زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
درس اخلاق: کہاں گناہ ہوا؟ یہ سمجھنا توبہ کا پہلا قدم

درس اخلاق: کہاں گناہ ہوا؟ یہ سمجھنا توبہ کا پہلا قدم

انابہ، یعنی اللہ کی طرف رجوع، خدا کی جانب بازگشت، یہ توبہ و انابہ قدرتی طور پر اپنا ایک خاص مفہوم رکھتا ہے۔ توبہ کا پہلا قدم یہ ہے کہ کام کے عیب کو سمجھیں، غور کریں کہ ہمارے کام میں کہاں مشکل ہے، ہم سے کہاں غلطی ہوئی ہے، ہم کہاں گناہ کر بیٹھے ہیں۔  کہاں قصور سرزد ہوا ہے؛ یہ کام ہم کو خود اپنی ذات سے شروع کرنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 18 ستمبر 2008
قرآن کی روشنی میں: الہی وعدے پر اطمینان تمام کاموں کی بنیاد

قرآن کی روشنی میں: الہی وعدے پر اطمینان تمام کاموں کی بنیاد

اللہ کی قوت و قدرت پر توجہ اور الہی وعدوں کی سچائی پر یقین تمام کاموں کی بنیاد ہے یعنی الہی وعدوں پر اطمینان رکھیں۔ اللہ نے فرمایا ہے: اور ہمارے عہد کو پورا کرو ہم تمھارے عہد کو پورا کریں گے۔ (سورۂ بقرہ، آيت 40) خدا کی راہ میں قدم بڑھاؤ، خداوند متعال مدد کرتا ہے، اب یہ صرف اللہ کا ایک وعدہ نہیں ہے۔ ہم اگر دیر سے یقین کرنے والوں میں ہوں، ان لوگوں میں ہوں جو کور باطن ہیں اور اللہ کے وعدوں کو صحیح نہیں مانتے تو بھی ہمارے تجربے (اسلامی انقلاب کی کامیابی) نے ہمیں یہ بات نمایاں طور پر دکھا دی ہے۔ امام خامنہ ای 18 اگست 2010
اسلامی گھرانہ: گھرانہ، زندگی کے لیے پر امن ماحول

اسلامی گھرانہ: گھرانہ، زندگی کے لیے پر امن ماحول

ہر انسان، مرد بھی اور عورت بھی، زندگی کے دوران شب و روز مشکلوں سے گزرتا ہے، اتفاقات اور حوادث سے دوچار ہوتا ہے، یہ حادثے اعصاب کو متاثر کرتے اور تھکا دیتے ہیں، انسانوں کو بے چینی اور سراسیمگی میں مبتلا کر دیتے ہیں، جب انسان گھر کے ماحول میں قدم رکھتا ہے امن و عافیت سے بھرا یہ ماحول اسے پھر سے تر و تازہ کر دیتا ہے۔ اسے ایک اور دن کے لیے تیار کر دیتا ہے۔ گھرانہ انسانی زندگی کو منظم رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ امام خامنہ ای 19 جنوری 1999
مہدویت: امید کی عید

مہدویت: امید کی عید

اگر آج آپ سامراج کے پالیسی سازوں اور سازشیں تیار کرنے والوں کو دیکھیں تو پائيں گے کہ ان کے سب سے اہم کاموں اور اہداف میں سے ایک مایوسی کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ قومیں اصلاحات کی طرف سے مایوس ہو جائیں اور سامراج کا ہتھکنڈہ کامیاب ہو جائے ورنہ اگر قومیں پرامید ہوں اور پرامید رہیں تو سامراج کا حربہ چنداں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس سوچ کے بالکل خلاف، انتظار کی سوچ ہے جو مذہب اہلبیت علیہم السلام کے ماننے والوں کے ماحول پر چھائي ہوئي ہے۔ انتظار یعنی انسانی زندگي کے اختتام کے سلسلے میں دل کا امید سے سرشار ہونا۔ امام خامنہ ای 19/2/1992
درس اخلاق: ہمیں سوشل میڈیا پر بھی سچا ہونا چاہیے

درس اخلاق: ہمیں سوشل میڈیا پر بھی سچا ہونا چاہیے

ہمارے ملک کی بہت سی اندرونی مشکلیں اسی صفت یعنی سچائی کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔ "صدق الحدیث" نہیں ہے، یعنی سچائی نہیں ہے، باتوں میں صداقت نہیں ہے۔سچائی کا کیا مطلب ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو بات آپ کر رہے ہیں وہ حقیقت کے مطابق ہو۔ اگر آپ جانتے ہیں کہ حقیقت کے مطابق ہے اور آپ نے اسے بیان کیا تو یہ سچائي ہے اور اگر نہیں، یعنی آپ کو نہیں معلوم کہ یہ بات حقیقت کے مطابق ہے یا نہیں لیکن پھر بھی آپ نے بیان کیا تو یہ سچائي نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کو دیکھیے کہ اس کی باتیں، افواہیں، جھوٹ، بے بنیاد باتیں، تہمتیں، غیر حقیقی باتوں کی نسبت دے دینا، ملک میں ایک جھوٹی فضا پیدا کر دیتا ہے۔ "صدق الحدیث" یعنی سب کوشش کریں کہ زبان سے سچی بات ہی نکلے۔ امام خامنہ ای 3 مارچ 2019
امریکی منصوبوں کی کوئی زمینی حقیقت نہیں ہے

امریکی منصوبوں کی کوئی زمینی حقیقت نہیں ہے

امریکی بیٹھ کے کاغذ پر دنیا کا نقشہ بدل رہے ہیں! البتہ صرف کاغذ پر۔ اس کی کوئی زمینی حقیقت نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 7 فروری 2025
اپنی عزت کے نور تک پہنچا دے

اپنی عزت کے نور تک پہنچا دے

اے میرے معبود! اور مجھے اپنی عزت کے بہت خوبصورت اور مسرت بخش نور تک پہنچا دے تا کہ میں تیری معرفت حاصل کروں اور تیرے علاوہ سب سے روگرداں ہوجاؤں اور تجھ سے خائف اور خبردار رہوں۔ (مناجات شعبانیہ کا ایک فقرہ)
خدا کا لگاتار ذکر

خدا کا لگاتار ذکر

اے میرے معبود! تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری بارگاہ میں آہ و زاری کرتا ہوں اور تیری طرف راغب و مشتاق ہوں اور تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ درود بھیج محمد اور آل محمد پر اور مجھے ان لوگوں میں سے قرار دے جو لگاتار تیرا ذکر کرتے اور تجھے یاد رکھتے ہیں اور تیرا عہد نہیں توڑتے اور تیرے شکر سے غافل نہیں ہوتے اور جو تیرے فرمان کو سبک اور بےوقعت نہیں سمجھتے۔ (مناجات شعبانیہ کا ایک فقرہ)
قرآن کی روشنی میں: اللہ کے وعدوں پر بھروسہ رکھیں

قرآن کی روشنی میں: اللہ کے وعدوں پر بھروسہ رکھیں

ہم نے جس شخص کو کوئی برا کام کرتے نہیں دیکھا، ہم اس کی عام اور نارمل بات اعتماد کرلیتے ہیں جبکہ وہ ایک انسان سے زیادہ کچھ نہیں ہے، ممکن ہے وہ بعد میں مکر جائے لیکن ہم اعتماد کر لیتے ہیں! اب دیکھیے کہ خداوند متعال نے مومنین سے کتنے وعدے کیے ہیں، مدد کا وعدہ ، ہدایت کا وعدہ، تعلیم کا وعدہ: "خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو اور اللہ تمھیں صحیح راستے کی تعلیم دے گا۔" (سورۂ بقرہ، آیت 282) حفاظت و نگہبانی کا وعدہ، دنیا کے امور میں امداد کا وعدہ، خدا نے ہم سے اتنے زیادہ وعدے کیے ہیں، یقیناً یہ وعدے غیر مشروط نہیں ہیں، ان کی کچھ شرطیں ہیں اور یہ شرطیں بہت دشوار بھی نہیں ہیں، ہم انھیں پورا کرسکتے ہیں۔ امام خامنہ ای 27 جولائی 2009
مقام قدس کی بلندیوں تک رسائی

مقام قدس کی بلندیوں تک رسائی

اے میرے معبود! مخلوقات سے جدائی (اور ان سے تیرے بغیر دوسروں سے امید منقطع کرنے) میں مجھے ایسا کمال عطا فرما کہ میں مکمل طور پر تجھ تک پہنچ سکوں اور ہمارے دلوں کی بصارتوں کو تیری طرف متوجہ رہنے کے نور سے روشنی عطا کرتے رہنا، یہاں تک کہ دل کی آنکھیں نور کے پردوں کو پار کرلیں اور عظمت کے سرچشموں سے جا ملیں اور ہماری روحیں تیرے مقام قدس کی بلندیوں سے آویزاں ہو جائیں۔ (مناجات شعبانیہ کا ایک فقرہ)