بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس مجاہد فی سبیل اللہ کی زندگي کا شمار، حادثوں سے بھری اور سب سے سبق آموز اور واقعی بے نظیر زندگيوں میں ہے۔ میں نے پہلی بار سنہ انیس سو ستّر کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں مشہد میں اپنے گھر میں ان کی زیارت کی تھی۔ شہید اندرزگو انھیں لے کر آئے تھے اور ان پر اعتماد ظاہر کیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ قم کے جناب سید عباس قزوینی کے رشتہ دار ہیں جو ہمارے شناساؤں میں ہیں؟ انھوں نے کہا کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔ اس کے بعد ان ہی برسوں میں، میں نے انھیں ایک بار اوین جیل کے سامنے دیکھا اور دوسری بار گوریلا جنگ کے ہیڈکوارٹر میں قزوین سے بھیجے جانے والے فوجیوں کے درمیان دیکھا تھا۔ عراق میں فوجی قید سے واپسی کے بعد کئی سال تک ان کے ساتھ قریب سے کام کیا۔ تاہم ان کی اتنی زیادہ اور اتنی معیاری مجاہدت کا کوئی بھی ان کے متواضع اور پرسکون وجود سے اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔ خدا کی رحمت و رضوان ہو ان پر۔ مجھے اس بات میں ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ ان کا شمار عالی مقام شہیدوں میں ہے۔ یہ کتاب بہت اچھے اور فنکارانہ طریقے سے لکھی گئی ہے۔ اس کے مصنف کا شکریہ۔
فروری 2010