زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
صراط مستقیم، دین کی شناخت، دینی احکام اور اللہ پر ایمان کا تحفظ

صراط مستقیم، دین کی شناخت، دینی احکام اور اللہ پر ایمان کا تحفظ

سورۂ انعام کی آيت نمبر 161 میں پیغمبر سے کہا گيا ہے: کہہ دیجیے کہ بے شک میرے پروردگار نے سیدھے راستہ کی طرف میری رہنمائی کر دی ہے جو حضرت ابراہیم کے دین اور طرز زندگي سے عبارت ہے۔ یعنی دین کا مطلب دینی افکار، شناخت اور عمل ہے اور اسے صراط مستقیم کہا گيا ہے۔ سورۂ نساء کی آيت نمبر 175 میں کہا گيا ہے: تو جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور جنھوں نے خدا کے ذریعے اپنے آپ کو عصمت میں بچائے رکھا، عصمت یعنی خطا سے محفوظ رکھا گيا جس میں لغزش کا امکان نہ ہو، تو اللہ انھیں اپنی رحمت اور فضل کے عظیم دائرے میں داخل کرے گا اور سیدھے راستے کی جانب ان کی رہنمائی کرے گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صراط مستقیم پر پہنچنے کا ذریعہ، اللہ سے جڑے رہنا ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئی 1991
لوگوں کو اللہ اور سنت پیغمبر کی راہ پر لانے کے لیے جدوجہد، صراط مستقیم

لوگوں کو اللہ اور سنت پیغمبر کی راہ پر لانے کے لیے جدوجہد، صراط مستقیم

سورۂ صافات کی آیت نمبر 118 میں موسیٰ اور ہارون کے بارے میں کہا گيا ہے: اور ہم نے (ہی) ان دونوں کو راہِ راست دکھائی۔ اگر آپ حضرت موسیٰ اور ہارون کی زندگي پر نظر ڈالیں تو یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ان دونوں کی زندگي، طاغوت کی اطاعت اور غیر اللہ کی حاکمیت سے سرتابی اور اس راہ میں یعنی لوگوں کی ہدایت، انھیں طاغوت کی حاکمیت سے نجات دینے اور انھیں اللہ کی حاکمیت کے دائرے میں لانے کے لیے مستقل جدوجہد اور مصائب برداشت کرنے کی تصویر پیش کرتی ہے۔ سورۂ یاسین کی آيت نمبر 3 اور 4 میں پیغمبر اسلام سے خطاب ہوا ہے: یقیناً آپ (خدا کے) رسولوں میں سے ہیں  (اور) سیدھے راستے پر ہیں۔ جیسا کہ آپ نے حضرت موسیٰ کی زندگي میں دیکھا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت، ان کا موقف اور ان کی راہ بھی وہی صراط مستقیم ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
قرآن کی ثقافت میں

قرآن کی ثقافت میں "صراط مستقیم"

صراط مستقیم کیا ہے؟ یہ کیا چیز ہے کہ ہم خداوند عالم سے اس کی جانب اپنی ہدایت کی دعا کر رہے ہیں؟ قرآن مجید کی آیتوں سے سمجھا جا سکتا ہے کہ صراط مستقیم کیا ہے؟ سورۂ آل عمران کی آيت نمبر 51 میں کہا گیا ہے: بے شک اللہ، میرا اور تمھارا پروردگار ہے تو تم اس کی عبادت کرو، یہی صراط مستقیم ہے، سیدھا راستہ ہے۔ تو اس آيت میں صراط مستقیم کیا ہے؟ عبادت و بندگي، بندگی کے مقام تک پہنچنا۔ انسانی تاریخ میں یہ جو کثرت سے مظالم، گمراہیاں اور پریشانیاں دکھائی دیتی ہیں، یہ اس وجہ سے ہیں کہ کسی نے یا کچھ لوگوں نے خدا کی بندگي کو تسلیم نہیں کیا، اپنی یا دوسروں کی نفسانی خواہشات کے بندے بن گئے۔ سورۂ یاسین کی آيت نمبر 61 میں کہا گيا ہے: اور میری ہی عبادت کرو کہ یہی سیدھا راستہ ہے۔ تو ان آيتوں کے مطابق صراط مستقیم کا مطلب ہے خدا کی عبادت، خدا کی بندگي، خدا کے سامنے سر تسلیم خم رکھنا۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
امریکی جان لیں ...

امریکی جان لیں ...

امریکی جان لیں کہ ایران کے ساتھ معاملات میں دھمکیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
صراط، طریق اور سبیل جیسے الفاظ میں فرق

صراط، طریق اور سبیل جیسے الفاظ میں فرق

قرآن مجید میں راہ یا راستے کے لیے کئي الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ "طریق" جب ایک فرضی راستے پر کوئی آگے بڑھتا ہے جبکہ اس پر نہ کوئي علامت ہے، نہ اسے پتھروں سے ہموار کیا گيا ہے، بس کوئي ایک فرضی راستے پر چلنے لگے تو اسے طریق کہتے ہیں، اس راہ میں کوئي خصوصیت نہیں سوائے اس کے کہ ایک راہرو اس پر چلے۔ تو یہ ایک عمومی معنی ہے۔ "سبیل" کے معنی اس سے زیادہ محدود ہیں، یہ وہ راستہ ہے جس پر چلنے والے زیادہ ہیں۔ سبیل، ایسا راستہ ہے جس پر چلنے والوں کی کثرت کی وجہ سے وہ ہموار ہو گيا ہے اور واضح ہو گيا ہے، البتہ ممکن ہے کبھی انسان اس راستے کو کھو دے۔ "صراط" پوری طرح سے واضح راستے کو کہتے ہیں۔ یہ راستہ اتنا واضح ہے کہ اس راستے کو کھو دینے کا امکان ہی نہیں ہے۔ "اِھدِنَا الصِّراط" یعنی بالکل واضح راستہ دکھا، اس پر "المستقیم" کی قید بھی لگا دی یعنی ہمیں بالکل واضح اور سیدھا راستہ دکھا۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
اسرائيل کے لیے بے رحم لفظ چھوٹا ہے

اسرائيل کے لیے بے رحم لفظ چھوٹا ہے

آج صیہونی ریاست کی بے رحمی نے، بلکہ بے رحمی کا لفظ بھی کم ہے، بہت سی غیر مسلم قوموں کے دلوں کو درد سے بھر دیا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے کچھ ممالک میں صیہونی ریاست کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔
بلاشبہ استقامت کا نتیجہ، خبیث صیہونی حکومت کی شکست ہے

بلاشبہ استقامت کا نتیجہ، خبیث صیہونی حکومت کی شکست ہے

شک نہ کیجیے کہ ان استقامتوں کا نتیجہ، دشمنوں کی شکست ہے۔ خبیث، فاسد اور فاسق صیہونی حکومت کی شکست ہے۔
مزاحمتی فورسز ایران کی پراکسی نہیں ہیں

مزاحمتی فورسز ایران کی پراکسی نہیں ہیں

امریکی، یورپی اور ان جیسے دوسرے سیاستداں جو ایک بڑی غلطی کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ خطے میں مزاحمت کے مراکز کو ایران کی پراکسی فورسز کہتے ہیں۔ یہ ان کی توہین کرتے ہیں۔
نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پر رہبر انقلاب کا اہم خطاب

نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پر رہبر انقلاب کا اہم خطاب

جمعہ 21 مارچ 2025 کی صبح رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کا سالانہ خطاب، جو ہر سال مشہد مقدس میں ہوا کرتا تھا، اس سال نوروز کے ایام، شبہائے قدر میں پڑنے کی وجہ سے اس سال عوام کے مختلف طبقوں کی موجودگي میں حسینیۂ امام خمینی میں ہوا۔
خاص ہدایت، مومنین سے مختص ہے

خاص ہدایت، مومنین سے مختص ہے

ایک چوتھی قسم کی بھی ہدایت ہے جس کا نام ہم نے "خواص کی ہدایت" رکھا ہے، یہ سارے مومنین کے لیے بھی نہیں ہے بلکہ ان میں سے بھی خاص لوگوں سے مختص ہے۔ یہ وہ بہت ہی اعلیٰ سطح کی ہدایت ہے جو پیغمبروں اور اولیائے الہی سے مختص ہے۔ سورۂ انعام کی آيتیں پیغمبر سے کہتی ہیں کہ "اُولئكَ الَّذينَ ھَدَى اللّہ" یہی وہ لوگ ہیں جن کی خدا نے ہدایت کی ہے۔ "فَبِھُدٰھُمُ اقتَدِہ" آپ ان کی ہدایت کی پیروی کیجیے۔ خدا کے برگزیدہ بندے اس کی جانب سے کچھ چیزیں، کچھ اشارے، کچھ خاص ہدایات حاصل کرتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ کسی کو قرآن کی کوئي آيت سنائي جاتی ہے تو وہ کچھ اشارے حاصل کرتا ہے، اس آيت کے کچھ الفاظ ان کے لیے ایک ہدایت لیے ہوئے ہوتے ہیں جو ہمارے لیے نہیں ہیں۔ یہ سبھی اللہ کی ہدایت ہیں، ہدایت کے معنی یہ ہیں۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991