رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای نے الگ الگ مواقع پر اپنے خطاب میں اس نکتے پر زور دیا کہ استکباری طاقتوں نے 11 ستمبر کے واقعات کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

چند اقتباسات پیش خدمت ہیں

استکباری طاقتوں کا منصوبہ تھا عیسائیوں اور مسلمانوں کے ما بین جنگ

چند سال قبل ایک یورپی رہنما تہران آئے تھے اور مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تھی۔ انھوں نے ایک جملے میں عیسائی مسلم جنگ کی طرف ایک اشارہ کیا۔ میں نے اس پر اظہار تعجب کیا اور کہا کہ کیا مسلمانوں اور عیسائیوں کے ما بین جنگ ہونے والی ہے؟! میں نے کہا کہ مسلمانوں کا عیسائیوں سے جنگ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ گزشتہ سو سال میں بلکہ اس سے زیادہ عرصے کے دوران دنیا میں جو بھی جنگیں ہوئیں، جتنی بھی بڑی جنگیں ہوئیں وہ خود عیسائیوں کے درمیان تھیں۔ پہلی عالمی جنگ، دوسری عالمی جنگ، فرانس اور جرمنی کی جنگیں۔ ان سب کا میں نے ذکر کیا اور کہا کہ یہ جنگیں عیسائی حکومتوں کے درمیان تھیں، مسلمانوں اور عیسائیوں کے ما بین نہیں تھیں۔ مجھے تعجب ہو رہا تھا کہ انھوں نے یہ بات کیوں کہی؟ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد نیویارک کے ان ٹاوروں کا واقعہ پیش آیا اور امریکی صدر نے کہا کہ صلیبی جنگ کا آغاز ہو  گيا ہے! تو یہ شخص جس کی میں بات کر رہا ہوں کہ جن سے میری ملاقات ہوئی تھی، جارج بش کی تقریر کے بعد عراق پر حملے کی امریکی صیہونی سازش میں بنیادی کردار ادا کرتے دکھائی دئے۔ تب مجھے یاد آیا کہ جو بات انھوں نے یہاں کہی تھی وہ پہلے سے زیر غور تھی اور دنیا کی استکباری طاقتوں کے سربراہوں نے اپنا فیصلہ کر لیا تھا۔ ان لوگوں نے مشرق وسطی کے بارے میں امریکی صیہونی منصوبہ تیار کر لیا تھا اور اس کا پہلا مرحلہ عراق پر حملہ تھا۔ اس وقت مجھے اس بات کا مطلب سمجھ میں آیا۔ صلیبی جنگ! مسلمانوں اور عیسائیوں کی جنگ! البتہ وہ کامیاب نہیں ہو پائے۔( 18 ستمبر 2006)

نئے مشرق وسطيٰ کي تعميرکے امريکي منصوبوں ميں تيزي اور عراق پر حملہ!

امريکيوں نے ١١ ستمبر کے واقعہ کو جواز بناتے ہوئے اپنے لئے يہ بہانہ فراہم کيا کہ وہ مشرق وسطيٰ ميں اپنے مادي مفادات اور خواہشات کو عملي جامہ پہنائيں۔ اُن کا اصلي مقصد 'اسرائيلي مفادات' کو استحکام بخشنے اور اُنہيں محفوظ بنانے والے نئے مشرق وسطيٰ کا قيام تھا۔ يعني 'اسرائيلي دارالحکومت' پر مرکوز'نئے مشرق وسطيٰ' کو دنيا کے نقشے پر وجود ميں لانا۔ يہ تھا اُن کا مطمح نظر۔ عراق پر حملہ اور اُس پر قبضہ بھي اِسي منصوبے کا حصہ تھا۔ عراق، عرب ممالک اور اِس خطے ميں ثروت مندترين ممالک ميں سے ايک ملک ہے۔ امريکيوں کي خواہش تھي کہ اِس ملک کو اپني مٹھي ميں لے ليں۔ چنانچہ اِس کام کيلئے صدام نہ تو موزوں تھا اور نہ ہي حالات سازگار تھے۔ امريکي چاہتے تھے کہ وہاں ايسي حکومت بر سر اقتدار لے آئيں کہ جو ظاہراً عوام کي منتخب کردہ جمہوري حکومت بھي ہو اور (بباطن) اُن کي مکمل گرفت ميں بھي ہو۔ يہ اسرائيلي مفادات کو تحفظ فراہم کرنے والے نئے مشرق وسطيٰ کو وجود ميں لانے کا ايک نہايت اہم اور بنیادی قدم تھا۔ اِن حالات ميں اسرائيلي محوريت پر قائم ہو نے والے نئے مشرق وسطيٰ کا وجود اسلامي جمہوريہ ايران کا محاصرہ کر کے اُس کي فعاليت کا دائرہ  تنگ کر ديتا، يہ تھا اُ ن کا ہدف! (14 ستمبر 2007)

گیارہ ستمبر کے واقعے کو بہانہ بنا کر مسئلہ فلسطین کو حاشئے پر ڈال دیا گيا

نیویارک اور واشنگٹن میں گیارہ ستمبر جیسے واقعات سے بھی زيادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا گیا اور فلسطین کے مسئلے کو عالمی واقعات سے الگ کرنے اور کنارے لگانے میں صیہونی کامیاب ہو گئے۔ اس سلسلے میں بھی صیہونیوں کو امریکیوں کی سو فیصد مدد ملی جبکہ دوسری طرف کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ فلسطینی بچوں اور عورتوں کے قتل عام کے خلاف لب کشائی کرے یا اعتراض کرے یا فسلطینی قوم پر ڈھائے جا رہے مظالم کا ذکر تک کرے۔

دشمن کی اس تشہیراتی روش اور نفسیات سے آگاہی کے بعد اسلامی ممالک کے ذرائع ابلاغ کے ذمہ داروں کو اپنے فرائض کا احساس کرتے ہوئے اپنے راستے کا تعین کر لینا چاہئے۔ یہ بہت اہم کام ہے۔ آج یہ کام صرف فلسطینی قوم کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے لئے حیاتی اہمیت کا حامل ایک نہایت اہم فریضہ ہے۔  31 جنوری 2002)