رمضان المبارک کا مہینہ تھا، میں سوچ رہا تھا کہ لوگوں کے سامنے کیا بیان کیا جائے جو مفید ہو۔
اپنی دلچسپی کے لحاظ سے میں نے سوچا کہ سورہ کہف کی تفسیر بیان کی جائے۔
اس کے لئے میں مختلف تفاسیر اور تاریخی کتب کا مطالعہ کرتا اور رمضان المبارک کی راتوں میں با ذوق افراد کی نشست میں اس واقعے کو بیان کرتا تھا۔ 
میں نے اس کے علاوہ بھی کئی بار اصحاب کہف کا قصہ بیان بھی کیا ہے،سنا بھی ہے،پڑھا بھی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے کو میں نے آپ لوگوں سے سمجھا ہے۔
جس رات آپ لوگوں نے یہ خوبصورت، پیچیدہ اور بہترین منظر پردے پر دکھایا اس رات میری سمجھ میں آیا کہ ''اذ قاموا فقالوا ربنا رب السموات والارض‘‘ کے معنی کیا ہیں۔ 
یعنی اس رات میں نے خود اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا آپ لوگوں نے واقعاً ایک قرآنی داستان کو مجسم کر کے لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے۔
یہ ایک عظیم کام ہے۔
(اصحاب کہف سیریل بنانے والے افراد سے ملاقات کے دوران 27/02/1999)