زیر سرویس 1: 
زیر سرویس 2: 
زیر سرویس 3: 
زیر سرویس 4: 
پھر کوئی جبر و استبداد نہ ہوگا

پھر کوئی جبر و استبداد نہ ہوگا

"ہم منتظر ہیں" کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں یہ امید ہے کہ ہماری مسلسل جدوجہد سے یہ دنیا ایک دن ایک ایسی دنیا میں بدل جائے گی جس میں انسانیت اور انسانی اقدار قابل احترام ہوں گے اور ظالم، ستمگر، جابر اور انسانوں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے والے کو اپنی نفسانی خواہش پر عمل کرنے کی نہ تو جگہ ملے گي اور نہ ہی موقع۔ امام خامنہ ای 2/3/1991
درس اخلاق: معاشرے میں فضول خرچی کم ہونی چاہیے

درس اخلاق: معاشرے میں فضول خرچی کم ہونی چاہیے

ہمارا معاشرہ امیر المومنین علیہ السلام کے زہد کی سمت میں آگے بڑھے۔ مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم امیرالمومنین کی طرح زاہد بن جائیں۔ کیونکہ نہ ہم بن سکتے ہیں نہ ہم سے اس کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن ہمیں ان ہی کی راہ پر چلنا چاہیے یعنی فضول خرچی اور ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ افسوس کہ ہم فضول خرچی میں گرفتار ہیں۔ ہم برسوں سے اس بارے میں مسلسل نصیحت کرتے چلے آرہے ہیں خود اپنے آپ کو، عوام کو اور دوسروں کو برابر سمجھاتے رہتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں، ہمیں آگے بڑھنا چاہیے اور معاشرے سے فضول خرچی کو کم کرنا چاہیے۔ امام خامنہ ای 21 ستمبر 2016
قرآن کی روشنی میں: اگر آپ نے اپنے اندر مثبت تبدیلیاں پیدا کیں تو خدا مثبت حقیقتیں وجود میں لائے گا

قرآن کی روشنی میں: اگر آپ نے اپنے اندر مثبت تبدیلیاں پیدا کیں تو خدا مثبت حقیقتیں وجود میں لائے گا

انسان اگر صحیح سمت میں قدم اٹھائیں تو صحیح سمت میں ہی آگے بڑھیں گے اور اگر غلط راہ پر لگ جائیں تو غلط راہوں پر ہی بڑھتے چلے جائیں گے۔ سورۂ رعد (کی آیت گیارہ) میں ارشاد ہوتا ہے: "بے شک اللہ کسی قوم کی اس حالت کو نہیں بدلتا جو اس کی ہے جب تک قوم خود اپنی حالت کو نہ بدلے۔ یعنی جب آپ خود اپنے اندر صحیح تبدیلیاں لائیں گے تو خداوند متعال بھی آپ کی زندگی میں مثبت حوادث اور حقیقتیں وجود میں لائےگا۔ امام خامنہ ای 1 جون 2020
امیر المومنین کا عدل و انصاف

امیر المومنین کا عدل و انصاف

امیر المومنین علیہ السلام کی خوبصورت شخصیت کا ایک پہلو، عدل و انصاف ہے۔ ان کی زندگي اور کلام میں عدل و انصاف اس قدر نمایاں ہے کہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ امیر المومنین علیہ الصلاۃ و السلام کی پوری حکومت پر محیط ہے۔ امام خامنہ ای 7 جنوری 1993
امیر المومنین، حقیقی نمونۂ عمل

امیر المومنین، حقیقی نمونۂ عمل

جو گرانقدر انسان آفرینش کی تمام بلندیوں پر پرواز کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی بھی چیز اسے اپنی گرفت میں نہ لے اور اپنا اسیر نہ بنائے، اس کے لیے حقیقی نمونۂ عمل امیر المومنین ہیں۔ امام خامنہ ای 15 دسمبر 2000
امریکا کس طرح کے ملک کو پسند کرتا ہے؟

امریکا کس طرح کے ملک کو پسند کرتا ہے؟

امریکا ایسے ملک کو پسند کرتا ہے جو پوری طرح سے اس کا فرمانبردار ہو، جو صیہونیوں کے مفادات کی تکمیل کرے، جس میں کسی ڈکٹیٹر کی حکمرانی ہو ...
امیر المومنین سے موازنہ

امیر المومنین سے موازنہ

کوئي بھی امیر المومنین سے اپنا موازنہ نہیں کر سکتا لیکن سبھی اس چوٹی کی سمت آگے بڑھ سکتے ہیں۔ امیر المومنین، معیار ہیں۔ امام خامنہ ای 21 مارچ 2001
اسلامی گھرانہ: انسان کی پہچان گھر کے ماحول میں معاشرتی تہذیب کی بنیاد ہے

اسلامی گھرانہ: انسان کی پہچان گھر کے ماحول میں معاشرتی تہذیب کی بنیاد ہے

اگر نسلیں، اپنے ذہنی اور فکری نتائج بعد کی نسلوں تک منتقل کرنا چاہتی ہیں اور معاشرہ اپنے ماضی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو یہ صرف گھر اور خاندان کے ساتھ ممکن ہے۔ گھر کے ماحول میں ہی سب سے پہلے ایک انسان کی پوری شخصیت اس معاشرے کی تہذیبی بنیادوں پر شکل اختیار کرتی ہے اور یہ ماں باپ ہی ہیں جو بالواسطہ طور پر کسی بھی قسم کے تصنع کے بغیر بالکل قدرتی انداز میں انسان کے ذہن وفکر و عمل پر اثر مرتب کرتے اور اپنی معلومات، عقائد اور مقدسات وغیرہ اپنے بعد کی نسلوں تک منتقل کرتے ہیں۔ امام خامنہ ای 4 جنوری 2001
امیر المومنین کا اسلام

امیر المومنین کا اسلام

امیر المومنین کا اسلام، وہ اسلام ہے جس میں ذکر، جذبہ، شادابی، تحرک، تعمیر نفس، جہاد، ایثار اور قربانی ہے۔ امام خامنہ ای 21 مارچ 2001
امیر المومنین کی سیاسی روش

امیر المومنین کی سیاسی روش

امیرالمومنین علیہ السلام کا سیاسی طرز عمل ان کے معنوی و اخلاقی طرز عمل سے الگ نہیں ہے۔ امیرالمومنین کی سیاست، روحانیت و اخلاقیات سے آمیختہ ہے بلکہ یہ (سیاست) علی کی معنویت و روحانیت اور ان کے اخلاق سے ہی ماخوذ ہے۔ امام خامنہ ای 11 ستمبر 2009