بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس شہر کی برکات وفیوضات نے جو ہمیشہ اس جاری ہیں، ہماری تھکن دور کر دی۔ اگرچہ ان چند دنوں میں میں تھوڑا مصروف رہا لیکن تھکن کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہوا۔ الحمد للہ یہ شہر ہر لحاظ سے برکات سے مملو ہے اور اس شہر کی جملہ برکات میں سے ایک جنابعالی (1) اور آپ جیسی دیگر ہستیوں کا وجود ہے اور واقعی یہ ہستیاں بالکل منفرد ہیں۔ دعا کرتا ہوں کہ خداوندعالم ان شاء اللہ انہیں محفوظ اور ان کی برکات کو جاری رکھے۔ یہ جو روحانی نشاط ان کے اندر ہے اور اب بھی تحقیق مطالعہ کرتے رہتے ہیں، بہت بڑی بات ہے۔
کل مجھے توفیق ہوئی اور میں نے جاکے کتب خانہ فیضیہ کو دیکھا۔ وہاں کتابوں کا ایک انبار ہے۔ یہ جناب الحاج آقائے عراقی بہت زحمت کرتے ہیں۔ لیکن واقعی وہاں کتابوں کا انبار ہے۔ بہت افسوس ہوتا ہے۔ افسوس ہے کہ یہ کتب خانہ اسلاف کے اتنے نفیس قلمی نسخوں کے ساتھ اس حالت کو پہنچ گیا ہے۔ البتہ جناب آقائے فاضل نے کچھ دنوں قبل تہران میں کہا ہے کہ مدرسہ فیضیہ کے اس طرف ایک زمین انہوں نے نظر میں رکھی ہے۔ وہاں چند منزلہ عمارت بنانے کا پروگرام ہے۔ میں نے بھی کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ آج اس کتب خانے کو دیکھنے کے بعد الگ کتب خانہ بنانے کے لئے میرا عزم محکم تر ہو گیا۔ واقعی افسوس ہوتا ہے کہ اتنا عظیم کتب خانہ جس میں لاکھوں کتابیں اور کئی ہزار قلمی نسخے ہیں اور وہ کتابوں سے پر ایک گودام کی طرح ہو گیا ہے۔ مطالعہ کا ہال بھی طلبا کے تناسب سے کہ بیس ہزار سے زائد طلبا قم میں ہیں، درحقیقت مطالعہ کا ہال نہیں ہے۔
مجھے یاد ہے کہ اس باشرف حوزے میں جب ہم یہاں پڑھنے اور مباحثے میں مشغول تھے، پہلا منظم مدرسہ جس کا اپنا پروگرام تھا، حتی مدرسہ حقانی سے بھی پہلے، جناب عالی ہی نے قائم کیا تھا۔ میں نے یہ بات ہمیشہ مختلف اجتماعات میں حتی تہران میں بھی کہی ہے۔ یہاں بھی ایک جلسے میں (2) گفتگو ہو رہی تھی، میں نے حضرات سے کہا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ جناب عالی ہمیشہ نظم و ترتیب اور طلبا میں نظم و ضبط چاہتے تھے۔ اس عظیم حوزہ میں بیس ہزار سے زائد طلبا ہیں لہذا اس پہلو سے بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جناب عالی ان شاء اللہ حوزہ کے بزرگوں اور افاضل سے فرمائیں کہ یہ کام انجام دیں۔ یہ حوزہ معلومات کا ایک عظیم مرکز بن گیا ہے۔ جب تک ان کی درجہ بندی نہ ہو اور ان سے صحیح استفادہ نہ کیا جائے (اس وقت تک) زمانے کی ضرورت کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتے۔اس وقت ہمیں ہزاروں جگہوں پر مبلغ کی ضرورت ہے۔ مبلغ حوزے سے ملنا چاہئے۔ لیکن حوزے کے افاضل حضرات میں جنبش نہیں ہوتی اور کوئی بھی حوزہ سے باہر نہیں نکلتا۔
امتحان پہلا قدم تھا جو آپ نے (3) اٹھایا۔ امتحان ضروری ہے لیکن ان سو کاموں میں سے ایک ہے جو حوزے کو کرنا ہے۔ ماضی میں ہمارے اسلاف ان مسائل اور آج کی ضرورتوں پر واقعی بہت توجہ نہیں رکھتے تھے۔ مرحوم آقائے سید حسن تہامی (4) جو مرحوم میرزا (5) کے شاگرد اور آقائے خوئی (6) آقائے میلانی (7) اور ملا حسابی کے ہمعصر تھے کہا کرتے تھے کہ ہم دس بارہ افراد تھے، وہ آقائے خوئی، آقائے میلانی۔ مرحوم سید علی مدد نائنی (8) اور اپنا اور چند دیگر افراد کانام لیا کرتے تھے، اس کے بعد مرحوم مرزا کا انتقال ہو گیا، کچھ دن مرحوم آقائے سید ابوالحسن (9) کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ حوزہ میں نظم لایا جائے۔ طلبا جدید مسائل سے مطلع ہوں اور ممکن ہو تو بیرونی زبان بھی پڑھیں؛ یہ وہ زمانہ تھا جب یورپی افکار آنا شروع ہوئے تھے اور سبھی جگہ پہنچ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے جلسے میں مرحوم سید نے ہماری بات کو سراہا۔ لیکن دوسرے جلسے میں، جب ہم نتیجہ معلوم کرنے گئے تو ہمیں نتیجہ نہیں معلوم ہوسکا۔ وہ کہتے تھے کہ سید کے (گھرکے) اندرونی اور بیرونی حصے کے درمیان ایک چھوٹا سا حجرا تھا جو ان کے بیٹھنے کا کمرا تھا، دیکھا کہ دروازہ کھلا اور ایسی حالت میں کہ کندھوں پر عبا نہیں تھی اور قبا کے بٹن بھی بند نہیں تھے، صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ بیٹھنے کے لئے نہیں آئے ہیں، ہمارے قریب آئے، ہم احترام میں کھڑے ہو گئے۔ فرمایا نہیں میں اندر نہیں آؤں گا میں چاہتا تھا کہ آپ یہ جان لیں کہ یہ جو پیسہ میں دیتا ہوں یہ میری ذاتی ملکیت ہے، اس لئے کہ میں پہلے قرض لیتا ہوں اور شہریہ (وظیفہ) دیتا ہوں بعد میں جب پیسے آتے ہیں تو قرض ادا کرتا ہوں۔ بنابریں جب یہ شہریہ ( وظیفہ) دیتا ہوں تو یہ میری ذاتی ملکیت سے دیا جاتا ہے میں اس بات پر راضی نہیں ہوں کہ طلبا فقہ و اصول کے علاوہ دوسرے کاموں میں مشغول ہوں اور شہریہ بھی لیں۔یہ کہا اور دروازہ بند کرکے اندر چلے گئے۔ اس ایک ہفتے دس دن کے اندر کون ان کی خدمت میں گیا اور اس نے کیا کہا ، معلوم نہیں ہے۔
میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ واقعہ پچاس ساٹھ سال پہلے کا ہے۔ لیکن آج الحمد للہ ایسا نہیں ہے۔ آج جناب عالی (10) حوزہ کے سربراہ ہیں اور الحمد للہ ممتاز مقام و مرتبہ رکھتے ہیں۔ حوزہ میں نظم و ضبط کے قائل ہیں۔ تبلیغی امور کے لئے لندن میں آپ کا دفتر ہے۔ یہ باتیں خود افکار نو اور امور میں تجدد کی علامتیں ہیں۔ دفتر میں کمپیوٹر لائے ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ماضی میں علماء کو کمپیوٹر سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ کوئی بات تلاش کرنا چاہتے تھے تو بہت زیادہ کتابوں کی ورق گردانی کرنی ہوتی تھی اور یہ کتابیں بھی ایسی کہ ان میں سے بعض میں نہ فہرست ہوتی تھی اور نہ ہی حتی صفحوں پر نمبر ہوتا تھا۔ میرے پاس کتاب مسالک ہے جس پر صفحہ نمبر نہیں ہے۔ میرے خیال میں اگر آج حوزہ کے افاضل حوزہ کو منظم نہ کریں تو ان کے پاس کوئی عذر نہیں ہے۔ افاضل کو آپ کے وجود ، افکار اور حمایت سے استفادہ کرنا چاہئے اور حوزہ کو منظم کرنا چاہئے۔
یہ آقائے سید ابوالحسن کا واقعہ اس زمانے کا ہے کہ جب دنیا میں مارکسزم کا نفوذ عروج پر تھا۔ یہ وہی زمانہ ہے کہ جب آقائے شیخ بلاغی نجف میں اکیلے ، دہریوں اور مادہ پرستوں کے افکار کا مقابلہ کرنے میں مشغول تھے۔ مجھے اطلاع ہے اور یہ اطلاع ذاتی نہیں ہے بلکہ درج ہوچکی ہے ( تحریروں میں موجود ہے ) کہ نجف کے نوجوان طلبا وہ لوگ جو صاحبان علم اور صاحب جواہر کے بیت محترم سے نکلے تھے، بغداد گئے اورانہوں نے سوشلسٹوں کے لئے اشعار کہے۔ آقائے سید ابوالحسن پراعتراض وارد نہیں ہے۔ وہ فقیہ اور مجتہد تھے اور اپنی ذمہ داری جانتے تھے اور اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔ شرعی اعتراض ان پر وارد نہیں ہے۔اعتراض انجام امور کے طریقے پر ہے کہ امور یہ شکل اختیار کرگئے تھے۔ جی ہاں، آج واقعی کوئی معقول عذر نہیں ہے۔
کیا میرے لئے جناب عالی کا کوئی حکم، سفارش اور نصیحت نہیں ہے؟ بہر حال ہم ہمیشہ جناب عالی کے ارشادات اور نظریات سننے کے لئے تیار ہیں۔ میں اس کو نعمت سمجھتا ہوں ۔ خداوند عالم توفیق عنایت فرمائے کہ ہم اپنے فریضے کو سمجھیں اور اس کے مطابق صحیح طریقے سے عمل کریں۔
خداوند عالم آپ کی مرحمتوں میں اضافہ فرمائے ۔ خدا آپ کا حافظ رہے۔

(آیت اللہ العظمی اراکی سے گفتگو)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

ہم جنابعالی کے وجود شریف کے لئے دعاگو ہیں ۔ خدا وند عالم ان شاء اللہ ہمارے اور عوام کے حق میں آپ کی پاکیزہ دعاؤں کو مستجاب فرمائے۔ خدا وند عالم ان شاء اللہ جنابعالی کے وجود شریف کو ہمارے لئے محفوظ رکھے۔ خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمیں روح و قلب سے جناب عالی اور ان عظیم نعمتوں کا جو آج ایران کے عوام کے اختیار میں ہیں، قدرداں قرار دیا ہے، آپ ذخیرہ الہی تھے اور ہیں۔ ان شاء اللہ آپ کا وجود شریف ہمیشہ سالم اور بانشاط رہے اور عوام آپ کے انوار وجود سے استفادہ کریں۔ ہم آپ کی دعا کے محتاج ہیں۔ یہ جو فرماتے ہیں کہ ہمارے لئے دعا کریں واقعی یہ سن کر ہمیں دل سے خوشی ہوتی ہے۔
خدا آپ کا حافظ رہے۔
1- آیت اللہ العظمی گلپائگانی
2-حوزہ علمیہ قم کے علما، مدرسین اور افاضل کے اجتماع سے خطاب مورخہ 30- 11-1370 (مطابق 19-2-1992) سے رجوع کریں۔
3- آیت اللہ العظمی گلپائگانی
4-
5- میرزا نائنی (1315-1339)
6- 1371-1278 ( مطابق 1992-1899)
7- 1353-1274(مطابق 1974-1885)
8-
9- 1324-1246(مطابق 1945-1867)
10-آیت اللہ العظمی گلپائگانی ۔