بسم الله الرّحمن الرّحیم

 

الحمد لله ربّ العالمین و الصّلاة و السّلام علی سیّدنا محمّد و آله الطّاهرین سیّما بقیّة‌ الله فی الارضین.

برادران عزیز خوش آمدید! عوام کی خدمت کے کلیدی مراکز تک رسائی کی توفیق حاصل ہونے پر آپ کو مبارکباد  پیش کرتا ہوں۔ اللہ نے آپ پر کرم فرمائی کی اور آپ کو اس توفیق سے نوازا کہ ملک، قوم اور اسلامی جمہوریہ کی خدمت کے کلیدی مراکز میں آپ کو رسائی حاصل ہوئی۔ اس توفیق کی قدر کیجئے۔ مجلس شورائے اسلامی (پارلیمنٹ) کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے فوری طور پر بروقت اور بر محل اپنا کام پورا کیا۔ ان شاء اللہ یہ آپ کے لئے اور ملک کے لئے بابرکت شروعات ثابت ہوگی۔

ہفتہ حکومت شہید رجائی اور شہید با ہنر کے نام سے آراستہ ہے۔ یعنی شہادت کے ذکر اور شہادت کے نام سے مزین ہے۔ اللہ کی رحمتیں ان دو عظیم، اعلی مرتبہ اور فعال اور شہادت کے درجے پر فائز ہونے والی ہستیوں پر نازل ہوں جن کے اندر واقعی خدمت کا جذبہ تھا۔ اگرچہ انھیں بہت کم وقع ملا لیکن اتنی ہی مدت میں انھوں نے ثابت کر دیا کہ صدق دل کے ساتھ انھوں نے اس میدان میں قدم رکھا ہے، خدمت کا شوق رکھتے تھے، ان کی روش اسلامی، عوام دوستانہ اور مجاہدانہ تھی۔ یہ تمام افراد کے لئے ایک سبق ہے۔

آپ برادران عزیز نے بڑے دشوار حالات میں عہدہ سنبھالا ہے۔ خداوند عالم ان شاء اللہ آپ کی مدد فرمائے۔ میں بھی دعا کروں گا اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو کامیابی ملے گی۔ مہنگائی کی اس حالت، عوام کو در پیش معاشی مشکلات، کرونا وائرس کی وبا اور گوناگوں مسائل کے پیش نظر حالات بہت سخت ہیں۔ اگر ان شاء اللہ ایک طرف آپ شب و روز اور بے وقفہ مجاہدانہ سعی و کوشش کرتے ہیں اور دوسری جانب اللہ سے توسل اور اس پر توکل کو اپنا ذخیرہ قرار دیتے ہیں، سرمایہ قرار دیتے ہیں تو یقینا آپ فتحیاب ہوں گے، یقینا آپ کو کامیابی ملے گی اور مشکلات پر آپ غلبہ حاصل کر لیں  گے۔ اپنی نیت کو خدائی نیت بنائيے۔ اس عہدے پر خدائی نیت کا مطلب ہے عوام کی خدمت کی نیت۔ اگر آپ حقیقت میں عوام کی خدمت کی نیت کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں تو یہی خدائی اور پاکیزہ نیت ہوگی اور اللہ تعالی اس میں برکت عطا کرے گا۔

میں نے مختلف ادوار کے عہدیداران کو ہمیشہ ایک سفارش کی ہے وہ آپ سے بھی کروں گا۔ وقت بہت تیزی سے گزر جاتا ہے۔ یہ چار سال بھی بہت  تیزی سے گزر جائیں گے۔ ہر لمحے اور ہر موقع سے بھرپور استفادہ کیجئے۔ جو وقت عوام کے لئے اور اسلام کے لئے ہے اسے ضائع نہ ہونے دیجئے، تمام وسائل، ہر موقع اور وقت کا بھرپور استعمال کیجئے۔

البتہ میرا یہ نظریہ ہے، واقعی یہ میرا یقین ہے کہ محنت اور بہت زیادہ کام کرنے کے ساتھ ہی اپنے گھریلو امور پر بھی توجہ دیجئے۔ میں سب کو یہ سفارش کرتا ہوں کہ اپنے گھریلو امور پر بھی توجہ دیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس عہدے پر فرائض کی انجام دہی کے دور میں آپ اہل خانہ کی نگاہ سے اوجھل رہئے۔

آپ اپنی تمام توانائیاں مجتمع کیجئے کہ ان شاء اللہ تمام انتظامی شعبوں میں انقلابی اور ساتھ ہی عاقلانہ و مفکرانہ تبدیلی انجام پائے۔ یعنی ملک میں مختلف انتظامی شعبوں میں انقلابی پٹری پر آگے بڑھا جائے۔ تمام شعبوں میں، اقتصادی شعبے، تعمیراتی شعبے، خارجہ سیاست اور سفارت کاری کے شعبے میں، عوامی خدمت کے شعبے میں، علمی و ثقافتی شعبے میں، ان تمام شعبوں میں ایک انقلابی تبدیلی آنا چاہئے۔ ہم نے یہ بھی عرض کیا کہ انقلابی ہونے کے ساتھ ہی معقولیت بھی لازمی ہے۔ اسلامی جمہوریہ کی روش روز اول سے یہی رہی اور آج تک ہے کہ انقلابی اقدام فکر و تدبر کے ساتھ انجام دیا جائے۔

میں کچھ اساسی سفارشات ہیں جو عرض کروں گا۔ چند ابواب ہیں جن میں ہر ایک کے بارے میں اختصار سے کچھ عرض کروں گا۔ این موضوعات میں سے ایک عوامی ہونا ہے، ویسے جناب رئیسی کی حکومت کا عنوان بھی عوامی حکومت ہے۔ عدل و انصاف ہے، کرپشن سے مقابلہ ہے، عوام خاص طور پر نوجوانوں میں اعتماد و امید کا جذبہ بیدار کرنا ہے، حکومتی نظم و ہم آہنگی، حکومتی توانائی اور حکومتی نگرانی ہے۔ یہ چند اہم موضوعات ہیں، ان میں سے ہر ایک کے بارے میں میں اختصار سے کچھ باتیں عرض کروں گا۔

عوامی ہونے کا جہاں تک سوال ہے تو عوامی ہونے کا تصور بہت وسیع ہے اس کی گوناگوں نشانیاں ہیں۔ ایک نشانی یہی عوام کے درمیان جانا اور براہ راست عوام کی باتیں سننا ہے۔ یہ بہت اچھا اور قابل تعریف کام ہے جو کل رئیسی صاحب نے انجام دیا کہ خوزستان میں عوام الناس کے درمیان گئے، عوام کے بیچ، ان کی باتیں سنیں، ان سے گفتگو کی، یہ عوامی ہونے کی ایک مثال ہے، یہ بہت اچھا کام ہے۔

اس کی ایک اور نشانی عوامی طرز کی زندگی گزارنا ہے۔ رہن سہن میں تکلفات میں نہ پڑنا، اشرافیہ کلچر سے دور رہنا، خود کو عوام سے بالاتر سمجھنے سے اجتناب، اسی طرح کی دیگر چیزیں۔ یہ بھی عوامی ہونے کی ایک نشانی ہے۔ دنیا میں رائج اشرافیہ کلچر سے، جس میں تمام حکومتیں اور عہدیداران مبتلا ہیں اور عوام کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں، اس قسم کے طرز زندگی سے اجتناب کرنا چاہئے۔

عوام سے بات کرنا، ان کے سامنے مشکلات اور ان کا حل پیش کرنا بھی عوامی ہونے کی ایک نشانی ہے۔ اپنی مشکلات کے بارے میں بھی عوام کو بتائیے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مشکل در پیش ہے جس کا حل بھی موجود ہے۔ یہ کوشش کیجئے کہ آپ کی باتوں سے عوام میں مایوسی نہ پھیلے۔ بعض لوگ اس نکتے پر توجہ نہیں دیتے اور غیر مناسب باتیں کر جاتے ہیں، خلاف حقیقت چیزیں بیان کر دیتے ہیں جس سے عوام میں ناامیدی پیدا ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو، ہر مشکل کا حل موجود ہے۔ عوام کو آپ باخبر کیجئے، عوام سے بات کیجئے، گوناگوں معاملات میں عوام سے مدد مانگئے، فکری مدد بھی اور عملی مدد بھی۔ کبھی کہیں کوئی غلطی ہو جاتی ہے، ہم سب سے بھول ہوتی ہی ہے، ہمارے کاموں میں غلطیوں کی کمی نہیں ہے۔ عوام سے اس پر معذرت کیجئے، صاف صاف بیان کیجئے کہ یہ غلطی ہو گئی اور عوام سے معذرت خواہی کیجئے۔ عوامی ہونے کے یہ مختلف پہلو ہیں۔ اپنی خدمات کی رپورٹ عوام کے سامنے رکھئے۔ صادقانہ رپورٹ، جس میں کوئی مبالغہ نہ ہو، کچھ بڑھا چڑھا کر بیان نہ کیا گيا ہو، صدق دلی سے بیان کیجئے کہ آپ نے یہ کام انجام دئے ہیں، یہی چیزیں عوامی ہونے کی نشانیاں ہیں، یہی عوامی ہونے کے مختلف پہلو ہیں۔

امیر المومنین علیہ السلام نے حضرت مالک اشتر کے نام اپنے حکومتی فرمان میں یہ ساری چیزیں بیان کی ہیں۔ میری سفارش یہ ہے کہ آپ حضرات اس سے رجوع کیجئے اور اس فرمان کو دیکھئے۔ اسی سلسلے میں حضرت کی عبارت کچھ اس طرح ہے؛ فَلا تُطَوِّلَنَّ – یہ بھی ممکن ہے کہ یوں ہو: فَلا تَطولَنَّ، یا فَلا یَطولَنَّ- اِحتِجابَکَ عَن رَعِیَّتِک؛ عوام کے درمیان سے زیادہ طولانی مدت کے لئے غائب نہ رہو۔ البتہ عہدیدار کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہمیشہ عوام کے درمیان رہے لیکن تھوڑے تھوڑے وقفے سے ضرور عوام  کے درمیان پہنچئے۔ لا تُطَوِّلَنَّ، عوام کے درمیان اپنی غیبت کو طولانی نہ ہونے دیجئے۔ اس سلسلے میں چند جملے ارشاد فرمانے کے بعد حضرت کہتے ہیں: وَ اِن ظَنَّتِ الرَّعِیَّةُ بِکَ حَیفاً فَاَصحِر لَهُم بِعُذرِک‌‌، اگر عوام کے ذہن میں کسی بات کی وجہ سے کوئی گرہ پڑ پائے، تمہارے بارے میں کوئی شک و شبہ پیدا ہو جائے تو عوام کے سامنے آکر اپنی توجیہ پیش کرو۔ عوام سے صریحی انداز میں گفتگو کرو، بات کرو۔ آپ دیکھئے کہ حاکم اور عوام کا رابطہ اس انداز کا ہوتا ہے۔ برادرانہ رابطہ ہے، دوستانہ رابطہ ہے۔ وَ اَعدِل عَنکَ ظُنونَهُم بِاِصحارِک‌‌ (۲) اگر ان کے اندر کوئی شبہ پیدا ہو گیا ہے تو اپنی باتوں سے، اپنی گفتگو سے، اپنے بیان کے ذریعے لوگوں کے ذہن سے وہ شبہ دور کیجئے۔ تو یہ عوامی ہونے کی تشریح تھی۔ آپ کوشش کیجئے کہ یہی خصوصیات آپ کے اندر پیدا ہوں۔ مختلف شعبوں کے اندر یہ خصوصیات موجود ہونا چاہئے۔

دوسرا موضوع عدل و انصاف کا ہے۔ اسلامی حکومت اور اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ہی عدل پر رکھی گئی ہے۔ اسی طرح تمام ادیان کی بنیاد بھی عدل و انصاف ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم نے پیغمروں کو بھیجا، آسمانی کتابیں نازل کیں: لِیَقومَ النّاسُ بِالقِسط (۳) بنیادی طور پر اس لئے کہ عوام عدل و انصاف کے ساتھ کھڑے ہوں اور معاشرہ انصاف و مساوات سے آراستہ معاشرہ بن جائے۔ ظاہر ہے ان میدانوں میں ہم پیچھے ہیں۔ بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بڑی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں آپ جو بھی بل پاس کریں، کابینہ میں جو بھی منصوبہ پاس کریں، جو بھی سرکولر پاس کریں اس میں عدل و انصاف کے موضوع کا ایک ضمیمہ بھی ضرور ہونا چاہئے۔ خیال رکھئے کہ اس روش، اس عمل، اس فرمان سے عدل و مساوات پر آنچ نہ آئے، مظلوم طبقات پامال نہ ہو جائیں۔ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔ یا تو تحریری ضمیمہ ساتھ میں رہے یا خود اصلی عبارت کو اس انداز سے لکھا جائے کہ یہ باتیں ملحوظ رہیں۔

کبھی کسی انتظامی روش سے، رائج انداز سے بھی چوٹ پہنچتی ہے۔ واقعی ایسی چیزیں موجود ہیں۔ اس وقت ہمارے اداروں میں کچھ ایسی چیزیں رائج ہیں، ایسے حالات رہتے ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے۔ مختلف شعبوں میں یہ صورت حال ہے۔ خاص طور پر یہ مشکل ملک میں وسائل کی تقسیم میں عدل و مساوات کے مسئلے میں ہے۔ وسائل کو حقیقی معنی میں منصفانہ انداز میں تقسیم کرنا چاہئے۔ اس وقت بعض شعبوں میں حقیقی معنی میں اس چیز کا فقدان ہے۔ البتہ میں جو یہ بات کہہ رہا ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس صورت حال کے پیچھے کوئی منصوبہ کارفرما ہے، لیکن جیسے انرجی کے شعبے میں، تیل کے شعبے میں، گزشتہ حکومت کے ایک عہدیدار نے ایک رپورٹ ہمیں دی کہ 1399 (مارچ 2020 الی 2021)  میں تیل کی پوشیدہ سبسیڈی تقریبا 63 ارب ڈالر تھی۔ سوال یہ ہے کہ یہ رقم اور یہ سبسیڈی کس کو مل رہی ہے؟ کون لوگ ملک کے تیل اور پیٹرول سے زیادہ نفع حاصل کر رہے ہیں؟ عوام کی اکثریت کو اس سبسیڈی کا کوئی فائدہ نہیں ملتا۔ اس کا حساب کیا گيا تو یہ رقم تقریبا 63 ارب ڈالر ہے جو اس سال کے کل بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ اس طرح کی کچھ چیزیں ہیں بہرحال میں نے ذکر کر دیا۔ البتہ تیل کے شعبے کے تعلق سے میری کوئی سفارشات نہیں ہیں، میں کچھ نہیں کہوں گا کہ کیا کیجئے، آپ خود جائزہ لیجئے اور دیکھئے کہ کیا کام انجام دینا ہے۔ میں بس یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کبھی کبھی اس طرح کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ عدل و مساوات کے خلاف ہے، ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ ہمیں اس انداز سے کام کرنا چاہئے کہ محروم طبقات اور مالدار طبقات کے درمیان فاصلہ کم ہو۔ یعنی جہاں تک ممکن ہو ملکی وسائل کی تقسیم منصفانہ انداز میں ہو۔

بدعنوانی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں میں نے عرض کیا کہ یہ قیام عدل کا تکملہ ہے۔ بد عنوانی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔ ملک میں جو بڑی خرابیاں ہیں اور جو عدل و انصاف کے عین مخالف ہیں، ان میں کرپشن ہے، رسوخ کا غلط استعمال ہے، عہدے کا غلط استعمال ہے، بد عنوانی ہے، غلط اور بیجا مراعات وغیرہ ہیں۔ کبھی کوئی شخص کوئی اہم کام انجام دیتا ہے اور آپ اسے کوئی انعام دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن کبھی کچھ قریبی افراد بلا وجہ ملک کے وسائل سے بہت زیادہ بہرہ مند ہو جاتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ بڑی بڑی تنخواہوں کا قضیہ اس مشکل کا ایک چھوٹا سا نمونہ تھا جو سامنے آیا۔

خوشی کی بات ہے کہ صدر محترم عدلیہ کی سربراہی کے دور میں اس مسئلے پر کام کر چکے ہیں۔ یہ چیز عوام میں آپ کی مقبولیت اور عوام کے لگاؤ کا سبب بنی۔ اس اقدام کی اصلی جگہ مجریہ کا شعبہ ہے۔ یعنی بد عنوانی اور کرپشن سے لڑائی کا اصلی میدان مجریہ ہے۔ یہاں بدعنوانی کے اسباب کو ختم کرنا چاہئے۔ عدلیہ کا رول تو بعد میں آتا ہے۔ پہلے آپ محنت کریں، روک تھام کریں، بدعنوانی کا راستہ ہموار کرنے والے اسباب کو ختم کر دیں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی گڑبڑ ہوتی ہے تب عدلیہ کے میدان میں اترنے کی باری آتی ہے۔ ذاتی مفادات، عمومی مفادات، رشوت اور بد عنوانی جیسے مسائل حکومتی اداروں میں پہلے ہی حل کر لئے جانے چاہئے۔

بدعنوانی کے اس مسئلے کا ایک مصداق وہ خلاف ورزیاں ہیں جو آرٹیکل 44 سے مربوط پالیسیوں کے نفاذ میں ہوئی ہیں۔ جناب رئیسی نے عدلیہ میں رہتے ہوئے ایسے بہت سے معاملات پر کام کیا اور اس وقت اس کی رپورٹ بھی دی تھی۔ آرٹیکل 44 کی پالیسیاں جو ملکی معیشت کو حقیقی معنی میں رونق عطا کر سکتی تھیں، ان کے نفاذ اور عمل آوری کی روش میں اس انداز سے کام ہوا کہ بدعنوانی کے راستے کھل گئے۔ البتہ اس لڑائی کے اپنے مخصوص وسائل بھی ہیں، منجملہ یہی انفارمیشن اینڈ سروسیز پورٹل ہے جو چند سال سے کام کر رہا اور قانونی حیثیت رکھتا ہے۔ میں نے بھی تاکید کی ہے کہ اس طرح کے پورٹل شروع کئے جائیں اور اپلیکیشنوں کو آپس میں جوڑ دیا جائے تاکہ حکومت کے سامنے ایک جامع تصویر موجود رہے اور وہ کرپشن کا سد باب کر سکے۔ لیکن یہ کام مکمل نہیں ہوا، آگے نہیں بڑھ سکا۔ کوشش کیجئے کہ یہ اپلیکیشن ان شاء اللہ مکمل ہو جائیں۔ ایپلیکیشنوں کے اس نیٹ ورک سے حکومت کے پاس نگرانی کا اسمارٹ سسٹم موجود ہوگا اور وہ امور کی نگرانی کر سکے گی۔

عوام کا اعتماد اور عوام کے اندر جذبہ امید کا احیاء بہت اہم چیز ہے۔ کیونکہ عوام کا اعتماد کسی بھی حکومت کے لئے بہت بڑا سرمایہ ہے۔ جب عوام کو آپ پر اعتماد ہوگا، آپ سے امید ہوگی تو وہ آپ کا ساتھ دیں گے، مدد کریں گے۔ یہ حکومت کے لئے بہت بڑی کامیابی ہے کہ عوام کا اعتماد حاصل کر سکے۔ البتہ اس اعتماد کو کسی حد تک ٹھیس پہنچی ہے جس کی تلافی کرنا ضروری ہے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ عہدیداران منہ سے جو بات کہیں ان کا عمل اس کے عین مطابق ہو۔ اگر عوام سے کوئی وعدہ کیا ہے تو اس وعدے کے مطابق عمل کیجئے، آپ پر عوام کا اعتماد بحال ہو جائے گا۔ اگر آپ نے وعدہ کیا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، یا آپ نے اعلان کر دیا کہ فلاں کام ہو گیا ہے لیکن عوام نے دیکھا کہ ہنوز انجام نہیں پایا ہے تو اس سے عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔ اس لئے اس نکتے کا بہت سنجیدگی سے خیال رکھئے۔

جناب رئیسی صاحب! کل آپ نے اہواز میں، خوزستان میں عوام سے کچھ وعدے کئے ہیں، کچھ احکامات صادر کئے ہیں، آپ توجہ رکھئے کہ واقعی اس پر عمل ہو تاکہ عوام کو بھی محسوس ہو کہ جو چیز آپ چاہتے ہیں اور آپ جس چیز کے بارے میں کہہ دیتے ہیں اس پر عمل ہوتا ہے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ اس سلسلے میں بھی حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے مالک اشتر کے نام اپنے فرمان میں ایک عبارت تحریر فرمائی ہے؛ «اِیّاکَ وَ المَنَّ عَلى رَعِیَّتِکَ بِاِحسانِکَ اَوِ التَّزَیُّدَ فیما کانَ مِن فِعلِک» ایک چیز یہ کہ عوام پر احسان نہ جتائيے کہ ہم نے فلاں کام کر دیا۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو انجام دیا ہے اس کو بیان کرنے میں مبالغہ نہ کیجئے۔ انسان بعض دفعہ کچھ کام کرتا ہے تو اسے بہت بڑھ چڑھا کر بیان کرنے لگتا ہے۔ اَو اَن تَعِدَهُم فَتُتبِعَ مَوعِدَکَ بِخُلفک۔ بہت محتاط رہئے کہ آپ سے وعدہ خلافی نہ ہو جائے۔ آپ وعدہ تو کر لیں لیکن پھر اسے وفا نہ کریں۔ امام مالک اشتر سے فرماتے ہیں کہ ہرگز ایسا نہ ہونے پائے۔ یہ بھی بہت اہم ہے۔ البتہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ نے وعدہ کر لیا لیکن اسے پورا کرنے کے امکانات ہی نہیں ہیں۔ یعنی اس عمل کی راہ میں کچھ قدرتی مشکلات آن پڑی ہیں۔ تو کوئی حرج نہیں، عوام کے سامنے اسے صاف گوئی کے ساتھ بیان کر دیجئے۔ کہئے کہ میں نے یہ وعدہ کیا تھا لیکن یہ مشکل آن پڑی تو اپنے وعدے کو پورا نہ کر سکا، آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ یہ ان چیزوں میں ہے جن کے بارے میں آپ کو عوام سے بات کرنی چاہئے۔ یہ عوامی ہونے کے جو مصادیق بیان کئے گئے انھیں میں سے ایک ہے۔ تاہم کلی طور پر اپنے وعدوں کو ہمیشہ یاد رکھئے۔

وعدوں کے لئے نظام الاوقات معین کر لیجئے۔ تخمینہ لگائیے کہ آپ نے جس کام کے بارے میں وعدہ کیا ہے وہ کتنی مدت میں انجام پا جائے گا۔ دن معین کر لیجئے پھر ایک ایک کرکے سب پر نظر رکھئے۔ میں نے حکومتی اداروں کے افراد سے بارہا کہا ہے کہ قاعدے اور قانون کی ہمارے پاس کوئی کمی نہیں ہے۔ قانون، بنیاد، قواعد، پروگرام، منصوبے اور اس طرح کی جو بھی چیزیں ہوتی ہیں وہ ہمارے پاس بوفور موجود ہیں۔ ہمارے پاس جس چیز کی کمی ہے وہ آخر تک لگن سے کام انجام دینا ہے۔ یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے۔

حکومت کے اندر نظم و ہم آہنگی، حکومت کی توانائی اور نظارت بہت اہم چیزیں ہیں۔ حکومت کے اندر نظم و ہم آہنگی سے مراد یہ ہے کہ حکومت کے اندر سے الگ الگ باتیں سامنے نہ آئیں۔ کوئی کچھ کہے، کوئی جاکر اس کے خلاف بیان دے، اس سے عوام کے ذہن اور رائے عامہ میں تذبذب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بھرپور ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی عمل میں بھی ہم آہنگی ہونا چاہئے۔ ایک شعبے کے بہت سے کام دوسرے بہت سارے شعبوں سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ آپ کا زراعت کا شعبہ فطری طور پر دوسرے بہت سے شعبوں سے مربوط ہوتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ تعاون کیا جائے تاکہ کام بنحو احسن انجام پائے۔ آپ کا صنعت کا شعبہ بھی دوسرے بہت سے شعبوں سے مربوط ہے تو کام کو آگے لے جانے کے لئے ہم آہنگی ضروری ہے۔ قوت و استحکام بھی ضروری ہے۔ حکومت یہ ثابت کر دے کہ جس کام کا اس نے ارادہ کیا ہے اور جس کا فیصلہ کیا ہے اسے انجام دیتی ہے، آگے لے جاتی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کسمرپرسی کی صورت حال پیدا ہو۔ اگر آپ نے عملی طور پر حکومت کی طاقت و توانائی ثابت نہ کی اور ملک میں کسمپرسی کی کیفیت پیدا ہوئی تو طے ہے کہ آپ کی پالیسیاں آگے نہیں بڑھ پائیں گی۔ یہ بھی بہت اہم ہے۔ نظارت سے مراد یہ ہے کہ انتظامیہ کے تمام گوشہ و کنار کے بارے میں آپ کو خبر ہونی چاہئے۔ حکومت بھرپور توانائی، ہم آہنگی اور نظارت کے ساتھ اپنے فرائض پر عمل کرے۔

البتہ یہ مجریہ کے اندر اصلاحی پروگرام کا حصہ ہے۔ جناب رئیسی اور بعض دیگر احباب کے پروگراموں میں یہ بھی تھا کہ مجریہ میں اصلاحات کی جائیں۔ مجریہ کے اندر اصلاحات بہت اہم ہیں۔ اس طرح کی تبدیلی دائمی ضرورت ہے۔ اسے ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے لیکن تبدیلی پیشرفت پر منتج ہو اس کے لئے قانون کے احترام، شفافیت بڑھانے، مالیاتی نظم و ضبط، کرپشن کے اسباب کے خاتمے، مفادات کے ٹکراؤ کو روکنے اور فیصلوں اور منظور شدہ منصوبوں کے نفاذ میں بھرپور سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

'جوان سازی' بھی بہت اہم ہے۔ حکومت کا ایک اہم کام یہ ہے کہ مجریہ کو جوان بنائے۔ آپ حکومتی ڈھانچے میں اور میانہ سطح کے انتظامی عہدوں پر ممتاز نوجوانوں کی جہاں تک ممکن ہو خدمات لیجئے، الحمد للہ ایسے نوجوانوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں ملک کے اندر انسداد کی کیفیت پیدا ہونے کا احساس بھی ختم ہوگا۔ جب نوجوانوں کو یہ نظر آنے لگے کہ وہ میدان میں قدم رکھ سکتے ہیں، عمل کر سکتے ہیں، فیصلے کر سکتے ہیں تو راستے بند ہونے کا احساس پیدا نہیں ہوگا۔ دوسری طرف آپ اس روش سے ملک کے کہنہ مشق اور تجربہ کار عہدیداروں کے لئے نئے عہدیداروں کا ایک ذخیرہ بھی تیار کر لے جائیں گے۔ جو نوجوان آج عمل کے میدان میں قدم رکھ رہا ہے، دس سال بعد ایک تجربہ کار ڈائریکٹر بن چکا ہوگا جو ملک کے لئے ایک بڑا سرمایہ ثابت ہوگا۔ قابل عہدیدار واقعی قیمتی سرمایہ ثابت ہوگا۔

تبدیلی کے تعلق سے ایک اہم نکتہ اجتماعی خرد کے  استعمال اور معقولیت سے استفادہ کرنے کا ہے۔ حکومت سے باہر جو ممتاز صلاحیت رکھنے والے افراد ہیں ان کی خدمات حاصل کیجئے۔ جہاں بھی کسی نظریہ پرداز کی رائے سے استفادہ کرنا ممکن ہے ضرور کیجئے۔ سیاسی دھڑے بندی وغیرہ جیسی چیزوں کو اس مسئلے میں آڑے نہ آنے دیجئے۔ ماہرین کے نظریات سے جہاں تک ممکن ہو استفادہ کیجئے۔ یہ نہ دیکھئے کہ اس کا تعلق کسی ایسے دھڑے سے ہے جسے آپ پسند کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔ حکومت کے اندر تو ظاہر ہے کہ ایسے افراد کی رائے سے استفادہ کیا جاتا ہے، ماہرین کی رائے لی جاتی ہے۔

یہ عمومی سفارشات ہیں۔ البتہ ان کے لئے لائحہ عمل بنانا چاہئے۔ اگر بس اتنے پر کہ میں بیان کر دوں اور آپ اسے اپنے ذہن شریف میں محفوظ رکھیں یا کہیں نوٹ کر لیں، اکتفا کر لیا جائے تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس طرح کی باتیں اگر نصیحت کی حد تک رہ جائیں تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ان چیزوں کو منصوبے میں تبدیل کرنا چاہئے، لائحہ عمل کی شکل میں ڈھالنا چاہئے۔ جب منصوبے کی شکل میں آ جائیں گی تو ان پر بخوبی عمل ہو سکے گا۔

ملک کے امور میں ترجیحات کا مسئلہ بھی ہے۔ میں اختصار سے عرض کروں گا کہ ان ترجیحات کے سلسلے میں یہ توجہ رکھنا چاہئے کہ انھیں ترجیحی حیثیت حاصل ہے اور اسی اعتبار سے ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ شاید ان میں سب سے اہم ترجیح اقتصادیات کا مسئلہ ہے۔ اس کے بعد ثقافت، میڈیا اور علم کا موضوع ہے۔ یہ ملک کی کلیدی ترجیحات ہیں۔

تاہم ایک مسئلہ ہے جو ہنگامی شکل اختیار کر گيا ہے اور وہ کورونا وائرس کا مسئلہ ہے۔ صحت عامہ کا یہ موضوع اس وقت فوریت اختیار کر چکا ہے، اس پر توجہ دینا چاہئے۔ البتہ صحت عامہ کے شعبے میں گزشتہ حکومت کے دور میں بہت اچھا کام ہوا، بڑے اچھے اقدامات انجام پائے، محنت سے کام ہوا، ویکسین کی پیداوار کے لئے بھی کام کیا گیا، ویکسین کو امپورٹ کرنے کے لئے بھی کام ہوا۔ کچھ افواہیں بھی گشت کر رہی ہیں لیکن وہ بے بنیاد ہیں۔ اکثر باتیں غیر معتبر ہیں۔ بہت اچھا کام ہوا۔ ان کاموں کو جاری رکھنا چاہئے، اس پر زور دینا چاہئے۔ علاج، پیشگی احتیاط، نگہداشت اور ٹیسٹ، ممکنہ بیماروں کا ٹیسٹ بہت اہم ہے۔ یہ کام ضرور انجام دئے جائیں۔

عمومی سطح پر ویکسینیشن بہت اہم چیز ہے اسے ضرور انجام دیا جانا چاہئے۔ اسمارٹ کویرنٹائن بھی اہم ہے۔ میں نے سنا کہ بعض مغربی ممالک جانی نقصان کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئے، ان کے یہاں اموات ہمارے مقابلے میں کمتر ہیں۔ انفیکشن بھی وہاں کم ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے سرحدوں کو اس سختی سے بند کیا ہے کہ اپنے ہمسایہ ملک سے بھی جو خود ایک پیشرفتہ ملک ہے تاہم وہاں بیماری کا انفیکشن زیادہ ہے تو اس کے ساتھ کوئی آمد و رفت نہیں ہے۔ یعنی کڑی نگرانی کر رہے ہیں۔ ہمیں بھی ملک کی سرحدوں کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں، گوناگوں نئی بیماریاں ملک کے اندر آنے سے روکنے کے سلسلے  میں اس بیماری کے ساتھ ہی کچھ اور بھی بیماریاں ہیں انھیں روکنے کے سلسلے میں بہت ہوشیار رہیں۔ یہ بھی بہت اہم مسئلہ ہے۔

البتہ عوام کی بھی ذمہ داریاں ہیں۔ میں نے بارہا یہ بات کہی ہے۔ عزیز عوام یہ چار ذمہ داریاں قبول کریں۔ ایک ماسک کا استعمال ہے، دوسرے سماجی دوری ہے، تیسرے وینٹیلیشن ہے اور چوتھے ہاتھوں کو بار بار صابن سے دھونا ہے۔ یہ مشکل کام تو نہیں ہیں۔ یہ سب آسان کام ہیں۔ اگر ان چیزوں کا خیال رکھا جائے تو یقینا انفیکشن کو روکنے میں مدد ملے گی اور یہ سنگین جانی نقصان جس سے انسان کا دل خون ہو جاتا ہے روکا جا سکے گا۔

اقتصادیات، ثقافت، سوشل میڈیا، ڈپلومیسی وغیرہ کے بارے میں بھی کچھ باتیں ہیں لیکن یہاں ان کی تفصیلات میں جانے کا وقت نہیں ہے۔ ان شاء اللہ بعد میں اگر موقع ملا اور زندگی رہی تو کچھ باتیں عرض کروں گا۔

اقتصادی شعبے کی بات کی جائے تو ملک میں اس وقت کچھ مشکلات ہیں۔ افراط زر کی بڑھی ہوئي شرح ایک بنیادی مشکل ہے، بجٹ خسارہ، کم آمدنی والے افراد کی معیشت، یہ سب اہم مشکلات ہیں، قومی کرنسی کی قدر میں گراوٹ، یہ ایسے مسائل میں ہے جن کی وجہ سے انسان کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ عوام کی قوت خرید میں کمی آنا ہے، تجارتی شعبے کی مشکلات ہیں، ہم نے اور اقتصادی شعبے کے عہدیداروں نے بہت زیادہ تاکید کی، سب نے تاکید کی اور کہا گيا لیکن تجارتی فضا میں مشکلات موجود ہیں، بینکنگ سسٹم کی مشکلات ہیں۔ یہ ملک کی اقتصادی مشکلات ہیں، دوسری بھی مشکلات ہیں جن میں ہر ایک کے بارے میں الگ الگ منصوبہ بندی کرنے، کام کرنے اور مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک کلیدی نکتہ یہ ہے کہ اقتصادی میدان کے ہمارے افراد اور اس حکومت میں اقتصادی شعبے کے عہدیداران ان مشکلات کے ازالے کے لئے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں۔ وہ ہم آہنگی جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا ایسے مواقع پر بہت ضروری ہے۔ یعنی اس اہم شعبے میں ایک اتفاق نظر تک پہنچیں پھر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ عمل کریں۔ یہ جو صدر محترم نے کہا کہ سینير نائب صدر (4) کے ذمہ ہم آہنگی کا کام رہے، یہ بہت اچھی چیز ہے، یہ بہت اہم ہے۔ اقتصادی میدان میں مکمل ہم آہنگی ہو اور یہ مہم بہترین انداز میں انجام دی جائے۔

اگر کہیں اختلاف رائے ہو تو میری تاکید کے ساتھ سفارش ہے کہ حضرات عوام کے درمیان جاکر اپنے اختلافات بیان نہ کریں۔ کیونکہ اقتصادی مسائل میں اختلاف نظر جب عوام کے درمیان بیان کیا جاتا ہے تو اقتصادی شعبے پر واقعی اس کا اثر پڑتا ہے۔ یعنی وہ توہماتی مشکلات عوام کی تجارتی سرگرمیوں کے بازار میں اور اقتصادی شعبے میں حقیقی مشکل میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اگر کوئی مشکل اور اختلاف ہے تو اسے حکومت کے اندر حل کیا جائے، عوام کے سامنے پیش نہ کیا جائے۔

 

معیشت کے تعلق سے ایک اہم نکتہ اقتصادیات میں رفتار پیدا کرنے والے شعبے ہیں۔ بعض شعبے حقیقت میں اقتصادیات میں رفتار پیدا کر دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ریئل اسٹیٹ کا شعبہ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ریئل اسٹیٹ کا شعبہ حرکت میں آ جائے تو بہت سارے شعبے کام کرنے لگتے ہیں۔ یا اہم صنعتوں کے شعبے ہیں، جیسے فولاد کا شعبہ، آٹوموبائل انڈسٹری، انرجی اور پیٹروکیمیکل شعبے وغیرہ ہیں، جو حرکت میں رہتے ہیں تو انجن کا کام کرتے ہیں۔ ان کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔ ان شعبوں میں خاص طور پر اہم افراد کے درمیان ہم آہنگی بہت ضروری ہوتی ہے۔

ہماری اقتصادی مشکلات کے سلسلے میں ایک اہم نکتہ نقدی کی پیداوار اور لکویڈٹی کے سلسلے میں بینکنگ سسٹم کے کنٹرول کا ہے۔ ہمارے اقتصادی ماہرین جو رپورٹیں دے رہے ہیں اور جو بات کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ نقدی چھاپنے کا عمل پروڈکشن کے شعبے کی کارکردگی کے مطابق ہونا چاہئے۔ اگر دونوں میں تناسب نہ ہو تو نقدی کی چھپائی کو روک دینا چاہئے، کرنسی چھاپنے کا سلسلہ رک جانا چاہئے۔ یعنی اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ اگر اس میدان میں صحیح انداز سے کام ہو تو اس سے بڑی برکتیں حاصل ہوں گی، جیسے افراط زر پر کنٹرول، پیداوار میں فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافہ، قومی کرنسی کی قدر میں اضافہ، اسی طرح کی دوسری بہت سی چیزیں۔ یہ ان اہم نکات میں سے ایک ہے جن پر میرے خیال میں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اقتصادیات کے باب میں دوسری بھی بہت سی باتیں ہیں۔ میرے خیال میں یہاں دو نکتے بہت اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ مشکلات کو حل کرنے کی کوشش میں کبھی عارضی اور پین کلر تدابیر کے چکر میں نہیں پڑنا چاہئے۔ کیونکہ اس قسم کی تدابیر سے بعض اوقات مشکل بڑھ جاتی ہے۔ یہ عارضی علاج اور پین کلر تدابیر بعض اوقات مشکل کو بڑھا دیتی ہیں، انھیں ختم کرنے کے لئے بنیادی اور دائمی تدابیر پر کام کرنا چاہئے، اللہ کا نام لیکر کام شروع کر دینا چاہئے، اللہ سے امید لگا کر، اللہ پر توکل کے ساتھ اور درست انداز میں کام کرتے ہوئے محکم قدموں سے آگے بڑھنا چاہئے۔ اگلا نکتہ یہ ہے کہ اقتصادی مشکلات کے حل کو آپ پابندیاں ختم ہونے پر موقوف نہ کیجئے۔ پابندیوں کا ہٹنا تو ہمارے اور آپ کے اختیار میں نہیں ہے، دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔ پابندیوں کے حالات میں مشکلات ختم کرنے کی منصوبہ بندی کیجئے، پروگرام بنائيے کہ ان شاء اللہ یہ کام انجام پا سکے۔ یہ آپ کی ہمت و تدبیر سے اور آپ کی جہادی کوششوں سے ان شاء اللہ حل ہونا چاہئے اور حل ہوگا۔

کلچر اور میڈیا کے مسئلے میں میرے خیال میں ملک کے ثقافتی ڈھانچے کے لئے ایک انقلابی تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ ملک کے ثقافتی ڈھانچے میں ہمیں مشکلات در پیش ہیں۔ ایک انقلابی مہم کی ضرورت ہے۔ البتہ انقلابی مہم سے مراد خردمندانہ اور عاقلانہ اقدام ہے۔ انقلابی ہونے کا مطلب کورانہ اور غیر مدبرانہ اقدام نہیں ہے۔ انقلابی تحریک ہونا چاہئے، بنیادی کام کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ عمل تفکر و حکمت کے ساتھ انجام دیا جانا چاہئے۔ ثقافت واقعی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ بہت سی غلطیاں جو ہم دیگر شعبوں میں کر جاتے ہیں، ہمارے اذہان پر حکمفرما غلط ثقافت کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہمارے یہاں فضول خرچی ہے، اگر ہم اندھی تقلید کی مشکل میں مبتلا ہیں، اگر ہمارے طرز زندگی میں خامیاں ہیں تو یہ ثقافتی مشکلات کا نتیجہ ہیں۔ اذہان پر حکمفرما غلط ثقافت ہے جو عملی میدان میں اس قسم کی مشکلات پیدا کر دیتی ہے۔ تقلیدی طرز زندگی، اشرافیہ کلچر اور شان و شوکت کی زندگی کی جڑ در اصل کلچر ہے۔ ان واقعات کا سافٹ ویئر ملک کا کلچر اور رائج غلط ثقافت ہے جو بعض اذہان پر مسلط ہے۔

ثقافتی وسائل جیسے سنیما، آرٹ، صوتی اور تصویری ذرائع ابلاغ وغیرہ کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے، اخبارات اور کتب و غیرہ بھی ثقافتی وسائل ہیں، حقیقی معنی میں انھیں فروغ ملنا چاہئے۔ آج بحمد اللہ ثقافتی مسائل سے دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کا ایک پورا لشکر مصروف عمل ہے۔ یہ لوگ موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں، محنت کر رہے ہیں۔

اگر حکومتیں اور حکومتی ثقافتی محکمہ ان نوجوان ٹیموں سے تعاون کرے تو یقینا بہت بڑے کام انجام دئے جا سکتے ہیں اور بہت اہم خلاقانہ اقدامات انجام پا سکتے ہیں۔ اس میدان میں سیکڑوں خلاقانہ منصوبے ان نوجوانوں کے پاس ہیں۔ بعض اوقات نوجوانوں سے رابطہ ہوتا ہے تو نظر آتا ہے کہ واقعی یہ لوگ بہت بڑے کام کر سکتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں پروگرام ہیں لیکن اس کے لئے وسائل کی ضرورت ہے اور وسائل حکومت کے پاس ہیں۔ ان کی اسمارٹ سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ صلاحیتوں کی شناخت کیجئے، ان کی حمایت کیجئے، انھیں کام کی آزادی فراہم کیجئے، البتہ آزادی قانون کے دائرے میں ہونی چاہئے۔

اخلاقی بدعنوانی اور ثقافتی میدان کی بدعنوانیوں سے بلا رو رعایت مقابلہ کیجئے، ان کی روک تھام کیجئے۔ یعنی واقعی اسی انداز سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دشمن کی سافٹ وار کا مقابلہ کرنے کا اصلی طریقہ یہی ہے کہ ہم ثقافتی میدان میں درست روش اور عمل کی حمایت کریں، اس کی حوصلہ افزائی کریں، اس کی قدردانی کریں اور غلط روش اور اقدامات کی مخالفت کریں۔ میڈیا اور ثقافت کا شعبہ ایک طرف بہترین یونیورسٹی ثابت ہو سکتا ہے اور ثابت ہو رہا ہے اور دوسری طرف یہ نیکی یا برائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، حق و باطل کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔ ثقافتی جنگ ان لوگوں سے ہے جن کا کلچر دنیام میں فساد پھیلانا ہے۔ اس چیز کو ان دو زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

خارجہ سیاست کے باب میں بھی کچھ باتیں عرض کر دوں۔ البتہ خارجہ سیاست کے تعلق سے عرض کرنے کے لئے بہت سی باتیں ہیں جو اپنے مناسب وقت پر اور مناسب مقام پر ان شاء اللہ بیان کی جائيں گی۔ اختصار سے بس اتنا کہ خارجہ سیاست بہت اہم ہے۔ اس کا ملکی مسائل کے سلسلے میں بہت گہرا اثر ہے۔ سفارتی میدان میں ہماری سرگرمیاں تیز ہونا چاہئیں، انھیں دگنا کر دینا چاہئے۔ اقتصادی ڈپلومیسی بڑی اہم چیز ہے۔ آج دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے ممالک ہیں جہاں وزیر خارجہ موجود ہے لیکن خود صدر جمہوریہ اقتصادی مسئلے میں دیگر ممالک کے ساتھ یا کسی خاص ملک کے ساتھ شامل گفتگو ہوتا ہے اور خود اس مسئلے کو دیکھتا ہے۔ یعنی اقتصادی شعبے میں مختلف ممالک سے تعلقات کی بڑی اہمیت ہے۔ ڈپلومیسی کے اقتصادی پہلو کو مضبوط کرنا چاہئے۔

غیر ممالک سے تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر ہمسایہ ممالک سے۔ ہمارے چودہ پندرہ پڑوسی ممالک ہیں جن کی مجموعی آبادی بہت بڑی آبادی ہے جس نے بہت بڑا بازار پیدا کر دیا ہے۔ لیکن یہیں تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ دیگر ممالک سے بھی ہمارے روابط یہی اہمیت رکھتے ہیں۔ دنیا میں کل دو سو سے زیادہ ممالک ہیں۔ بس چند ممالک ہیں، ایک دو ہی ممالک ہیں جن سے ہم رابطہ نہیں رکھنا چاہتے، بعض سے روابط رکھنا ممکن ہی نہیں ہے لیکن اس کے علاوہ بقیہ ممالک میں بیشتر سے بہت اچھے روابط ہیں، بس محنت کی ضرورت ہے۔

ڈپلومیسی کو ایٹمی مسئلے سے متاثر نہیں ہونے دینا چاہئے۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ ملکی سفارت کاری ایٹمی قضیئے پر منحصر ہو۔ بالکل نہیں، ایٹمی قضیہ ایک جدا مسئلہ ہے جسے مناسب اور ملک کے شایان شان انداز میں حل کرنا چاہئے۔ سفارت کاری کا دائرہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ ایٹمی قضیئے میں امریکیوں نے بے شرمی کی حد کر دی۔ واقعی انھوں نے بے غیرتی کی ساری حدیں پار کر دیں۔ ساری دنیا کی آنکھ کے سامنے وہ ایٹمی ڈیل سے نکل گئے اور اب اس انداز سے بات کرتے ہیں کہ گویا ایران ایٹمی ڈیل سے نکلا ہے۔ ان کے مطالبات کا یہ انداز ہے کہ گویا ہم نے وعدوں کو پامال کیا ہے۔ امریکیوں کی اس حرکت کے جواب میں ایک عرصے سے ایران کی طرف سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایک مدت گزر جانے کے بعد اعلان کرکے، بڑی توجہ سے، کچھ کمٹمنٹس کو ترک کیا گيا، وہ بھی کچھ کمٹمنٹس، سارے نہیں۔ ان لوگوں نے اپنے کمٹمنٹس پر عمل ہی نہیں کیا۔

امریکہ کے ساتھ ہی یورپی ممالک کا بھی یہی حال رہا۔ وہ بھی عہد شکنی اور بداخلاقی میں امریکہ سے کم نہیں ہیں۔ وہ بھی امریکہ کی طرح ہیں۔ جب زبان چلانے کا موقع ہو اور مطالبے کرنے کا وقت آ جائے تو وہ ہمیشہ قرض خواہ کی طرح پیش آتے ہیں۔ گویا ایک مدت تک مذاکرات کا مذاق ہم نے اڑایا اور اپنے عہد کو پامال کیا اس پر عمل نہیں کیا۔ یہ کام تو انھوں نے کیا۔ امریکہ کی موجودہ حکومت اور سابقہ حکومت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یعنی ایٹمی مسئلے میں جو مطالبہ آج یہ لوگ کر رہے ہیں وہی مطالبہ ٹرمپ کی طرف سے بھی کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں ملک کے اعلی حکام کہتے تھے کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے، عاقلانہ نہیں ہے، اسی طرح کی دوسری باتیں۔ لیکن آج یہ لوگ بھی وہی مطالبات کر رہے ہیں۔ کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ وہ الگ زبان میں وہی بات کہتا تھا، یہ لوگ دوسری زبان میں وہی بات کہہ رہے ہیں۔ اس پر توجہ رکھنا ضروری ہے۔

واقعی سفارت کاری کے پردے کے پیچھے امریکہ ایک خونخوار بھیڑئے کی مانند ہے۔ ظاہری روپ میں تو سفارت کاری ہے، مسکراہٹیں ہیں، بات چیت ہے، بعض اوقات حق بجانب باتیں ہیں، لیکن باطن میں ایک گرگ، ایک خونخوار بھیڑیا ہے جو دنیا میں بہت سی جگہوں پر نظر آتا ہے۔ البتہ کبھی یہی بھیڑیا مکار روباہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا ایک نمونہ آج افغانستان کی حالت ہے۔ افغانستان ہمارا برادر ملک ہے۔ ہماری زبان، دین اور ثقافت ایک ہے۔ واقعی افغانستان کی مشکلات و آلام کو دیکھ کر شدید تکلیف ہوتی ہے۔ پے در پے جو حوادث رونما ہو رہے ہیں، جمعرات (5) کو جو واقعہ پیش آیا، یہ قتل عام، یہ مشکلات، ان پر پڑنے والی سختیاں، یہ سب امریکیوں کی کارستانی ہے۔ بیس سال تک افغانستان کو اپنے قبضے میں رکھا اور ان بیس برسوں میں افغان شہریوں پر بھانت بھانت کے مظالم ڈھائے، ان کے سوگ کے پروگراموں پر اور شادی کی تقریبات پر بمباری کی۔ ان کے نوجوانوں کو قتل کیا، ان کے بہت سے افراد کو بے خطا مختلف جیلوں میں ڈال دیا۔ افغانستان میں کئی گنا بلکہ دسیوں گنا زیادہ منشیات کی پیداوار شروع کر دی۔ یہ حرکتیں کیں۔ انھوں نے افغانستان کی پیشرفت کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ یعنی آج افغانستان شہری پیشرفت اور تعمیر و ترقی کے اعتبار سے اگر اس زمانے سے پیچھے نہیں چلا گيا تو آگے بھی نہیں گیا ہے۔ یعنی انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ آج جب وہ جا رہے ہیں تو اس شرمناک انداز میں جا رہے ہیں۔ کابل ایئرپورٹ کے حالات، عوام کا یہ جم غفیر، یہ مشکلات۔ جن افغان شہریوں کو وہ لے جا رہے ہیں، جن افغان شہریوں نے ان برسوں میں ان سے تعاون کیا اور جو افغانستان سے جانا چاہتے ہیں، رپورٹیں ہیں کہ افغانستان سے انھیں جس جگہ لے جایا جا رہا ہے وہاں کی حالت تو اور بھی خراب ہے۔ جہاں افغان شہریوں کو لے جاکر رکھا جا رہا ہے وہاں بے پناہ مشکلات ہیں۔ یہ امریکہ کی حالت ہے۔

بہرحال افغانستان کے معاملے میں ہم ملت افغانستان کے طرفدار ہیں۔ حکومتیں تو آتی ہیں جاتی ہیں۔ ان برسوں میں افغانستان میں مختلف قسم کی حکومتیں اقتدار میں آئیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں۔ جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے وہ افغان قوم ہے۔ ہم ملت افغانستان کے طرفدار ہیں۔ حکومتوں سے ہمارے رابطے کی نوعیت ہمارے ساتھ ان کے روئے پر منحصر ہے۔

امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ خداوند عالم افغان عوام کے مقدر میں خیر و صلاح قرار دے اور انھیں موجودہ حالت سے نکالے اور ان کے حالات کو ان شاء اللہ بہترین حالات میں تبدیل کر دے، ان شاء اللہ ان پر اور ہم پر اپنا فضل و کرم نازل فرمائے۔

ہم دعا کرتے ہیں کہ خداوند عالم ملت ایران کو کامیاب  کرے، مشکلات کا ازالہ فرمائے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ نئی حکومت کے آپ محترم عہدیداران جو کام انجام دینے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں ان میں آپ کامیاب ہوں، مشکلات پر غلبہ حاصل کریں، جو کچھ کہا ہے اس پر عمل کرنے میں کامیاب ہوں اور عوام کو مشکلات سے نجات دلائیں، عوام کو اپنے عمل سے مطمئن کریں۔ عوام کی رضامندی ان شاء اللہ خداوند عالم کی رضامندی کا سبب بنے گی۔ خالص نیت، خدمت کی نیت اور خدائی نیت ان شاء اللہ آپ کی مدد کرے گی۔ اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ہمارے عزیز شہیدوں پر، خدا کی رحمتیں نازل ہوں ہمارے بزرگوار امام پر، اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اللہ کے ان تمام بندوں پر جنہوں نے حق کی راہ پر قدم رکھا اور اللہ کے لئے کام کیا، محنت کی۔

و السّلام علیکم و رحمة‌ الله و برکاته

 

۱)  اس ملاقات کے آغاز میں جو ہفتہ حکومت کی مناسبت سے اور تیرہویں حکومت کا ٹرم شروع ہونے کے موقع پر انجام پائی صدر مملکت حجت الاسلام سید ابراہیم رئیسی نے تقریر کی۔

۲)  نہج‌ البلاغه، مکتوب نمبر ۵۳‌

۳) سوره‌ حدید، آیت نمبر ۲۵ کا ایک حصہ

۴) جناب ڈاکٹر محمد مخبر

۵) کابل ایئرپورٹ کے علاقے میں ہونے والے خود کش حملے کی طرف اشارہ جو امریکی فورسز کی نگرانی میں تھا۔ اس حملے میں 160 سے زیادہ افراد مارے گئے اور کافی تعداد میں زخمی ہوئے۔