قائد انقلاب اسلامی کے خطاب کا اردو ترجمہ حسب ذیل ہے؛

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بہت ہی عظیم دن اور بہت ہی باشکوہ اور خوبصورت اجتماع ہے۔ خداوند عالم کا شکرگزار ہوں کہ اس نے یہ توفیق عنایت فرمائی کہ یوم پاسدار پر اسلام کے عظیم ترین پاسدار حضرت ابو عبداللہ الحسین علیہ السلام اور آپ کے راستے پر چلنے والوں کو یاد اور آپ کا دیدار کریں، جو انہیں میں سے اور مجاہدین فی سبیل اللہ کے پاک سلسلے سے ہیں۔ یہ دن ہمارے تمام عزیز پاسداروں کو، چاہے پیشرو اور پر افتخار تنظیم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں ہوں، یا سابق انقلابی کمیٹی کے رکن رہے ہوں اور اب پولیس فورس میں خدمت انجام دے رہے ہیں، بالخصوص جہاد مقدس میں اپنے اعضائے بدن کا نذرانہ پیش کرنے والے جانباز سپاہیوں اور ان کے خاندان والوں کو مبارک ہو۔
آج کے دن پر ایک نظر ڈالیں تو سراپا بشارت دکھائی دیتا ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر، پوری دنیا میں، گوناگوں معاشروں میں اسلام کی موجودگی پر، مسلم اقوام پر اور ان لوگوں پر جو انقلاب سے پہلے مسلمان تھے بھی تو اپنے مسلمان ہونے پر توجہ نہیں دیتے تھے، اپنے مسلمان ہونے پر افتخار کا احساس نہیں کرتے تھے، اور شاید بعض اوقات کمتری کا احساس کرتے تھے، ان پر ایک نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ آج وہی اسلام پر اور پنے مسلمان ہونے پر افتخار کا احساس کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف تصور میں اور کھوکھلے جذبات کے تحت افتخار کا احساس کرتے ہوں بلکہ ایسا افتخار کرتے ہیں کہ جس کے آثار ان کی زندگی میں بھی نظر آتے ہیں۔ اسلام کی حاکمیت، اپنے امور اپنے ہاتھ میں لینے اور خود مختاری کے دعویدار ہیں۔ اس کے نمونے بوسنیا ہرزے گووینا میں، چیچنیا میں، افریقی ملکوں میں اور دیگر علاقوں میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ بین الاقوامی مناظر بشارت ہیں۔ یہ اسلام کی جانب سے ایک بڑی تحریک کی عکاسی کرتے ہیں جو آپ کی یعنی ایرانی قوم کی دلیرانہ مجاہدت کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔ کسی بھی قوم کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ اس کا وجود مجہول، متروک اور ناشناختہ نہ رہے بلکہ دوسرے اس کو جاری رکھیں۔
ملک کے اندر اگر دیکھیں تو یہ صورت حال ہے۔ اگر کوئی ملک کے اندر نظر دوڑائے تو دیکھے گا کہ پرانی شاہی بنیادیں آہستہ آہستہ گری ہیں، یک بیک منہدم نہں ہوئی ہیں۔ صرف تاج شاہی یک بارگی چکناچور ہوا ہے۔ شاہی محل ختم ہوا اور شاہی نظام کی بنیاد ختم ہوئی، مگر باطل کی بہت سی بنیادیں تدریجی طور پر آج تک گر رہی ہیں۔ اس تجزیئے کے برعکس جس میں کہا جاتا ہے کہ انقلاب کو جیسے جیسے وقت گزرا ہے، اسی طرح ہماری حالت انقلاب سے دور ہوئی ہے یہ دردناک اور غلط تجزیہ بعض لوگوں کے ذہنوں میں ہے۔ جبکہ انقلاب اور نیا نظام، ایک زندہ حقیقت ہے، جتنا آگے بڑھا ہے اس نے اتنی ہی ترقی و پشرفت کی ہے، اس کے اعضاء و جوارح قوی تر ہوئے ہیں، معقولیت محکم تر ہوئی ہے اور توانائی زیادہ ہوئی ہے۔
انقلاب اور نظام جدید ایک عظیم حقیقت اور کلمہ طیبہ الہی ہے۔ بہت سی چیزیں انقلاب کے ابتدائی دنوں میں نہیں تھیں اور اگر تھیں تو صرف نعرے کی حیثیت رکھتی تھیں۔ مگر آج ہیں اور محکم صورت میں ہیں۔ ان دنوں عبودیت اور خدا کے امر و نہی کے سامنے تسلیم ہونے کا مسئلہ نہیں تھا۔ ہمارے اسلامی روشنفکر حضرات، اسلامی احکام کو بیان کرنے میں، نیکی و بھلائی کا پہلو پیش کرنے کی کوشش کرتے تھے تاکہ قابل قبول ہو، مگر آج ایسا نہیں ہے۔ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ نسل برسرکار آئی ہے اور انقلابی نوجوانوں کے اس طبقے نے رشد کیا ہے کہ جس کے لئے، اسلامی احکام کی خالص اطاعت اور حکم خدا کی سامنے تسلیم، ایسی چیز ہے جو پوری طرح رائج، مسلمہ اور مستحکم ہے۔
یہ بات کہ آج ملک کے تمام گوشہ و کنار میں سماجی مسائل میں انقلاب کی نسبت، سب کے حقوق یکساں ہیں، محروم علاقوں، دیہی علاقوں، شہروں، دور اور نزدیک کے علاقوں اور تہران میں کوئی فرق نہیں ہے، گذشتہ حکومت کے دور میں ذہنوں میں نہیں تھی۔ محروم علاقوں کو مانگ کرنے کا حق نہیں تھا۔ آپ دیکھیں کہ مسلسل جو کام ہوا ہے اس کے نتیجے میں آج تانے بانے کتنے مختلف ہو گئے ہیں۔
اگر میں طاغوتی اور شاہی نظام کی فکری، نظریاتی اور عملی بنیادوں کو جو صدیوں میں اس ملک میں وجود میں آئی تھیں اور ان پندرہ برسوں میں ختم ہوگئی ہیں یا بہت کمزور پڑ چکی ہیں، شمار کروں تو سولہ سے زیادہ بنیادوں کا نام لے سکتا ہوں، مگر آج ان کے بارے میں بحث نہیں کروں گا۔
آج دوسری بات کرنا چاہتا ہوں۔ ہرطرف دیکھیں بشارتیں کی بشارتیں ہیں۔ کافی ہے کہ لوگ بدگمانی کی عینک اتار دیں، اس ملک کے ماضی کی حالت پر ایک نگاہ ڈالیں اور ان ملکوں کی موجودہ حالت کو دیکھیں جن کا ماضی ہمارے ملک جیسا تھا، پھر اسلامی جمہوریہ ایران پر نظر ڈالیں تب سمجھ میں آئے گا کہ انقلاب نے کتنا بڑا معجزہ کیا ہے۔ ہم ان لوگوں کی طرح ہیں جو سورج کی روشنی میں چل رہے تھے، کوئی سایہ نہیں تھا، ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ جس کو سورج کہتے ہیں کہاں ہے؟ اس نے کہا اپنے پیچھے دیکھو' اس نے پیچھے دیکھا تو اپنا سایہ نظر آیا، سمجھ گیا کہ سورج کیا ہے۔ چونکہ اسلامی جمہوریہ ایران میں انسان حقائق سے مانوس ہے، موازنہ کرکے فیصلہ کرنے کی قوت کمزور ہے۔ لہذا ایک برتر نگاہ ضروری ہے۔ میں آج اس مسئلے کو چھوڑتا ہوں، اس کے بارے میں گفتگو نہیں کروں گا۔
دوسری بات عرض کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں ایک تلخ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اگر اس کا کوئی نام رکھنا چاہیں تو رجعت پسندی، پیچھے کی طرف واپس جانا، مرتد ہونا، یعنی پلٹ جانا، پیچھے پلٹنا، گھاٹا اٹھانا اور حاصل ہونے والی کامیابیوں کو کھو دینا، رکھا جا سکتا ہے۔ قرآن، حدیث اور تاریخ میں اس کا ذکر موجود ہے۔ یہ مسئلہ ان معاشروں اور اقوام سے متعلق ہے جو بہترین معنوی اور الہی حیثیت میں رہی ہیں۔ یعنی زمانہ جاہلیت کے لوگوں سے مربوط نہیں ہے بلکہ اسلام کے دور سے اس کا تعلق ہے۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن پر یہ جراثیم اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ ایسی بیماری ہے جو ان ملکوں اور اقوام سے مخصوص ہے جنہوں نے ایک عظیم تحریک کے ذریعے ایک ‍قدم آگے بڑھایا ہے اور آج کی اصطلاح میں انقلاب کرکے اس جگہ پہنچ گئے ہیں کہ خود کو خدا سے نزدیک کر لیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ بیماری ان لوگوں سے مخصوص ہے، جنہیں خدا نے انعام سے نوازا ہے۔
آپ دیکھیں کہ یہ مسئلہ کتنا اہم ہے کہ ہمیں ہر روز بارہا سورہ حمد میں اس جملے کا، جس میں ایک طرح سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے، اعادہ کرنا ہے۔ اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم و لا الضالین ان لوگوں کا راستہ جنہیں تونے اپنی نعمت عطا کی ہے لیکن جن لوگوں کو خدا نے نعمت دی ہے دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ ہیں جو ہدایت کے بعد غضب الہی کی بلا اور گمراہی کی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ جن کے لئے کہا جاتا ہے میرے خدا! مجھے ان انعام یافتہ لوگوں میں قرار نہ دے۔ نہ ان لوگوں میں سے قرار دے کہ جن کے لئے فرمایا ہے کہ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین و الشہداء اور نہ ان لوگوں میں سے جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم و انی فضلتکم علی العالمین یعنی بنی اسرائیل۔ بنی اسرائیل بھی ان میں سے تھے کہ جن کو خداوند عالم نے نعمت عطا کی اور قرآن اس بات کو صراحت کے ساتھ بیان کرتا ہے کہ یا بنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم ہم نے تمہیں انعام دیا و انی فضلتکم علی العالمین عظیم نعمت بھی عطا کی اور تم نے اس نعمت کی وجہ سے تمام بشریت پر فضیلت حاصل کی مگر یہی بنی اسرائیل وہ تھے کہ جن کی حالت بعد میں یہ ہو گئی کہ خداوند عالم نے ان پر دائمی لعنت بھیجی اور روایات میں ہے کہ المغضوب علیھم سے مراد یہودی ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو تاریخ کے تلخ امتحان اور آزمائش میں گرفتار ہوئے۔ البتہ یہ چیز مسلمانوں کے لئے بھی ممکن ہے۔ اسی بنا پر قرآن نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے۔
میں نے گذشتہ سال امام حسن علیہ السلام کی یاد کی مناسبت سے، یہ بیان کیا کہ امام حسن علیہ السلام کا ماجرا ایک درس کے علاوہ عبرت بھی ہے۔ درس یہ ہے کہ ہم سے کہتا ہے کہ آپ نے جس طرح عمل کیا ہمیں بھی اسی طرح عمل کرنا چاہئے۔ امام حسن علیہ السلام نے تمام انسانوں کو عظیم درس دیا ہے جو بہت عظمت والا اور اپنی جگہ محفوظ ہے۔ مگر درس کے علاوہ ایک اور چیز ہے اور وہ عبرت ہے۔عبرت یہ ہے کہ انسان نظر اٹھائے اور دیکھے کہ امام حسن علیہ السلام کے بچپن سے ہی لوگوں کی نگاہوں کے سامنے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ سے اتنی محبت کرتے تھے، آپ کی اتنی تکریم کرتے تھے اور آپ کے بارے میں فرمایا کہ سید شباب اہل الجنۃ جوانان بہشت کے سردار ہیں، پیغمبر کے زمانے کو پچاس سال گذرنے کے بعد کیا ہو گیا کہ اتنے دردناک انداز میں قتل کر دیئے گئے؟ کیسے ہو گیا کہ اس امت نے امام حسین بن علی علیہ السلام کو ان لوگوں کی نگاہوں کے سامنے جنہوں نے دیکھا تھا کہ پیغمبر آپ کو اپنے کندھوں پر بٹھاتے تھے اور اتنی باتیں پیغمبر کی زبان سے آپ کے بارے میں سنی تھیں، اس طرح قتل کر دیئے گئے؟ یہ عبرت ہے۔ کیا کھیل تھا کہ پیغمبر کی بیٹیوں کو غیر اسلامی مفتوحہ علاقوں کی بیٹیوں کی طرح لوگوں کی نگاہوں کے سامنے، کوچہ و بازار میں پھرائیں اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا جیسی ہستی کی توہین کریں؟ کیا ہو گیا کہ یہ نوبت آ گئی؟ یہ وہی عبرت ہے جو درس سے بالاتر ہے۔ یہ تاریخ اور واقعات پر گہری نگاہ ڈالنے کی متقاضی ہے۔
اب ارتجاع یا ارتداد یا رجعت کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسی واقعے میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے قضیہ ارتجاع کا نام لیا یعنی اسی بیماری کی طرف اشارہ کیا اور کوفے میں فرمایا انما مثلکم کمثل التی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تم ان لوگوں کی طرح ہو جو محنت کرکے اون اور روئی سے دھاگا بناتے ہیں اور پھر بیٹھتے ہیں اور بہت زیادہ محنت کرکے دوبارہ ان دھاگوں کو کھولتے ہیں اور اون اور دھاگے میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ ارتجاع اور رجعت ہے اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اسی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت میں بھی یہ خطرہ اتنا ہی ہے جتنا امت موسی میں تھا۔ زمانہ پیغمبر گذرنے کے بعد ابھی آپ کا کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا، یہ حوادث رونما ہوئے جو مذاق نہیں ہیں۔ زمانہ پیغمبر میں، یہ انسان وحی سے متصل تھا، تمام چھوٹے بڑے واقعات کے بارے میں، جو رونما ہوتے تھے، قرآن کی آیت نازل ہوتی تھی اور وحی الہی صراحت کے ساتھ، شفاف، بغیر کسی ابہام کے نازل ہوتی تھی۔ اب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اتی محنتوں سے جو عمارت تعمیر کی تھی، اس کے بعد اتنی دردناک اور اندوہناک رجعت تاریخ میں رونما ہو رہی تھی۔ یہ رجعت یا ارتجاع یا ارتداد کے جراثیم ہیں ۔
میرے عزیزو' انقلاب کے بنیادی مسائل کو ہم کس کے سامنے رکھیں؟ آپ سے زیادہ اس انقلاب اور اسلامی نظام کا ہمدرد، اس سے لگاو اور اپنائیت رکھنے والا اور کون ہو سکتا ہے؟ اس بیان کے مخاطب آپ مومن، مخلص، پاک طینت اور ہمدرد نوجوان ہیں، چاہے اس لباس میں ہوں چو آپ نے زیب تن کر رکھا ہے، یا دوسرے لباس میں، فوج، بسیج یا پولیس کی وردی میں ہوں یا غیر فوجی لباس میں، علماء کے لباس میں ہوں یا عام لباس میں۔ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انقلاب کے سب سے بڑے دشمن انقلاب کے اندر یہی رجعت پسندی کے جراثیم ہیں۔ یہ جراثیم انقلابی معاشرے میں رشد کرتے ہیں، بڑھتے ہیں، پھیلتے ہیں اور بیماری لاتے ہیں اور یہ بیماری متعدی ہے۔ پہلے دن امریکا، اس دور کے مشرقی بلاک اور دوسرے دشمنوں، علاقے کے رجعت پسندوں نے یہ سوچا کہ فوجی مداخلت، پڑوسی کو ورغلا کر اور اقتصادی محاصرے وغیرہ سے اس پودے کو جڑ سے ختم کر دیں گے۔ مگر جتنا بھی کلاڑھی چلائی، آریاں چلائیں اور دوسرے کام کئے، یہ پودہ روز بروز تناور ہوتا گیا اور اس کی جڑیں روز بروز مستحکم تر ہوتی گئیں۔ اس آیہ شریفہ کا الم تر کیف ضرب اللہ مثلا کلمۃ طیبۃ کشجرۃ طیبۃ اصلھا ثابت و فرعھا فی السماء مصداق ہو گیا۔ اس کی جڑیں محکم اور شاخیں آسمان میں تھیں۔
آج ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مسلح دشمن پیسے اور طاقت سے کام نہیں لے رہے ہیں اور وار نہیں لگا رہے ہیں۔ وار لگارہے ہیں۔ ان کی باتیں آپ سن رہے ہیں۔ آج وہ اتنے بے شرم ہو گئے ہیں کہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم فلاں ملک میں گئے اور ان سے کہا کہ ایران سے رابطہ منقطع کر لیں۔ یافلاں ملک اس طرح کا معاملہ کرے۔ ہمارے دشمنوں اور سب سے بڑھ کر امریکیوں میں بے حیائی اتنی زیادہ ہے کہ صراحت کے ساتھ بیان بھی کرتے ہیں۔ ذلیل صیہونی جن کی حیثیت مجہول اور حسب و نسب جعلی ہے، جو سامنے آنے کی بھی جرائت نہیں کرتے تھے اور پوری طاقت سے اپنے دفاع میں مصروف تھے، آج علاقے کے بعض عربوں کی بد کرداری کی وجہ سے، نوبت یہ آ گئی ہے کہ یہاں اور وہاں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایسا کرو اور ویسا کرو۔ کہتے ہیں کسی کو گاؤں میں آنے نہیں دیتے تھے اور وہ گاؤں کے سرپنچ کا پتہ پوچھ رہا تھا ان کا اپنا وجود علاقے پر بھاری ہے اور وہ ایسی ویسی باتیں کرنے لگے ہیں۔
آج دشمن کا سب سے بڑا منصوبہ انتظار ہے۔ دشمن منتظر ہے کہ یہ جراثیم طاقتور اور تندرست جسم میں داخل ہو، یعنی اسلامی جمہوریہ اور اسلامی نظام میں داخل ہو اور اثر کرے۔ لہذا ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے۔ آج وہ منتظر ہیں کہ ہمارے ملک کے اندر برائیاں در آئیں۔ اس ملک کے نوجوانوں کے اذہان میں شکوک و شبہات پیدا ہوں۔ رکاوٹیں ڈالنے والی اور برائی کی سرگرمیاں، عظیم اقدار اور اصولوں پر غلبہ حاصل کریں۔ لوگ دنیا پرستی، دنیاوی زینت اور مال و دولت کے حصول میں لگ جائیں اور پیسے، پر تعیش اور آرام کی زندگی کی لذت، انقلابی عناصر میں رسوخ کر جائے۔
یہ رجعت پسندی کے جراثیم منتقل کرنے والی چیزیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں اور انقلابیوں کی کوئی زندگی ہی نہ ہو۔ خدا کی نعمت اور برکات سب کے لئے ہیں اور سب کو ان سے استفادہ کرنا چاہئے۔ مگر دنیا اور شہوت پرستی میں لگ جانا، دولت و ثروت جمع کرنے اور زراندوزی میں مصروف ہو جانا، اجتماع، ہدف، خدا اور دین خدا سے زیادہ خود پر توجہ دینا، اخلاقی برائیوں، مالی و دفتری بدعنوانی اور جنسی بے راہ روی میں مبتلا ہونا، داخلی اختلافات میں پڑ جانا، جو بہت ہی خطرناک برائی ہے اور غلط اور ناجائز جاہ طلبی جس طرح مغربی دنیا میں رائج ہے، یہ وہ عوامل ہیں جو اسلام اور انقلاب کے مثالی قصر کو منہدم اور ہر حقیقت کو نابود کر دیتے ہیں۔ نئی بنیادیں رکھی جائیں گی لیکن غیر خدائی و طاغوتی بنیادیں، اسلام اور ان اقدار کی مخالف بنیادیں کہ جن کے لئے شہیدوں کا خون بہا، یہ وہی رجعت اور پلٹ جانا ہے جس کا دشمن منتظر ہے۔
اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس ملک میں دشمن کی جانب سے ثقافتی یلغار، ثقافتی شب خون اور ثقافتی قتل عام، پوری شدت کے ساتھ جاری ہے، اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ پوری دنیا میں دشمن کے پروپیگنڈے سب سے زیادہ اسلامی جمہوریہ ایران پر مرکوز ہیں، اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ میں قوم اور بالخصوص نوجوانوں اور مومنین کے اذہان پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اسی لئے ہے۔ دشمن اور دشمن کی مشینری تجربے سے سمجھ گئی ہے کہ انسان کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ کہتے ہیں ہر انسان برا ہو سکتا ہے، جو بھی ہو، اس کو برا بنایا جا سکتا ہے وہ سچ کہتے ہیں لیکن ایک استثنا ہے۔ الا المتقین متقین کو برا نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ اس کو یعنی تقوا کے معنی کو نہیں سمجھتے۔ جی ہاں انسانوں کو برا بنایا جا سکتا ہے، ان کی آنکھوں کے سامنے غلط طریقوں سے دنیا کا حسن پیش کیا جا سکتا ہے، ان کے دلوں پر اس طرح قبضہ کیا جا سکتا ہے کہ تمام اچھائیوں کو مٹا دیں اور مادی جگمگاہٹوں پر قربان کر دیں لیکن صرف اس صورت میں جب تقوی نہ ہو۔ الالمتقین تقوا آخرت میں بھی موثر ہے اور دنیا میں بھی اثر دکھاتا ہے۔ نظام کے تحفظ میں بھی موثر ہے اور جنگ میں بھی موثر ہے۔ اس کو خود آپ نے دیکھا ہے، لمس کیا اور اس کا ادراک کیا ہے۔
میرے عزیزو' میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس امانت الہی یعنی جمہوری اسلامی، کی حفاظت کی سنگین ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے۔ البتہ یہ جان لیں کہ میں ایسا شخص ہوں کہ معاشرے کے مختلف طبقات کو پہچانتا ہوں، ان سے رابطہ رکھتا ہوں۔ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ دیواریں اور حجاب عوام کے مختلف طبقات سے میرے رابطے کو منقطع نہ کر سکے۔ میں بہت پرامید ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ دشمن اپنی سو کوششوں میں سے نوے میں ناکام ہے۔ پاسداران انقلاب کے اجتماعات اور مراکز سے بھی الحمد للہ واقف ہوں۔ اچھی باتیں اتنی زیادہ ہیں اور انسان آپ نوجوانوں میں، بڑے کارنامے، بلند ہمتی، اورافسانوی فداکاری کے ایسے نمونے دیکھتا ہے کہ میں نے بارہا، اس بلند ہمتی، عظیم حوصلے اور خاموش عظیم شخصیات کے وجود پر خدا کا شکر ادا کیا ہے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ خود میں نے شرمندگی کا احساس کیا ہے۔ اس نوجوان سے اپنا موازنہ کیا ہے اور دیکھا ہے کہ یہ نوجوان کہاں اور میں کہاں؟! اس طرح کے بہت سے نوجوان ہیں۔ میں ان سے واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ دشمن اپنے کاموں میں ملک کے امور میں نفوذ کرنے میں دس فیصد بھی کامیاب نہیں ہوا ہے۔ مگر وہی دس فیصد، دسواں حصہ میرے لئے باعث تشویش ہے۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ پاسداران عزیز سے، پاسداران انقلاب کی اس باعظمت اور پرشکوہ تنظیم سے، آپ بسیج کے رضاکار سپاہیوں سے، اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریہ کے تیار کردہ آپ مومن فوجیوں سے، ملک کے مختلف طبقات کے نوجوانوں سے، مختلف خاندانوں سے، متوسط طبقات، متوسط سے نچلے طبقات اور متوسط سے اعلی طبقات سے عرض کروں کہ میرے عزیزو' اس الہی امانت کی جو پیغمبروں کی امانت ہے، حفاظت کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے۔ اسلامی جمہوریہ، خدا کے عظیم پیغمبروں کی تاریخی امانت ہے۔ موسی و عیسی اور ہمارے تمام اولیاء اور ائمہ کی امانت ہے جو آج معرض وجود میں آئی ہے، ناقص ہی صحیح، (کامل صورت میں ان شاء اللہ حضرت بقیت اللہ فی الارض امام زمانہ ) ارواحنا لتراب مقدمہ فداہ کے دور حکومت میں ظاہر اور آشکارا ہوگی) یہ بار گراں بہت اہم ہے۔ اس کی آپ حفاظت کریں اور یہ ممکن نہیں ہے الا یہ کہ نفس کی حفاظت کی جائے۔ متاع دنیا، لذت کوشی، مال و دولت، دنیا کی آرائش، وہ بھی ان حدود میں، جو ممکن ہے کہ ہم اور آپ جیسے لوگوں کی زندگی میں میسر ہو، اس سے بہت کمتر، بے اہمیت اور حقیر ہے کہ انسان اس کے لئے اپنی معنوی بنیادوں کو کمزور کرے اور اس توشہ گرانبہا کو خطرے میں ڈال دے۔ ہوشیار رہیں، دشمن کو ناکام بنائیں۔
یہ آمادگی جو کہتے ہیں کہ آمادہ ہیں بہت اہم ہے۔ مگر یہ سمجھ لیں کہ یہ آمادگی محاذ کی آمادگی سے زیادہ دشوار ہے۔ یہ آمادگی بہت مشکل ہے۔ وہاں کی آمادگی اس صورت میں ممکن ہے کہ انسان یہاں آمادہ ہو۔ وہاں وہ لوگ ثابت قدم رہنے میں کامیاب ہوئے، جنہوں نے اپنے دل سے ان چیزوں کی محبت نکال دی تھی۔ خود آپ اس تاریخ اور اپنی یادوں سے رجوع کریں۔ یاد کریں کہ کس طرح اس دنیا کی ہرچیز سے بے فکر ہو گئے تھے۔ مال و دولت، گھر، زندگی، ماں باپ، بیوی بچے، کسی کی فکر میں نہیں تھے۔ اگر کوئی آپ سے کہتا تھا کہ شہر میں فلاں جگہ ایک بہت اچھا گھر تمہیں دینا چاہتا ہوں تو اس پر ہنستے تھے کہ گھر کیا ہے؟ اتنے پاک تھے اتنے بڑے کارنامے انجام دینے میں کامیاب رہے۔ وہاں مادی خواہشات کے مقابلے میں جن لوگوں کے قدم ڈگمگا جاتے تھے، وہ استقامت نہیں کر سکتے تھے۔ قرآن سے رجوع کریں اور طالوت کا واقعہ پڑھیں۔ اس واقعے کو غور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ سخت اور دشوار مراحل میں استقامت اور مقاومت کا کردار کتنا اہم ہوتا ہے۔
خداوند عالم آپ کو توفیق عطا کرے، حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (امام زمانہ) ارواحنا فداہ کی عنایات اور توجہات آپ کے شامل حال ہوں تاکہ ہم سب اس میدان میں آگے بڑھنے کے لئے آمادہ رہیں۔

 
والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ