زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
غزہ کے سلسلے میں امت مسلمہ کا فریضہ

غزہ کے سلسلے میں امت مسلمہ کا فریضہ

غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کا دوبارہ حملہ ایک بہت بڑا جرم اور المیہ پیدا کرنے والا ہے۔ پھر بچے قتل ہو رہے ہیں، گھر تباہ ہو رہے ہیں، لوگ بے گھر ہو رہے ہیں۔ امت مسلمہ کو متحد ہو کر اس کے مقابلے میں ڈٹ جانا چاہیے۔
یمن کے عوام پر، یمن کے عام لوگوں پر حملہ بھی ایک جرم ہے جسے یقینی طور پر روکا جانا چاہیے۔

یمن کے عوام پر، یمن کے عام لوگوں پر حملہ بھی ایک جرم ہے جسے یقینی طور پر روکا جانا چاہیے۔

یمن کے عوام پر، یمن کے عام لوگوں پر حملہ بھی ایک جرم ہے جسے یقینی طور پر روکا جانا چاہیے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام نوروز 1404 سے اقتباس (20 مارچ 2025)
غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کا دوبارہ حملہ، ایک بڑا جرم اور المیہ پیدا کرنے والا ہے۔

غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کا دوبارہ حملہ، ایک بڑا جرم اور المیہ پیدا کرنے والا ہے۔

غزہ پر غاصب صیہونی حکومت کا دوبارہ حملہ، ایک بڑا جرم اور المیہ پیدا کرنے والا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام نوروز 1404 سے اقتباس (20 مارچ 2025)
نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پر رہبر انقلاب کا پیغام

نئے ہجری شمسی سال کے آغاز پر رہبر انقلاب کا پیغام

رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ خامنہ ای نے ہر سال کی طرح اس سال بھی نئے ہجری شمسی سال 1404 کے آغاز پر ایک پیغام جاری کیا ہے۔
ہدایت الہی کے معنی اور اس کی اقسام (2)

ہدایت الہی کے معنی اور اس کی اقسام (2)

ایک ہدایت ہے جو مومنوں سے مختص ہے: ھُدًى لِلمُتَّقين، یہ اُس ہدایت کے اوپر ہے جو خود انسان کے اندر پائي جاتی ہے، جسے ایمانی ہدایت کہتے ہیں۔ اسی ہدایت کا ذکر سورۂ نحل میں ہے کہ جو لوگ خدا کی آيتوں پر ایمان نہیں لاتے، خدا ان کی ہدایت نہیں کرتا۔ اس کا کیا مطلب ہے کہ خدا ہدایت نہیں کرتا؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ پھر کبھی مومن نہیں بن سکتے؟ انھیں کبھی ہدایت ایمانی حاصل نہیں ہو سکتی؟ کیوں نہیں، جو ایمان نہیں رکھتا، ممکن ہے کہ اس کے پاس آج ایمان نہ ہو، کل وہ اپنی عقل اور اپنی فطرت کی طرف لوٹ آئے اور ایمان لے آئے، تو یہ ایمانی ہدایت نہیں ہے، تیسری قسم کی ہدایت ہے، وہ ہدایت مومنین سے مختص ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
ہدایت الہی کے معنی اور اس کی اقسام (1)

ہدایت الہی کے معنی اور اس کی اقسام (1)

ہدایت کے معنی رہنمائي کرنے اور راستہ دکھانے کے ہیں۔ ہدایت الہی کے کئي مرحلے اور کئي معنی ہیں۔ ایک طرح کی ہدایت عام ہدایت الہی ہے جس میں تمام موجودات شامل ہیں۔ یہ تکوینی ہدایت ہے، عام اور عالمگیر ہے، اس کے ذریعے تمام موجودات کی رہنمائي ہوتی ہے۔ جس محرک کے تحت چیونٹیاں یا شہد کی مکھیاں خاص طریقے سے اپنا گھر بناتی ہیں اور اجتماعی طور پر زندگي گزارتی ہیں، اس کا سرچشمہ ہدایت الہی ہے۔ ہمارا مقصود یہ ہدایت نہیں ہے۔ ہدایت کی ایک قسم بنی نوع انسان سے مختص ہے کہ جو فطرت انسان سے عبارت ہے۔ انسان کے خمیر میں ایک احساس ہے، ایک پنہاں ادراک ہے جو اللہ کے وجود اور بعض دینی معارف کی طرف اس کی رہنمائي کرتا رہتا ہے۔ آپ اللہ کو اپنی عقل سے پہچانتے ہیں اور فطرت و عقل کے علاوہ اللہ کو پہچاننے کا کوئي ذریعہ نہیں ہے، یہی انسانی عقل کی ہدایت ہے لیکن مقصود یہ ہدایت بھی نہیں ہے۔ امام خامنہ ای 1 مئي 1991
تمام طاقتیں اللہ سے مخصوص ہیں

تمام طاقتیں اللہ سے مخصوص ہیں

تمام طاقتیں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ جہاں خدا ارادہ کر لیتا ہے وہاں دنیا کی سب سے مضبوط طاقتیں بھی اپنے کام انجام نہیں دے پاتیں۔ امریکا، ایران میں گھسنا چاہتا ہے، طبس میں اس پر مصیبت آ جاتی ہے حالانکہ اس کے پاس ظاہری طاقت تھی۔ اس وقت بھی سامراجی طاقتیں، بڑے صیہونی اور سرمایہ دار، ایک اسلامی حکومت سے بری طرح خوفزدہ ہیں۔ کوشش کر رہے ہیں کہ اسے ختم کر دیں لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے ہیں جبکہ ظاہری طور پر ان کے پاس سب کچھ ہے۔ جب خداوند عالم ارادہ کرتا کہ ان کی طاقت، اثر نہ کر پائے تو وہ اثر نہیں کرتی۔ کبھی مشیت الہی یہ ہوتی ہے کہ وہ طاقت اثر کرے، تو اثر کرتی ہے۔ مومن اور یکتا پرست انسان، طاقت کو صرف اور صرف اللہ سے مخصوص سمجھتا ہے۔ امام خامنہ ای 24 اپریل 1991
خدا سے مخصوص مدد مانگنے کا مطلب

خدا سے مخصوص مدد مانگنے کا مطلب

ہم کہتے ہیں "اِيّاكَ نَعبُد وَ اِيّاكَ نَستَعين" کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی دوسرے سے مدد نہیں لینی چاہیے؟ ہم لوگوں سے، انسانوں سے، بھائي سے، دوست سے مدد لیتے ہیں۔ خود قرآن مجید میں کار خیر میں ایک دوسرے سے مدد لینے کی سفارش کی گئي ہے: "تَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَ التَّقويّْ" نیک کام اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یکتا پرست انسان، ہر طاقت اور ہر توانائي کو خدا سے مختص مانتا ہے اور جو بھی آپ کی مدد کرتا ہے، وہ قادر نہیں ہے بلکہ قادر خدا ہے۔ حقیقی قدرت اور طاقت، اللہ کی ہے۔ یہ ہماری طاقتیں، مجازی طاقتیں ہیں۔ اگر آپ کسی سے خدا کو نظر انداز کر کے مدد لیں اور اسے قدرت و طاقت کا مالک سمجھیں تو یہ شرک ہے۔ امام خامنہ ای 24 اپریل
یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں ہماری نشانیاں ہیں۔

یقین کرنے والوں کے لیے زمین میں ہماری نشانیاں ہیں۔

بے شک پرہیزگار لوگ بہشتوں اور باغوں میں ہوں گے۔ (51:15) اور ان کا پروردگار جو کچھ انھیں عطا کرے گا وہ لے رہے ہوں گے۔ بے شک وہ اس (دن) سے پہلے ہی (دنیا میں) نیکوکار تھے۔ (51:16) یہ لوگ رات کو بہت کم سویا کرتے تھے۔ (51:17) اور صبح سحر کے وقت مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ (51:18) اور ان کے مالوں میں سوال کرنے والے اور سوال نہ کرنے والے محتاج سب کا حصہ تھا۔ (51:19) اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے (ہماری قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ (51:20)
عبادت کے لیے اللہ سے مدد مانگنے کا مطلب

عبادت کے لیے اللہ سے مدد مانگنے کا مطلب

اللہ سے مدد چاہنے کا اصل مطلب یہ ہے کہ میں ناقص اور قصوروار انسان، اگر اپنی تمام تر توانائيوں کو بھی تیری عبادت و عبدیت کی راہ میں یکجا کر دوں، تب بھی میں نے تیری عبادت و عبدیت کا حق ادا نہیں کیا ہے، تجھے میری اضافی مدد کرنی چاہیے تاکہ میں یہ حق ادا کر سکوں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ علیہم السلام جیسے بزرگان دین کہتے ہیں کہ اے خدا ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ حضرت علی علیہ السلام اور حضرت امام زین العابدین جیسی شخصیات کما حقہ خدا کی عبادت نہ کر پانے کی بات کرتی ہیں جبکہ یہ شخصیات اللہ کی عبادت میں جو کام کرتی تھیں، ہم اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ امام خامنہ ای 24 اپریل 1991