بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ والصلاۃ علی رسولہ المصطفی و آلہ الاطہار؛ سلام اللہ علیہم اجمعین‎.‎
اسلامی انقلاب کا دوسرے چالیس سالہ دور میں داخلہ، جو نئی ہجری شمسی صدی (پندرہویں صدی) کے آغاز کے ساتھ شروع ‏ہوا ہے، اس بات کا متقاضی ہے کہ تمدنی انفراسٹرکچر کے مجموعے کی کمزوریوں اور خامیوں کو سمجھنے اور اس ‏مجموعے کی جدیدکاری کے لئے نئے سرے سے جائزہ لیا جائے ۔ اس مجموعے میں سرفہرست، ثقافت کا موضوع ہے۔ ثقافت، ‏انسانی معاشروں کے تمام بنیادی اقدامات کو سمت نیز اسے سرعت عطا کرنے یا کند کر دینے والا عنصر ہے۔
اس روش کے لیے موجودہ وقت میں ضروری ہے کہ ثقافتی امور کے ذمہ داروں، ملک کے مختلف شعبوں کے کارکنوں اور ‏ماہرین کے اندر ثقافت و کلچر کے سلسلے میں ذمہ داری کا احساس بڑھے اور یہ عمیق اعتقاد پیدا ہو کہ معاشرے کے تمام ‏تمدنی اجزاء کی ثقافت سازی، کامیابی و پیشرفت کا سب سے اچھا اور تحکمانہ و اجباری وسائل سے بے نیاز ذریعہ ہے۔
اسی طرح یہ روش اس اہم نکتے کی بھی متقاضی ہے کہ تمدن کے تمام وسیع میدانوں میں ثقافت کا ڈھانچہ اور آرائش انقلابی ‏نظم و ضبط اور اقدار سے آراستہ ہو۔ یہ بدخواہ اغیار کی سوچی سمجھی ثقافتی یلغار اور میڈیا وار سے ملک کی عمومی ثقافت ‏کو محفوظ رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔
ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کا مشن ابتدا سے ہی ملک میں علم و ثقافت کی صورتحال کو بہتر بنانا، ان دونوں میدانوں میں ‏پالیسیوں کا تعین کرنا، ان سے متعلق اداروں کی انقلاب کے اہداف و اقدار کی جانب رہنمائی، ان اداروں کی فکری و نظریاتی ‏ضروریات کی تکمیل اور ملک کی ثقافتی چھاؤنی کا کردار ادا کرنا رہا ہے۔
اعلی کونسل نے ان میدانوں میں گرانقدر خدمات پیش کی ہیں اور میں ضروری سمجھتا ہوں کہ مختلف ادوار میں اپنا کردار ادا ‏کرنے والے تمام اراکین خاص طور پر ان دانشوروں، سائنسدانوں اور اساتذہ کی کوششوں کا دل سے شکریہ ادا کروں اور ان ‏کی مشاورتی مدد جاری رہنے کی درخواست کروں، جو نئے دور میں اس کونسل میں موجود نہیں رہیں گے۔
اب میں نئے دور کے لیے، جو اس تحریر کے موصول ہونے کے ساتھ شروع ہو جائے گا، مندرجہ ذیل 'لیگل اور ریئل پرسن' ‏کو  ثقافتی انقلاب کی اعلی کونسل کی چار سالہ رکنیت کے لیے منصوب کرتا ہوں۔
لیگل پرسن: فی الحال مقننہ، عدلیہ اور اجرائیہ کے تینوں سربراہ اور وہ ادارے جو اب تک اعلی کونسل کے رکن رہے ہیں۔
ریئل پرسن: جناب اعرافی صاحب، جناب ایمان افتخاری صاحب، جناب امیر حسین بانکی پور فرد صاحب، جناب آقای حمید ‏پارسا نیا صاحب، جناب عادل پیغامی صاحب، جناب غلام علی حداد صاحب، جناب حسن رحیم پور ازغدی صاحب، جناب علی ‏اکبر رشاد صاحب، جناب حسین ساعتی صاحب، جناب ابراہیم سوزنچی صاحب، جناب سعید رضا عاملی صاحب، جناب منصور ‏کبکانیان صاحب، جناب علی لاریجانی صاحب، جناب محمود محمد عراقی صاحب، جناب محمد رضا مخبر دزفولی صاحب، جناب ‏مرتضی میر باقری صاحب، صادق واعظ زادہ صاحب، جناب احمد واعظی صاحب۔
اہمیت کے حامل نکات، اس حکمنامے سے منسلک ہیں جو محترم اراکین کی نظروں سے گزریں گے۔ سبھی کے لیے خداوند ‏متعال سے توفیق کی دعا کرتا ہوں۔
سید علی خامنہ ای
‎14 ‎نومبر 2021‏