یہ امریکا ہی ہے جو ہیروشیما سے ویتنام تک، عراق و افغانستان تک اور آج غزہ میں ماں باپ کے دلوں کو بے قصور بچوں اور نوجوانوں کا داغ دے رہا ہے۔
امام خامنہ ای
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسوۂ حسنہ ہیں، یہ بات قرآن نے صاف لفظوں میں کہی ہے۔ وہ ایک بلند چوٹی پر فائز ہیں۔ ہم کو جو اس پستی میں ہیں، اس چوٹی پر پہنچنے کی کوشش کرنا چاہئے، قدم بڑھانا چاہئے۔
امام خامنہ ای
زیادہ تر گھرانوں کی تباہی کی وجہ ایک دوسرے کا خیال نہ رکھنا ہے۔ مرد کو پاس ولحاظ رکھنا نہیں آتا، عورت سمجھداری نہیں دکھا پاتی ایک دوسرے سے تعلقات بنائے رکھیں تو کوئی بھی گھر بکھرے گا نہیں اور کنبہ محفوظ رہے گا۔
امام خامنہ ای
امریکی غزہ میں جاری صیہونیوں کے جرائم میں شریک ہیں، اگر ان کی اسلحہ جاتی و سیاسی مدد نہ ہو تو صیہونی حکومت اپنے اقدامات جاری رکھ پانے کے قابل نہیں رہے گی۔
امام خامنہ ای
دنیائے اسلام یہ نہ بھولے کہ اس اہم اور فیصلہ کن مسئلے میں اسلام کے مقابل، ایک مسلم قوم کے مقابل، مظلوم فلسطین کے مقابل جو کھڑا ہوا ہے وہ امریکہ ہے، فرانس ہے، برطانیہ ہے۔
امام خامنہ ای
میدان (جنگ) غزہ و اسرائیل کے درمیان (جنگ) کا میدان نہیں، حق و باطل (کے درمیان جنگ) کا میدان ہے۔ میدان استکبار اور ایمان (کے بیچ مقابلے) کا میدان ہے۔
امام خامنہ ای
بعض اوقات مرد اپنی زندگی کے کاموں میں ایک دوراہے پر پہنچ جاتا ہے کہ یا تو دنیا کا انتخاب کرے یا امانت و صداقت کی صحیح راہ کا؛ ان دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے۔
امام خامنہ ای