کو ان کی ہمراہی کا موقع نہ مل سکا۔