زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
فارسی زبان و ادب کے شعراء اور اساتذہ کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات

فارسی زبان و ادب کے شعراء اور اساتذہ کی رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی شب ولادت با سعادت کی مناسبت سے فارسی زبان و ادب کے بعض شاعروں اور اساتذہ نے سنیچر 15 مارچ 2025 کی رات رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس سے پہلے مغرب و عشاء کی نماز رہبر انقلاب کی امامت میں ادا کی گئي۔
رہبر انقلاب کے سامنے ایک ہندوستانی شاعر کا کلام

رہبر انقلاب کے سامنے ایک ہندوستانی شاعر کا کلام

ہندوستانی شاعر کا کلام سننے کے بعد رہبر انقلاب کا تبصرہ: اہم یہ ہے کہ جس کی مادری زبان فارسی نہیں ہے، وہ اتنی صاف ستھری فارسی میں شعر کہے۔ فارسی میں بات کرنا ایک بات ہے اور فارسی میں شعر کہنا دوسری بات ہے۔
موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات سے کوئی مشکل حل نہیں ہوگی

موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات سے کوئی مشکل حل نہیں ہوگی

اگر مذاکرات کا مقصد پابندیاں ختم کرانا ہے تو امریکا کی اس حکومت سے مذاکرات سے پابندیاں ختم نہیں ہوں گي یعنی وہ پابندیاں نہیں ہٹائے گي۔ وہ پابندیوں کی گرہ کو اور زیادہ پیچیدہ کر دے گی۔
دشمن تب ہم پر فتحیاب ہوتا ہے جب ہم اپنے نفس پر فتحیاب نہیں ہو پاتے

دشمن تب ہم پر فتحیاب ہوتا ہے جب ہم اپنے نفس پر فتحیاب نہیں ہو پاتے

اگر انسان اس غاصب بادشاہ پر جو اس کے اندر ہے یعنی اس حقیقی ڈکٹیٹر پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گيا تو پھر وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں پر بھی غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ شعر نہیں، مضمون نہیں ہے، یہ کھلے ہوئے حقائق ہیں۔ ہم نے اسلامی انقلاب کے دوران پوری طرح سے ان کا مشاہدہ کیا ہے۔ اگر کچھ لوگوں نے اپنے نفس پر غلبہ حاصل کر لیا تو قربانی دیں گے اور اگر کوئي ملت قربانی دے تو کوئي بھی طاقت اس پر غلبہ حاصل نہیں کر سکے گی۔ دشمن تب ہم پر فتحیاب ہوتا ہے جب ہم اپنے نفس پر فتحیاب نہیں ہو پاتے۔ انسان کی شکست کا پہلا مرحلہ، خود اس کی اندرونی شکست ہے۔ جب حسد اور دکھاوے کی چاہت اور اسی طرح کی چیزیں انسان پر غالب آ جاتی ہیں تو کام میں انسان کے ہاتھوں میں لرزش پیدا کر دیتی ہیں اور جب آپ کا ہاتھ لرزنے لگتا ہے تو دشمن کا ہاتھ مضبوط ہو جاتا ہے، یہ ایک فطری بات ہے۔ امام خامنہ ای 24  اپریل 1991
ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور صرف تیری بندگی کرتے ہیں

ہم تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں اور صرف تیری بندگی کرتے ہیں

"وَ اِيّاكَ نَستَعين" اور صرف تجھ ہی مدد چاہتے ہیں۔ کس چیز میں تجھ سے مدد چاہتے ہیں؟ اس چیز میں کہ ہم صرف تیری ہی بندگي کریں، کسی دوسرے کی نہیں، غیر اللہ کی بندگي نہ کرنا زبان سے تو بہت آسان ہے لیکن عمل میں یہ سب سے مشکل کاموں میں ہے؛ انفرادی زندگي میں بھی سخت ہے اور اجتماعی زندگي میں بھی سخت ہے، ایک قوم کی حیثیت سے بھی سخت ہے اور آپ اس کی سختیوں کو دیکھ رہے ہیں کہ جب اسلامی جمہوریہ نے بڑی طاقتوں کے مقابلے میں توحید کا پرچم بلند کر رکھا ہے، اس سے بھی زیادہ سخت ہمارے اندر کے اس شیطان اور طاغوت کو بھگانا ہے، یہ اس سے بھی زیادہ سخت ہے۔ نفسانی خواہشات اور نفسانی شہوات سے مقابلے کی نسبت امریکا سے مقابلہ آسان ہے، نفس سے جنگ سب سے سخت ہے، اُس جنگ کی بنیاد بھی یہ جنگ ہے۔ امام خامنہ ای 24  اپریل 1991
ایران، امریکا سے مذاکرات کیوں نہیں کرتا؟

ایران، امریکا سے مذاکرات کیوں نہیں کرتا؟

مذاکرات میں انسان کو یقین ہونا چاہیے کہ فریق مقابل اس چیز پر عمل کرے گا جس کا اس نے وعدہ کیا ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ وہ عمل نہیں کرے گا تو پھر کیسے مذاکرات؟
خدا کی عبادت میں تمام موجودات سے موحّد کی ہمنوائی

خدا کی عبادت میں تمام موجودات سے موحّد کی ہمنوائی

ہم تیری ہی عبات کرتے ہیں، یہ "ہم" کون لوگ ہیں؟ ایک تو میں ہوں۔ میرے علاوہ، سماج کے دوسرے افراد ہیں۔ "ہم" صرف دنیا کے یکتا پرست نہیں بلکہ تمام انسان ہیں کیونکہ غیر موحّد بھی اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا، ان کی فطرت اللہ کی عبادت کرنے والی ہے، وہ اندر سے خدا کے عابد ہیں چاہے ان کا ذہن اس بات کی طرف متوجہ نہ ہو۔ دائرہ اس سے بھی زیادہ بڑھایا جا سکتا ہے اور کون و مکان کی ہر چیز کو اس میں شامل کیا جا سکتا ہے یعنی میں اور دنیا کی ہر شئے تیری عبادت کرتے ہیں، کائنات کا ذرہ ذرہ، پروردگار کی عبادت کر رہا ہے۔ اگر انسان اس چیز کو محسوس کر لے تو وہ عبودیت کے اعلیٰ مقام تک پہنچ جائے گا۔ امام خامنہ ای 24 اپریل 1991
مذاکرات کی امریکی صدر کی دعوت، رائے عامہ کو فریب دینے کے لیے ہے

مذاکرات کی امریکی صدر کی دعوت، رائے عامہ کو فریب دینے کے لیے ہے

مذاکرات میں انسان کو یقین ہونا چاہیے کہ دوسرا فریق اپنے وعدے پر عمل کرے گا۔ جب ہم جانتے ہیں کہ وہ عمل نہیں کرے گا، تو پھر مذاکرات کا کیا فائدہ؟ لہٰذا، مذاکرات کی دعوت دینا اور مذاکرات کا اظہار کرنا، رائے عامہ کو دھوکہ دینا ہے۔
نمایاں شخصیات کو کھونا، پسپا اور کمزور ہو جانے کے معنی میں نہیں ہے

نمایاں شخصیات کو کھونا، پسپا اور کمزور ہو جانے کے معنی میں نہیں ہے

نمایاں شخصیات کو کھو دینا کسی بھی طرح سے پیچھے ہٹنے، پسپا ہونے اور کمزور ہو جانے کے معنی میں نہیں ہے۔ بس دو عناصر ہونے چاہیے، ان میں سے ایک ہدف ہے اور دوسرا کوشش۔
ہزاروں اسٹوڈنٹس کی رہبر انقلاب اسلامی سے سالانہ ملاقات

ہزاروں اسٹوڈنٹس کی رہبر انقلاب اسلامی سے سالانہ ملاقات

ملک کے ہزاروں اسٹوڈنٹس نے بدھ 12 مارچ 2025 کی شام رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی۔ یہ سالانہ ملاقات ہر سال رمضان المبارک میں ہوتی ہے۔