رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں شجرکاری کو با برکت عمل قرار دیا اور ملک میں پھیلی ہوئی بیماری کے سلسلے میں کہا کہ میں پہلے بھی (کورونا وائرس کے خلاف مہم کے تعلق سے) ڈاکٹروں، نرسوں اور میڈیکل اسٹاف کا شکریہ ادا کر چکا ہوں اور ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک بار پھر ان عزیزوں کا شکریہ ادا کروں جو اپنی انتہائی گراں قدر خدمات سے راہ خدا میں مصروف جہاد ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے بیماروں کی دیکھ بھال اور معالجے کے سلسلے میں طبی عملے کی محنت اور جانفشانی کو ان کی فرض شناسی اور انسانی جذبے کی علامت قرار دیا اور فرمایا کہ میں ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کے تمام افراد کے اہل خانہ کا بھی شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو صبر و تحمل کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ان عزیزوں کی شب و روز کی محنت میں تعاون کر رہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے بیماروں کی شفایابی، اس بیماری کی وجہ سے انتقال کر جانے والے افراد کی مغفرت اور ان کے  پسماندگان کے لئے صبر و تحمل کی دعا کرتے ہوئے عوام سے کچھ سفارشات کیں۔

آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آلودگی کی روک تھام کے سلسلے میں عہدیداران کی سفارشات اور دستور العمل کی مکمل پابندی کی ضرورت پر زور دیا اور فرمایا کہ اس دستور العمل کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالی نے ہمیں اپنی صحت اور دوسروں کی صحت و سلامتی کے تعلق سے ہمارے اوپر ذمہ داریاں عائد کی ہیں، لہذا معاشرے کی صحت و سلامتی اور اس بیماری کی روک تھام میں جتنی مدد کی جائے گی وہ عمل صالح اور بیماری پھیلنے میں جو کردار ادا کیا جائے گا وہ بد اعمالی قرار پائے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ایک اور اہم سفارش کرتے ہوئے اللہ تعالی کی جانب توجہ مرکوز کرنے اور اس سے توسل کرنے کی تاکید کی۔ آپ نے فرمایا کہ البتہ یہ بلا اتنی بڑی نہیں ہے کیونکہ اس سے کہیں بڑی آفات کا سامنا ہو چکا ہے، تاہم یہ حقیر، نوجوانوں کے پاک و پاکیزہ دلوں اور پرہیزگار افراد کے منہ سے نکلنے والی دعاؤں سے بڑی بلاؤں کے ازالے کے سلسلے میں بہت پرامید ہوں، کیونکہ اللہ کی بارگاہ میں توسل کرنا اور نبی اکرم اور ائمہ اطہار علیہم السلام سے شفاعت طلب کرنا بہت سی مشکلات کو دور کر سکتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا بہت اچھی ہے، اس کا مضمون بہت اچھا ہے، اس کے پرکشش الفاظ کی مدد سے اور اس کے معانی کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالی سے ہمکلام ہوا جا سکتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے دنیا کے بہت سے ملکوں میں اس بیماری کے پھیلنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے عہدیداران نے پہلے دن سے صداقت و شفافیت کے ساتھ اطلاع رسانی کی اور عوام کو آگاہ کیا جبکہ بعض ممالک نے جہاں یہ بیماری زیادہ شدید اور ہمہ گیر ہے حقائق کو چھپایا، تاہم ان بیماروں کے لئے بھی ہم اللہ تعالی سے شفایابی کی دعا کرتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس مسئلے کو عارضی قرار دیا اور فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اس مسئلے کو بالکل اہمیت نہ دی جائے لیکن اسے بہت بڑا بناکر بھی پیش نہ کیا جائے، ملک میں یہ مشکل کچھ مدت کے لئے ہے، اس کے بعد اپنا رخت سفر باندھ لے گی تاہم اس سے حاصل ہونے والے تجربات، عوام اور اداروں کی سرگرمیاں ایک عمومی مشق کی مانند ہیں جو ایک اہم کامیابی کے طور پر ملک کے اندر باقی رہ سکتی ہے۔