انھوں نے اس موقع پر اپنے خطاب میں بد عنوان پہلوی حکومت اور اس کے اصل پشت پناہ یعنی امریکا کے اندازے کی غلطی کو، ایرانی قوم کے مقابلے میں ان کی شکست کی وجہ بتایا اور زور دے کر کہا کہ آج بھی ایرانی قوم، جو اسلامی جمہوری نظام کی برکت سے، فکری و معنوی اور عملی لحاظ سے اُس وقت سے کہیں زیادہ طاقتور اور مضبوط ہے، گھمنڈی اور غلط اندازوں میں مبتلا امریکا کو دھول چٹائے گی اور طاقتور اسلامی نظام جو کئی لاکھ عزیز اور باشرف افراد کے خون کی قربانی سے وجود میں آیا ہے، لاابالی افراد اور دنگائیوں کے سامنے نہیں جھکے گا جو تخریب کاری کر رہے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے ملک میں تخریب کاری کے بعض واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ہیں جن کا کام تخریب کاری ہے، جیسا کہ گزشتہ رات تہران اور بعض دوسری جگہوں پر کچھ مٹھی بھر تخریب کاروں نے اپنے ملک کی ہی بعض عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی تاکہ امریکی صدر خوش ہو جائے۔

انھوں نے کہا کہ اگر امریکی صدر کے بس میں ہے تو وہ جا کر اپنے ملک کو سنبھالیں جو مختلف واقعات میں مبتلا ہے۔ بارہ روزہ جنگ میں ان کے ہاتھ ایک ہزار سے زیادہ ایرانیوں کے خون سے آلودہ ہیں اور انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے حملے کا حکم دیا تھا اور پھر یہی شخص کہتا ہے کہ میں ایران کے لوگوں کا طرفدار ہوں۔

آيت اللہ خامنہ ای نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ کئی لاکھ عزیز اور باشرف لوگوں کے خون کی قربانی سے وجود میں آئی ہے اور وہ دنگائیوں کے سامنے نہیں جھکے گی، کہا کہ اسلامی جمہوریہ، اغیار کے زرخرید ایجنٹوں کو برادشت نہیں کرے گی اور ایرانی قوم بھی باہر والوں کے ایجنٹ کو، چاہے وہ جو بھی ہو، مردود سمجھتی ہے۔

انھوں نے امریکی صدر کے بارے میں کہا کہ وہ شخص جو وہاں بیٹھ کر غرور و نخوت سے پوری دنیا کے بارے میں بات کرتا ہے اور فیصلہ سناتا ہے، جان لے کہ فرعون، نمرود، رضا خان اور محمد رضا (پہلوی) وغیرہ جیسے دنیا کے ظالم و آمر اس وقت سرنگوں ہوئے جب وہ اپنے غرور کے اوج پر تھے، وہ بھی سرنگوں ہوگا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے ایک دوسرے حصے میں، پہلوی حکومت اور امریکا کی پالیسیوں اور اندازوں کی غلطی کو قم کے عوام کے زبردست قیام کے سامنے آنے کا پیش خیمہ بتایا اور کہا کہ قم کے عوام کے قیام سے دس ہی دن پہلے امریکی صدر نے تہران میں، پہلوی دور حکومت کے ایران کو امن و استحکام کا جزیرہ بتایا تھا اور پٹھو پہلوی حکومت کی تعریف کی تھی اور ظاہر کر دیا تھا کہ وہ ایرانی قوم کو نہیں پہچانتا۔

انھوں نے تاریخی حقائق کی تشریح کرتے ہوئے ایرانی قوم اور اسلامی جمہوری نظام کے سلسلے میں امریکا کی اندازے کی گہری غلطیوں کے تسلسل کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ان ہی غلطیوں نے اُس وقت امریکا کو شکست سے دوچار کیا تھا اور آج بھی یہی چیز اس کی شکست کا سبب بنے گی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے پہلوی حکومت کی سرنگونی میں قم کے قیام اور ایرانی قوم کی فتح کے اسباب اور اسباق کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت ایرانی قوم کے پاس توپ اور ٹینک جیسے ہارڈ وئير ہتھیار نہیں تھے لیکن وہ سافٹ ہتھیاروں سے لیس تھی جو ہر میدان میں فیصلہ کن ہوتے ہیں۔

انھوں نے اسلام پر ایمان، دینی غیرت، ایمانی غیرت، ذمہ داری کے احساس، فریضے کی شناخت اور ایران سے محبت کو پٹھو پہلوی حکومت کے مقابلے میں ایرانی قوم کے سافٹ ہتھیاروں سے تعبیر کیا اور کہا کہ قوم دیکھ رہی تھی کہ امریکی، ان کے پٹھو اور صیہونیوں کے زرخرید افراد، اس کے ملک پر حکمرانی کر رہے ہیں اور یہی حقائق اسے غضب ناک اور نفرت میں مبتلا کر رہے تھے۔

آيت اللہ خامنہ ای نے امریکا کی منہ زوریوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج ایران کی سرفراز قوم، سافٹ ہتھیاروں اور معنوی لحاظ سے اُس وقت سے بھی زیادہ مضبوط، متحد اور تیار ہے اور فوجی طاقت کے لحاظ سے بھی اس کی پوزیشن کا موازنہ اُس وقت سے نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے لاطینی امریکا کے واقعات کو، اقوام کے وسائل و ذخائر پر دست درازی کی امریکا کی کوشش کی ایک مثال بتایا اور کہا کہ ایک ملک کا محاصرہ کرتے ہیں اور پھر بڑی بے شرمی سے کہتے ہیں کہ ہم نے تیل کے لیے یہ کام کیا ہے۔ جیسا کہ انقلاب سے پہلے ایران کا تیل اور وسائل، سامراجیوں، صیہونیوں اور ان کے ایجنٹوں کے ہاتھ میں تھے۔

انھوں نے اسلامی جمہوری نظام سے امریکیوں کی مسلسل دشمنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے اسلامی نظام روز بروز زیادہ طاقتور ہوا ہے اور نظام کے خاتمے کے لیے ان کی سازشیں ناکام ہوئی ہیں چنانچہ آج ان کی خواہش کے برخلاف اسلامی جمہوریہ دنیا میں طاقتور، سربلند اور عزت دار ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اسلامی جمہوریہ کے طرز کی حکمرانی کو مختلف طرح کے حملے کرنے اور زرخریدوں کو بھرتی کرنے کے باوجود دشمن کی شکست کی وجہ بتایا اور کہا کہ اگر ایران میں کوئی لبرل ڈیموکریٹک، سلطنتی یا دوسروں کی پٹھو حکومت ہوتی تو وہ اتنے زیادہ دباؤ کا سامنا نہیں کر سکتی تھی لیکن اسلامی اور عوامی نظام، ایران کو سائنس، ٹیکنالوجی، عالمی سیاست اور دوسرے بہت سے میدانوں میں عظیم پیشرفتوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا ہے۔

انھوں نے ایران کے الگ تھلگ ہونے کے دعوے کو پوری طرح بے بنیاد بتاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دعوے، جو اغیار کی طرف سے شروع ہوتے ہیں اور پھر ملک کے اندر بھی بعض لوگ انھیں دوہرانے لگتے ہیں، دراصل اپنے آپ کو فریب دینا ہے کیونکہ آج کا ایران، دنیا میں ایک خود مختار، شجاع اور تابناک مستقبل رکھنے والے ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے ملک میں بہت ساری سرگرمیوں اور پیشرفتوں کا سرچشمہ جوانوں کو بتایا اور کہا کہ دشمن کی دروغ گوئیوں کے باوجود، نوجوان طقبہ، ایران کے سب سے اہم امتیازات میں سے ایک ہے۔ انھوں نے کہا کہ دشمنوں کی کوشش یہ ہے کہ ایران کے جوان کو گمراہ، مغرب کا پٹھو، دین سے منہ موڑ لینے والا اور کمزور جذبے والا بتایا جائے جبکہ یہ تصویر سو فیصد غلط ہے۔ ایرانی جوان وہ ہے جو جنگ میں شجاع ہے، سیاست میں بابصیرت ہے اور امریکا کو پہچانتا ہے اور مذہبی امور کی پابندی کرتا ہے۔

انھوں نے خلا میں سیٹیلائٹ بھیجنے، ایٹمی صنعت، اسٹیم سیلز، نینو ٹیکنالوجی اور میڈیسن انڈسٹری میں تحقیقات اور پیشرفت میں جوانوں کے مرکزی کردار کو ہر ضروری میدان میں ایران کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کرنے کے لیے ایرانی جوان کی آمادگی کا ایک اور نمونہ بتایا۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ متحد اور یکجہت ایرانی قوم، ہر دشمن پر غالب آئے گي اور ان شاء اللہ، عنقریب پوری ایرانی قوم کے دل میں فتح کا احساس اپنے اوج پر پہنچ جائے گا۔