زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
خطے میں صرف ایک پراکسی فورس ہے؛ صیہونی حکومت

خطے میں صرف ایک پراکسی فورس ہے؛ صیہونی حکومت

خطے میں صرف ایک پراکسی فورس ہے اور وہ غاصب و فاسد صیہونی حکومت ہے۔ صیہونی حکومت، سامراجیوں کی نمائندگي میں آگ بھڑکاتی ہے، نسل کشی کرتی ہے، جرائم کرتی ہے۔
تہران میں عید الفطر کی نماز امام خمینی عیدگاہ میں پیر 31 مارچ کو رہبر انقلاب اسلامی کی امامت میں ادا کی گئي

تہران میں عید الفطر کی نماز امام خمینی عیدگاہ میں پیر 31 مارچ کو رہبر انقلاب اسلامی کی امامت میں ادا کی گئي

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کی امامت میں پیر 31 مارچ کو تہران میں عید الفطر کی نماز امام خمینی عیدگاہ میں دسیوں لاکھ لوگوں کی شرکت سے ادا کی گئي۔
امام خامنہ ای کی امامت میں نماز عید

امام خامنہ ای کی امامت میں نماز عید

عید فطر کی پرشکوہ نماز امام خامنہ ای کی امامت میں 31 مارچ 2025 کو تہران کی امام خمینی عیدگاہ میں منعقد ہوگی۔
استَعینوا بِاللہِ وَ اصبِروا

استَعینوا بِاللہِ وَ اصبِروا

حضرت موسیٰ نے بنی اسرائيل کے لوگوں سے کہا کہ نصرت طلب کرو، خدا سے مدد مانگو اور صبر کرو، استقامت سے کام لو، خدا مسائل ٹھیک کر دے گا اور ٹھیک ہو گئے۔
مَغضوبِ عَلَيھِم

مَغضوبِ عَلَيھِم

خداوند عالم نے انبیاء اور اولیاء کو بھی نعمت عطا کی ہے اور بنی اسرائيل کو بھی۔ "مغضوب علیھم" یعنی جن پر خدا کا غضب ہوا اور "ضالّین" یعنی گمراہ لوگ بھی ان میں شامل ہیں جنھیں اللہ نے اپنی نعمت عطا کی ہے۔ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ خدا کچھ لوگوں کو نعمت عطا کرتا ہے اور کچھ کو گمراہ کرتا ہے اور ان پر غضب کرتا ہے، ایسا نہیں ہے۔ "المَغضوبِ عَلَيھِم"، "اَنعَمتَ عَلَيھِم" کی صفت ہے۔ تاہم جن لوگوں کو خدا نے نعمتیں عطا کی ہیں، وہ دو طرح کے ہیں: ایک وہ جنھوں نے اپنے عمل سے، اپنی تساہلی سے، اپنی گمراہی سے نعمت کو برباد کر دیا۔ دوسرے وہ جنھوں نے کوشش اور شکر کے ذریعے نعمت کو باقی رکھا۔ بنی اسرائیل بھی ان لوگوں میں سے تھے جنھیں خدا نے بڑی نعمت عطا کی تھی جس کے سبب انھیں دوسروں پر فضیلت مل گئی تھی لیکن وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بن گئے۔ ہماری کسوٹی اور ہمارا معیار، سیدھے راستے کا وہ راہرو ہونا چاہیے جسے اللہ نے نعمت عطا کی ہو اور جو اس کے غضب کا نشانہ نہ بنا ہو۔ امام خامنہ ای 10 جولائی 2013
اَنعَمتَ عَلَيھِم

اَنعَمتَ عَلَيھِم

پہلی خصوصیت یہ ہے کہ ان پر اللہ نے انعام و احسان کیا ہو۔ قرآن میں کہا گيا ہے کہ خداوند عالم نے انبیاء کو بھی، صدیقین کو بھی، شہداء کو بھی اور صالحین کو بھی نعمتیں عطا کی ہیں، انھوں نے راہ حق کو تلاش کر لیا، گمراہ بھی نہیں ہوئے اور غضب الہی کا نشانہ بھی نہیں بنے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے بھرپور نعمت عطا کی، ان پر غضب نہیں کیا اور وہ لوگ اپنی پاکیزہ سیرت اور ثابت قدمی کی وجہ سے ذرہ برابر بھی گمراہی کی طرف نہیں بڑھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال اہلبیت اور ائمہ علیہم السلام ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر ہمیں چلنا چاہیے۔ اب اگر دنیا کی اکثریت دوسری طرح بات کرتی ہے، دوسری طرح عمل کرتی ہے تو ہمیں ہدایت الہی کو تسلیم یا مسترد کرنے کے لیے اپنی عقل اور اپنے دین کی کسوٹی بنانا چاہیے۔ مومن اور مسلم امت، وہ امت ہے جو قرآن مجید سے، ہدایت الہی سے معیار حاصل کرتی ہے۔ یہی ٹھوس معیار ہے۔ امام خامنہ ای 10 جولائی 2013
صراط مستقیم پر چلنے والے

صراط مستقیم پر چلنے والے

سورۂ حمد میں ہمیں صراط مستقیم پر چلنے والوں کی نشانیاں بتائی گئی ہیں: صِراطَ الَّذينَ اَنعَمتَ عَلَيھِم۔ صراط مستقیم یا سیدھا راستہ، ان لوگوں کا راستہ ہے جنھیں تو نے نعمت عطا کی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ نعمت کھانا، پینا نہیں ہے، ہدایت الہی کی نعمت ہے ... معنوی نعمت ہے جو سب سے بڑی الہی نعمت ہے۔ یہ ان لوگوں کی راہ ہے جنھیں تو نے نعمت عطا کی ہے، ان پر غضب نہیں کیا ہے اور وہ گمراہ بھی نہیں ہوئے۔ یہ تین خصوصیات ہونی چاہیے: خدا نے انھیں ہدایت کی نعمت عطا کی ہو، انھوں نے اپنے برے اعمال سے اس نعمت کو غضب الہی میں تبدیل نہ کیا ہو اور گمراہ بھی نہ ہوئے ہوں۔ اس راہ کے مصادیق آپ اپنے زمانے میں، گزشتہ زمانے میں، اسلام کے ابتدائي‏ زمانے میں اور تاریخ میں بڑی آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔ امام خامنہ ای 11 جون 1997
عالمی یوم قدس کی ریلی، ایرانی قوم کے افتخارات میں

عالمی یوم قدس کی ریلی، ایرانی قوم کے افتخارات میں

عالمی یوم قدس کی ریلی، اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ایرانی قوم اپنے اہم سیاسی و بنیادی اہداف پر پوری طاقت سے ڈٹی رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہ فلسطین کی حمایت کا نعرہ لگائے اور ایک دو سال گزرنے کے بعد اسے چھوڑ دے۔ ایرانی قوم چالیس پینتالیس سال سے یوم قدس کی ریلی میں شرکت کر رہی ہے۔
ہدایت کی دو قسمیں، راستہ دکھانا اور منزل تک پہنچانا

ہدایت کی دو قسمیں، راستہ دکھانا اور منزل تک پہنچانا

ہم کہتے ہیں کہ اے خدا ہماری ہدایت کرتا رہ، اس "ہدایت کرتا رہ" کے کیا معنی ہیں؟ ایک راستہ دکھانا ہے، ایک منزل تک پہنچانا ہے۔ راستہ دکھانے کا کیا مطلب ہے؟ کہتے ہیں ہدایت یعنی ہمیں راستہ دکھاؤ۔ منزل تک پہنچانے کا مطب یہ ہے کہ آپ کسی کا ہاتھ پکڑیں اور اسے وہاں لے جائيں جہاں وہ جانا چاہتا ہے۔ انسان کے سلسلے میں ہدایت الہی ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں ہے بلکہ ان دونوں کے درمیان ہے، یعنی ہدایت الہی رہنمائی اور مدد کا مجموعہ ہے۔ مدد کا کیا مطلب ہے؟ یعنی توفیق عطا کرنا، انسان کے لیے راستہ کھولنا۔ یعنی جب انسان عزم کرے اور قدم بڑھائے اور خدا نے ہر مرحلے میں رہنمائي کی تو وہ اگلے مرحلے میں قدم بڑھانا انسان کے لیے آسان کر دیتا ہے اور کبھی کبھی لغزش کے مقامات پر اس کی مدد بھی کرتا ہے۔ امام خامنہ ای 8 مئی 1991
صراط مستقیم، نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرنا

صراط مستقیم، نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرنا

قرآن مجید کی ابتدا میں ہی سورۂ حمد میں پروردگار عالم سے ہماری درخواست "اِيّاكَ نَعبُدُ وَ اِيّاكَ نَستَعين" سے شروع ہوتی ہے۔ اس مدد طلب کرنے کا ایک بڑا مصداق اگلی آيت میں آتا ہے: "اِھدِنَا الصِّراط المستقیم" گویا یہ ساری تمہیدیں، اس عبارت کے لیے ہیں: سیدھے راستے کی طرف ہماری ہدایت کرتا رہ۔ پھر سورۂ حمد کے آخر تک اس صراط مستقیم یا سیدھے راستے کی تشریح کی جاتی ہے۔ صراط مستقیم، خدا کی عبادت کا راستہ ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب ہے اپنی نفسانی خواہشات کو لگام لگانا۔ اسلام نفسانی خواہشات کو ختم نہیں کرتا، انھیں کنٹرول کرتا ہے، کیونکہ یہ خواہشات، آگے بڑھنے کا محرک ہیں۔ اسلام ان خواہشات کو لگام لگاتا ہے اور ان کی ہدایت کرتا ہے۔ اسلام جنسی خواہشات کو ختم نہیں کرتا لیکن ان پر لگام لگاتا ہے، مال و ثروت کی خواہش کو ختم نہیں کرتا کیونکہ یہ پیشرفت کا ذریعہ ہے لیکن اسے کنٹرول کرتا ہے۔ یعنی ہدایت کرتا ہے۔ امام خامنہ ای 6 مارچ 2000