بسم الله الرّحمن الرّحیم

والحمد لله ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا محمّد و آله الطّاهرین و لعنة الله علی اعدائهم اجمعین.

 

عید غدیر کی مبارکباد پیش کرتا ہوں صدر محترم، وزرا، خواتین، اجلاس میں تشریف فرما بقیہ افراد کو اور دعا کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ یہ عید اس خیر و برکت کا سرچشمہ قرار پائے جو اللہ تعالی نے امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت میں رکھی ہے اور ہمیں اس نعمت عظمی سے بہرہ مند فرمائے۔

حقیقت یہ ہے کہ عید غدیر اور امیر المومنین علیہ السلام کو امت اسلامی کے ولی امر اور جانشین پیغمبر کے طور پر پیش کرنا اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت تھی۔ یعنی جس طرح خود نبوت و رسالت اللہ کا بڑا احسان اور بہت بڑی نعمت ہے؛ «لَقَد مَنَّ اللهُ عَلَی المُؤمِنینَ اِذ بَعَثَ فیهِم رَسولًا مِن اَنفُسِهِم» (۲) امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کے بارے میں بھی یہی بات ہے کہ وہ بہت بڑی نعمت اور اللہ کا بہت بڑا احسان ہے؛ «خَلَقَکُمُ‌ اللهُ‌ اَنوَاراً فَجَعَلَکُم بِعَرشِهِ مُحدِقینَ حَتّى مَنَّ اللهُ عَلَینا بِکُم فَجَعَلَکُم فی بُیُوتٍ اَذِنَ اللهُ اَن تُرفَع‌» (۳) الی آخرہ؛ واقعی یہ بہت بڑی نعمت ہے۔ امیر المومنین کی ولایت اور اس ولایت کا پورا موضوع قرآن میں ایک جگہ سورہ مائدہ میں کفار کی مایوسی کا سبب قرار دیا گيا ہے؛ اَلیَومَ یَئِسَ الَّذینَ کَفَروا مِن دینِکُم (۴) جس دن ولایت کا موضوع سامنے آیا وہ ایسا دن ہے جو قرآن کے صریحی بیان کے مطابق «یَئِسَ الَّذینَ کَفَروا مِن دینِکُم» کفار کی مایوسی کی وجہ بنا ہے۔ علامہ طباطبائی اس سلسلے میں بڑی اچھی تشریح پیش کرتے ہیں تفسیر المیزان میں کہ یہ مایوسی کیسی تھی، اس مایوسی کی منطقی وجہ کیا تھی۔ اسی سورے میں ایک جگہ اور بھی یہ آیہ مبارکہ ہے؛ «وَمَن یَتَوَلَّ اللهَ وَ رَسولَه وَ الَّذینَ ءامَنوا فَاِنَّ حِزبَ اللهِ هُمُ الغّْلِبون»(۵) یہاں پر اس آیت میں اس فقرے «الَّذینَ ءامَنوا» سے مراد، اسی طرح اس سے قبل والی آیت میں جو «وَهُم راکِعون»(۶) ہے، آیت رکوع کہ جو کہتی ہے کہ حالت رکوع میں انفاق کرتے ہیں، اس سے مراد حضرت امیر المومنین علیہ الصلاۃ و السلام ہیں۔ «ءامَنوا» یہ لفظ اس آیت میں اسی جانب اشارہ ہے، یعنی وہ آیت جو «اِنَّما وَلِیُّکُمُ الله» (۷) کے بعد ہے۔ اس کے بعد یہاں پر «حِزبَ الله» کو، جو وہ لوگ ہیں جو اس ایمان کے مالک اور اس راہ پر چلنے والے ہیں، «غالبون» قرار دیا گيا ہے۔ یعنی ایک جگہ کفار کی مایوسی کا معاملہ ہے اور ایک جگہ پر اہل حق کے غلبے اور فتح کی بات کہی گئی ہے۔ امت اسلامی، اسلامی معاشرے اور خاص طور پر شیعہ سماج کے عمل کی بنیادیں یہی ہیں جو ان کی فتح اور کفار کی مایوسی کا سبب اور ہماری قوت و توانائی کا سرچشمہ ہے۔

اسلامی حکومت اور اسلامی مملکت کی حیثیت سے ہمیں جس چیز کو ہمیشہ مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ علوی حکومت کو معیار قرار دیں۔ خود کو علوی حکومت کے معیار پر پرکھیں۔ اس حکومت اور ہمارے اندر جتنا فاصلہ ہے اسے ہم اپنی پسماندگی شمار کریں۔ اگر ہم اچھے کام انجام دیتے ہیں، اگر روحانی اعتبار سے ہمیں کوئی ارتقا ملتا ہے، یا ایسے کام کرتے ہیں جو اسلامی اقدار کے مطابق باعث افتخار ہیں تو اس کی اہمیت کے اعتبار سے ہمیں چاہئے کہ حکومت علوی کے معیار پر اسے پرکھیں اور دیکھیں کہ ہمارے درمیان اور اس علوی حکومت کے طرز عمل کے درمیان کتنا فرق ہے۔ علوی حکومت میں ایک بنیادی معیار ہے عدل و انصاف، ایک معیار ہے پارسائی، پاکدامنی، ایک معیار ہے عوام دوستی، عوام کی ہمراہی۔ علوی  حکومت کے یہی تو صفات ہیں۔ امیر المومنین علیہ السلام کی زندگی عدل و انصاف کا آئینہ ہے، زہد کا آئینہ ہے، عوام دوستی کا آئینہ ہے، پاکیزہ زندگی کا آئینہ ہے۔ ان چیزوں کو ہمیں معیار بنانا چاہئے۔ واقعی ہمیں اس سمت آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہم امیر المومنین جیسے بن جائیں کیونکہ یہ ناممکن ہے۔ لیکن ہم اس بلند چوٹی کو اپنی ںظر میں رکھیں اور اسی سمت آگے بڑھیں۔ اب اگر کوئی شخص اس چوٹی تک نہیں پہنچ سکا تب بھی اس کی پیش قدمی تو اسی سمت میں ہوگی۔ یہ ہمارا فریضہ ہے۔ واقعی اسلامی حکومت میں ہم جیسے افراد جو اس کا حصہ ہیں تو ہمارا فریضہ یہ ہے کہ انصاف کی فکر میں رہیں، زہد کی فکر میں رہیں، پارسائی کی فکر میں رہیں، عوام کی مدد کی فکر میں رہیں، پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی فکر میں رہیں۔ ہماری سمت اور رجحان یہی ہونا چاہئے۔ ان شاء اللہ یہ عید آپ کے لئے اور آپ کے اہل خانہ کے لئے باعث برکت اور مبارک ہوگی۔

ہفتہ حکومت کی بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہفتہ حکومت ہمیں دو عزیز شہیدوں ' شہید رجائی اور شہید با ہنر' کے باشرف اور لازوال ناموں کی یاد دلانے کے علاوہ ان دونوں ہستیوں کو جو واقعی بڑی ممتاز اور بہت نمایاں ہستیاں تھیں، ہماری آنکھوں کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ہفتہ حکومت کی خود اپنی برکتیں ہیں۔ ان برکتوں میں سے ایک برکت یہی ہے کہ یہ حکومت کی چارہ سالہ مدت کا ایک مرحلہ گزر جانے کی نشانی ہے۔ ہر حکومت کے پاس چار سال کا وقت ہوتا ہے۔ چار سال کا موقع ہوتا ہے۔ ہفتہ حکومت یہ بتاتا ہے کہ اس چار سالہ مدت کا ایک مرحلہ مکمل ہوا اور یہ حکومتی عہدیدار کو، حکومتی ذمہ داران کو، خاص طور پر اعلی رتبہ حکام جیسے یہاں تشریف فرما آپ حضرات کو یہ موقع دیتا ہے کہ اپنی کارکردگی کا ایک جائزہ لیجئے۔ جب ہم خود اپنا محاسبہ کرتے ہیں تو بسا اوقات وہ اس تصویر سے الگ ہوتا ہے جو ایک انسان چاہتا ہے کہ اس کے تعلق سے پیش کی جائے اور دوسروں کو دکھائی جائے۔ کبھی تو یہ جائزہ واقعی ہمیں خوش کرتا ہے اور کبھی ممکن ہے کہ ہمیں یہ نظر آئے کہ ہمارا یہ خود احتساب ہمیں متنبہ کر رہا ہے اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے، کوئی اقدام انجام دینا چاہئے تاکہ بھرپائی ہو جائے۔ تو ہفتہ حکومت اس طرح کا موقع ہے۔

ہفتہ حکومت میں ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ حکومتی عہدیداران کی حوصلہ افزائی کا بھی یہ موقع  ہے۔ واقعی جس شخص کا بھی کسی طور پر حکومت سے سروکار ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومتی عہدیداران کی حوصلہ افزائی کرے۔ یہ کام بہت بڑا ہے، بہت سنگین ہے۔ حکومت کے دوش پر جو ذمہ داریاں ہیں، حکومت سے مراد اوپر سے لیکر نیچے تک پوری مجریہ ہے۔ اس کے دوش پر ذمہ داریوں کا بہت بڑا اور وسیع بوجھ ہے۔ سیاسی و اقتصادی مسائل سے لیکر علم و ثقافت، سماجی مسائل، انفراسٹرکچر کے مسائل، نقل و حمل، انرجی وغیرہ، سروسیز اور دیگر چیزیں، یہ سب کاموں کا بہت وسیع مجموعہ ہے جو حکومت کے ذمے ہے۔ کئی ہزار افراد کام کر رہے ہیں، محنت کر رہے ہیں۔ اس پورے سسٹم میں بہت سے افراد ایسے ہیں جو حقیقت میں اپنی پوری توانائی سے کام کر رہے ہیں، بلکہ جتنی ان سے توقع ہے اس سے زیادہ کام کر رہے ہیں تاکہ بہترین انداز میں اپنا کام مکمل کر سکیں۔ واقعی ان کی قدردانی کرنا چاہئے۔ ہمارے وطن عزیز جیسے وسیع و عریض ملک میں جہاں 80 ملین کی آبادی ہے، اتنے بڑے شعبے کو سنبھالنا کافی دشوار کام ہے۔ یہ آسان کام نہیں ہے۔ بڑا دشوار اور اہم کام ہے۔ جو لوگ ان کاموں میں مصروف ہیں انھیں اس کا بہتر ادراک ہے۔ جو شخص باہر کھڑا ہے وہ ہو سکتا ہے کہ کسی اور نظر سے دیکھے اور رائے قائم کرے۔ لیکن انسان جب بیچ میدان میں ہو، میں کئی سال اجرائی کام میں مصروف رہ چکا ہوں، مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ یہ  کتنا دشوار کام ہے، کتنی مشکلات در پیش ہوتی ہیں۔ اگر یہ بیرونی مشکلات جیسے خبیث دشمنوں کی دشمنی ہے، نہ ہوں تب بھی اجرائی کام بہت دشوار ہوتا ہے۔ ہم اپنے طور پر آپ تمام بھائیوں اور بہنوں کی قدردانی کرتے ہیں۔ اللہ آپ کو کامیاب کرے۔ اللہ آپ کی مدد فرمائے اور آپ جو چاہیں اسے انجام دینے میں کامیاب ہوں۔

ہفتہ حکومت میں ضروری ہے کہ خامیوں اور خوبیوں کی بنیادی طور پر خود عہدیداران کے ذریعے نشاندہی کی جائے۔ خامیوں اور خوبیوں دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہئے۔ بعض ہیں جو صرف خامیوں پر نظر رکھتے ہیں، خوبیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس روش کا خطرہ یہ ہے کہ انسان بدگمانی اور مایوسی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر کچھ لوگ صرف خامیوں کو دیکھتے رہیں گے اور خوبیوں پر کوئی توجہ نہیں دیں گے تو یہ بری چیز ہوگی خود ان افراد کے لئے۔ اگر کوئی عہدیدار اس انداز سے عمل کر رہا ہے تو یہ بری بات ہے، اس سے خود اس کے اندر سرد مہری چھائی رہے گی اور اسے دیکھنے والے دوسرے افراد بھی سرد مہری میں مبتلا ہوں گے۔ اس کے برعکس صورت بھی ہوتی ہے۔ اگر صرف خوبیوں کو ہم دیکھیں گے اور خامیوں پر کوئی توجہ نہ دیں گے تو اس سے دوسری برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں خامیاں جمع ہوتی چلی جاتی ہیں، انسان صحیح راستہ اختیار نہیں کرتا اور اپنی منزل تک نہیں پہنچ پاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ خامیوں کو بھی دیکھا جائے اور خوبیوں کو بھی مد نظر رکھا جائے۔ جو مثبت پہلو ہیں انھیں تقویت پہنچائی جائے اور جو خامیاں ہیں انھیں جہاں تک ممکن ہے لکھ لیا جائے اور ایک ایک کرکے دور کیا جائے۔ تمام امور میں یہ روش کارگر ہے۔ ذاتی مسائل میں بھی یہی ہونا چاہئے۔

خوش قسمتی سے اس حکومت میں یعنی بارہویں حکومت میں واقعی کچھ خوبیاں ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ بارہویں حکومت کا پہلا سال جو گزرا ہے اس میں حالانکہ کچھ وقت کابینہ کے انتخاب، وزرا کی تقرری  اور اس عمل کی جو دیگر مشکلات ہیں ان سے نمٹنے میں صرف  ہوا، لیکن پھر بھی بڑے اچھے کام انجام دئے گئے۔ بہت اچھے کام ہوئے۔ اس طرح کے اہم کاموں کا ذکر جناب صدر محترم کی تقریر میں تھا۔ اقتصادی شعبے میں چار اعشایہ چھے فیصدی کی ترقی اچھی چیز ہے اور اچھی کامیابی ہے جو حاصل ہوئی ہے۔ حالانکہ ہم نے ترقیاتی منصوبے میں آٹھ فیصدی کی شرح کا ہدف رکھا ہے جس کے مقابلے میں یہ کافی کم ہے لیکن پھر بھی ان حالات میں چار اعشاریہ چھے فیصدی اچھی شرح ہے۔ حکومت کے لئے بہت قابل قبول نمو ہے۔ بعض شعبوں جیسے انرجی اور زراعت میں بہت اچھی پیداوار ہوئی ہے۔ اس سال کی ان تین مہینوں میں ملکی برآمدات میں تقریبا 20 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے، درآمدات میں 5 فیصدی کی کمی ہوئی ہے۔ یہ بہت اچھی تبدیلیاں ہیں جو انجام پائی ہیں۔ یہ قابل قدر ہیں۔ یہ عوام کے سامنے، سوال کرنے والوں کے سامنے اور رائے عامہ کے سامنے پیش کئے جانے کے قابل ہیں۔ اس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ غیر پیٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافے اور درآمدات میں کمی کا یہ عمل رواں سال کے آخر تک ان شاء اللہ جاری رہے گا۔ یعنی آپ اس پر کام کیجئے۔ دوسرے شعبوں میں بھی بہت اچھا کام ہوا ہے۔ اس ہفتے میں آپ حضرات ان کاموں کی اطلاع رسانی کا عمل انجام دے رہے ہیں۔ میں بھی کبھی کبھی دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ واقعی بہت اچھا ہے۔ البتہ ہمیں یہ بھی اعتراف کرنا چاہئے اور قبول کرنا چاہئے کہ تشہیراتی میدان میں ہمیں مہارت نہیں ہے۔ یعنی واقعی حکومت بھی، ہم لوگ بھی، ہم سب کے سب تشہیراتی میدان میں بہت اچھے انداز میں اور پیشہ ورانہ انداز میں کام نہیں کر پاتے۔ لیکن پھر بھی جس مقدار میں یہ کام انجام دیا جا رہا ہے وہ بھی اچھا ہے کہ لوگوں کے علم میں آئے۔

میں آج تین چیزوں کے بارے میں کچھ انتباہات دینا چاہتا ہوں۔ ایک تو اقتصادی مسائل کے بارے میں جو آج ہمارا سب سے بنیادی مسئلہ ہے، دوسرے خارجہ مسائل یا خارجہ سیاست کے بارے میں، تیسرے داخلی اتحاد و یکجہتی کے بارے میں جس کا ذکر صدر محترم نے بھی کیا۔

اقتصادیات کے بارے میں اس سال کے آغاز سے اور اس سال سے قبل بھی احباب سے ہماری کئی میٹنگیں ہوئیں۔ میں نے کچھ باتیں اور کچھ نکات بیان کئے جن پر ایک بار پھر تاکید کرتا ہوں، میں وہ باتیں دہرانا نہیں چاہتا۔ تینوں شعبوں کے سربراہوں کی ہم آہنگی کا اجلاس بھی جو اقتصادی کاموں کے لئے اور اقتصادی مدد کے لئے منعقد ہوتا ہے اس سے کچھ برکتیں اور فائدے حاصل ہوئے۔ یعنی اس اجلاس کا عمومی حالات پر مثبت اثر پڑا اور مزید مثبت اثرات ہو سکتے ہیں۔ یہ سلسلہ جاری رہنا چاہئے۔ حضرات! عام طور پر جب دو انسان ایک ساتھ بیٹھتے ہیں تو ان میں اشتراکات پیدا ہوتے ہیں، کچھ چیزوں میں اختلاف بھی ہوتا ہے، لیکن اس اختلاف کی وجہ سے انسان اشتراکات کو فراموش نہیں کر سکتا۔ آخر دنیا میں مذاکرات اور گفتگو کی بات ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں حکومت یا فلاں ملک سے مذاکرات کرتے ہیں۔ جب دشمنوں اور مخالفین سے اور اس طرح کے افراد سے مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو پھر اپنے افراد کے ساتھ بدرجہ اولی مذاکرات ہونا چاہئے۔ کسی چیز کے بارے میں اختلاف ہے تو اس پر بات ہو۔ ایک بات آپ کہیں گے، ایک بات دوسرا شخص کہے گا، آخرکار کسی مشترکہ نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ یہ عمل جاری رہنا چاہئے۔

اقتصادی میدان میں بہت محکم انداز میں بھرپور کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوستو! دیکھئے دشمن اقتصادی شعبے پر نظریں لگائے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتصادی شعبے میں کچھ خلا ہے، کچھ خامیاں ہیں، عسکری اصطلاح میں کہاں جائے کہ 'راڈار بلائینڈ اسپاٹ' موجود ہیں جہاں سے دشمن دراندازی کرنے میں کامیاب ہوا۔ ہمیں ان 'راڈار بلائنڈ اسپاٹس' کو بند کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی خامیوں کا صحیح ادراک ہونا چاہئے اور انھیں برطرف کرنا چاہئے۔ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ یہ تمام کام جنھیں انجام دیا جانا ضروری ہے وہ سب ہمارے بس میں ہیں۔ ملکی معیشت کو سنبھالنے کے راستے موجود ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم بند گلی میں پہنچ گئے ہیں، نہیں۔ راستے موجود ہیں اور پوری خود اعتمادی سے اس راستے پر آگے بڑھا جا سکتا ہے اور آگے جایا جا سکتا ہے۔ آپ کو یہ کام کرنا چاہئے۔ آپ کو اس میدان میں اترنا چاہئے۔ بھرپور انداز میں معیاری کام کیجئے۔ ملک کے اقتصادی شعبے کے عہدیداران نہ دن دیکھیں نہ رات!

مزاحمتی معیشت کی بحث اور مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کی بات ہوئی۔  مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کی بنیاد اور نچوڑ ہے داخلی پیداوار پر تکیہ کرنا۔ یہ بنیاد ہے۔ مزاحمتی معیشت کی پالیسیوں کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں دفاعی محاذ تعمیر کئے جائیں۔ یعنی واقعی اگر ان پالیسیوں پر باریک بینی سے پوری طرح عمل کیا جائے تو اس سے دفاعی محاذ تعمیر ہو جائے گا۔ یہ دفاعی محاذ کی تعمیر کا کام ہے۔ یہ آگے بڑھنے کے لئے اپنی بنیادیں مضبوط کرنے کا عمل بھی ہے۔ یعنی مزاحمتی معیشت میں دفاعی پہلو بھی ہے اور اقدامی پہلو بھی ہے اور اس کا محور ہے داخلی پروڈکشن۔ لہذا مجھے تینوں شعبوں کے سربراہوں کے اجلاس سے بھی یہی توقع ہے کہ اس میں جو بحثیں ہوتی ہیں، جو موضوعات زیر بحث آتے ہیں، اس اجلاس سے متعلق ماہرین جو بحث کرتے ہیں، اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پیداوار کے مسئلے پر تاکید کی جائے۔ ہم یہ دیکھیں کہ ملک میں داخلی پیداوار کے راستے کی رکاوٹیں کیا ہیں اور پھر ہم مختلف طریقوں سے ان رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش میں رہیں۔ میں ماہر اقتصادیات نہیں ہوں لیکن اقتصاددانوں کے تبصرے پڑھتا ہوں۔ ملک کے ماہرین اقتصادیات جن میں سے بہتوں کو آپ جانتے ہیں، کچھ تجاویز پیش کر رہے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔ راستے موجود ہیں جن پر چل کر ہم ملکی پیداوار کو سہارا دے سکتے ہیں۔

ایک اور مسئلہ عوامی معیشت کا ہے، اس کا بھی تعلق پروڈکشن سے ہے۔ ہم عوامی معیشت کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو اس کا ایک بہترین طریقہ یہی ہے کہ حقیقی معنی میں داخلی پیداوار کے مسئلے پر توجہ دی جائے۔ اس وقت عوام معیشت کے میدان میں مشکلات سے روبرو ہیں، عوام کا بڑا طبقہ مشکلات میں ہے۔ کارخانے کے بند ہونے یا اپنی گنجائش سے کم کام کرنے کے مسئلے کو حل کیا جائے۔

اقتصادی مسائل کے سلسلے میں ایک اہم مسئلہ جس کے سلسلے میں انتباہ دے دینا ضروری ہے اقتصادی مینیجمنٹ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ملکی اقتصاد کو مینیج کرے۔ مینیجمنٹ کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اپنے ہاتھ میں لے لے۔ حکومت کا اقتصادی امور کو اپنے ہاتھ میں لے لینا ملک کے لئے ضرر رساں ہے۔ ہم نے انقلاب کے دوران عملی طور پر اس کا تجربہ کیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ان امور کو اگر حکومت اپنے ہاتھ میں لے لے تو یہ اچھا نہیں ہے۔ آرٹیکل 44 کی تمام پالیسیاں اسی لئے تھیں کہ حکومت اقتصادی امور کو اپنے ہاتھ میں نہ رکھے۔ تو اس چیز کو ہم بالکل اپنے ذہن سے نکال دیں۔ یعنی میں جس مینیجمنٹ کی بات کر رہا ہوں اس کا یہ مطلب ہرگز نہ نکالا جائے کہ حکومت اقتصادیات کو اپنے ہاتھ میں لے۔

اقتصادیات کو مینیج کرنے کے دو بنیادی پہلو ہیں۔ ایک یہ ہے کہ ہم باکردار اقتصادی افراد کی سرگرمیوں کے لئے میدان کھول دیں، ان کے لئے میدان کھول دیا جانا چاہئے اور ان کی مدد کی جانی چاہئے۔ اقتصادیاتی فکر رکھنے والے ماہرین بیٹھ کر جائزہ لیں کہ اقتصادی شعبے میں سرگرم افراد کی مدد کے لئے کیا طریقے ہو سکتے ہیں۔ ان کی پیشرفت کے راستے میں جو رکاوٹیں اور پریشانیاں ہیں وہ کیا ہیں؟ انھیں دور کریں۔ میں ابھی ایک دو مثالیں دوں گا۔ اقتصادی مینیجمنٹ کا ایک پہلو یہ ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ حکومتی ادارے کھلی آنکھوں سے، ہوشیاری کے ساتھ، دانشمندی کے ساتھ ضرر رساں اقتصادی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ یعنی جیسے ہی کوئی تاجر یا صنعت کار کوئی مضر اقدام کرے فورا اس پر توجہ دیں، اس کا سد باب کریں، بدعنوانی کے راستوں کو بند کریں۔ اقتصادیات کو مینیج کرنے کا یہ مطلب ہے۔ اقتصاد کو پوری طرح اپنے اختیار میں لے لینا بالکل الگ چیز ہے۔

میں اس پہلے حصے یعنی اقتصادی شعبے میں سرگرم افراد کی مدد کے بارے میں ایک مثال حالیہ ایام کی دیتا ہوں۔ البتہ مثالیں بہت سی ہیں۔ ملک میں ایسے افراد موجود ہیں جو کوئی اقتصادی کام شروع کرتے ہیں، ان کی مدد کی جانی چاہئے۔ میں نے جو کہا کہ حالیہ ایام کی ایک مثال تو اسٹیشنری کا معاملہ ہے۔ کچھ بلند ہمت نوجوان ہیں جو ملک کے اندر اسٹیشنری کا پروڈکشن کر رہے ہیں۔ اسٹیشنری بہت اہم چیز ہے۔ اسٹیشنری، کاغذ، قلم، پینسل وغیرہ کا استعمال دیکھئے، بہت بڑی مقدار ہے اور ہم ان میں سے بہت سی چیزیں بیرون ملک سے خرید رہے ہیں جس کا ثقافتی اثر بھی ہے اور اقتصاد اثر بھی پڑتا ہے۔ مٹھی بھر نوجوان ہیں جو دو تین سال سے، تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے، مجھے اس وقت بالکل صحیح وقت یاد نہیں ہے، اس بات پر کمر بستہ ہوئے کہ ملک کے اندر اسٹیشنری کا  پروڈکشن کریں۔ انھیں پشت پناہی کی ضرورت ہے۔ ان کی مدد کی جانی چاہئے۔ مگر مدد نہیں کی جاتی۔ اتنا ہی نہیں، بعض اوقات تو ان کے کام میں رکاوٹ بھی ڈالی جاتی ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ رکاوٹ حکومتی عہدیدار یا کسی وزیر کی جانب سے ڈالی جا رہی ہو، نہیں، ممکن ہے کہ وزیر کو کوئی خبر ہی نہ ہو، لیکن ایسے کچھ افراد ہیں جو رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اس کا سد باب ہونا چاہئے۔ کچھ عرصہ پہلے ان میں سے بعض نوجوان میرے پاس آئے تھے۔ انسان صاف طور پر دیکھ سکتا ہے کہ ان کے اندر جوش و جذبہ ہے، اپنے پورے وجود سے آمادہ ہیں، قوت و توانائی سے بھرے ہوئے ہیں، خلاقانہ صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ لیکن مالیاتی توانائی نہیں ہے۔ ان کی مدد کرنا چاہئے۔ ان کی مدد کے لئے بینکوں کی کئی ہزار ارب کی بقایا رقم جیسے بجٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ وہاں تو کوئی ایک شخص کئی ہزار ارب کا مقروض ہے۔ یہاں یہ صورت حال نہیں ہے۔ بہت ہی معمولی مدد کی ضرورت ہے۔ ایک چھوٹی سی مدد سے، ایک ذرا سی پشت پناہی سے، آگے بڑھنے کے عمل مں ہلکے سے سہارے کے ذریعے ان کا کام ہو سکتا ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں۔ دیکھئے میرا اقتصادی امور اور اجرائی مسائل سے کوئی ربط نہیں ہے لیکن پھر بھی لوگ رجوع کرتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ بہت سے عہدیداران اور وزرا سے بھی لوگ رجوع کرتے ہوں گے۔ ایسے افراد خاصی تعداد میں ہیں۔ ان کی مدد کرنا چاہئے۔ ہمارے ساتھ تو یہ چیز بہت دفعہ پیش آئی، بہت دفعہ کا مطلب یہ ہے کہ کئی بار ایسا ہوا کہ لوگ آئے اور شکایت کی۔ بعض اوقات میں نے سفارشات بھی کیں۔ ایک ضروری کام یہ بھی ہے جو انجام دیا جانا چاہئے۔ ایسی مثالیں بہت ہیں۔

ایک مسئلہ میدان کھولنے کا ہے۔ یعنی کام کاج اور تجارت کے لئے فضا کو سازگار بنانا۔ حال ہی میں مجھے ایک رپورٹ ملی، اس وقت مجھے اس کی تفصیلات یاد نہیں ہیں، تاہم اس کی بنیادی چیزیں کچھ اس طرح کی  تھیں کہ ایک خاص معاملے میں بہت کم مدت کے اندر، مثلا دو تین مہینے کے اندر عہدیداران کی جانب سے 30 سرکولر جاری کئے گئے! ایسی صورت میں کوئی بھی تاجر مستقبل کے بارے میں کیسے کوئی منصوبہ بندی کر سکتا ہے؟ جو شخص اس میدان میں اور ایک خاص شعبے میں کام کرنا چاہتا ہے وہ منصوبہ بندی کیسے کر پائے گا؟ ایک کے بعد دوسرا سرکولر۔ ایک  ہی چیز کے بارے میں متصادم بلکہ بعض اوقات متضاد فیصلے۔ یہ چیزیں ختم ہونی چاہئیں۔ یعنی یہ چیزیں کام میں رکاوٹ ہیں۔ ایک تاجر اور سرمایہ کار کو جس سکون و استحکام کی ضرورت ہوتی ہے وہ آپ پیدا کیجئے۔ چنانچہ ہم نے عرض کیا کہ مینیجمنٹ کا ایک ستون یہ ہے کہ جو عوامی ٹیمیں سرگرم عمل ہیں ان کی مدد کریں۔ میدان کو ان کے لئے کھولیں۔ ان کے راستوں کی رکاوٹوں کو ہٹائیں۔ میں نے یہیں پر دو تین سال قبل ایک ملاقات میں بیان کیا تھا، تاہم اس وقت مجھے یاد نہیں ہے کہ ایک پولٹری فارم کے اندر ایک چیز بنانی تھی، اس وقت مجھے یاد نہیں ہے، اس دن جب میں نے یہاں بیان کیا تھا تو تفصیل سے بیان کیا تھا۔ میں نے بتایا کہ نجی سیکٹر میں کام کرنے والے افراد کی ایک رپورٹ مجھے ملی تھی کہ ایک چھوٹے سے کام کے لئے اس آدمی کو کئی مہینے کی بھاگ دوڑ کرنی پڑتی تھی کہ وہ اپنے اس اقتصادی  پروجیکٹ کے ساتھ یہ چھوٹا سا کام بھی شروع کر سکے۔ یہ چیزیں کم کرنا چاہئے۔ راستے کھول دینا چاہئے کہ لوگ آرام سے اپنا کام انجام دیں۔ یہ پہلا حصہ ہے۔

دوسرا حصہ بدعنوانی کا مقابلہ اور بدعنوانی کے راستوں کو بند کرنا ہے۔ عہدیداران کی آنکھیں کھلی رہیں، اس چیز کی بہت ضرورت ہے۔ دیکھئے حال ہی میں وزارت انٹیلیجنس نے ایک رپورٹ ہمیں بھیجی۔ میں نے اس رپورٹ کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ نومبر 2017 سے جولائی 2018 تک اس وزارت نے اقتصادی بدعنوانی کے بارے میں 56 انتباہات الگ الگ حکومتی اداروں کو بھیجے۔ وزارت انٹیلیجنس کا یہ کام شاندار تھا۔ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ اس پر کس حد تک عمل ہوا اور اسے کس حد تک نظر انداز کیا گيا؟ مگر یہ اپنے آپ میں بہت اہم ہے کہ چند مہینوں کے دوران وزارت انٹیلیجنس اتنے سارے مواقع کا سراغ لگاتی ہے اور 56  انتباہات دیتی ہے۔ انھیں واقعات کے سلسلے میں جو حالیہ دنوں پیش آئے، جناب روحانی صاحب نے بھی اشارہ کیا اور اپنی توجیہ بھی بیان کی، آپ کی توجیہ صحیح ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اس توجیہ کے ساتھ ہی کسی حد تک غفلت اور بے انتظامی و بے توجہی بھی ہوئی ہے۔ جب ہم فارن کرنسی کو کسی بھی وجہ سے بازار میں لانا چاہتے ہیں، اس لئے کہ ہمیں اس کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے، ہم بازار میں فارن کرنسی کی قیمت نیچے لانا چاہتے ہیں، تو ہمیں یہ کام کھلی آنکھوں کے ساتھ انجام دینا چاہئے تاکہ ایسا نہ ہو کہ ہمارے ان سخت حالات میں کئی ارب کی رقم مٹھی بھر اسمگلروں کے ہاتھ لگ جائے اور وہ اسے لے جاکر عراق کے کردستان میں فروخت کریں، یا داخلی بازار میں اسے بیچ کر پیسہ کمائیں۔ یا سیاحت کے نام پر لیں اور خرچ کہیں اور کریں۔ اسے سب جانتے ہیں۔ کوئی خاص سامان باہر سے لانے کے لئے فارن کرنسی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن کوئی اور سامان لیکر آتے ہیں۔ ان چیزوں کا عہدیداران سد باب کر سکتے ہیں۔ میں صدر محترم سے یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم ہر شخص کے سر پر ایک پولیس اہلکار بٹھا دیں جو دیکھتا رہے کہ وہ کیا کر رہا ہے اور کیا نہیں کر رہا ہے؟ نہیں، اب تو اس کے طریقے موجود ہیں، روشیں موجود ہیں، پیشرفتہ روشیں موجود ہیں۔ ان چیزوں کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ نگرانی کرنا چاہئے۔ یعنی کھلی آنکھوں سے نگرانی کرنا چاہئے۔ یہ اقتصادی مینیجمنٹ ہے۔ میری نظر میں تو آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہماری حکومت اسے انجام دینے پر قادر ہے۔ یہ محال کاموں میں نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اس کو انجام دینے میں غیر معمولی مشکلات در پیش ہوں۔ نہیں، بس توجہ سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ مجاہدانہ انداز میں بیچ میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔ آپ یہ کام انجام دے سکتے ہیں۔

کوئی پیسہ لیتا ہے کہ کسی خاص جنس کو، کسی ضروری سامان کو، ایسے سامان کو جس کی آپ نے اجازت دی ہے ملک میں امپورٹ کرے، یا دوا امپورٹ کرے۔ لیکن اس پیسے کو وہ کسی اور کام میں صرف کر دیتا ہے۔ یا مثال کے طور پر ہم نے آرٹیکل 44 میں کہا ہے کہ حکومتی کارخانے عوام کو فروخت کئے جائیں۔ کس لئے فروخت کئے جائیں؟ اس لئے فروخت کئے جائیں کہ وہ کارخانے بند ہو جائیں؟ یا نہیں، اس لئے فروخت کریں کہ ان میں کام ہو؟ ایک شخص کارخانے کو لیتا ہے۔ اس کارخانے میں جو مشینیں موجود ہیں، ملک کے اندر بنائی گئی ہیں یا باہر سے لائی گئی ہیں اور بڑی محنت سے ان مشینوں کو نصب کیا گيا ہے، ترتیب سے لگایا گيا ہے، اس لوہے کو کباڑ کی شکل میں بیچ دیتا ہے اور اس کی زمین پر بڑا شاپنگ سینٹر تعمیر کر دیتا ہے۔ یہ کام کیوں کیا جاتا ہے؟ اس کا سد باب کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا سد باب عدلیہ کو کرنا چاہئے۔ یہ تو حکومتی عہدیدار کی ذمہ داری ہے کہ یہ دیکھ لے کہ کارخانہ کس شخص کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ آرٹیکل 44 نے کہا ہے کہ کارخانے عوام کو دئے جائیں تاکہ وہ باقی رہیں، تاکہ وہاں مصنوعات کی پیداوار ہو، اس لئے نہیں کہ شاپنگ مال میں تبدیل ہو جائیں اور کارخانے ختم ہو جائیں۔ ایسا ہوا ہے۔ یہ صرف آپ کے زمانے کی بات نہیں ہے۔ آپ سے پہلے بھی یہ کام ہوا ہے۔ اقتصادی مینیجمنٹ یہی چیزیں ہیں اور ان چیزوں پر توجہ دینا چاہئے۔

البتہ میں نے دو کیسز نوٹ کئے تھے۔ ایک کیس تو ایسا ہے جہاں منفعت پسندی کا معاملہ نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ جناب منافع کمانے کے لئے اس شخص نے، اقتصادی کرپٹ انسان نے یہ کام کیا ہے۔ یہ تو سراسر تخریب کاری ہے۔ مثال کے طور پر آپ دیکھئے کہ اچانک یہ ہوتا ہے کہ تہران یا دیگر بڑے شہروں میں بچوں کے ڈائپر کی کمی ہو جاتی ہے! ایسا ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ یہ مفروضہ نہیں ہے۔ آخر ڈائپر؟! یہ چیز عوام کو برافروختہ کرنے والی ہے۔ فریق مقابل، دشمن چاہتا ہے کہ عوام حکومتی اداروں سے ناراض ہوں۔ اس کا ایک طریقہ یہی ہے۔ ڈائپر! یا عید نوروز سے قبل جب دھلائی اور صفائی ستھرائی کا کام ہوتا ہے یکبارگی ڈٹرجنٹ پاؤڈر اور دیگر چیزوں کی قلت ہو جائے۔ یہ تخریبی اقدام ہے۔ ان چیزوں کی کھلی آنکھوں سے نگرانی کرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

میں اقتصادی مسائل کے ذیل میں یہاں ایک اور اہم نکتہ پیش کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہمارا ملک اقتصادی صلاحیتوں اور گنجائش کے اعتبار سے بڑا ممتاز ملک ہے، بڑی اعلی سطح کا ملک ہے۔ ہمارے پاس اقتصادی صلاحیتیں اور امکانات بکثرت موجود ہیں۔ اگر ان امکانات اور صلاحیتوں کو بخوبی استعمال نہ کیا جائے تو یہ واقعی کفران نعمت ہے۔ اللہ  تعالی فرماتا ہے؛ اَلَم تَرَ اِلَی الَّذینَ بَدَّلوا نِعمَتَ اللهِ کـُفرًا(۸) ہمیں نعمت خدا کے سلسلے میں کفران نعمت نہیں کرنا چاہئے۔ ہمارے پاس غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں۔ آئی ایم ایف وغیرہ جیسے عالمی اداروں کی طرف سے ایک اسٹڈی کی گئی ہے جس کی رپورٹ مجھے ملی۔ کہتے ہیں کہ ایران کی جی ڈی پی، یعنی در حقیقت ملک کے اندر جو صلاحیتیں بروئے کار لائی جا چکی ہیں اور جن کے نتائج حاصل ہو رہے ہیں، یعنی جو کچھ عملی طور پر انجام پا چکا ہے، دنیا میں اٹھارہویں مقام پر ہے۔ یعنی دو سو سے زیادہ ملکوں کے درمیان ہم اٹھارہویں پوزیشن پر ہیں جی ڈی پی کے اعتبار سے۔ جی ڈی پی کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ملک کے اندر موجود توانائیوں اور صلاحیتوں کا جو حصہ استعمال کر لیا ہے اور اس کا نتیجہ حاصل کر لیا ہے۔ یہ بہت اچھی پوزیشن ہے۔ یہ عالمی تحقیقات کہتی ہیں۔

ایک تحقیق اور بھی ہے، یہ عالمی بینک کی ہے۔ سنہ 2013 میں ایران ہنوز بروئے کار نہ لائی گئی داخلی توانائیوں اور صلاحیتوں کے اعتبار سے دنیا میں پہلے مقام پر تھا۔ یہ سن کر آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟ یہ کوئی ایرانی ماہر اقتصادیات نہیں کہہ رہا ہے کہ اس کی بات کو کسی الگ ہی چیز پر محمول کر دیا جائے۔ یہ بات ملکی صلاحیتوں کا جائزہ لینے والا ایک عالمی ادارہ کہہ رہا ہے جو جغرافیائی توانائیوں، افرادی قوت، موسمیاتی امکانات، معدنیاتی صلاحیتوں اور زیر زمین وسائل وغیرہ کو دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہے۔ ہمارے ملک میں اچھوتی صلاحیتیں اور توانائياں اتنی زیادہ ہیں کہ اس اعتبار سے ہم دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں۔ یہ 2013 کی بات ہے۔

بنابریں صلاحیتوں اور توانائیوں کو استعمال نہ کرنا قابل توجہ نکتہ ہے۔ یہ بات میں بارہا الگ الگ تقریروں میں کہہ چکا ہوں اور ایسی کچھ مثالیں بھی پیش کیں جہاں صلاحیتوں کو ہنوز بروئے  کار نہیں لایا گيا ہے۔ اب اس وقت اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بحثیں ماہرین کے اجلاس میں ہوں تو زیادہ بہتر ہے اور اہم ہے کہ نشاندہی ہو سکے کہ کون سی ظرفیت اور صلاحیت ہے جسے ہنوز استعمال نہیں کیا گيا ہے۔ ان صلاحیتوں کی ایک فہرست موجود ہے۔ تو ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے۔

صلاحیتوں اور امکانات کا خراب استعمال بھی ہے۔ ہماری ایک مشکل خراب استعمال کرنا بھی ہے۔ ابھی ڈاکٹر روحانی صاحب نے کہا کہ ممکن ہے کہ ہم پیٹرول کی درآمدات سے بے نیاز ہو جائیں۔ یہ بہت اچھی خبر ہے۔ لیکن یہ خبر اپنی جگہ بہت بری ہے کہ ہم جو دنیا میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں ہیں، باہر سے پیٹرول درآمد کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ہم خام تیل کیوں فروخت کرتے ہیں؟ ہم گیس کو الگ الگ پروڈکٹس میں، ایل این جی میں تبدیل کیوں نہیں کرتے؟ کچے تیل سے ہم پیٹرول کیوں نہیں بناتے اور پیٹرول کیوں ایکسپورٹ نہیں کرتے؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ یہ خراب استعمال کرنے کی مثال ہے۔ میں نے کئی سال پہلے، شاید پندرہ سولہ سال قبل اس وقت کی حکومتوں سے بار بار کہا کہ داخلی ریفائنریوں کے مسئلے پر، ریفائنریوں کو ڈیولپ کرنے کے مسئلے پر اور گوناگوں پیٹرولیم پروڈکٹس تیار کرنے کے مسئلے پر کام کیا جائے۔ یہ کام انجام پانا چاہئے۔ جناب روحانی صاحب نے جاکر ستارہ خلیج فارس ریفائنری کے دو فیز کا افتتاح کیا۔ اس سے ملک کے اندر پیداوار کی مقدار کافی بڑھی۔ یہ بہت اہم چیز ہے۔ ہمیں اسی لائن پر آگے بڑھنا چاہئے۔ ہمیں پیٹرول باہر سے امپورٹ کیوں کرنا پڑے؟ کچھ برسوں کے دوران ایسے مواقع آئے کہ ہم نے اربوں کی رقم دی پیٹرول خریدنے کے لئے۔ جس ملک کے پاس تیل کے اہم ذخائر موجود ہیں اور جو تیل برآمد کر رہا ہے وہ کچے تیل کے ایک پروڈکٹ پیٹرول کو باہر سے خریدے؟! یہ بہت عجیب و غریب چیز ہے۔ اس پر توجہ دینا چاہئے۔ اس پر کام کرنا چاہئے اور کام ہو سکتا ہے۔ اسی طرح گیس کا مسئلہ بھی ہے جس کا میں نے ذکر کیا۔

میری نظر میں ملک کے اندر وسائل کو خراب طریقے سے استعمال کرنے کی ایک اور مثال پیٹرول کا زیادہ استعمال بھی ہے۔ اس دن آپ نے مجھ سے کہا کہ یومیہ 105 ملین لیٹر پیٹرول ملک میں استعمال ہوتا ہے۔ میں نے ایک جگہ ایک رپورٹ میں پڑھا کہ اس سے زیادہ خرچ ہوتا ہے۔ 120 ملین لیٹر۔ اگر 105 ملین لیٹر ہے تو بھی کیوں؟ ہم اتنا پیٹرول کیوں استعمال کریں؟ ایک زمانے میں عہدیداران یومیہ 65 ملین لیٹر تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ یومیہ 65 ملین لیٹر سے بھی کم ہو گيا تھا۔ یہ کام ہوا تھا۔ البتہ بعد میں خود ان لوگوں نے گڑبڑ کر دی۔ مگر یہ کام ممکن ہے۔ یہ کام ہو سکتا ہے۔ اس کے راستے موجود ہیں۔ آپ ان راستوں کو استعمال کیجئے۔ پورے استحکام کے ساتھ آگے بڑھئے۔ ممکن ہے کہ کچھ افراد یا کچھ خاندان جن کے  پاس پانچ پانچ گاڑیاں ہیں اس سے ناراض ہوں، تو ہونے دیجئے! 105 ملین لیٹر میں سے کتنی مقدار ملک کے عوام کی اکثریت کو ملتی ہوگی؟ یعنی یہ چیزیں میری نظر میں بہت اہم ہیں۔ اس کا سد باب کیا جانا چاہئے۔ یہ نہ ہونے دیجئے۔ اس کام کا بڑا حصہ وزارت پیٹرولیم کے ذمے ہے، البتہ سارے حکومتی ادارے اس سلسلے میں فیصلہ کریں اور یہ سلسلہ روکیں۔ حکومت کے اخراجات کو کنٹرول کرنے کا نکتہ بھی اہم ہے، یہ سب مختلف انتظامی پہلو ہیں۔ اس سلسلے میں بہت سی باتیں ہیں، تاہم اس گفتگو کو طول نہیں دینا چاہتا۔

ہمارا ایک اور اہم اقتصادی مسئلہ ہے نجی سیکٹر کی توانائیاں۔ ہم نے پرائیویٹ سیکٹر کی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ کبھی کبھی ہم کارخانوں کو آرٹیکل 44 (نجکاری سے متعلق آئینی آرٹیکل) کے مطابق ایسے افراد کے ہاتھوں میں سونپ دیتے ہیں جو ناکارہ ہیں۔ لیکن عام طور پر ہم پرائيویٹ سیکٹر کو موقع نہیں دیتے، ہم عوام کے سرمائے کو بخوبی بروئے کار نہیں لاتے۔ کامرس چیمبر کی ایک ٹیم نے سپریم قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹریئیٹ میں ایک میٹنگ کی اور بڑی تفصیل سے بات کی۔ میں نے وہ باتیں پڑھیں۔ میرے خیال میں تو آپ حضرات کو بھی پڑھنا چاہئے۔ آپ سنئے اور دیکھئے ان باتوں کو۔ یہ باتیں بالکل صحیح ہیں۔ ہمیں پرائیویٹ سیکٹر کی توانائیوں سے استفادہ کرنا چاہئے۔ پرائیویٹ سیکٹر تیار ہے۔ آرٹیکل 44 کے بارے میں الگ الگ حکومتوں نے، جناب روحانی صاحب کی حکومت نے بھی جو یہاں تشریف فرما ہیں اور ان سے پہلے کی حکومت نے بھی جو کچھ کیا اس کے بارے میں آسان لفظوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا دل ہی نہیں مانتا کہ صحیح طریقے سے اس پر عمل کریں (9)۔ آرٹیکل 44 پر عملدرآمد کیجئے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی توانائیوں کو بروئے کار لائیے۔

مثال کے طور پر جو لوگ تعاون کر سکتے ہیں وہ صرف بڑے تاجر ہی نہیں ہیں، تاجر پرائیویٹ سیکٹر کا ایک حصہ ہیں۔ پیداواری یونٹوں اور صنعتوں کے مالکان بھی ہیں۔ آپ مثال کے طور پر دیکھئے کہ وزارت توانائی میں یا وزارت پیٹرولیم میں بہت سے آلات اور پرزوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ پرزے بنانے والوں سے بات کیجئے۔ ہمارے ملک میں آلات اور پرزے بنانے والے بہت اچھے لوگ موجود ہیں۔ ایک دفعہ، البتہ یہ بہت پہلے کی بات ہے، اس وقت جناب بے طرف صاحب (10) جناب عالی کے دوست وزیر توانائی تھے۔ کسی چیز کے لئے انھیں پنکھی کی ضرورت تھی۔ میں نے ان سے کہا کہ جناب آپ تو خود اسی امیر کبیر یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں۔ یہاں سے امیر کبیر یونیورسٹی دو قدم پر ہے۔ جائیے وہاں لوگوں سے بیٹھ کر بات کیجئے اور کہئے کہ وہ لوگ بنائیں۔ اتفاق سے فضائیہ نے اسی وقت یہ پنکھی کسی اور مقصد کے تحت بنائی تھی، البتہ اس کا سائز بڑا تھا۔ تو پرائویٹ سیکٹر کے صنعت کار مختلف میدانوں میں حکومت کی مدد کر سکتے ہیں۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ ہمارے پاس بس ایک دو پرزے نہیں ہیں اور اسی وجہ سے ہماری پروڈکشن بیلٹ بند ہے، کیونکہ بیرون ملک ہمیں وہ پرزہ نہیں دیا جا رہا ہے یا بڑی مشکل سے مل رہا ہے۔ ایسے پرزے ملک کے اندر بنائیے۔ ہم ملک کے اندر ہی بنا سکتے ہیں۔ ہم نے ملک کے اندر جس کام کا بھی تہیہ کیا، اس کے پیچھے لگے، اس پر زور دیا اور کچھ پیسہ خرچ کیا اسے ہم انجام دینے میں کامیاب ضرور ہوئے۔ اس کی ایک مثال وزارت دفاع ہے جس نے بڑے اہم کام انجام دئے ہیں۔

اقتصادیات کے تعلق سے ایک اور اہم مسئلہ جو ہمارا چوتھا موضوع  ہے نقدی کو مینیج کرنے کا مسئلہ ہے۔ ابھی صدر محترم نے بھی نقدی کے مسئلے کی جانب اشارہ کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم نے لکویڈٹی کو بڑھنے کا موقع دیا۔ یہ چیز شروع ہی سے غلط تھی۔ ہمیں ایسا نہیں ہونے دینا چاہئے تھا۔ ہمیں شروع ہی سے نقدی کے اضافے کو کنٹرول کرنا چاہئے تھا۔ اس وقت بھی اگر نقدی کو یونہی چھوڑ دیا جائے تو اس کا رجحان جس طرف بھی ہوگا وہاں تباہی مچ جائے گی۔ یہ بھی ایک بڑی غلطی ہے۔ نقدی کو مینیج کیا جانا چاہئے۔ اگر ہم یہ سوچ کر بیٹھ جائیں کہ لکویڈٹی کے مسئلے کو کسی طرح بھی حل نہیں کیا جا سکتا تو یہ ٹھیک نہیں ہے۔ نقدی کی فراوانی کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اسے مینیج کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس کے لئے فل ٹائم ماہر ٹیم کی ضرورت ہے۔ ایسی ٹیم جو فل ٹائم کام کرے۔ کچھ عرصہ قبل ارکان پارلیمنٹ نے صدر محترم سے درخواست کی تھی کہ ایک اقتصادی ٹیم تشکیل دی جائے۔ یہ اچھی بات ہے۔ ایک ٹیم انھیں افراد کی نگرانی میں جو اس وقت مصروف عمل ہیں، کسی کو بدلنے، ہٹانے اور برخاست کرنے کی باتیں میں کبھی بھی نہیں کرتا اور نہ کبھی کی ہے۔ بہرحال و محنتی اور مجاہدانہ انداز میں کام کرنے والے افراد ہیں، جو واقعی کام کرنا چاہتے ہیں، شب و روز کام کرنا چاہتے ہیں، خلاقانہ صلاحیت رکھتے ہیں، ان کی ایک ٹیم کو اس مشن پر لگا دیجئے اور کہئے کہ نقدی کو مینیج کریں۔ آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہمارے پاس کچھ لوگوں کے بقول چار لاکھ ارب تومان اور کچھ کے بقول چھے لاکھ ارب تومان کے ادھورے پروجیکٹ ہیں۔ آپ پرائیویٹ سیکٹر کے لئے پرکشش تجاویز رکھئے کہ نقدی ان پروجیکٹوں کی جانب جائے۔ یہ کام کیا جا سکتا ہے۔ مراعات دیجئے، پرکشش تجاویز تیار کیجئے۔ ایسا بھی ہوا کہ ہم نے تیل کی فروخت کو آگے بڑھانے کے لئے کبھی کبھی قیمتوں میں مراعات دی ہیں۔ ہم نے کسی کو قیمت میں کچھ رعایت دے دی۔ یہ کام ہم ملک کے اندر بھی کر سکتے ہیں۔ پرائیویٹ سیکٹر کو حرکت میں لائیں تو بہت سے کام انجام دئے جا سکتے ہیں۔ اس دن میرے خیال میں کابینہ سے ملاقات میں ہی میں نے کہا تھا کہ مثال کے طور پر ابھی تیس میگاواٹ کے بجلی گھروں کی بات ہوئی اور بتایا گيا کہ روس بنائے گا، میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ سو میگاواٹ سے کم گنجائش کا بجلی گھر نہیں ہوتا لیکن اب پتہ چلا کہ نہیں، پچاس میگاواٹ اور تیس میگاواٹ کے بجلی گھر بھی ہیں، بہت اچھی بات ہے۔ اصولی طور پر اس کی قیمت بھی زیادہ نہیں ہوگی۔ یہ آمدنی والا پروجیکٹ ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کیجئے، ترغیب دلائيے کہ اس طرح کے دس، بیس بجلی گھر لائيں اور الگ الگ جگہوں پر نصب کر دیں۔ اس سے انرجی بھی پیدا ہوگی، نقدی کا بھی اس میں استعمال ہوگا، یہ پانی بھی میٹھا کرتی ہے۔ اس کے گوناگوں فوائد ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ نقدی کو صحیح راستہ دکھایا جائے۔ زیادہ لکویڈٹی، اس مقدار میں لکویڈٹی جو آج موجود ہے اگر سونے کے سکے کی طرف جائے گی، فارن کرنسی کی طرف جائے گی، جو آج ہو رہا ہے اور آپ دیکھ رہے ہیں، کبھی ریئل اسٹیٹ کی جانب جائے گی۔ اسے یونہی نہ چھوڑئے، اسے مینیج کیجئے۔ لکویڈٹی کو یونہی آزاد نہیں چھوڑا جا سکتا۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی مقدار میں اضافہ ہو گيا ہے اور اب اس کا کوئی حل نہیں ہے۔ جی نہیں، اسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، اس پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اسے کنٹرول کیا جانا چاہئے۔

البتہ آپ نے بینکوں کا ذکر کیا، واقعی یہ صحیح ہے۔ یعنی سارے بینک سینٹرل  بینک کو دو مشکلات کے درمیان الجھا دیتے ہیں۔ مگر اس کا بھی حل موجود ہے۔ جو بینک خود کو سنبھال نہ سکے اور پبلک کو لائن میں کھڑا کر دے اس کا کریڈٹ سلب کر لیجئے۔ پہلی چیز تو یہ ہے کہ سینٹرل بینک کی طرف سے بینکوں کی سخت نگرانی انھیں اس حالت میں پہنچنے سے روکے گی۔ بشرطیکہ شروع سے دائمی طور پر نگرانی کی جائے۔ اگر کوئی بینک اس حالت میں پہنچ چکا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے۔ اتنے سارے پرائیویٹ بینک ہیں، بینکوں کو لکویڈٹی کی مشکل کیوں پیش آتی ہے۔ اس لئے کہ وہ برانچیں بڑھاتے جاتے ہیں، اپنے افراد کے لئے آسائش کے مقامات تیار کرتے ہیں۔ یہ میں نے ایک دفعہ جناب عالی سے بھی کہا کہ میں تہران میں گاڑی سے ایک جگہ سے گزر رہا تھا۔ ایک طویل دیوار تھی۔ ہم گاڑی سے چلتے جا رہے تھے اور وہ دیوار ختم نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ یہ عمارت کس کی ہے؟ یہاں یہ اتنی بڑی کیا چیز ہے؟ بہت بڑا کامپلیکس تھا۔ بتایا گيا کہ فلاں بینک کی ملکیت ہے۔ یہ بینک کی سراسر غلطی  ہے کہ اس نے یہ حرکت کی ہے۔ اتنی بڑی عمارت کا اسے کیا کرنا ہے۔ یعنی واقعی یہ چیزیں بہت اہم ہیں۔ عوام کے پیسے لیتے ہیں اور اس سے اس طرح کے وسائل تیار کرتے ہیں۔ اب یہ تو ایک کامپلیکس ہے غالبا تفریح وغیرہ کے لئے، بینک  ٹھیکیدار کی طرح کام کرتے ہیں۔ میں نے یہیں اسی اجلاس میں ایک دفعہ کہا تھا کہ بینکوں کی اس روش کا سد باب کیجئے (11)۔ بینک ٹھیکیداری کے لئے تو نہیں ہیں۔ عوام کے پیسے لیتے ہیں اور اسے اس طرح خرچ کرتے ہیں۔ بینکوں پر سینٹرل بینک کی سخت نگرانی ہو تو بینک کبھی بھی اس حالت میں نہیں پہنچیں گے کہ سینٹرل بینک کو دو مشکل آپشن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے۔ یا تو نقدی فراہم کرے، اس کی اپنی مشکلات ہیں اور اگر نقدی فراہم نہ کرے تو دوسری مشکلات ہیں۔ یہ بنیادی مسائل میں سے ہے۔ میرے خیال بینکوں کی حالت پر توجہ دیجئے، لکویڈٹی کے مسئلے کو اہمیت دیجئے اور اس پر کام کیجئے۔

بہرحال اس سلسلے میں ہم نے اپنے معروضات پیش  کئے، اس بارے میں اب مزید کچھ نہیں کہوں گا، اب آتے ہیں دوسرے موضوع کی جانب۔ ویسے دوسرا موضوع اتنا طولانی نہیں ہے، مختصر ہے۔ یہ خارجہ سیاست کا موضوع ہے اور جناب ظریف صاحب ہمارے عزیز دوست بھی یہاں تشریف فرما ہیں۔

ایک تو میں ہمسایہ ممالک سے تعلقات کو فروغ دینے پر تاکید کروں گا۔ ہمارے چودہ پندرہ ہمسایہ ممالک ہیں۔ ان میں بہت سے اور اکثر ممالک ایسے ہیں کہ جن سے ہم بہت اچھے روابط رکھ سکتے ہیں۔ مواقع سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ میں نے آپ کو پاکستان کے سلسلے میں پیغام دیا (12) اور آپ نے کہا کہ آپ اس کی تیاری میں مصروف ہیں۔ عراق ہے، ترکی ہے، پاکستان ہے۔ مغربی ایشیا کے ممالک ہیں۔ دوسری جگہیں ہیں۔ ہم ان سارے ممالک کے ساتھ گوناگوں شعبوں میں کام کر سکتے ہیں۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط سفارت کاری ہمارے اقتصادی معاملات کے لئے بھی اچھی ہے۔ مجھے یہ رپورٹ ملی ہے کہ اگر ان ممالک کی اقتصادی سرگرمیوں کے دس فیصدی کے مساوی ہم ان سے تعاون کر سکیں تو یہ ہمارے لئے بہت اچھی مقدار ہوگی۔ دس فیصدی کچھ زیادہ بھی نہیں ہے۔ ایک چیز تو یہ ہے۔

ایک مسئلہ یورپ کا ہے۔ میں نے پہلے بھی کہا اور اب بھی کہہ رہا ہوں کہ یورپ سے رابطہ جاری رہنا چاہئے۔ البتہ پورا یورپ یکساں نہیں ہے۔ اس کی الگ الگ جگہیں الگ الگ انداز کی ہیں۔ بعض چیزوں میں اشتراکات ہیں اور بعض چیزوں میں اشتراکات نہیں ہیں، ان کا کچھ اور انداز ہے، مختلف روش ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر یورپ سے، یورپی یونین نہیں، بلکہ یورپی ممالک سے ہمارا رابطہ جاری رہنا چاہئے۔ لیکن ہمیں ان سے امیدیں توڑ لینی چاہئیں۔ یورپ سے امیدیں توڑ لیجئے۔ یورپ ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ہم اپنے گوناگوں مسائل کے لئے منجملہ ایٹمی معاہدے اور اقتصادی معاملات وغیرہ کے لئے امیدیں وابستہ کریں۔ بالکل نہیں، وہ کچھ بھی نہیں کریں گے۔ ان سے امید چھوڑ دیجئے۔ امید توڑ لینے کا مطلب رابطہ منقطع کر لینا نہیں ہے، مذاکرات ختم کر دینا نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ ہمیں اپنا فیصلہ کسی اور انداز سے کرنا چاہئے۔ یہ ہے اس کا مطلب۔ ان کے وعدوں کو شک کی نگاہ سے دیکھیں۔ وہ جو بھی وعدہ کریں اسے شک کی نظر سے دیکھنا چاہئے۔ اس وقت بھی وہ ڈراما کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں ایٹمی معاہدے اور پابندیوں کے قضیئے میں وہ مسخرہ پن کر رہے ہیں۔ در حقیقت اس وقت ہمارے ساتھ ان کا رویہ مناسب نہیں ہے۔

میں یہ بھی عرض کر دوں کہ ایٹمی معاہدہ ہمارا نصب العین نہیں بلکہ ایٹمی معاہدہ ایک ذریعہ ہے۔ ایٹمی معاہدہ اصلی ہدف نہیں ہے کہ ہم اسے ہر حال میں باقی رکھیں۔ یہ ہمارے قومی مفادات کی حفاظت کا ایک ذریعہ ہے۔ چنانچہ اگر آپ کسی دن اس نتیجے پر پہنچیں کہ ایٹمی معاہدہ ہمارے قومی مفادات میں مدد نہیں کر سکتا تو ایٹمی معاہدے کو کنارے رکھ دیجئے۔ یعنی اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ آپ دیکھئے کہ قومی مفادات کا تقاضا کیا ہے۔ کبھی کبھی مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے کہا تھا کہ ہم ایٹمی معاہدے کو آگ لگا دیں گے، آپ نے آگ کیوں نہیں لگائی؟ ہم نے اسے آگ اسی لئے نہیں لگائی کہ ہم نے سوچا کہ شاید اس کے ذریعے قومی مفادات حاصل ہو جائیں۔ ورنہ اگر واضح ہو جائے کہ قومی مفادات پورے نہیں ہو رہے ہیں تو ہمیں آگ لگانا بخوبی آتا ہے۔ وہ ہم سے کھلواڑ کرنے کی کوشش نہ کریں! اس قضیئے کو آپ سنجیدگی سے دیکھئے۔

البتہ میں نے سنا ہے کہ حال ہی میں آپ نے یورپی عہدیداران کو ایک اچھا خط لکھا ہے۔ یہ اچھی بات ہے۔ ایسے خطوط لکھنا اچھا ہے۔ البتہ ان کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ اس خط کی پشت پر کوئی تدبیر موجود ہے، ایک فیصلہ موجود ہے۔ یہ ان کی سمجھ میں آنا چاہئے، جناب عالی کی تقریر سے بھی اور صدر محترم اور دوسرے افراد کی تقاریر سے بھی اور اسی طرح جناب صالحی صاحب (13) کے بعض اقدامات سے بھی جو انھیں انجام دینے ہیں، مجھے نہیں معلوم کہ انھوں نے کس حد تک یہ اقدامات انجام دئے ہیں یا انجام دے رہے ہیں۔ تو ایک اہم نکتہ یہ  ہے۔

خارجہ پالیسی میں ایک اور مسئلہ ہے امریکا کا۔ یہ جو بعض لوگوں نے قیاس آرائی شروع کر دی ہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ممکن ہے کہ مذاکرات ہو جائیں، یہ پوری طرح سے بے بنیاد ہے۔ یعنی یہ چیز بالکل بے معنی ہے۔ وہ جو ظاہرداری کا خیال رکھنے والے تھے، انھوں نے ہمارے ساتھ یہ رویہ اپنایا، تو پھر یہ تو بڑے بے شرم، گستاخ، ڈھیٹ لوگ ہیں جو کاٹنے دوڑتے ہیں، ان سے کیا مذاکرات ہوں گے؟ بالکل بے معنی ہے۔ صدر محترم کیا، وزیر خارجہ اور وزارت خارجہ کے کسی عہدیدار کے لئے بھی کوئی تک ہی نہیں ہے کہ ان سے مذاکرات کرے۔ البتہ آپ یہ بات جانتے ہیں بلکہ شاید مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ امریکیوں کو اسلامی جمہوریہ سے مذاکرات کی ضرورت ہے۔ امریکی حکومتوں، موجودہ حکومت، سابقہ حکومت اور اس سے پہلے والی حکومت سب کو یہ دکھانے کی ضرورت تھی کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران جیسے ملک کو بھی مذاکرات کی میز پر لانے کی توانائی رکھتے ہیں۔ اس چیز کی انھیں ضرورت ہے۔ جس دن اوباما جناب ڈاکٹر روحانی صاحب سے ٹیلی فونی گفتگو کرنے میں کامیاب ہوئے، انھوں نے وہاں جشن منایا اور اس کی خبر ہمیں بعض ذرائع سے ملی۔ انھیں اس کی ضرورت ہے۔ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ ان کی یہ احتیاج پوری کریں۔ ہم ان سے مذاکرات کے مخالف کیوں ہیں، اس کی وجہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں، لہذا دہرانا نہیں چاہتا۔

تیسرا مسئلہ اتحاد و یکجہتی کا ہے۔ ملک کو چلانے والے، انتظامات دیکھنے والے عہدیداران کا اتحاد و یکجہتی ہمیشہ بہت ضروری ہوتی ہے اور اس وقت تو ہمیشہ سے زیادہ ضروری ہے۔ میں روحانی صاحب کی بات کی تائید کرتا ہوں۔ تینوں شعبوں (عدلیہ، مقننہ، مجریہ) کے سربراہان، مختلف محکموں کے عہدیداران ایک دوسرے کی پشت پناہی کریں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تمام مسائل میں سب کا ایک ہی نظریہ ہو۔ نہیں، ممکن ہے کہ الگ الگ نظریات ہوں۔ لیکن عمل میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ خاص طور پر اس وقت جب حکومت بیچ میدان میں ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا بنیادی کام کی انجام دہی وہی کرتی ہے، تو خاص طور پر حکومت کی مدد کی جانی چاہئے۔ اسی طرح اختلاف نظر کو میڈیا میں نہ لائيے۔ یہ بھی ضروری ہے۔ کسی مسئلے کے بارے میں آپ کا کسی سربراہ سے اختلاف رائے ہے تو کیا ضرورت ہے کہ اس اختلاف رائے کو میڈیا میں بیان کیا جائے؟ اس کا کیا تک ہے؟ اس سے کیا فائدہ حاصل ہونے والا ہے؟ اگر چار دیوالیہ سیاسی افراد کسی گوشے میں بیٹھ کر اس پر خوش ہو رہے ہیں کہ ہمارے عہدیداران اس طرح سے متصادم موقف اختیار کر رہے ہیں تو اس سے کیا ملے گا؟ عہدیداران کے درمیان اختلاف سے رائے عامہ میں اضطراب پیدا ہوتا ہے، آشفتگی پیدا ہوتی ہے، لوگ پریشان ہوتے ہیں، فکرمند ہوتے ہیں۔ میں بعض اوقات دیکھتا ہوں کہ وزرائے محترم بھی ایک دوسرے کے خلاف بیان دیتے ہیں! آپ تو کابینہ میں ایک ہی میز کے ارد گرد جمع ہیں اور اس کی سربراہی جناب صدر کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کو جو بھی جھگڑا کرنا ہے وہیں کیجئے۔ وہیں اپنا اختلاف رائے پیش کیجئے۔ اسے آپ منظر عام پر کیوں لاتے ہیں؟ ایک وزیر کوئی بات کہتا ہے اور دوسرا وزیر آکر اس کی تردید کرتا ہے۔ یہ بڑی عجیب چیز ہے۔ میڈیا کی سطح پر یہ جھگڑا واقعی بہت بری چیز ہے۔

پارلیمنٹ نے تو کل مشترکہ طور پر اسلامی جمہوریہ کے ثبات اور اقتدار کا نظارہ پیش کیا۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ ارکان پارلیمنٹ 23 ملین سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے منتخب ہونے والے صدر سے سوال کرتے ہیں اور صدر جمہوریہ بغیر کسی لیت و لعل کے پورے تحمل کے ساتھ سوالوں کو سنتے ہیں اور پوری متانت سے جواب دیتے ہیں۔ یہ بہت اچھی علامتیں ہیں۔ ہم جو ملک میں دینی جمہوریت کی بات کرتے ہیں وہ یہی ہے۔ یعنی یہ کہ سب اپنے فرائض پر عمل کرتے ہیں، برافروختہ نہیں ہوتے۔ سوال جواب ہوتا ہے۔ بات کرتے ہیں۔ ایک دوسرے پر ٹوٹ نہیں پڑتے۔ یہ چیزیں بہت اہم ہیں۔ کل یہی چیز ہوئی۔ اگر فرض کیجئے کہ کوئی رکن پارلیمنٹ کل نامناسب لہجہ اختیار کرتا یا صدر محترم پارلیمنٹ کو جواب دیتے وقت نامناسب لہجہ اختیار کرتے تو یہ کتنی بری بات ہوتی۔ اس سے اسلامی جمہوریہ کو کتنا نقصان پہنچتا! ایسا نہیں ہوا۔ انھوں نے محترمانہ انداز میں سوال کئے اور صدر محترم نے متانت اور تحمل سے جواب دیا۔ البتہ ان کے مطالبات و توقعات میں اور جو زمینی حالات ہیں ان میں فاصلہ ہے، شگاف ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس شگاف کو بھرنا ہے، لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو کچھ ہوا وہ میری نظر میں اسلامی جمہوریہ کی توانائی، اسلامی جمہوریہ کے ثبات، اسلامی جمہوریہ کے اندر عہدیداران کی خود اعتمادی کا ایک نظارہ تھا۔ پارلیمنٹ نے اپنے انداز سے خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا، صدر محترم اور حکومت نے اپنے طریقے سے خود اعتمادی کا مظاہرہ کیا۔ میری نظر میں یہ بہت اچھی چیز تھی۔

یقینا دشمن تو کچھ اور چاہتا ہے۔ دشمن اس قضیئے کو الگ شکل میں پیش کرنے کی کوشش میں ہے۔ لیکن حقیقت ماجرا یہی ہے جو میں نے عرض کیا اور اسے دوسرے بھی دیکھ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں۔ ملک کے اندر بھی عوام دیکھتے ہیں کہ نہیں کچھ بھی درہم برہم نہیں ہوا، کوئی مشکل پیدا نہیں ہوئی۔ سب لوگ جمع ہوئے، متانت کے ساتھ سوال پوچھے گئے، جواب دئے گئے اور سب لوٹ گئے۔ میری نظر میں یہ بہت اچھا اجلاس تھا۔ حکومت اور پارلیمنٹ نے مشترکہ طور پر بہت بڑا کام انجام دیا۔ اس سے صدر محترم کو بھی تقویت ملے گی اور پارلیمنٹ کو بھی تقویت ملے گی۔ ان شاء اللہ اس سے مزید تعاون اور نظریات و حقائق کو مزید ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد ملے گی۔

البتہ آج میں نے جو سفارشات کی ہیں اور جو چیزیں بیان کی ہیں ان پر توجہ دی جائے اور ہم پیشرفت کریں۔ منجملہ یہی چیز جو بار بار بیان کی گئی اور بیان کی جاتی ہے کہ ایک پرجوش، محنتی اور بلند ہمت ٹیم کو مامور کیا جائے جو ان مشکلات کو ایک ایک کرکے حل کرے اور ان شاء اللہ آگے بڑھے۔

تینوں شعبوں کے مشترکہ اجلاس کے بارے میں جو بات جناب ڈاکٹر روحانی نے کہی بالکل صحیح ہے، ضروری ہے کہ ایک اچھی ہم آہنگی ہو، میں بھی اس کی سفارش کر چکا ہوں، پھر کروں گا۔ لیکن یہ خیال رہے کہ اس طرح سے دیگر شعبوں کے جو اصلی فرائض ہیں ان سے غفلت نہ ہو۔ پہلے بھی میں نے جناب عالی سے بات کی، ایسا ہو کہ ہم آہنگی قائم ہو۔ جنگ کے لئے کمانڈر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم جنگ میں تھوڑا عرصہ رہ چکے ہیں لہذا جانتے ہیں، لیکن کمانڈر بھی اسٹاف سلیوٹ کرتا ہے۔ یعنی کبھی بھی کوئی بھی کمانڈر یہ نہیں کرتا کہ بغیر اسٹاف سلیوٹ کے یونہی کہے کہ "چلو چلتے ہیں" اور اس کے پیچھے سب روانہ ہو جائیں۔ نہیں، بہرحال ایک اسٹاف ہوتا ہے، سب بیٹھتے ہیں، بحث کرتے ہیں، اسٹاف سلیوٹ کرتے ہیں، کام کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اسٹاف کے افراد سے مشورہ کرنے کی وجہ سے کمانڈر کی رائے پوری طرح بدل جاتی ہے، کچھ اور فیصلہ کرتا ہے۔ یعنی کچھ چیزیں ہیں جو اجتماعی عمل کا فطری حصہ ہیں۔ ان چیزوں کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ ایک چیز یہی ہے کہ مشورہ کریں، غور کریں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال کریں۔ البتہ «فَاِذا عَزَمتَ فَتَوَکَّل عَلَی الله‌»(14) بھی اس کے بعد ہے، لہذا اسے انجام دینا چاہئے۔

ان شاء  اللہ آپ سب کامیاب ہوں، کامران ہوں، اللہ آپ سے راضی ہو اور آپ کی مدد کرے کہ ان اہم فرائض کو جو آپ کے دوش پر ہیں انجام دیں۔ ہماری گفتگو بھی غالبا طولانی ہو گئی (15) آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ خداوند عالم ان شاء اللہ آپ کی حفاظت کرے۔

 

و السّلام علیکم و رحمة الله و برکاته

 

 

۱) اس ملاقات کے آغاز میں صدر محترم حجت الاسلام و المسلمین حسن روحانی نے بریفنگ دی۔

۲) سوره‌ آل‌عمران،  آیت نمبر ۱۶۴ کا ایک حصہ؛ «یقینا اللہ نے مومنین پر احسان کیا کہ ان کے درمیان سے ایک پیغمبر مبعوث کیا۔...»

۳) من‌لا یحضره‌الفقیه، جلد ۲، صفحہ ۶١٣ (قدرے تفاوت کے ساتھ) (زیارت جامعه‌ کبیره)

۴) سوره‌ مائده، آیت نمبر ۳ کا ایک حصہ

۵) سوره‌ مائده، آیت نمبر ۵۶ کا ایک حصہ

۶) سوره‌ مائده، آیت نمبر ۵۵ کا ایک حصہ

۷) سوره‌ مائده، آیت نمبر ۵۵ کا ایک حصہ

۸) سوره‌ ابراهیم، آیت نمبر ۲۸ کا ایک حصہ؛‌« کیا ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے نعمت خدا پر شکر کرنے کے  بجائے کفران نعمت کیا ؟ ...»

9) رہبر انقلاب کی ہنسی

10) حبیب ‌الله بیطرف

11) صدر مملکت اور کابینہ کے ارکان سے مورخہ 26 اگست 2017 کا خطاب

12) وزیر خارجہ ایران

13) علی ‌اکبر صالحی (ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ)

14) سوره‌ آل عمران، آیت نمبر ۱۵۹ کا ایک حصہ؛ «…جب فیصلہ کر لیا تو پھر اللہ پر توکل کرو۔ …»

15) صدر محترم نے کہا «طیّب الله انفاسکم، بڑی مفید باتیں سننے کو ملیں۔ »