زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
خود فراموشی سے نجات کا راستہ

خود فراموشی سے نجات کا راستہ

انسان دعا کر کے، اللہ کے حضور گڑگڑا کر، روزہ رکھ کر، خواہشوں پر قابو کے ذریعے جو روزے کی حالت میں پیدا ہوتا ہے یہ ذکر اور یہ توجہ وجود میں لا سکتا ہے اور خود کو اس خود فراموشی سے نجات دلا سکتا ہے۔
خدا کی پرستش کا فطری ہونا

خدا کی پرستش کا فطری ہونا

اس آيت کے ضمن میں ایک نکتہ یہ ہے کہ اس بندگی کا سرچشمہ انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے مطابق طاقت کے ایک ایسے سرچشمے، قدرت و اقتدار کے ایک ایسے مرکز کی طرف مجذوب ہوتا ہے جسے وہ خود سے برتر سمجھتا ہے اور اس کے سامنے سر جھکا دیتا ہے۔ یہ چیز انسان کی روح میں، اس کی ذات میں اور اس کے خمیر میں پائی جاتی ہے، چاہے دانستہ ہو یا نادانستہ۔ دنیا میں کی جانے والی ساری عبادتیں، خدا کی پرستش ہے، یہاں تک کہ بت پرست بھی بباطن اپنی فطرت کے تقاضے کے مطابق جو اسے خدا پرستی کی طرف لے جاتی ہے اور خدا پرستی کی دعوت دیتی ہے، اپنی فطرت کی پیروی کرتا ہے۔ بت پرست بھی اپنے دل کے باطن میں خدا پرست ہے، جو چیز اس کے کام میں مشکل پیدا کرتی ہے وہ اس برتر طاقت اور الہی قدرت کے مصداق کی شناخت میں غلطی ہے۔ ادیان کا کردار یہ ہے کہ وہ انسان کے اس سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کریں، اس کی آنکھیں کھولیں اور اسے بتائيں کہ وہ برتر طاقت کون ہے۔ امام خامنہ ای 24 اپریل 1991
خود فراموشی ایک بڑا خسارہ

خود فراموشی ایک بڑا خسارہ

انسان کے اپنے آپ کو فراموش کر دینے کے انفرادی و اجتماعی سطح پر گہرے معنی ہیں، انفرادی سطح پر اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ اپنی تخلیق کے ہدف کو بھول جاتا ہے۔
ایّاک نعبد کا مطلب

ایّاک نعبد کا مطلب

"ايّاك نَعبُد" یعنی ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں۔ خدا کے مقابلے میں انسان کی بندگي کا مطلب ہے خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ خدا اور انسان کے درمیان رابطہ، بہت سے آسمانی ادیان اور اسلام میں بھی بندگي سے عبارت ہے۔ بندۂ خدا کا مطلب ہے خدا کے سامنے سر جھکائے رہنے والا۔ دوسری جانب خداوند عالم تمام نیکیوں اور اچھائيوں کا سرچشمہ ہے تو بندۂ خدا کا مطلب ہوا تمام نیکیوں، اچھائيوں، خیر اور نور کا بندہ ہونا۔ یہ بندگي اچھی بندگي ہے۔ انسانوں کا بندہ ہونا، انسانوں کا غلام ہونا، بہت بری چیز ہے کیونکہ انسان، ناقص ہیں، انسان محدود ہیں، اس لیے ان کا بندہ ہونا انسان کے لیے ذلت ہے۔ ظالم طاقتوں کا بندہ ہونا، انسان کے لیے ذلت ہے، نفسانی خواہشات کا بندہ ہونا، انسان کے لیے ذلت و خواری ہے۔ بنابریں بندگي ان چیزوں میں سے نہیں ہے جو ہر جگہ اچھی یا ہر جگہ بری ہوں۔ کہیں پر بندگي اچھی ہو سکتی ہے اور کہیں پر بری۔ بندۂ خدا ہونا، ایک اعلیٰ مفہوم کا حامل ہے۔ امام خامنہ ای 10 اپریل 1991
خدا کے مالک ہونے اور ہمارے مالک ہونے میں فرق

خدا کے مالک ہونے اور ہمارے مالک ہونے میں فرق

دنیا میں ہمارے پاس مالکیت نام کی ایک چیز ہے۔ یہ حقیقی مالکیت نہیں ہے بلکہ عطا کردہ مالکیت ہے۔ یہاں تک کہ ہم اپنے جسم کے بھی مالک نہیں ہیں۔ ہم اپنے جسم کے کیسے مالک ہیں کہ اس جسم میں آنے والی تبدیلیاں ہماری مرضی کے برخلاف سامنے آتی ہیں اور انھیں کنٹرول کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے؟ اس جسم میں درد ہوتا ہے، یہ جسم فنا ہو جاتا ہے اور اس پر ہمارا کوئي اختیار نہیں ہوتا۔ ہم دنیا میں بہت سی چیزوں کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ اس  کمزور سی مالکیت پر ہی انسان نازاں ہے، قیامت میں یہ ادنیٰ سی مالکیت بھی نہیں ہوگی۔ قیامت میں ہمارے اعضاء و جوارح ہمارے خلاف بات کریں گے اور وہاں سامنے آنے والی ساری باتیں انسان کے دائرۂ اختیار سے باہر ہوں گي۔ امام خامنہ ای 10 اپریل 1991
جو خدا کو بھول جائے، خدا اسے بھول جاتا ہے

جو خدا کو بھول جائے، خدا اسے بھول جاتا ہے

انھوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی انھیں بھلا دیا۔ خدا کے فراموش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنی رحمت کے دائرے سے باہر نکال دیتا ہے۔
رمضان ذکر کا مہینہ اور قرآن ذکر کی کتاب ہے

رمضان ذکر کا مہینہ اور قرآن ذکر کی کتاب ہے

رمضان کا مہینہ، ذکر کا مہینہ ہے، قرآن کا مہینہ ہے اور قرآن ذکر کی کتاب ہے: قرآن ذکر ہے، ذکر کا باعث ہے، ذکر کی کتاب ہے۔ "ذکر" کا کیا مطلب ہے؟ ذکر، غفلت اور فراموشی کی ضد ہے۔
مالک یوم الدین کا مطلب

مالک یوم الدین کا مطلب

مطلب یہ کہ آپ کی زندگي کے اس ٹکڑے کا مالک اور صاحب اختیار، جس میں آپ کے پاس کوئي عمل نہیں ہے اور اس میں صرف اور صرف جزا ہے، ان اعمال کی جزا جو ہم نے دنیا کے اس چھوٹے سے ٹکڑے میں انجام دیے ہیں، خداوند عالم ہے، ہر چیز اس کے دست اختیار میں ہے۔ وہاں یہ عطا کردہ، مصنوعی اور انتہائي ناقص مالکیت بھی، جو اس دنیا میں ہمارے اور آپ کے پاس ہے، نہیں ہوگی۔ امام خامنہ ای 10 اپریل 1991
بدمعاش حکومتوں کا مذاکرات پر اصرار، اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش

بدمعاش حکومتوں کا مذاکرات پر اصرار، اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش

یہ جو بعض بدمعاش حکومتیں، مذاکرات کی ضد کر رہی ہیں، ان کے مذاکرات، مسائل کے حل کے لیے نہیں ہیں، حکم چلانے کے لیے ہیں۔
یورپ کو دو ٹوک جواب، ڈھٹائی کی بھی حد ہوتی ہے!

یورپ کو دو ٹوک جواب، ڈھٹائی کی بھی حد ہوتی ہے!

آپ کہتے ہیں کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، ٹھیک ہے، آپ نے ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں پر عمل کیا؟ آپ نے اپنا وعدہ توڑا، پھر ایک دوسرا وعدہ کیا، دوسرے وعدے کو بھی توڑ دیا۔ آخر ڈھٹائی کی بھی ایک حد ہوتی ہے!