قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمن کی تشویش کا سبب اسلامی جمہوری نظام کے محکم سیاسی افکار کی ترویج اور انہیں نمونہ عمل قرار دیا جانا ہے۔
تیرہ آبان مطابق چار جون کو ایران میں منائے جانے والے عالمی استکبار سے مقابلے کے قومی دن کی مناسبت سے بدھ کی صبح ہزاروں طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے ملت ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونیت کی سرکردگی میں استکبار کی مختلف سازشوں کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ امریکی حکومت ایسے عالم میں جب روز افزوں مشکلات سے دوچار ہے اور وسیع پیمانے پر جاری عوام کی وال اسٹریٹ تحریک اپنے شباب پر پہنچ چکی ہے، مضحکہ خیز سناریو کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کو ایک مہمل، لا یعنی اور غیر منطقی دہشت گردانہ کارروائی کے لئے مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن دنیا کے تمام باشعور اور اہل فکر افراد نے اس مضحکہ خیز سناریو کو دیکھتے ہی مسترد کر دیا۔
قائد انقلاب اسلامی کے مطابق اس سناریو کے پس پردہ امریکی حکومت کا مقصد وال اسٹریٹ تحریک سے توجہ ہٹانا اور اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ ڈالنا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے باشرف ترین مجاہد عناصر پر دہشت گردی کا الزام عائد کریں حالانکہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد خود امریکہ ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ہم علاقے اور ایران میں ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی اور دہشت گردوں کو ہدایات دینے میں امریکہ کے کردار کے سو ناقابل انکار دستاویز رکھتے ہیں اور ان سو دستاویزات کو پیش کرکے عالمی رائے عامہ کی نظر میں امریکہ اور انسانی حقوق کی حفاظت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعویداروں کو بے نقاب کر دیں گے۔
قائد انقلاب اسلامی نے امریکہ کو بے آبرو اور شکست خوردہ ملک قرار دیا اور فرمایا کہ امریکہ عراق اور افغانستان میں شکست کھا چکا ہے اور ان دونوں ممالک سے باہر نکلنے کے علاوہ اس کے پاس کوئي چارہ نہیں ہے اور شمالی افریقہ میں بھی اسے شکست ہوئي ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکی حسنی مبارک اور بن علی کو مصر اور تیونس میں بچا نہیں سکے کیونکہ قومیں ان پر بھاری پڑیں، لیبیا میں بھی یہی ہوا اور وہ قذافی کی ذلت آمیز موت سے قبل تک اس سے خفیہ رابطہ رکھنے کے باوجود اس کی حفاظت نہیں کر سکے۔
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے لبرل ڈیموکریسی کے خلاف امریکہ اور دنیا کے اسی ممالک میں عوام کی تحریک کو مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کی شکست کا ثبوت قرار دیا اور فرمایا کہ ممکن ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک ان تحریکوں کو دبانے میں کامیاب ہو جائيں لیکن یہ آگ بجھنے والی نہیں ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ ایران کو علاقے اور دنیا میں شروع ہو چکی تحریک کا نقطہ آغاز کا قرار دیا اور فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ دشمن، عوام خصوصا نوجوانوں اور اسی طرح حکام کو مایوسی میں مبتلا کرکے اس مرکزی نقطے کو مشکلات سے دوچار کر دینے کے لئے کوشاں ہے تاہم ملک کے نوجوان اور حکام اللہ پر توکل کرتے ہوئے بھرپور امید کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔