اس دائرے میں ایران صرف ایک مالی یا سیاسی حامی نہیں ہے بلکہ یہ ایک غیر رسمی سیکورٹی نظام کا مرکزی ستون بن گیا ہے جس کے خلاف کوئی بھی دھمکی خود بخود اس پورے ڈھانچے کے لیے دھمکی سمجھی جاتی ہے۔ یہ نظام گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران امریکا کی فوجی مداخلتوں اور صہیونی ریاست کی عدم استحکام پھیلانے والی پالیسیوں کے رد عمل میں تشکیل پایا ہے اور اب یہ پختگی اور خود آگہی کی ایک اچھی سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس تناظر میں ایران کے خلاف کسی بھی دھمکی کو واضح طور پر اس پورے نظام کے خلاف دھمکی سمجھا جاتا ہے اور یہی چیز جواب کے دائرے اور کسی بھی دشمنانہ اقدام کی قیمت کو بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے۔
ایران کی حمایت کے اعلان کو ایک "اجتماعی ڈیٹرینس" کے اجزاء کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ ایسا ڈیٹرینس جو کلاسیکی نمونوں کے برخلاف طاقت کے ایک مرکز پر انحصار نہیں کرتا بلکہ وہ کھلاڑیوں، جغرافیا اور متنوع صلاحیتوں کے ایک نیٹ ورک پر مبنی ہے۔ یہ نیٹ ورک ایک منتشر اسٹریٹجک گہرائی پیدا کرتا ہے جو امریکا کے فوجی اور سیاسی اندازوں کو ماضی سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیتا ہے کیونکہ ایران کے خلاف کوئی بھی اقدام اب صرف ایک محاذ یا ایک قابل پیشین گوئی جواب تک محدود نہیں رہے گا۔
اس ٹھوس پہلو کے ساتھ ہی خطے کی مذہبی اور سماجی شخصیات کا موقف اس ڈیٹرینس کے نرم اور شناختی پہلو کو نمایاں کرتا ہے۔ جب ایران کے خلاف دھمکی ایک مذہبی مرجع تقلید اور سیاسی خود مختاری کے مظہر کے خلاف دھمکی کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو معاملہ حکومتوں کے اختلاف اور تنازعے کی سطح سے آگے نکل کر تشخص کے ایک چیلنج میں بدل جاتا ہے۔ اس صورت میں کسی بھی فوجی اقدام کی چکائی جانے والی سیاسی، سماجی اور یہاں تک کہ اخلاقی قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ رد عمل صرف حکومتوں یا مسلح گروہوں کی طرف سے سامنے نہیں آئےگا بلکہ اس میں وسیع تر سماجی ڈھانچے بھی شامل ہو جائیں گے۔
کلیدی نکتہ یہ ہے کہ یہ یکجہتی، واشنگٹن کی عام سمجھ کے برخلاف "ڈکٹیشن" یا "حکم مسلط کرنے" کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ ایک مشترکہ ہم آہنگی اور تاریخی تجربے کا نتیجہ ہے، ایسا تجربہ جو جنگوں، پابندیوں، معاشی دباؤ اور تختہ الٹنے کے منصوبوں سے گزر کر اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ ایران کو کمزور کرنا، پورے خطے میں عدم استحکام کے دروازے کھولنے کے مترادف ہوگا۔ اسی وجہ سے ایران کی حمایت کے علامتی اشارے بھی سنگین اسٹریٹجک پیغاموں کے حامل ہیں۔
کل ملا کر ٹرمپ کی دھمکیوں پر خطے میں سامنے والے رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ آج ایران نہ صرف ایک قومی کھلاڑی کے طور پر بلکہ ایک علاقائی توازن کے مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے، ایک ایسا توازن جس کے خلاف دھمکی جتنی واضح ہوتی جاتی ہے، اس کی یکجہتی بھی اتنی ہی زیادہ مضبوط ہوتی جاتی ہے۔ یہ حقیقت وہ سب سے اہم عنصر ہے جو ایران کے ساتھ کسی بھی ٹکراؤ یا تعاون کے مستقبل کا تعین کرے گا۔