زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
درس اخلاق: الہی نعمتوں کو معصیت کی راہ میں استعمال نہ کریں

درس اخلاق: الہی نعمتوں کو معصیت کی راہ میں استعمال نہ کریں

اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے کہ ان نعمتوں کو کس طرح استعمال کریں؟ آپ کی جسمانی نعمت، آنکھ کی نعمت، کان کی نعت، زبان کی نعمت، ہاتھ کی نعمت، پاؤں کی نعمت یہ سب اللہ کی نعمتیں ہیں، وہ نعمتیں ہیں کہ انسان جن کی قدر و قیمت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اگر نعمتوں سے صحیح فائدہ نہ اٹھائیں اور انھیں یوں ہی چھوڑ دیں یا غلط راہ میں استعمال کریں اور انھیں الہی معصیت کی راہ میں استعمال کریں تو یہ کفران نعمت ہے۔ خداوند عالم ہمیں اور آپ کو نعمتوں سے نوازتا ہے (لیکن) ہم ان نعمتوں کو گناہ اور خدا کی معصیت کے لیے ایک سیڑھی کی طرح یا ایک گزرگاہ کی طرح استعمال کریں! یہ الہی نعمت کے کفران کی بدترین صورت ہے۔ امام خامنہ ای 30 اپریل 2017
مزاحمت زندہ ہے کا کیا مطلب ہے؟

مزاحمت زندہ ہے کا کیا مطلب ہے؟

ظالم اور سفاک صیہونی حکومت، اسی حماس کے ساتھ جسے وہ نابود کرنا چاہتی تھی، مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے اور جنگ بندی پر عمل کے لیے اس کی شرطیں مان چکی ہے۔ جو ہو رہا ہے وہ یہ ہے۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ مزاحمت زندہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے۔
ایران کو کمزور سمجھنے والے جہنم رسید ہو گئے

ایران کو کمزور سمجھنے والے جہنم رسید ہو گئے

اُس خیالی پلاؤ پکانے والے نے کہا کہ ایران کمزور ہو گيا ہے، مستقبل بتائے گا کہ کون کمزور ہوا ہے۔ ریگن، صدام اور دوسرے دسیوں خیالی پلاؤ پکانے والے جہنم رسید ہو چکے ہیں۔
ڈالر پر انحصار ختم ہو

ڈالر پر انحصار ختم ہو

برکس (BRICS) فائنینشیل سسٹم کے رکن ممالک کے زر مبادلہ سے جو لین دین ہونا طے ہے اگر اس پر سنجیدگي سے کام کیا گيا تو یقینی طور پر یہ بہت مدد کرے گا۔
ملک میں پرائیویٹ سیکٹر کے چنندہ صنعت کاروں اور معاشی شعبے میں سرگرم افراد کی رہبر انقلاب سے ملاقات

ملک میں پرائیویٹ سیکٹر کے چنندہ صنعت کاروں اور معاشی شعبے میں سرگرم افراد کی رہبر انقلاب سے ملاقات

ملک میں نجی شعبے کے بعض صنعت کاروں اور سرگرم افراد نے بدھ 22 جنوری 2025 کی صبح حسینیۂ امام خمینی میں رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای سے ملاقات کی۔
رہبر انقلاب نے نجی شعبے کی توانائيوں اور کارناموں کی نمائش کا معائنہ کیا

رہبر انقلاب نے نجی شعبے کی توانائيوں اور کارناموں کی نمائش کا معائنہ کیا

"عوامی مشارکت سے پیداوار میں جست" کے نعرے والے ہجری شمسی سال میں نجی شعبے کی توانائيوں اور کارناموں کو منظر عام پر لانے کی غرض سے منگل 21 جنوری 2025 کو "پیشرفت کے علمبردار" کے زیر عنوان ایک نمائش کا انعقاد کیا گيا ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے اس نمائش کا معائنہ کیا ہے۔
قرآن کی روشنی میں: صیہونی پروپیگنڈوں سے ڈرنا نہیں چاہیے

قرآن کی روشنی میں: صیہونی پروپیگنڈوں سے ڈرنا نہیں چاہیے

خداوند قدیر نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے: "اور آپ لوگوں (کی طعن و تشنیع) سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔" (سورۂ احزاب، آیت 37) لوگوں سے ڈرنا نہیں چاہیے، اُن کی باتوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہر وہ اقدام جو ملک میں بھلائی کی سمت میں کیا جائے تو دشمن کی طرف سے اس کے خلاف ایک بڑا مورچہ کھل جاتا ہے کیونکہ یہ لوگ اسی سوچ میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کہاں سے چوٹ پہنچائیں۔ ان کا فکری محاذ یہی ہے کہ جب بھی ملک میں کچھ اہم، صحیح اور منطقی فیصلے کیے جائیں تو یہ اپنے وسیع پروپیگنڈوں کے ذریعے ان پر طرح طرح کے سوال کھڑے کر دیں اور اس پروپیگنڈہ سامراج کے  ذریعے جو صیہونیوں کے ہاتھ میں ہے، ان کی سرکوبی کر دیں، انھیں نابود کر دیں اور تباہ کردیں۔ امام خامنہ ای 3 جون 2020
شہادت، عظیم خدمات کا اجر

شہادت، عظیم خدمات کا اجر

یقینی طور پر شہید رازینی نے بھی اور شہید مقیسہ نے بھی اپنی زندگي میں بڑے بڑے کام کیے تھے جو اس بات کا باعث بنے کہ خداوند متعال انھیں شہادت کا رتبہ اور یہ قابل توجہ عظمت عطا کرے۔
رہبر انقلاب نے ایران کے دو اہم ججوں کی نماز جنازہ پڑھائی

رہبر انقلاب نے ایران کے دو اہم ججوں کی نماز جنازہ پڑھائی

رہبر انقلاب اسلامی نے اتوار 19 جنوری 2025 کی رات ایران کے دو اہم ججوں حجۃ الاسلام و المسلمین الحاج شیخ علی رازینی اور آقائے الحاج شیخ محمد مقیسہ کی نماز جنازہ پڑھائي۔ عدلیہ کے یہ دونوں نمایاں اور شجاع جج سنیچر کو اپنے کام کے مقام پر شہید ہو گئے تھے۔
اسلامی گھرانہ:  شوہر اور زوجہ کے درمیان محبت، سماجی میدان میں عورت کے مسائل کو کم کر دیتی ہے

اسلامی گھرانہ:  شوہر اور زوجہ کے درمیان محبت، سماجی میدان میں عورت کے مسائل کو کم کر دیتی ہے

اگر گھرانے میں عورت کو نفسیاتی اور اخلاقی تحفظ حاصل ہو، سکون اور اطمینان ہو تو حقیقت میں شوہر اس کے لیے لباس سمجھا جاتا ہے جیسا کہ وہ شوہر کے لیے لباس ہے اور جیسا کہ قرآن مجید نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے درمیان محبت، مودت اور رحمت رہے اور اگر گھرانے میں "لھنّ مثل الذی علیھنّ" (عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ہیں۔ سورۂ بقرہ، آيت 228) کی پابندی کی جائے تو پھر  گھر سے باہر کے مسائل عورت کے لیے قابل برداشت ہو جائیں گے اور وہ انھیں کنٹرول کر لے گي۔ اگر عورت، اپنے گھر میں اپنے اصل محاذ پر اپنے مسائل کو کم کر سکے تو یقینی طور پر وہ سماجی سطح پر بھی یہ کام کر سکے گي۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2012